۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
26:: دُشمن کا جو مال جہاد کے دوران مجاہدین کے ہاتھ آیا ہو، وہ مالِ غنیمت کہلاتا ہے۔ اس آیت میں اس کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنا مال اس طرح حاصل ہو، اُس کے پانچ حصے کئے جائیں گے۔ ان میں سے چار حصے تو مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے، اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا۔ پھر بیت المال کے اس پانچویں حصہ (خمس) کو کس طرح خرچ کیا جائے گا؟ اس کی تفصیل کرتے ہوئے اس آیت نے اوّل تو یہ بتلایا ہے کہ یہ مال اصل میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اور اسی کے حکم کے تحت تقسیم ہوگا، اس کے بعد اس کے پانچ مصارف بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ،دوسرا حصہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ داروں کا ہے، کیونکہ انہوں نے آپ کی اور اِسلام کی نصرت میں بڑی قربانیاں دی تھیں، اور اُن کے لئے زکوٰۃ کا مال بھی حرام قرار ددے دیا گیا تھا۔ اور باقی تین حصے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں میں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حصہ تھا، وہ جمہور فقہاء کے نزدیک آپ کی وفات کے بعد ختم ہوگیا۔ آپ کے رشتہ داروں کے حصے کے بارے میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف ہے۔ اِمام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حصہ اب بھی باقی ہے، اور بنو ہاشم اور بنو المطلب کو بطورِ اِستحقاق دینا ضروری ہے، چاہے وہ حاجت مند ہوں یا مال دار۔ لیکن دوسرے تمام فقہاء اہلِ سنت یہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ حاجت مند ہوں تب تو انہیں دوسرے حاجت مندوں پر ترجیح دے کر اس خمس میں سے دیا جائے گا، اور اگر وہ حاجت مند نہ ہوں توان کا کوئی مستقل حصہ نہیں ہوگا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خمس میں سے حصہ دیا تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے یہ فرماکر لینے سے انکار کردیا کہ اس سال ہمارے خاندان کو ضرورت نہیں ہے۔ (ابو داد، حدیث نمبر : ۴۸۹۲) چنانچہ حضرت علیؓ سمیت چاروں خلفائے راشدین کا عمل یہی رہا کہ بنو ہاشم اور بنو المطلب کے حضرات اگر حاجت مند ہوتے تو ان کو خمس میں سے حصہ دینے میں دوسروں پر مقدم رکھتے تھے، اور اگر حاجت مند نہ ہوتے تو نہیں دیتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر فقہاء اور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں جو پانچ مصارف بیان کئے گئے ہیں، ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سب کو ضرور دیا جائے، اور سب کو برابر دیا جائے، بلکہ مصرف زکوٰۃ کے آٹھ مصارف کی طرح ہے ( جن کا ذکر سورۂ توبہ : ۹۔ ۰۶ میں آنے والا ہے) کہ اِمام یعنی سربراہِ حکومت کو اِختیار ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق ان مصارف میں سے جس مصرف میں جتنا مناسب سمجھے تقسیم کرے۔ اس مسئلے کی مکمل تحقیق بندہ نے اپنی صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم (ج : ۳ ص ۴۵۲ تا ۸۵۲) میں بیان کی ہے۔
27: اس سے مراد جنگِ بدر کا دن ہے، اس کو آیت میں ’’یوم الفرقان‘‘ فرمایا گیا ہے، یعنی وہ دن جس میں حق وباطل کے درمیان فیصلہ ہوگیا کے تین سوتیرہ بے سروسامان لوگ ایک ہزار مسلح فوج پر معجزانہ طور سے غالب آگئے۔ اور جو چیز اُس دن نازل کی تھی اُس سے مراد فرشتوں کی مدد اور قرآنِ کریم کی وہ آیات ہیں جو اُس دن مسلمانوں کی تسلی کے لئے نازل کی گئیں۔