Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 31–40 of 75

31

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

And when Our verses are recited to them, they say, "We have heard. If we willed, we could say [something] like this. This is not but legends of the former peoples."

Explained together with ayah 30

Al-Anfaal 8:31Listen in Qur'an →
32

وَإِذْ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

And [remember] when they said, "O Allah, if this should be the truth from You, then rain down upon us stones from the sky or bring us a painful punishment."

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :26

یہ بات وہ دعا کے طور پر نہیں کہتے تھے بلکہ چیلنج کے انداز میں کہتے تھے ۔ یعنی ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر واقعی یہ حق ہوتا اور خدا کی طرف سے ہوتا تو اس کے جھٹلانے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم پر آسمان سے پتھر برستے اور عذاب الیم ہمارے اوپر ٹوٹ پڑتا ۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہ حق ہے نہ منجانب اللہ ہے ۔

Al-Anfaal 8:32Listen in Qur'an →
33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

But Allah would not punish them while you, [O Muhammad], are among them, and Allah would not punish them while they seek forgiveness.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :27

یہ ان کے اس سوال کا جواب ہے جو ان کی اوپر والی ظاہری دعا میں متضمن تھا ۔ اس جواب میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکی دور میں کیوں عذاب نہیں بھیجا ۔ اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ جب تک نبی کسی بستی میں موجود ہو اور حق کی طرف دعوت دے رہا ہو اس وقت تک بستی کے لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے اور عذاب بھیج کر قبل از وقت ان سے اصلاح پذیری کا موقع سلب نہیں کر لیاجاتا ۔ اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جب تک بستی میں سے ایسے لوگ پے در پے نکلتے چلے آرہے ہوں جو اپنی سابقہ غفلت اور غلط روی پر متنبہ ہو کر اللہ سے معافی کی درخواست کرتے ہوں اور آئندہ کے لیے اپنے رویہ کی اصلاح کر لیتے ہوں ، اس وقت تک کوئی معقول وجہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ اس بستی کو تباہ کر کے رکھ دے ۔ البتہ عذاب کا اصلی وقت وہ ہوتا ہے جب نبی اس بستی پر حجّت پوری کرنے کے بعد مایوس ہو کر وہاں سے نکل جائے یا نکال دی جائے یا قتل کر ڈالا جائے ، اور وہ بستی اپنے طرز عمل سے ثابت کر دے کہ وہ کسی صالح عنصر کو اپنے درمیان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

Al-Anfaal 8:33Listen in Qur'an →
34

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

But why should Allah not punish them while they obstruct [people] from al-Masjid al- Haram and they were not [fit to be] its guardians? Its [true] guardians are not but the righteous, but most of them do not know.

Explained together with ayah 33

Al-Anfaal 8:34Listen in Qur'an →
35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ ٱلْبَيْتِ إِلَّا مُكَآءًۭ وَتَصْدِيَةًۭ ۚ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

And their prayer at the House was not except whistling and handclapping. So taste the punishment for what you disbelieved.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :28

یہ اشارہ اس غلط فہمی کی تردید میں ہے جو لوگوں کے دلوں میں چھپی ہوئی تھی اور جس سے عام طور پر اہل عرب دھوکا کھا رہے تھے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ قریش چونکہ بیت اللہ کے مجاور اور متولی ہیں اور وہاں عبادت بجا لاتے ہیں اس لیے ان پر اللہ کا فضل ہے ۔ اس کے رد میں فرمایا کہ محض میراث میں مجاورت اور تولیت پالینے سے کوئی شخص یا گروہ کسی عبادت گاہ کا جائز مجاور ومتولی نہیں ہو سکتا ۔ جائز مجاور و متولی تو صرف خدا ترس اور پرہیزگار لوگ ہی ہو سکتے ہیں ۔ اور ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک جماعت کو ، جو خالص خدا کی عبادت کر نے والی ہے ، اس عبادت گاہ میں آنے سے روکتے ہیں جو خا لص خدا کی عبادت ہی کے لیے وقف کی گئی تھی ۔ اس طرح یہ متولی اور خادم بن کر رہنے کے بجائے اس عبادت گاہ کے مالک بن بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو اس بات کا مختار سمجھنے لگے ہیں کہ جس یہ ناراض ہوں اسے عبادت گاہ میں نہ آنے دیں ۔ یہ حرکت ان کے ناخدا ترس اور ناپرہیز گار ہونے کے صریح دلیل ہے ۔ رہی ان کی عبادت جو وہ بیت اللہ میں کرتے ہیں تو اس کے اندر نہ خضوع و خشوع ہے ، نہ تو جہ الی اللہ ہے ، نہ ذکر الہٰی ہے ، بس ایک بے معنی شور و غل اور لہو و لعب ہے جس کا نام انہوں نے عبادت رکھ چھوڑا ہے ۔ ایسی نام و نہاد خدمت بیت اللہ اور ایسی جھوٹی عبادت پر آخر یہ فضلِ الہٰی کے مستحق کیسے ہوگئے اور یہ چیز انہیں عذاب الہٰی سے کیونکر محفوظ رکھ سکتی ہے؟

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :29

وہ سمجھتے تھے کہ عذاب الہٰی صرف آسمان سے پھتروں کی شکل میں یا کسی اور طرح قوائے فطرت کے ہیجان ہی کی شکل میں آیا کرتا ہے ۔ مگر یہاں انہیں بتایا گیا ہے کہ جنگ بدر میں ان کی فیصلہ کن شکست ، جس کی وجہ سے اسلام کے لیے زندگی کا اور قدیم نظام جاہلیت کے لیے موت کا فیصلہ ہوا ہے ، دراصل ان کے حق میں اللہ کا عذاب ہی ہے ۔

Al-Anfaal 8:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةًۭ ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

Indeed, those who disbelieve spend their wealth to avert [people] from the way of Allah. So they will spend it; then it will be for them a [source of] regret; then they will be overcome. And those who have disbelieved - unto Hell they will be gathered.

Explained together with ayah 35

Al-Anfaal 8:36Listen in Qur'an →
37

لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

[This is] so that Allah may distinguish the wicked from the good and place the wicked some of them upon others and heap them all together and put them into Hell. It is those who are the losers.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :30

اس سے بڑھ کر دیوالیہ پن اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسان جس راہ میں اپنا تمام وقت ، تمام محنت ، تمام قابلیت ، اور پورا سرمایہ زندگی کھپا دے اس کی انتہا پر پہنچ کر اسے معلوم ہو کہ وہ اسے سیدھی تباہی کی طرف لے آئی ہے اور اس راہ میں جو کچھ اس نے کھپایا ہے اس پر کوئی سود یا منافع پانے کے بجائے اسے اُلٹا جرمانہ بھگتنا پڑے گا ۔

Al-Anfaal 8:37Listen in Qur'an →
38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَنتَهُوا۟ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا۟ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ ٱلْأَوَّلِينَ

Say to those who have disbelieved [that] if they cease, what has previously occurred will be forgiven for them. But if they return [to hostility] - then the precedent of the former [rebellious] peoples has already taken place.

Explained together with ayah 37

Al-Anfaal 8:38Listen in Qur'an →
39

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

And fight them until there is no fitnah and [until] the religion, all of it, is for Allah. And if they cease - then indeed, Allah is Seeing of what they do.

سورة الْاَنْفَال حاشیہ نمبر :31

یہاں پھر مسلمانوں کی جنگ کے اسے ایک مقصد کا اعادہ کیا گیا ہے جو اس سے پہلے سورة بقر آیت ١۹۳ میں بیان کیا گیا تھا ۔ اس مقصد کا سلبی جزء یہ ہے کہ فتنہ باقی رہ رہے ، اور ایجابی جزء یہ ہے کہ دین بالکل اللہ کے لیے ہو جائے بس یہی ایک اخلاقی مقصد ایسا ہے جس کے لیے لڑنا اہل ایمان کے لیے جائز بلکہ فرض ہے ۔ اس کے سوا کسی دوسرے مقصد کی لڑائی جائز نہیں ہے اور نہ اہل ایمان کو زیبا ہے کہ اس میں کسی طرح حصہ لیں ۔ ( تشریح کے یے ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حواشی ۲۰٤و ۲۰۵ )

Al-Anfaal 8:39Listen in Qur'an →
40

وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَىٰكُمْ ۚ نِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ

But if they turn away - then know that Allah is your protector. Excellent is the protector, and Excellent is the helper.

Explained together with ayah 39

Al-Anfaal 8:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.