Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 41–50 of 75

41

۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

غنیمت عربی زبان میں اس مال کو کہتے ہیں جو میدانِ جنگ میں دشمن سے لڑکر حاصل کیا گیاہو۔ قدیم زمانہ میں یہ رواج تھا کہ جنگ کے بعد دشمن کی جو چیز جس کے ہاتھ لگے وہ اسی کی سمجھی جائے۔ اسلام نے یہ اصول مقرر کیا کہ ہر ایک کو جو کچھ ملا وہ سب کا سب لاکر امیر کے پاس جمع کرے، کوئی شخص سوئی کا دھاگا تک چھپا کر نہ رکھے۔

اس طرح سارا مالِ غنیمت اکھٹا کرنے کے بعد اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا ہے جس کو رسول نیابت کے طورپر وصول کرکے پانچ جگہ اس طرح خرچ کرے گا کہ — ایک حصہ اپنی ذات پر، پھر اپنے ان رشتہ داروں پر جنھوں نے رشتہ کی بنیاد پر مشکل وقتوں میں آپ کے دینی مشن میں آپ کا ساتھ دیا، اور یتیموں پر اور حاجت مندوں پر اور مسافروں پر — اس کے بعد بقیہ چار حصے کو تمام فوجیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ سوار کو دو حصہ ملے اور پیدل کو ایک حصہ۔

اسلام یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ آدمی جو چیز پائے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ اس دنیا میں کسی واقعہ کو ظہور میں لانے کے ليے بے شمار اسباب کی بیک وقت موافقت ضروری هے جو کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ بدر کی لڑائی میںایک بے حد طاقت ور گروہ کے مقابلہ میں ایک کمزور گروہ کا فیصلہ کن طورپر غلبہ پانا اس بات کا ایک غیر معمولی ثبوت تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کی طرف سے ہوا ہے۔ ایسی حالت میں فتح کے بعد ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھنا عین اس حقیقت کو ماننا تھا جو واقعات کے نتیجے میں فطری طورپر سامنے آئی ہے۔

مال غنیمت میں دوسرے مستحق بھائیوں کا حصہ رکھنا اس بات کا سبق ہے کہ اموال میں حق دار ہونے کی بنیاد صرف محنت اور وراثت نہیں بلکہ ایسی بنیادیں بھی ہیں جو محنت اور وراثت جیسی چیزوں کے دائرہ میں نہیں آتیں۔ استحقاق کی ان دوسری مدوں کا اعتراف گویا اس واقعہ کا عملی اعتراف ہے کہ آدمی چیزوں کو خدا کی چیز سمجھتا ہے، نہ کہ اپنی چیز۔

غنیمت کے اس قانون میں تیسرا زبردست سبق یہ ہے کہ ملکیت کی بنیاد قبضہ نہیں بلکہ اصول ہے۔ کوئی شخص محض اس بنا پر کسی چیز کا مالک نہیں بن جائیگا کہ وہ اتفاق سے اس کے قبضہ میں آگئی ہے۔ قبضہ کے باوجود آدمی کو چاہيے کہ وه اس چیز کو ذمہ دار افراد کے حوالے کردے اور اصولی اور قانونی بنیاد پر اس کو جتنا ملنا چاہیے اس کو لے کر اس پر راضی ہوجائے۔

Al-Anfaal 8:41Listen in Qur'an →
42

إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمیني غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔

قریش مکہ سے اس ليے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ مسلمان مدینہ سے اس ليے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا۔ اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہوگئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی ليے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کردیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔

بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہوجاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہوسکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔

عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔

Al-Anfaal 8:42Listen in Qur'an →
43

إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمیني غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔

قریش مکہ سے اس ليے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ مسلمان مدینہ سے اس ليے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا۔ اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہوگئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی ليے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کردیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔

بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہوجاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہوسکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔

عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔

Al-Anfaal 8:43Listen in Qur'an →
44

وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًۭا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًۭا كَانَ مَفْعُولًۭا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ

اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے

اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ یہ کام ابتداء ً دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتاہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمیني غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔

قریش مکہ سے اس ليے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ مسلمان مدینہ سے اس ليے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا۔ اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہوگئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح کھل گئی۔ جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہوگئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی ليے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کردیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کردیا جائے۔

بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہوجاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہوسکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدد بھیج کر اس کام کی تکمیل کا سامان کردیتا ہے۔

عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے ليے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔

Al-Anfaal 8:44Listen in Qur'an →
45

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةًۭ فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًۭا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

مومنو! جب (کفار کی) کسی جماعت سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ مراد حاصل کرو

کامیابی خدا کی مدد سے آتی ہے۔ مگر خدا کی مدد ہمیشہ اسباب کے پردہ میں آتی ہے، نہ کہ بے اسبابی کے حالات میں۔ مسلمان اگر اپنے ممکن اسباب کو جمع کردیں تو بقیہ کمی خدا کی طرف سے پوری کرکے انھیں کامیاب کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ بے اسبابی کا مظاہرہ کریں تو خدا کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ بے اسبابی کے نقشہ میںان کے ليے اپنی مدد بھیج دے۔

اسباب کیا ہیں۔ اسباب یہ ہیں کہ مسلمان اقدام میں پہل نہ کریں۔ وہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے میں لگے رہیں تاآں کہ حریف خود چڑھائی کرکے ان سے لڑنے کے ليے آجائے۔ پھر جب ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوجائے تو وہ اس کے مقابلہ میں پوری طرح جماؤ کا ثبوت دیں۔ اللہ کی یاد، بالفاظ دیگر، مقصود اصلی کا مکمل استحضار رکھیں تاکہ ان کا قلبی حوصلہ باقی رہے۔ سردار کے حکم کے تحت پوری طرح منظم رہیں۔ باہمی اختلافات کو نظر انداز کریں، نہ یہ کہ اختلافات کو بڑھا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ وہ اپنے اتحاد سے حریف کو مرعوب کردیں۔ وہ صبر کریں، یعنی جوش کے بجائے ہوش کو اپنائیں۔ جلد کامیابی کے شوق میں غیر پختہ اقدام نہ کریں۔ ان کی نظر ہمیشہ آخری منزل پر ہو، نہ کہ وقتی مصالح اور منافع پر— انھیں چیزوں کا نام اسباب ہے اور انھیں اسباب کے پردہ میں خدا کی مدد آتی ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں خدا ’’غیب‘‘ میں رہ کر اپنے تمام تصرفات انجام دیتا ہے، اسی ليے جب وہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے تو اسباب کے پردہ میں کرتاہے۔ مسلمان اگر اسباب کا ماحول پیدا نہ کریں وہ بے حوصلگی کا ثبوت دیں، وہ ابتدائی تیاری کے بغیر اقدامات کرنے لگیں، وہ اختلاف وانتشار میں مبتلا ہوں، تو ان کو کبھی یہ امید نہ کرنی چاہيے کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آجائے گا اور بے اسبابی کا شکار ہونے کے باوجود ماورائے اسباب طریقوں سے ان کی مدد کرکے ان کے تمام کام بنادے گا۔

مسلمان اگر اپنے حریف کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر حالات میں پائیں تب بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کافروں کی طرح اپنی طاقت پر گھمنڈ کریں، وہ فخر ونمائش کے جذبات میں مبتلا ہوجائیں۔ وہ بڑائی کے زعم میں اس حد تک آگے بڑھیں کہ ایک شخص کے صرف اس ليے مخالف بن جائیں کہ وہ ایسے حق کی دعوت دے رہا ہے جس کی زد خود ان کی اپنی ذات پر بھی پڑ رہی ہے۔

Al-Anfaal 8:45Listen in Qur'an →
46

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَنَٰزَعُوا۟ فَتَفْشَلُوا۟ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہارا اقبال جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے

کامیابی خدا کی مدد سے آتی ہے۔ مگر خدا کی مدد ہمیشہ اسباب کے پردہ میں آتی ہے، نہ کہ بے اسبابی کے حالات میں۔ مسلمان اگر اپنے ممکن اسباب کو جمع کردیں تو بقیہ کمی خدا کی طرف سے پوری کرکے انھیں کامیاب کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ بے اسبابی کا مظاہرہ کریں تو خدا کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ بے اسبابی کے نقشہ میںان کے ليے اپنی مدد بھیج دے۔

اسباب کیا ہیں۔ اسباب یہ ہیں کہ مسلمان اقدام میں پہل نہ کریں۔ وہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے میں لگے رہیں تاآں کہ حریف خود چڑھائی کرکے ان سے لڑنے کے ليے آجائے۔ پھر جب ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوجائے تو وہ اس کے مقابلہ میں پوری طرح جماؤ کا ثبوت دیں۔ اللہ کی یاد، بالفاظ دیگر، مقصود اصلی کا مکمل استحضار رکھیں تاکہ ان کا قلبی حوصلہ باقی رہے۔ سردار کے حکم کے تحت پوری طرح منظم رہیں۔ باہمی اختلافات کو نظر انداز کریں، نہ یہ کہ اختلافات کو بڑھا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ وہ اپنے اتحاد سے حریف کو مرعوب کردیں۔ وہ صبر کریں، یعنی جوش کے بجائے ہوش کو اپنائیں۔ جلد کامیابی کے شوق میں غیر پختہ اقدام نہ کریں۔ ان کی نظر ہمیشہ آخری منزل پر ہو، نہ کہ وقتی مصالح اور منافع پر— انھیں چیزوں کا نام اسباب ہے اور انھیں اسباب کے پردہ میں خدا کی مدد آتی ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں خدا ’’غیب‘‘ میں رہ کر اپنے تمام تصرفات انجام دیتا ہے، اسی ليے جب وہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے تو اسباب کے پردہ میں کرتاہے۔ مسلمان اگر اسباب کا ماحول پیدا نہ کریں وہ بے حوصلگی کا ثبوت دیں، وہ ابتدائی تیاری کے بغیر اقدامات کرنے لگیں، وہ اختلاف وانتشار میں مبتلا ہوں، تو ان کو کبھی یہ امید نہ کرنی چاہيے کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آجائے گا اور بے اسبابی کا شکار ہونے کے باوجود ماورائے اسباب طریقوں سے ان کی مدد کرکے ان کے تمام کام بنادے گا۔

مسلمان اگر اپنے حریف کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر حالات میں پائیں تب بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کافروں کی طرح اپنی طاقت پر گھمنڈ کریں، وہ فخر ونمائش کے جذبات میں مبتلا ہوجائیں۔ وہ بڑائی کے زعم میں اس حد تک آگے بڑھیں کہ ایک شخص کے صرف اس ليے مخالف بن جائیں کہ وہ ایسے حق کی دعوت دے رہا ہے جس کی زد خود ان کی اپنی ذات پر بھی پڑ رہی ہے۔

Al-Anfaal 8:46Listen in Qur'an →
47

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ خَرَجُوا۟ مِن دِيَٰرِهِم بَطَرًۭا وَرِئَآءَ ٱلنَّاسِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌۭ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو اِتراتے ہوئے (یعنی حق کا مقابلہ کرنے کے لیے) اور لوگوں کو دکھانے کے لیے گھروں سے نکل آئے اور لوگوں کو خدا کی راہ سے روکتے ہیں۔ اور جو اعمال یہ کرتے ہیں خدا ان پر احاطہ کئے ہوئے ہے

کامیابی خدا کی مدد سے آتی ہے۔ مگر خدا کی مدد ہمیشہ اسباب کے پردہ میں آتی ہے، نہ کہ بے اسبابی کے حالات میں۔ مسلمان اگر اپنے ممکن اسباب کو جمع کردیں تو بقیہ کمی خدا کی طرف سے پوری کرکے انھیں کامیاب کردیا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ بے اسبابی کا مظاہرہ کریں تو خدا کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ بے اسبابی کے نقشہ میںان کے ليے اپنی مدد بھیج دے۔

اسباب کیا ہیں۔ اسباب یہ ہیں کہ مسلمان اقدام میں پہل نہ کریں۔ وہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے میں لگے رہیں تاآں کہ حریف خود چڑھائی کرکے ان سے لڑنے کے ليے آجائے۔ پھر جب ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوجائے تو وہ اس کے مقابلہ میں پوری طرح جماؤ کا ثبوت دیں۔ اللہ کی یاد، بالفاظ دیگر، مقصود اصلی کا مکمل استحضار رکھیں تاکہ ان کا قلبی حوصلہ باقی رہے۔ سردار کے حکم کے تحت پوری طرح منظم رہیں۔ باہمی اختلافات کو نظر انداز کریں، نہ یہ کہ اختلافات کو بڑھا کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ وہ اپنے اتحاد سے حریف کو مرعوب کردیں۔ وہ صبر کریں، یعنی جوش کے بجائے ہوش کو اپنائیں۔ جلد کامیابی کے شوق میں غیر پختہ اقدام نہ کریں۔ ان کی نظر ہمیشہ آخری منزل پر ہو، نہ کہ وقتی مصالح اور منافع پر— انھیں چیزوں کا نام اسباب ہے اور انھیں اسباب کے پردہ میں خدا کی مدد آتی ہے۔

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔یہاں خدا ’’غیب‘‘ میں رہ کر اپنے تمام تصرفات انجام دیتا ہے، اسی ليے جب وہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے تو اسباب کے پردہ میں کرتاہے۔ مسلمان اگر اسباب کا ماحول پیدا نہ کریں وہ بے حوصلگی کا ثبوت دیں، وہ ابتدائی تیاری کے بغیر اقدامات کرنے لگیں، وہ اختلاف وانتشار میں مبتلا ہوں، تو ان کو کبھی یہ امید نہ کرنی چاہيے کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آجائے گا اور بے اسبابی کا شکار ہونے کے باوجود ماورائے اسباب طریقوں سے ان کی مدد کرکے ان کے تمام کام بنادے گا۔

مسلمان اگر اپنے حریف کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر حالات میں پائیں تب بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کافروں کی طرح اپنی طاقت پر گھمنڈ کریں، وہ فخر ونمائش کے جذبات میں مبتلا ہوجائیں۔ وہ بڑائی کے زعم میں اس حد تک آگے بڑھیں کہ ایک شخص کے صرف اس ليے مخالف بن جائیں کہ وہ ایسے حق کی دعوت دے رہا ہے جس کی زد خود ان کی اپنی ذات پر بھی پڑ رہی ہے۔

Al-Anfaal 8:47Listen in Qur'an →
48

وَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَعْمَٰلَهُمْ وَقَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ ٱلْيَوْمَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَإِنِّى جَارٌۭ لَّكُمْ ۖ فَلَمَّا تَرَآءَتِ ٱلْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّى بَرِىٓءٌۭ مِّنكُمْ إِنِّىٓ أَرَىٰ مَا لَا تَرَوْنَ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ ۚ وَٱللَّهُ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور جب شیطانوں نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کر کے دکھائے اور کہا کہ آج کے دن لوگوں میں کوئی تم پر غالب نہ ہوگا اور میں تمہارا رفیق ہوں (لیکن) جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوئیں تو پسپا ہو کر چل دیا اور کہنے لگا کہ مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔ مجھے تو خدا سے ڈر لگتا ہے۔ اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

مکہ کے مخالفین اپنے آپ کو برسر حق اور پیغمبر کے ساتھیوں کو برسر باطل سمجھتے تھے۔ اس پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کی کہ خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو فریق حق پر ہو تو اس کو کامیاب کر اور جو فریق باطل پر ہو تو اس کو ہلاک کردے۔ تاہم ان کا یہ یقین جھوٹا یقین تھا۔ اس قسم کا یقین ہمیشہ شیطان کی تزئین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

شیطان نے مکہ کے لوگوں کو سکھایا کہ تم تاریخ کے مسلّمہ پیغمبروں (ابراہیم واسماعیل علیہما السلام) کے ماننے والے ہو جب کہ مسلمان ایک ایسے شخص کو مانتے ہیں جس کا پیغمبر ہونا ابھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ تم کعبہ کے وارث ہو جب کہ مسلمانوں کو کعبہ کی سر زمین سے نکال دیا گیا ہے۔ تم اسلاف کی روایتوں کو قائم رکھنے کے ليے لڑ رہے ہو جب کہ مسلمان اسلاف کی روایتوں کو توڑنے کے ليے اٹھے ہیں۔ شیطان نے مکہ والوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات ڈال کر ان کو جھوٹے یقین میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں بالکل درست کررہے ہیں اور خدا کی مدد بہر حال ہمیں حاصل ہوگی۔

مکہ کے مخالفین ایک طرف اپنے جھوٹے یقین کو اس قسم کی چیزوں کی بنا پر سچا یقین سمجھ رہے تھے۔ دوسری طرف جب وہ دیکھتے کہ پیغمبر کے ساتھی ان سے بھی زیادہ یقین اور سرفروشی کے جذبہ کے ساتھ اسلام کے محاذ پر اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہیں تو وہ ان کے سچے یقین کو یہ کہہ کر بے اعتبار ثابت کرتے تھے کہ یہ محض ایک مذہبی جنون ہے۔ وہ ایک شخص (پیغمبر) کی خوبصورت باتوں سے جوش میں آکر دیوانے ہورہے ہیں۔ ان کے یقین اور قربانی کی اس سے زیادہ اور کوئی حقیقت نہیں۔

مگر جب دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں کے ليے اللہ کی مدد اتر پڑی تو شیطان مخالفین اسلام کو چھوڑ کر بھاگا۔ ایک طرف خدا کی مدد سے مسلمانوں کے دل اور زیادہ قوی ہوگئے۔ دوسری طرف مخالفین کا جھوٹا یقین بے دلی اور پست ہمتی میں تبدیل ہوگیا۔ کیوں کہ ان کا اعتماد شیطان پر تھا اور شیطان اب ان کو چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔

جو لوگ اللہ پر بھروسہ کریں اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے۔ مگر الله کی مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ اہلِ ایمان اللہ پر یقین کا اتنا بڑا ثبوت دے دیں کہ بے یقین لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

Al-Anfaal 8:48Listen in Qur'an →
49

إِذْ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ غَرَّ هَٰٓؤُلَآءِ دِينُهُمْ ۗ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اس وقت منافق اور (کافر) جن کے دلوں میں مرض تھا کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے مغرور کر رکھا ہے اور جو شخص خدا پر بھروسہ رکھتا ہے تو خدا غالب حکمت والا ہے

مکہ کے مخالفین اپنے آپ کو برسر حق اور پیغمبر کے ساتھیوں کو برسر باطل سمجھتے تھے۔ اس پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کی کہ خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو فریق حق پر ہو تو اس کو کامیاب کر اور جو فریق باطل پر ہو تو اس کو ہلاک کردے۔ تاہم ان کا یہ یقین جھوٹا یقین تھا۔ اس قسم کا یقین ہمیشہ شیطان کی تزئین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

شیطان نے مکہ کے لوگوں کو سکھایا کہ تم تاریخ کے مسلّمہ پیغمبروں (ابراہیم واسماعیل علیہما السلام) کے ماننے والے ہو جب کہ مسلمان ایک ایسے شخص کو مانتے ہیں جس کا پیغمبر ہونا ابھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ تم کعبہ کے وارث ہو جب کہ مسلمانوں کو کعبہ کی سر زمین سے نکال دیا گیا ہے۔ تم اسلاف کی روایتوں کو قائم رکھنے کے ليے لڑ رہے ہو جب کہ مسلمان اسلاف کی روایتوں کو توڑنے کے ليے اٹھے ہیں۔ شیطان نے مکہ والوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات ڈال کر ان کو جھوٹے یقین میں مبتلا کردیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں بالکل درست کررہے ہیں اور خدا کی مدد بہر حال ہمیں حاصل ہوگی۔

مکہ کے مخالفین ایک طرف اپنے جھوٹے یقین کو اس قسم کی چیزوں کی بنا پر سچا یقین سمجھ رہے تھے۔ دوسری طرف جب وہ دیکھتے کہ پیغمبر کے ساتھی ان سے بھی زیادہ یقین اور سرفروشی کے جذبہ کے ساتھ اسلام کے محاذ پر اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہیں تو وہ ان کے سچے یقین کو یہ کہہ کر بے اعتبار ثابت کرتے تھے کہ یہ محض ایک مذہبی جنون ہے۔ وہ ایک شخص (پیغمبر) کی خوبصورت باتوں سے جوش میں آکر دیوانے ہورہے ہیں۔ ان کے یقین اور قربانی کی اس سے زیادہ اور کوئی حقیقت نہیں۔

مگر جب دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں کے ليے اللہ کی مدد اتر پڑی تو شیطان مخالفین اسلام کو چھوڑ کر بھاگا۔ ایک طرف خدا کی مدد سے مسلمانوں کے دل اور زیادہ قوی ہوگئے۔ دوسری طرف مخالفین کا جھوٹا یقین بے دلی اور پست ہمتی میں تبدیل ہوگیا۔ کیوں کہ ان کا اعتماد شیطان پر تھا اور شیطان اب ان کو چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔

جو لوگ اللہ پر بھروسہ کریں اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے۔ مگر الله کی مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ اہلِ ایمان اللہ پر یقین کا اتنا بڑا ثبوت دے دیں کہ بے یقین لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ مجنون ہوگئے ہیں۔

Al-Anfaal 8:49Listen in Qur'an →
50

وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ يَتَوَفَّى ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۙ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَٰرَهُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ

اور کاش تم اس وقت (کی کیفیت) دیکھو۔ جب فرشتے کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر (کوڑے اور ہتھوڑے وغیرہ) مارتے (ہیں اور کہتے ہیں) کہ (اب) عذاب آتش (کا مزہ) چکھو

نعمت کا انحصار حالتِ استحقاق نعمت پر ہے۔ قومی سطح پر کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ہمیشہ اس استحقاق کے بقدر ہوتی ہیں جو نفسی حالت کے اعتبار سے اس کے یہاں پایا جاتا ہے۔ یہ ’’نفس‘‘ چونکہ فرد کے اندر ہوتاہے اس ليے اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی انعامات کا انحصار انفرادی حالات پر ہے۔ افراد کی سطح پر قوم جس درجہ میں ہو اسی کے بقدر اس کو اجتماعی انعامات ديے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اگر خدا کے اجتماعی انعامات کو پانا چاہتاہے تو اس کو اپنے افراد کی نفسی اصلاح پر اپنی طاقت صرف کرنا چاہيے۔ اسی طرح کوئی قوم اگراپنے کو اس حال میں دیکھے کہ اس سے اجتماعی نعمتیں چھن گئی ہیں تو اس کو خود نعمتوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے افراد كي اصلاح کے پیچھے دوڑنا چاہیے۔ کیوں کہ افراد ہی کے بگڑنے سے اس کی نعمتیں چھنی ہیں اور افراد ہی کے بننے سے دوبارہ وہ اسے مل سکتی ہیں۔

جب کوئی قوم عدل کے بجائے ظلم اور تواضع کے بجائے سرکشی کا رويہ اختیار کرتی ہے تو خدا کی طرف سے اس کے سامنے سچائی کا اعلان کرایا جاتاہے تاکہ وہ متنبہ ہوجائے۔ یہ اعلان کمالِ وضاحت کے اعتبار سے خدا کی ایک نشانی ہوتاہے۔ اس کو ماننا خدا کو ماننا ہوتا ہے اور اس کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا۔ خدا کی دعوت جب آیت (نشانی) کی حد تک برہنہ ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے پھر بھی وہ اس کا انکار کریں تو اس کے بعد لازماً وہ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ اس سزا کا آغاز اگر چہ دنیا ہی سے ہوجاتاہے۔ تاہم دنیا کی سزا اس سزا کے مقابلہ میں بہت کم ہے جو موت کے بعد آدمی کے سامنے آنے والی ہے۔ فرشتوں کی مار، ساری مخلوق کے سامنے رسوائی اور جہنم کی آگ میں جلنا ۔ یہ سب اتنے ہولناک مراحل ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انسان جب ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو اولاً اس کے ليے تنبیہات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر وہ ان سے سبق نہ لے تو بالآخر وہ خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجاتا ہے۔

Al-Anfaal 8:50Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.