Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 41–50 of 75

41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

[٤٣] اللہ اور اس کے رسول کے پانچویں حصہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟:۔ اس آیت میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جا رہا ہے۔ جس سے اس سورة کی ابتدا ہوئی تھی۔ وہاں صرف اتنا جواب دیا گیا کہ چونکہ یہ فتح خالصتاً اللہ کی امداد کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی اس لیے سب اموال زائدہ (غنیمت سمیت) اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ لہذا تمہیں آپس کا نزاع فوری طور پر بند کردینا چاہیئے اور تفصیلی جواب یہ ہے کہ اموال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا اور باقی ٥ ٤ حصہ مجاہدین کا ہے۔ چناچہ غنیمت کا مال پورے کا پورا ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور اس کا ٥ ٤ حصہ جہاد میں حصہ لینے والے مجاہدین میں برابر تقسیم کردیا گیا۔- اب جو اللہ اور اس کے رسول کا پانچواں حصہ تھا اس کے پانچ مصرف بیان فرمائے۔ تاہم ان حصوں میں کمی بیشی اور تقسیم رسول اللہ کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی۔ اس میں جو اللہ کا حصہ ہے یعنی پانچویں کا پانچواں حصہ یہ جہاد کی ضرورتوں اور مساجد کی تعمیر اور دیکھ بھال پر خرچ ہوگا، اور رسول کا جو حصہ ہے وہ آپ کی گھریلو یا خانگی ضروریات کے لیے مقرر ہوا۔ کیونکہ دینی مصروفیات کی وجہ سے آپ کوئی دوسرا کام کاج نہ کرسکتے تھے۔ تیسرا حصہ آپ کے رشتہ داروں یعنی بنی ہاشم، یا بنوعبد مناف کا تھا اور ان میں سے جس کو مستحق سمجھتے تھے اور جتنا سمجھتے دے دیتے تھے یہ اس لیے کہ بنو ہاشم نے آڑے وقتوں میں اسلام کی بہت حد تک حمایت اور مدد کی تھی اور اس لیے بھی کہ ان لوگوں کے لیے زکوٰۃ کا مال لینا ممنوع قرار دیا گیا تھا اور چوتھا اور پانچواں مصرف محتاجوں اور مسافروں کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔- بعض علماء کا خیال ہے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کا اور آپ کے قرابت داروں کا حصہ ختم ہوا اور باقی صرف تین مصرف رہ گئے اور بعض کا خیال ہے کہ آپ کا حصہ موجودہ امیر المومنین کو اور قرابت داروں کا حصہ خاندان نبوت کے محتاجوں کے لیے ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ لینا ان کے لیے ممنوع ہے اور ہمارے خیال میں معاملہ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ حالات میں بہت تغیر رونما ہوچکا ہے اور اسی لحاظ سے ان مسائل میں بھی شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق تبدیلی ہوگی۔ مثلاً دور نبوی میں صحابہ رضاکارانہ یا فرض سمجھ کر جہاد پر نکلتے، سواری اور ہتھیاروں کا اہتمام خود کرتے تھے جس کے عوض انہیں حصہ ملتا تھا مگر آج فوج کا محکمہ ہی الگ ہوتا ہے اور اس کی ابتدا دور فاروقی سے ہی ہوگئی تھی۔ یہ فوجی یا مجاہدین تنخواہ دار ہوتے ہیں۔ اسلحہ اور سواری کا اہتمام حکومت کے ذمہ ہوتا ہے۔ لہذا اب عام مسلمانوں پر جہاد فرض نہ رہا اور تنخواہ کی وجہ سے مجاہدین میں ایسی تقسیم کا قصہ بھی ختم ہوا۔ امیر کے حصہ کا بھی کیونکہ وہ خود سرکاری خزانہ کا تنخواہ دار ہوتا ہے اور فقراء وغیرہ کی ضرورتوں کو پورا کرنا ویسے ہی ایک اسلامی حکومت کا فریضہ ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جنگوں کے طریق کار کا نقشہ یکسر بدل چکا ہے۔- بنو ہاشم کے لئے صدقات کی حرمت کے متعلق اجتہاد کی ضرورت :۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اموال غنیمت کی تقسیم میں ایسی تبدیلی کی وجہ سے بنو ہاشم کے محتاجوں کی امداد کا مسئلہ ختم ہوگیا اور صدقات بالخصوص زکوٰۃ ویسے ہی ان کے لیے ممنوع ہے تو بنو ہاشم کے محتاجوں کی امداد کی آج کیا صورت ہوسکتی ہے۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ کسی ملک میں اسلامی نظام بھی قائم نہ ہو ؟ بعض علماء کے نزدیک صدقات و زکوٰۃ کی بنو ہاشم کے لیے ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ صدقات و زکوٰۃ کی تقسیم بحیثیت قائد ملت رسول اللہ کے ہاتھ میں تھی۔ اگرچہ آپ نے صدقات اپنے خاندان کے لیے حرام قرار دیئے تھے۔ پھر بھی منافق لوگ آپ پر صدقات کی تقسیم میں الزام لگاتے رہے۔ لہذا آج ان صدقات کی ممانعت کا حکم مسلمانوں کے امیر اور اس کے خاندان کے لیے ہوگا۔ اسی طرح جو لوگ آج کل بنو ہاشم کی اولاد یا سید کہلاتے ہیں ان کے لیے صدقات و زکوٰۃ کی حرمت بھی ختم …

Al-Anfaal 8:41Listen in Qur'an →
42

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

[٤٤] اس کنارے یا نزدیکی کنارے سے مراد وہ سمت ہے جو مدینہ کی طرف تھی اور پرلے کنارے سے مراد اس سے مخالف سمت ہے جو مکہ کی طرف تھی۔- [٤٥] جنگ بدر اضطراراً واقع ہوئی تھی :۔ یعنی مسلمان جب مدینہ سے نکلے تو جہاد کی غرض سے نہیں بلکہ تجارتی قافلہ پر حملہ کی غرض سے نکلے تھے۔ اسی وجہ سے غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں پر کوئی مواخذہ نہیں اور کافر اس غرض سے نہیں نکلے تھے کہ جنگ لڑیں گے بلکہ اپنے قافلہ کو بچانے کی غرض سے نکلے تھے۔ اب اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ قافلہ تو بچ بچا کر نکل آیا۔ اس طرح دونوں لشکروں کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگئی، اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت کے مطابق ہو رہا تھا۔- [٤٦] یعنی اگر کافر اور مسلمان آپس میں لڑائی کے لیے کوئی عہد و پیمان کرتے تو عین ممکن تھا کہ دونوں فریق یا کوئی ایک فریق وعدہ خلافی کر کے مقررہ وقت اور مقررہ جگہ پر نہ پہنچ سکتا یا پہنچنے سے راہ فرار اختیار کرجاتا اور اس طرح یہ معرکہ حق و باطل وقوع پذیر ہی نہ ہوتا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے حالات ہی ایسے پیدا کردیئے کہ یہ جنگ واقع ہو کے رہی۔- [٤٧] جنگ بدر حق وباطل میں فیصلہ کن معرکہ تھا :۔ یعنی مرنے والے کافر بھی اور زندہ رہنے والے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ حق پر کون فریق تھا اور کس فریق کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ کافروں کا یہ انجام دیکھنے کے بعد پھر بھی جو کافر کفر پر ہی قائم رہنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی ہی گور گردن پر رہے جو اسلام لانا چاہے تو وہ اللہ کی یہ واضح تائید دیکھ کر اسلام لائے اور اس کا اسی کو فائدہ ہوگا۔ بہرحال شرک و کفر کے باطل ہونے کا ایک جیتا جاگتا ثبوت اللہ تعالیٰ نے سب کو دکھلا دیا ہے۔

Al-Anfaal 8:42Listen in Qur'an →
43

إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے

[٤٨] کافروں کی تعداد تھوڑی دکھلانے کا مقصد :۔ یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی امداد ہی کی ایک صورت تھی کہ عریش میں اللہ کے حضور آہ وزاری و فتح و نصرت کی دعائیں مانگنے کے بعد جب آپ پر نیند کا غلبہ ہوا تو حالت خواب میں آپ کو کفار کی تعداد ان کی اصل تعداد سے کم دکھلائی گئی اور اس کا فائدہ یہ تھا کہ مسلمان کہیں کفار کی تعداد اور ان کے اسلحہ جنگ سے مرعوب ہو کر ہمت ہی نہ ہار بیٹھیں اور مشورہ کی صورت میں جنگ کرنے یا نہ کرنے کی مصلحتوں پر غور کیا جانے لگے۔ پھر اس میں اختلاف ہونے لگے۔ گویا ایسا خواب دکھلانے کا ایک مقصد تو مسلمانوں کی ہمت بندھانا تھا اور دوسرا اختلافات سے بچانا اور جنگ پر دلیر بنانا تھا۔

Al-Anfaal 8:43Listen in Qur'an →
44

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

[٤٩] آپ کی خالی مربع کی صورت میں صف بندی :۔ یعنی تم مسلمان کافروں کی تعداد اصل تعداد سے تھوڑی سمجھ رہے تھے اور دشمن یہ سمجھتا تھا کہ مسلمان ہماری نسبت بہت تھوڑے ہیں۔ اس طرح فریقین کے حوصلے بڑھ گئے اور لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ اس طرح جو کام مشیت الٰہی میں ہونا مقدر تھا۔ اس کے اسباب پیدا ہوتے گئے اور وہ بالآخر ہو کے رہا۔- یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب دونوں لشکر ابھی صف آرا نہ ہوئے تھے اور جب صف آرا ہوگئے تو اس وقت کافروں کو مسلمانوں کی تعداد ان کی اصل تعداد سے دگنی نظر آنے لگی تھی۔ جیسا سورة آل عمران میں مذکور ہے۔ (يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ 13؀) 3 ۔ آل عمران :13) اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک نہایت ماہرانہ جنگی تدبیر تھی کہ آپ نے صحابہ کی صف آرائی خالی مربع ( ) کی شکل میں کی تھی جس کی وجہ سے کافروں کو مسلمانوں کی تعداد فی الواقع دو گنا نظر آنے لگی تھی اور اس طرح ان کے حوصلے پست ہوجانا لازمی امر تھا۔ اور بعض علماء کا قول ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب غزوہ بدر میں فرشتوں کا نزول ہوا تھا۔ میرے خیال میں تو یہ توجیہ درست نہیں کیونکہ فرشتے تو اکثر مسلمانوں کو بھی نظر نہیں آتے تھے۔ کافروں کو کیسے نظر آسکتے تھے ؟

Al-Anfaal 8:44Listen in Qur'an →
45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةًۭ فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو

[٥٠] دوران جنگ اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنا اور اسی پر بھروسہ کرنا :۔ یہاں سے آگے جنگ سے متعلق مسلمانوں کو ہدایات اور ان کی جنگی داخلی اور خارجہ پالیسی کے متعلق احکام بیان کئے جا رہے ہیں :۔- سب سے پہلی ہدایت یہ ہے کہ اگر مقابلہ پیش آجائے تو پھر پوری دلجمعی اور ثابت قدمی سے مقابلہ پر ڈٹ جاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دشمن سے مقابلہ کی آرزو مت کرو اور اگر مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر پوری ہمت اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرو۔ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ تلے ہے۔ (بخاری۔ کتاب الجہاد، باب لاتمنوالقاء العدو) اور اس دوران اللہ کو بکثرت یاد کیا کرو۔ ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا تمہاری ثابت قدمی کا باعث بن جائے گا اور بالخصوص میدان جنگ میں بھی اپنی نمازوں کا خیال رکھو، اسی پر بھروسہ رکھو۔ یہی تمہاری کامیابی کا راز ہے۔ محض اسباب پر تکیہ نہ کرو۔

Al-Anfaal 8:45Listen in Qur'an →
46

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

[٥١] اختلاف اور جھگڑے کی ممانعت :۔ اور جو کچھ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہیں حکم دے۔ اس میں نہ اختلاف پیدا کرو اور نہ تنازعہ کی شکل بنا لو۔ اگرچہ یہ حکم عام ہے۔ تاہم دوران جنگ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو بالخصوص بیان کیا گیا ہے۔ اگر تم اس دوران اختلاف کا شکار ہوگئے تو تمہاری ہمتیں پست ہوجائیں گی اور تمہاری ساکھ کو سخت دھچکا لگے گا جو بالآخر تمہاری شکست کا پیش خیمہ بن سکتا ہے اور اس دوران پیدا ہونے والی مشکلات کو برداشت کرنے اور ان پر قابو پانے کو اپنا شعار بناؤ اور یہ یاد رکھو کہ اگر ایسی مشکلات پر صبر کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا۔

Al-Anfaal 8:46Listen in Qur'an →
47

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے

[٥٢] لشکر کفار کا شان وشوکت کا مظاہرہ :۔ یہاں ان لوگوں سے مراد مشرکین ہیں۔ جن کا سردار ابو جہل اپنا لشکر لے کر مکہ سے بڑی دھوم دھام اور باجے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان انہیں دیکھ کر ہی مرعوب ہوجائیں۔ نیز دوسرے قبائل عرب پر ان کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اسے ابو سفیان کا یہ پیغام مل بھی گیا کہ قافلہ خطرہ سے بچ نکلا ہے لہذا تم واپس آجاؤ۔ لیکن ابو جہل نے غرور سے کہا۔ اب ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد نہ کرلیں۔ وہاں گانے بجانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں گی۔ ہم وہاں شراب پئیں گے۔ مزے اڑائیں گے اور تین دن تک اونٹ ذبح کر کے قبائل عرب کی ضیافت کا اہتمام کریں گے تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کے لیے یادگار رہیں اور ان مٹھی بھر مسلمانوں پر ہمارا ایسا رعب طاری ہو کہ پھر کبھی ہمارے مقابلہ کی جرأت نہ کرسکیں۔ گویا اس وقت تک ابو جہل کا ارادہ صرف اپنی شان و شوکت جتلانے اور مسلمانوں پر رعب طاری کرنے کا تھا، لڑائی کا نہ تھا۔ پھر جب مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت وہاں پہنچ گئے اور لڑائی کی فضا بن گئی تو اس وقت بھی چند سرداروں نے ابو جہل کو لڑائی سے روکا۔ مگر پھر اس کا پندار اور غرور غالب آیا اور جن لوگوں نے اسے لڑائی روک دینے کا مشورہ دیا تھا انہیں بزدلی کے طعنے دینے لگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوگئی اور ابو جہل کو بالخصوص اس عذاب سے دوچار ہونا پڑا جس کی وہ طنزیہ دعا کیا کرتا تھا۔ اس کی موت دو نوجوان لڑکوں کے ہاتھوں واقع ہوئی اور وہ نہایت ذلت کی موت مرا۔

Al-Anfaal 8:47Listen in Qur'an →
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

[٥٣] جنگ بدر میں سراقہ بن مالک کا موجود ہونا اور کافروں کی حوصلہ افزائی :۔ قریش اور بنو کنانہ کی آپس میں دشمنی تھی اور انہیں یہ خطرہ تھا کہ بنو کنانہ کہیں مسلمانوں کی حمایت کر کے ہمارے لیے خطرہ یا شکست کا باعث نہ بن جائیں۔ ان کے اس خدشہ کو مٹانے کے لیے شیطان خود بنو کنانہ کے رئیس سراقہ بن مالک کی شکل میں کافروں کے لشکر میں آموجود ہوا اور ابو جہل سے کہنے لگا کہ ہماری طرف سے تم لوگ بالکل مطمئن رہو۔ اس معاملہ میں ہم لوگ تمہاری حمایت کریں گے اور مل کر مسلمانوں کا استیصال کریں گے۔ ویسے بھی تم لوگوں کی فتح یقینی ہے۔ تمہاری اتنی بڑی جمعیت کے سامنے ان تھوڑے سے مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے۔ پھر جب میدان کار زار گرم ہوا اور اس نے مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتے اترتے دیکھ لیے اور یہ اندازہ کرلیا کہ اب مشرکین کی شکست یقینی ہے تو وہاں سے کھسکنے لگا۔ اس وقت ابو جہل نے کہا : عین مشکل کے وقت اب کہاں جاتے ہو ؟ کہنے لگا جو کچھ مجھے نظر آ رہا ہے وہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ یہ کہہ کر چلتا بنا۔ اس وقت بھی شیطان لعین نے اپنے ساتھیوں کو یہ نہ بتلایا کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اس کے مطابق تمہاری ہلاکت ہونے والی ہے۔ لہذا تم بروقت اس کا تدارک سوچ لو۔ بلکہ انہیں دغا دے کر واپس چلا گیا۔

Al-Anfaal 8:48Listen in Qur'an →
49

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

[٥٤] مجاہدین بدر کو یہودیوں اور منافقوں کا طعنہ :۔ مدینہ کے منافق اور یہودی یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دینی جوش میں دیوانے ہوگئے ہیں۔ بھلا ان کی اس مٹھی بھر بےسروسامان جماعت کا قریش جیسی زبردست طاقت سے ٹکر لینے کے لیے تیار ہوجانا دیوانگی نہیں تو کیا ہے۔ یہ لوگ پتہ نہیں کس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ ہمیں تو اس معرکہ میں ان کی تباہی یقینی نظر آرہی ہے اور سب کچھ دیکھتے بھالتے یہ لوگ اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دیوانے مسلمان نہیں بلکہ دیوانے یہ خود ہیں جو یہ بات نہیں سمجھتے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرتا ہے وہ مدد کرنے پر غالب بھی ہے اور ایسے سب طریقے بھی خوب جانتا ہے۔

Al-Anfaal 8:49Listen in Qur'an →
50

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

[٥٥] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اس آیت میں روئے سخن ان کافروں کی طرف ہے جو غزوہ بدر میں مارے گئے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم اس کا حکم عام ہے۔ اور سب کافروں سے ایسا معاملہ پیش آسکتا ہے کہ ان کی موت کے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پشتوں پر چوٹیں بھی لگائیں اور جہنم کے عذاب کی نوید بھی سنائیں اور کہیں کہ یہ سزا تمہیں تمہارے ہی شامت اعمال سے مل رہی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہیں سزا دینے کا کوئی شوق نہیں۔

Al-Anfaal 8:50Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.