۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍۢ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
پارہ نمبر 10 ایک نظر میں
اس پارے میں سورت انفال کا باقی حصہ ہے ، جس کا ابتدائی حصہ نویں پارے میں گزر گیا ہے۔ اس کے بقیہ حصے میں سورت توبہ کا بیشتر حصہ ہے۔ یہاں ہم سورت انفال کے زیر بحث حصے کا تعارف کرائیں گے اور سورت توبہ کا تعارف آگاز سورت توبہ میں حسب دستور آئے گا۔ انشاء اللہ !
نویں پارے کے آخر میں ہم نے سورت انفال کے تعارف میں اس سورت کے مباحث کے اہم خطوط کو واضح کردیا۔ اس سورت کے حصہ زیر بحث کے خدو خال وہی ہیں جو کے پہلے حصے کے تھے۔ لیکن چونکہ موضوعات بحث مختلف ہیں ، اس لیے ان میں تکرار بالکل محسوس نہیں ہوتا۔ موضوعات کی ترتیب ایسی ہے کہ نظر آتا ہے کہ اس کا پہلا حصہ اس کا پہلا دور تھا اور یہ حصہ دوسرا دور ہے۔ کیونکہ مباحث و موضوعات کے اندر بےحد ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
پہلے حصے کا آغاز یوں ہوا تھا کہ لوگ انفال کے بارے میں سولاات کرتے ہیں اور اس کے بارے میں مسلمانوں کے مابین تنازع کا ذکر ہوا اور اس کے نتیجے میں انفال کی ملکیت اور اختیار تقسیم رسول اللہ کی طرف لوٹا دیا گیا۔ اور لوگو سے کہا گیا کہ ذرا خدا کا خوف کرو اور بتایا گیا کہ حقیقی ایمان کیا ہوتا ہے ؟ اور انہیں دعوت دی گئی کہ اس حقیقی ایمان کی سطح تک بلند ہوجاؤ۔ اس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ بدر کے تمام واقعات اللہ کی تقدیر و تدبیر کا مظاہرہ تھا ، سب اسکیم اللہ کی تھی ، امداد سب کی سب اللہ کی طرف سے تھی۔ تمام معرکہ اس لیے درپیش ہوا کہ اللہ کا ارادہ ظاہر ہو ، جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے ، وہ محض کردار تھے۔ اور اللہ کی تقدیر کے آلات تھے۔ اس معرکے کی حققت کے انکشاف کے بعد ان کو پکارا گیا کہ جنگ کے وقت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو اور انہیں اطمینان دلایا کہ اللہ تمہاری نصرت اور معاونت کرے گا۔ اور تمہارے دشمنوں کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دے گا۔ اس کے بعد انہیں اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ خیانت کرنے سے ڈرایا گیا۔ فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کیا گیا اور حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ کفار کو اس انجام سے خبر دار کردیں جس سے وہ دو چار ہونے والے ہیں۔ اور اگر وہ توبہ کرکے بظاہر دعوت کو قبول کرتے ہیں تو ان کے اقرار کو مان لیا جائے اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور اگر وہ مان کر نہ دیں تو پھر ان سے اس وقت تک لڑآ جائے جب تک دنیا فتنے سے پاک نہیں ہوجاتی اور نظام زندگی صرف اسلامی نہیں ہوجاتا۔
یہ تو تھا خلاصہ پہلے حصے کا ، اب ذرا دیکھئے کہ اس دوسرے حصے میں بھی بات کا آغاز غنائم ہی سے ہوتا ہے اور پھر انہیں ایمان باللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور اس کلام پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے جو اس دن نازل ہوا جس دن دو گروہوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ جن حالات میں یہ غنائم تمہارے ہاتھ لگے اس کے لیے اللہ کی تقدیر نے منصوبہ بندی کی تھی اور اس معرکے کے مواقف اور مشاہدات کے کچھ دوسرے پہلو پیش کیے جاتے ہیں جن سے اس تقدیر و تدبیر کی فعالیت نمایاں نظر آتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان در اصل دست قدرت کا پردہ تھے اور بطور آلات کام کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کو پکارا جاتا ہے کہ تم کو جب کفار کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے تو میدان جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو کیونکہ واقعات کی حقیقت تو تم جان چکے ہو ، اللہ کو ہر وقت یاد رکھو اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، اور ہر قسم کے تنازعات سے بچو ، کیونکہ تنازعات کی صورت میں تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم کمزور ہوجاؤ گے۔ پھر ان کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جہاد میں کبر و غرور اور خود نمائی سے بچو۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی طرح رویہ نہ اختیار کرو جو گھروں سے گھمنڈ میں نکلے ، طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، حالانکہ ان کے اس فعل کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔ اور یہ لوگ شیطان کی …