Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 31–40 of 75

31

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

اکتیسویں اور بتیسویں آیتوں میں اسی دارالندوہ کے ایک شریک نضر بن حارث کی ایک بےہودہ گفتگو اور تینتیسویں آیت میں یہود و نصاری کی کتابیں اور ان کی عبادتیں دیکھنے کا بار بار اتفاق ہوتا تھا اس لئے جب اس نے قرآن کریم میں پچلھی امتوں کے حالات سنے تو کہنے لگا کہ (آیت) قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ، یعنی یہ باتیں تو ہماری سنی ہوئی ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ تو پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اور جب بعض صحابہ نے اس کو لاجواب کیا کہ اگر تم ایسا کلام کہہ سکتے ہو تو پھر کہتے کیوں نہیں جب کہ قرآن نے حق و باطل کا فیصلہ اس پر رکھ دیا ہے اور پوری دنیا کو یہ چیلنج دیا ہے کہ اگر خلاف کرنے والے سچے ہیں تو قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت ہی کی مثال پیش کریں۔ اور خلاف میں سر دھڑ کی بازی لگانے والے مال و اولاد قربان کرنے والے سب مل کر بھی ایک چھوٹی سی سورت قرآن کے مقابلہ میں پیش نہ کرسکے تو اب یہ کہنا کہ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں ایک ایسی بات ہے جو کوئی غیرت مند آدمی نہیں کہہ سکتا۔ پھر جب نضر بن حارث سے صحابہ کرام نے اس کلام الہی کا حق ہونا بیان کیا تو اپنے غلط مذہب پر پختگی دکھلانے کے لئے کہنے لگا :

Al-Anfaal 8:31Listen in Qur'an →
32

وَإِذْ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

اَللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ۔ یعنی اے اللہ اگر یہی قرآن آپ کی طرف سے حق ہے تو ہم پر پتھر برسا دیجئے یا کوئی دوسرا سخت عذاب نازل کر دیجئے۔

Al-Anfaal 8:32Listen in Qur'an →
33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے

قرآن کریم نے خود اس کا جواب دیا۔ پہلے ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا كَان اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے کہ آپ کے مکہ میں ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل کریں کیونکہ اول تو سب ہی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ حق تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جس بستی میں وہ موجود ہوں اس پر اس وقت تک عذاب نازل نہیں فرماتے جب تک اپنے پیغمبروں کو وہاں سے نکال نہ لیں۔ جیسے حضرت ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کے معاملہ میں مشاہدہ ہوا کہ جب تک یہ حضرات بستی میں رہے عذاب نہیں آیا جب وہاں سے نکال لئے گئے اس وقت عذاب نازل ہوا۔ خصوصا سید الانبیاء جو رحمة للعالمین کا لقب دے کر بھیجے گئے ہیں آپ کے کسی بستی میں موجود ہوتے ہوئے ان پر عذاب آنا آپ کی شان کے خلاف تھا۔- خلاصہ جواب کا یہ ہوا کہ تم تو قرآن اور اسلام کی مخالفت کی وجہ سے اسی کے مستحق ہو کہ تم پر پتھر برسائے جائیں مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مکہ میں موجود ہونا اس سے مانع ہے۔ امام ابن جریر نے فرمایا کہ آیت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب کہ آپ مکہ مکرمہ میں موجود تھے پھر ہجرت مدینہ کے بعد آیت کا دوسرا حصہ یہ نازل ہوا (آیت) وَمَا كَان اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کرنے والے نہیں جب کہ وہ مانع رفع ہوگیا کہ آپ وہاں موجود تھے مگر اس وقت بھی ایک مانع عذاب کا یہ موجود رہا کہ بہت سے ضعفاء مسلمین جو ہجرت نہ کرسکتے تھے مکہ میں رہ گئے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے تھے۔ ان کی خاطر سے اہل مکہ پر عذاب نازل نہیں کیا گیا۔- پھر جب یہ سب حضرات بھی ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے تو بعد کی آیت کا یہ جملہ نازل ہوا (آیت) وَمَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَهُمْ يَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۔ یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہ دیں حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد حرام میں عبادت کرنے سے روکتے ہیں۔- مطلب یہ ہے کہ اب مانع عذاب دونوں رفع ہوچکے، نہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں رہے اور نہ استغفار کرنے والے مسلمان مکہ میں باقی رہے تو اب عذاب آنے سے کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔ خصوصا ان کے استحقاق عذاب میں خود مخالف اسلام ہونے کے علاوہ اس جرم کا بھی اضافہ ہوگیا کہ یہ لوگ خود تو عبادت کے قابل نہ تھے اور جو مسلمان عبادت عمرہ و طواف کے لئے مسجد حرام میں جانا چاہیں ان کو روکنے لگے تو اب ان کا استحقاق عذاب بالکل مکمل ہوگیا، چناچہ فتح مکہ کے ذریعہ ان پر عذاب نازل کیا گیا۔- مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکنے کا واقعہ غزوہ حدیبیہ میں پیش آیا تھا جب کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے ساتھ عمرہ کے قصد سے تشریف لے گئے اور مشرکین مکہ نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا اور آپ کو اور سب صحابہ کرام کو اپنے احرام کھولنے اور واپس جانے پر مجبور کیا یہ واقعہ ٦ ہجری کا ہے اس کے دو سال بعد ٨ ہجری میں مکہ مکرمہ فتح ہوگیا، اس طرح ان پر مسلمانوں کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ - ابن جریر کی اس تفسیر کا مدار اس پر ہے کہ مانع عذاب آپ کا مکہ میں ہونا قرار دیا جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دنیا میں وجود مانع عذاب ہے جب تک آپ دنیا میں تشریف فرما ہیں آپ کی قوم پر عذاب نہیں آسکتا۔ اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ آپ کا حال دوسرے انبیاء کی طرح نہیں کہ وہ خاص خاص مقامات یا قبائل کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ جب وہاں سے نکل کر کسی دوسرے خطہ میں پہنچ گئے تو اس کی قوم پر عذاب آجاتا تھا۔ بخلاف سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہ آپ کی نبوت و رسالت سارے عالم کے لئے اور قیامت تک کے لئے عام اور شامل ہے پوری دنیا آپ کا مقام بعثت اور دائرہ رسالت ہے اس لئے جب تک آپ دنیا …

Al-Anfaal 8:33Listen in Qur'an →
34

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

خلاصہ تفسیر - اور ( ان موانع کے سبب عذاب خارق نازل نہ ہونے سے باکل ہی عذاب سے مطمئن نہ ہوجائیں کیونکہ جس طرح امور مذکورہ مانع عذاب ہیں اسی طرح ان کی حرکتیں مقتضی عذاب بھی ہیں پس مانع کا اثر عذاب خارق میں ظاہر ہوا اور مقتضی کا اثر نفس عذاب میں ظاہر ہوگا کہ عذاب غیر خارق ان پر نازل ہوگا چناچہ اس مقتضی کا بیان فرماتے ہیں کہ) ان کا کیا استحقاق ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ (بالکل ہی معمولی) سزا ( بھی) نہ دے حالانکہ ( ان کی یہ حرکتیں مقتضی سزا کی ہیں مثلا) وہ لوگ ( پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو) مسجد حرام ( میں جانے اور اس میں نماز پڑھنے اور اس میں طواف کرنے) سے روکتے ہیں ( جیسا حدیبیہ میں حقیقةً روکا جس کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا اور زمانہ قیام مکہ میں حکمًا روکا کہ اس قدر تنگ کیا کہ ہجرت کی ضرورت ہوئی) حالانکہ وہ لوگ اس مسجد کے متولی ( بننے کے بھی لائق) نہیں ( اور عابدین کو روکنا تو درکنار رہا جس کا اختیار خود متولی کو بھی نہیں ہوتا) اس کے متولی ( بننے کے لائق) تو سوا متقیوں کے ( کہ وہ اہل ایمان ہیں) اور کوئی بھی اشخاص نہیں لیکن ان میں اکثر لوگ ( اپنی نالائقی کا) علم نہیں رکھتے ( خواہ علم ہی نہ ہو یا یہ کہ جب اس علم پر عمل نہ کیا تو وہ مثل عدم علم کے ہے غرض جو سچ مچ نمازی تھے ان کو تو مسجد سے اس طرح روکا) اور ( خود مسجد کا کیسا حق ادا کیا اور اس میں کیسی اچھی نماز پڑھی جس کا بیان یہ ہے کہ) ان کی نماز خانہ کعبہ ( مذکور بعنوان مسجد حرام) کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا ( یعنی بجائے نماز کے ان کی یہ نامعقول حرکتیں ہوتی تھیں) سو ( ان حرکات کا ضرور مقتضا ہے کہ ان پر کوئی نہ کوئی عذاب گو وہ معمولی اور عادی ہو نازل کرکے ان کو خطاب کیا جائے کہ لو) اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے کفر کے سبب (جس کا ایک اثر وہ قول ہے لَوْ نَشَاۗءُ اور ایک اثر وہ قول ہے۔ اِنْ كَانَ هٰذَا الخ اور ایک اثر وہ فعل ہے۔ يَصُدُّوْنَ الخ اور ایک اثر وہ فعل ہے مُكَاۗءً وَّتَصْدِيَةً الخ۔ چناچہ غزوات متعددہ میں یہ سزا واقع ہوئی جیسا کہ اس سورت کے رکوع دوم میں بھی ہے (آیت) ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ الخ بعد ذلک با نھم شآقآوا الخ کے یہاں تک تو ان لوگوں کے اقوال و اعمال بدنیہ کا ذکر تھا آگے ان کے اعمال مالیہ کا بیان ہے کہ) بلا شک یہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اس لئے خرچ کر رہے ہیں کہ اللہ کی راہ سے ( یعنی دین سے لوگوں کو) روکیں ( چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ اور مخالفت کے سامان جمع کرنے میں ظاہر ہے کہ جو خرچ ہوتا تھا اس میں یہی غرض تھی) سو یہ لوگ تو اپنے مالوں کو ( اسی غرض کے لئے) خرچ کرتے ہی رہیں گے ( مگر) پھر ( آخر میں جب آثار ناکامی کے محسوس ہوں گے) وہ مال ان کے حق میں باعث حسرت ہوجائیں گے ( کہ خواہ مخواہ خرچ کیا اور) پھر ( آخر) مغلوب ( ہی) ہوجائیں گے ( جس سے حسرت ضیاع اموال کے ساتھ یہ دوسری حسرت مغلوبیت کی جمع ہوجائے گی) اور ( یہ سزا و حسرت و مغلوبیت تو ان کی دنیا میں ہے باقی آخرت کی سزا وہ الگ ہے جس کا بیان یہ ہے کہ) کافر لوگوں کو دوزخ کی طرف ( لے جانے کے لئے قیامت میں) جمع کیا جائے گا تاکہ اللہ تعالیٰ ناپاک ( لوگوں) کو پاک (لوگوں) سے الگ کردے ( کیونکہ جب دوزخیوں کو دوزخ کی طرف لائیں گے ظاہر ہے کہ اہل جنت ان سے علیحدہ رہ جائیں گے) اور ( ان سے الگ کرکے) ناپاکوں کو ایک دوسرے سے ملا دے یعنی ان سب کو متصل کرد پھر ( متصل کرکے) ان سب کو جہنم میں ڈال دے ایسے ہی لوگ پورے خسارہ میں ہیں ( جس کا کہیں منتہی نہیں، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ لوگ ( اپنے کفر سے) باز آجائیں گے ( اور اسلام قبول کرلیں گے) تو ان کے سارے گناہ جو ( اسلام سے) پہلے ہوچکے ہیں سب معاف کردیئے جائیں گے ( یہ حکم تو حالت اسلام کا ہوا) اور اگر اپنی وہی …

Al-Anfaal 8:34Listen in Qur'an →
35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ ٱلْبَيْتِ إِلَّا مُكَآءًۭ وَتَصْدِيَةًۭ ۚ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

تیسرا جرم ان لوگوں کا یہ بتلایا کہ کفر و شرک کی گندگی تو تھی ہی ان کے افعال و اعمال تو عام انسانی سطح سے بھی گرے ہوئے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ اپنے جس فعل کا نام نماز رکھتے ہیں وہ بجز اس کے نہیں کہ اس میں کچھ منہ سے سیٹیاں بجائیں کچھ ہاتھوں سے تالیاں اور یہ ظاہر ہے کہ جس کو ذرا بھی عقل ہو وہ ان افعال کو عبادت و نماز کیا کوئی صحیح انسانی فعل بھی نہیں کہہ سکتا۔ اس لئے آخر آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۔ یعنی تمہارے کفر اور جرائم کا انجام یہی ہے کہ اب اللہ کا عذاب چکھو۔ عذاب سے اس جگہ عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے اور عذاب دنیا بھی جو غزوہ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں ان پر نازل ہوا۔- اس کے بعد چھتیسویں آیت میں کفار مکہ کے ایک اور واقعہ کا بیان ہے جس میں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قوت جمع کرنے کے لئے مال بھی ہاتھ سے گیا اور مقصد حاصل ہونے کے بجائے خود ذلیل و خوار ہوئے۔ - واقعہ اس کا بروایت محمد بن اسحاق حضرت عبداللہ بن عباس سے یہ منقول ہے کہ غزوہ بدر کے شکست زدہ زخم خوردہ، بچے کھچے کفار مکہ جب وہاں سے واپس مکہ پہنچے تو جن لوگوں کے باپ بیٹے اس جہاد میں مارے گئے تھے وہ تجارتی قافلہ کے امیر ابو سفیان کے پاس پہنچے اور کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ جنگ تمہارے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے لڑی گئی جس کے نتیجہ میں یہ تمام جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑے۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اس مشترک تجارتی کمپنی سے ہماری کچھ مدد کی جائے تاکہ ہم آئندہ مسلمانوں سے اپنا انتقام لے سکیں، ان لوگوں نے اس کو منظور کر کے ایک بڑی رقم دے دی جس کو انہوں نے غزوہ بدر کا انتقام لینے کے لئے غزوہ احد میں خرچ کیا اور اس میں بھی انجام کار مغلوب ہوئے اور شکست کے غم کے ساتھ مال ضائع کرنے کی حسرت مزید ہوگئی۔ - قرآن کریم نے اس آیت میں یہ واقعہ پیش آنے سے پہلے ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے انجام کی خبر دے دی۔ ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو کافر ہیں اپنے مالوں کو اس کام کے لئے خرچ کرنا چاہتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کے دین سے روک دیں۔ سو اس کا انجام یہ ہوگا کہ یہ اپنا مال بھی خرچ کر ڈالیں گے اور پھر ان کو مال خرچ کرنے پر حسرت ہوگی، اور انجام کار مغلوب ہوجائیں گے۔ چناچہ غزوہ احد میں ٹھیک یہی صورت ہوئی کہ جمع شدہ مال بھی خرچ کر ڈالا۔ اور پھر مغلوب ہوئے تو شکست کے غم کے ساتھ مال ضائع ہونے پر الگ حسرت و ندامت ہوئی۔- اور بغوی وغیرہ بعض مفسرین نے اس آیت کے مضمون کو خود غزوہ بدر کے اخراجات پر محمول فرمایا ہے کہ غزوہ بدر میں ایک ہزار جوانوں کا جو لشکر مسلمانوں کے مقابلہ پر گیا تھا ان کے کھانے پینے کے کل اخراجات مکہ کے بارہ سرداروں نے اپنے ذمہ لئے تھے جن میں ابو جہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ شامل تھے۔ ظاہر ہے کہ ایک ہزار آدمیوں کے آنے جانے کھانے پینے وغیرہ کے اخراجات پر بڑی رقم خرچ ہوئی۔ تو ان لوگوں کو اپنی شکست کے ساتھ اپنے اموال ضائع ہونے پر بھی شدید حسرت و ندامت پیش آئی (مظہری)

Al-Anfaal 8:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةًۭ ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

آخر آیت میں آخرت کے اعتبار سے ان لوگوں کے انجام بد کا بیان ہے (آیت) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ ۔ یعنی جو لوگ کافر ہیں ان کا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ - مذکورہ آیتوں میں دین حق سے روکنے کے لئے مال خرچ کرنے کا جو انجام بد ذکر کیا گیا ہے اس میں آج کے وہ کفار بھی داخل ہیں جو لوگوں کو اسلام سے روکنے اور اپنے باطل کی طرف دعوت دینے پر لاکھوں روپیہ شفاخانوں، تعلیم گاہوں اور صدقہ خیرات کے عنوان سے خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ گمراہ لوگ بھی اس میں داخل ہیں جو اسلام کے اجماعی عقائد میں شبہات و اوہام پیدا کرکے ان کے خلاف لوگوں کو دعوت دینے کے لئے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں لیکن حق تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرماتے ہیں اور بہت سے مواقع میں مشاہدہ بھی ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ بڑے بڑے اموال خرچ کرنے کے باوجود اپنے مقصد میں ناکام رہتے ہیں۔

Al-Anfaal 8:36Listen in Qur'an →
37

لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں

سینتیسویں آیت میں واقعات مذکورہ کے کچھ نتائج کا بیان جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنے جو اموال کفار نے اسلام کے خلاف استعمال کئے اور پھر ان کو حسرت و ندامت ہوئی اور ذلیل و خوار ہوئے اس کا فائدہ یہ ہے کہ :- (آیت) لِيَمِيْزَ اللّٰهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۔ یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ گندی چیز اور پاک صاف چیز میں فرق ظاہر کردیں۔ لفظ خبیث اور طیب دو متقابل لفظ ہیں۔ لفظ خبیث ناپاک، گندے اور حرام کے لئے بولا جاتا ہے اور طیب اس کے بالمقابل پاک، صاف ستھرے اور حلال کے لئے بولا جاتا ہے۔ اس جگہ ان دونوں لفظوں سے کفار کے اموال خبیثہ اور مسلمانوں کے اموال طیبہ بھی مراد ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ کفار نے جو مال عظیم خرچ کئے وہ مال خبیث اور ناپاک تھے اس کا برا نتیجہ یہ حاصل ہوا کہ مال بھی گیا اور جانیں بھی گئی اس کے بالمقابل مسلمانوں نے بہت تھوڑا مال خرچ کیا مگر وہ مال پاک اور حلال تھا۔ ان کے خرچ کرنے والے کامیاب ہوئے اور مزید مال غنیمت بھی ہاتھ آیا اس کے بعد ارشاد فرمایا : (آیت) وَيَجْعَلَ الْخَبِيْثَ بَعْضَهٗ عَلٰي بَعْضٍ فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِيْ جَهَنَّمَ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ جمع کردیتا ہے ایک خبیث کو دوسرے خبیث کے ساتھ پھر ان سب کو جمع کردے گا جہنم میں یہی لوگ خسارہ میں پڑنے والے ہیں۔ - مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے کہربا گھاس کو کھینچتا ہے اور نئی سائنس کے تجربات میں ساری دنیا کا نظام ہی باہمی کشش پر قائم ہے اسی طرح اعمال و اخلاق میں بھی کشش ہے۔ ایک برا عمل دوسرے برے عمل کو اور ایک اچھا عمل دوسرے اچھے عمل کو کھینچتا ہے مال خبیث دوسرے مال خبیث کو کھینچتا ہے اور یہ پھر اموال خبیثہ آثار خبیثہ پیدا کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں جتنے اموال خبیثہ ہیں سب کو جہنم میں جمع فرمادیں گے۔ اور یہ مال والے بڑے خسارہ میں پڑجائیں گے۔ - اور بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ خبیث اور طیب کی مراد عام قرار دی ہے یعنی پاک اور ناپاک۔ پاک سے مومن اور ناپاک سے کافر مراد ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حالات مذکورہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ پاک و ناپاک یعنی مومن و کافر میں امتیاز ہوجائے مؤمنین جنت میں اور کافر سب ایک جگہ جہنم میں جمع کردیئے جائیں۔

Al-Anfaal 8:37Listen in Qur'an →
38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَنتَهُوا۟ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا۟ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ ٱلْأَوَّلِينَ

(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)

اڑتیسویں آیت میں کفار کے لئے پھر ایک مربیانہ خطاب ہے جس میں ترغیب بھی ہے اور ترہیب بھی۔ ترغیب اس کی ہے کہ اگر وہ ان تمام افعال شنیعہ کے بعد اب بھی توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو پچھلے سب گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور ترہیب یہ کہ اگر وہ اب بھی باز نہ آئے تو سمجھ لیں کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کو کوئی نیا قانون بنانا یا سوچنا نہیں پڑتا۔ پہلے زمانہ کے کافروں کے لئے جو قانون جاری ہوچکا ہے وہ ہی ان پر بھی جاری ہوگا کہ دنیا میں ہلاک و برباد ہوئے اور آخرت میں عذاب کے مستحق ہوئے۔

Al-Anfaal 8:38Listen in Qur'an →
39

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے

خلاصہ تفسیر - اور (پھر ان کے اس کافر رہنے کی صورت میں اے مسلمانو) تم ان (کفار عرب) سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ (یعنی شرک) نہ رہے اور ( اللہ کا) دین (خالص) اللہ ہی کا ہوجائے (اور کسی کے دین کا خالصۃً اللہ ہی کے لئے ہوجانا موقوف ہے قبول اسلام پر تو حاصل یہ ہوا کہ شرک چھوڑ کر اسلام اختیار کریں خلاصہ یہ کہ اگر نہ اسلام لائیں تو ان سے لڑو جب تک اسلام نہ لائیں کیونکہ کفار عرب سے جزیہ نہیں لیا جاتا) پھر اگر یہ (کفر سے) باز آجائیں تو (ان کے ظاہری اسلام کو قبول کرو دل کا حال مت ٹٹولو کیونکہ اگر یہ دل سے ایمان نہ لائیں گے تو) اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو خوب دیکھتے ہیں (وہ آپ سمجھ لیں گے تم کو کیا) اور اگر ( اسلام سے) روگردانی کریں تو ( اللہ کا نام لے کر ان کے مقابلہ سے مت ہٹو اور) یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ (ان کے مقابلہ میں) تمہارا رفیق ہے وہ بہت اچھا رفیق ہے اور بہت اچھا مددگار ہے (سو وہ تمہاری رفاقت اور نصرت کرے گا) ۔- معارف و مسائل - یہ سورة انفال کی انتالیسویں آیت ہے اس میں دو لفظ قابل غور ہیں ایک لفظ فتنہ دوسرا دین۔ یہ دونوں لفظ عربی لغت کے اعتبار سے کئی معنی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ - ائمة تفسیر صحابہ وتابعین سے اس جگہ دو معنی منقول ہیں۔ ایک یہ کہ فتنہ سے مراد کفر و شرک اور دین سے مراد دین اسلام لیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے یہی تفسیر منقول ہے۔ اس تفسیر پر معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ مسلمانون کو کفار سے قتال اس وقت تک جاری رکھنا چاہئے جب تک کہ کفر مٹ کر اس کی جگہ اسلام آجائے اسلام کے سوا کوئی دین و مذہب باقی نہ رہے۔ اس صورت میں یہ حکم صرف اہل مکہ اور اہل عرب کے لئے مخصوص ہوگا۔ کیونکہ جزیرة العرب اسلام کا گھر ہے اس میں اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین رہے تو دین اسلام کے لئے خطرہ ہے۔ باقی ساری دنیا میں دوسرے ادیان و مذاہب کو قائم رکھا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث اس پر شاہد ہیں۔- اور دوسری تفسیر جو حضرت عبداللہ بن عمر وغیرہ سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ فتنہ سے مراد اس جگہ وہ ایذاء اور عذاب و مصیبت ہے جس کا سلسلہ کفار مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر ہمیشہ جاری رہا تھا جب تک وہ مکہ میں تھے تو ہر وقت ان کے نرغہ میں پھنسے ہوئے طرح طرح کی ایذائیں سہتے رہے پھر جب مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو ایک ایک مسلمان کا تعاقب کرکے قتل و غارتگری کرتے رہے مدینہ میں پہنچنے کے بعد بھی پورے مدینہ پر حملوں کی صورت میں ان کا غیظ و غضب ظاہر ہوتا رہا۔ - اور اس کے بالمقابل دین کے معنی قہر و غلبہ کے ہیں اس صورت میں تفسیر آیت کی یہ ہوگئی کہ مسلمانوں کو کفار سے اس وقت تک قتال کرتے رہنا چاہئے جب تک کہ مسلمان ان کے مظالم سے محفوظ نہ ہوجائیں اور دین اسلام کا غلبہ نہ ہوجائے کہ وہ غیروں کے مظالم سے مسلمانوں کی حفاظت کرسکے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کے ایک واقعہ سے بھی اسی تفسیر کی تائید ہوتی ہے، واقعہ یہ ہے کہ جب امیر مکہ حضرت عبداللہ بن زبیر کے مقابلہ میں حجاج بن یوسف نے فوج کشی کی اور دونوں طرف مسلمانوں کی تلواریں مسلمانوں کے مقابلہ پر چل رہی تھیں تو دو شخص حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ اس وقت جس بلاء میں مسلمان مبتلا ہیں آپ دیکھ رہے ہیں حالانکہ آپ عمر بن خطاب (رض) کے صاجزادے ہیں جو کسی طرح ایسے فتنوں کو برداشت کرنے والے نہ تھے۔ کیا سبب ہے کہ آپ اس فتنہ کو رفع کرنے کے لئے میدان میں نہیں آتے۔ تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کا خون بہانا حرام قرار دیا ہے۔ ان دونوں نے عرض کیا کہ کیا آپ قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھتے (آیت) قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ۔ یعنی مقاتلہ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ بیشک میں یہ آیت پڑھتا ہوں اور اس پر عمل بھی کرتا ہوں۔ ہم نے …

Al-Anfaal 8:39Listen in Qur'an →
40

وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَىٰكُمْ ۚ نِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے

اور دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی ضد اور عناد پر قائم رہیں اس کے متعلق حکم اس کے بعد کی آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ۭنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ ۔ یعنی اگر وہ بات نہ مانیں تو تم یہ سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار حمایتی ہے اور وہ بہت اچھا حمایتی اور بہت اچھا مددگار ہے۔ - اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر وہ اپنے ظلم و جور اور کفر و شرک سے باز نہ ائیں تو مسلمانوں کے ذمہ وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ ان سے قتال جاری رکھیں۔ اور جہاد و قتال چونکہ بڑے لشکر اور بہت سے اسلحہ اور ساز و سامان پر عادةً موقوف ہے اور مسلمانوں کو عام طور پر یہ چیزیں کم حاصل تھیں اس لئے یہ ہوسکتا تھا کہ مسلمانوں کو حکم قتال بھاری معلوم ہو یا وہ اپنی قلت تعداد اور قلت سامان کی وجہ سے یہ محسوس کرنے لگیں کہ ہم مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس لئے اس کا علاج اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں کو بتلایا گیا کہ اگرچہ تعداد اور سامان ان لوگوں کے پاس مسلمانوں سے زائد سہی مگر وہ اللہ تعالیٰ کی غیبی نصرت و حمایت کہاں سے لائیں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہے جس کو وہ ہر میدان میں اپنے ساتھ مشاہدہ کرتے رہے ہیں، اور فرمایا کہ یوں تو امداد و حمایت دنیا میں ہر فریق کسی نہ کسی سے حاصل کر ہی لیتا ہے مگر مدارکار اس مددگار کی قوت و طاقت اور علم و تجربہ پر ہونا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت و قوت اور علم و بصر سے زیادہ کیا، برابر بھی سارے جہان کو حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ سب سے بہتر حمایتی اور مددگار ہے۔

Al-Anfaal 8:40Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.