Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 31–40 of 75

31

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)

[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔

[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار …

Al-Anfaal 8:31Listen in Qur'an →
32

وَإِذْ قَالُوا۟ ٱللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ ٱلْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ أَوِ ٱئْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍۢ

اور جب انہوں نے کہا کہ اے خدا اگر یہ (قرآن) تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور تکلیف دینے والا عذاب بھیج

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)

[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔

[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار …

Al-Anfaal 8:32Listen in Qur'an →
33

وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ

اور خدا ایسا نہ تھا کہ جب تک تم ان میں سے تھے انہیں عذاب دیتا۔ اور ایسا نہ تھا کہ وہ بخششیں مانگیں اور انہیں عذاب دے

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)

[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔

[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار …

Al-Anfaal 8:33Listen in Qur'an →
34

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ ٱللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ وَمَا كَانُوٓا۟ أَوْلِيَآءَهُۥٓ ۚ إِنْ أَوْلِيَآؤُهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُتَّقُونَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں تو کہتے ہیں تحقیق سن لیا ہم نے، اگر چاہیں ہم تو کہہ سکتے ہیں ہم بھی مثل اس کی، نہیں ہے یہ مگر داستانیں پہلوں کی(31) اور جب کہا انھوں نے، اے اللہ! اگر ہے یہ (قرآن) حق تیری طرف سے تو برسا ہم پر پتھر آسمان سے یا لے آ ہم پر عذاب درد ناک(32) اور نہیں ہے اللہ کے عذاب دے انھیں جبکہ آپ بھی ان کے اندر موجود ہوں اور نہیں ہے اللہ عذاب دینے والا ان کو جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں(33) اور (اب) کیا وجہ ہے ان کے لیے کہ نہ عذاب دے انھیں اللہ جبکہ وہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، درآں حالیکہ نہیں ہیں وہ مختار اس کے ؟ نہیں ہیں مختار اس کے مگر متقی لوگ ہی اور لیکن اکثر ان کے نہیں جانتے(34)

[31] رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے آپ کے ساتھ جو عناد رکھتے تھے اسے بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں ‘‘ جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں جو رسول اللہ لے کر آئے ہیں ﴿ قَالُوۡا قَدۡ سَمِعۡنَا لَوۡ نَشَآءُ لَقُلۡنَا مِثۡلَ هٰؔذَاۤ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہتے ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسی بات کہہ سکتے ہیں ، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یہ انھوں نے ظلم اور عناد کی بنا پر کہا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں اور اللہ کے سوا جس کسی کو اپنی مدد کے لیے بلا سکتے ہیں بلا لیں ۔ مگر وہ ایسا نہ کر سکے جس سے ان کی بے بسی ظاہر ہوگئی۔قائل سے صادر ہونے والا یہ قول مجرد دعویٰ ہے، جس کا جھوٹ ہونا ثابت ہے۔ ہمیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ نبی اکرمﷺ پڑھے ہوئے نہ تھے، آپ لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، گزشتہ قوموں کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے آپ نے کہیں سفر نہیں کیا تھا، بایں ہمہ آپ نے یہ جلیل القدر کتاب پیش کی جس کے سامنے سے یا پیچھے سے باطل دخل اندازی نہیں کر سکتا، یہ کتاب حکمت والے اور قابل تعریف اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔

[32]﴿وَاِذۡ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ﴾ ’’اور جب انھوں نے کہا، اے اللہ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے‘‘ جس کی طرف محمد مصطفیﷺ دعوت دیتے ہیں ﴿ فَاَمۡطِرۡ عَلَيۡنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائۡتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’تو ہم پر برسا دے پتھر آسمان سے یا ہم پر کوئی درد ناک عذاب لا۔‘‘انھوں نے اپنے باطل پر ڈٹے ہوئے اور آداب تخاطب سے جہالت کے ساتھ، پورے جزم سے یہ بات کہی تھی۔ اگر انھوں نے.... جبکہ وہ اپنے باطل پر ملمع سازی کر رہے تھے جو ان کے لیے یقین اور بصیرت کی موجب تھی.... اپنے ساتھ مناظرہ کرنے والے اس شخص سے یہ کہا ہوتا جو اس بات کا مدعی ہے کہ حق اس کے ساتھ ہے ’’اگر وہ چیز جس کا تم دعویٰ کرتے ہو کہ وہ حق ہے تو ہماری بھی راہ نمائی کیجیے۔‘‘تو یہ چیز ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی اور ان کے ظلم و تعدی کی زیادہ اچھے طریقے سے پردہ پوشی کر سکتی تھی۔ پس جب سے انھوں نے کہا ﴿ اللّٰهُمَّ اِنۡ كَانَ هٰؔذَا هُوَ الۡحَقَّ مِنۡ عِنۡدِكَ ﴾ ان کی مجرد اسی بات سے معلوم ہوگیا کہ وہ انتہائی بے وقوف، بے عقل، جاہل اور ظالم ہیں ۔

[33] اگر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی کرتا تو ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہتا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا کیونکہ ان کے اندر رسول (ﷺ ) موجود ہیں اس لیے فرمایا ﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَاَنۡتَ فِيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ آپ کی موجودگی میں ان کو عذاب نہیں دے گا‘‘ پس رسول اللہﷺ کا وجود مبارک ان کے لیے عذاب سے امن کی ضمانت تھی۔اپنے اس قول کے باوجود، جس کا وہ برسر عام اظہار کرتے تھے، وہ اس قول کی قباحت کو اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے وہ اس کے وقوع سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے استغفار …

Al-Anfaal 8:34Listen in Qur'an →
35

وَمَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِندَ ٱلْبَيْتِ إِلَّا مُكَآءًۭ وَتَصْدِيَةًۭ ۚ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو

اور نہیں تھی نماز ان (مشرکین) کے بیت اللہ کے پاس مگر سیٹیاں اور تالیاں بجانا ہی، پس چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کفر کرتے(35)

[35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد حرام صرف اس لیے بنائی ہے کہ اس میں اس کے دین کو قائم کیا جائے اور اس میں خالص اسی کی عبادت کی جائے۔ پس اہل ایمان ہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کی اور رہے یہ مشرکین جنھوں نے لوگوں کو مسجد حرام سے روکا تو ان کی نماز، جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے، ﴿ اِلَّا مُكَآءً وَّتَصۡدِيَةً﴾ ’’سیٹیوں اور تالیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ‘‘ جو کہ جہلا اور کم عقل لوگوں کا فعل ہے جن کے دل اپنے رب کی تعظیم سے خالی ہوتے ہیں ، جو اپنے رب کے حقوق کی معرفت سے تہی دست ہوتے ہیں اور ان کے دل میں افضل ترین خطۂ زمین کا کوئی احترام نہیں ہوتا۔ جب ان کی نماز کا یہ حال ہے تو ان کی بقیہ عبادات کا کیا حال ہوگا؟پس ان میں کون سی چیز ایسی ہے جس کی بنا پر وہ اپنے آپ کو ان مومنوں سے زیادہ بیت اللہ کا مستحق سمجھتے ہیں ، جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں ، جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام اوصاف حمیدہ اور افعال سدیدہ موجود ہیں جو ان کے اللہ نے بیان فرمائے ہیں ۔یقینا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اپنے محترم گھر کا وارث بنایا اور اس پر ان کو قدرت عطا کی... اور پھر ان کو اس پر قدرت عطا کرنے کے بعد فرمایا:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾(التوبۃ: 9؍28) ’’اے مومنو! مشرکین تو ناپاک ہیں ، اس لیے وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ جائیں ۔‘‘اور یہاں فرمایا:﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اپنے کفر کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔‘‘

Al-Anfaal 8:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ لِيَصُدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةًۭ ثُمَّ يُغْلَبُونَ ۗ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِلَىٰ جَهَنَّمَ يُحْشَرُونَ

جو لوگ کافر ہیں اپنا مال خرچ کرتے ہیں کہ (لوگوں کو) خدا کے رستے سے روکیں۔ سو ابھی اور خرچ کریں گے مگر آخر وہ (خرچ کرنا) ان کے لیے (موجب) افسوس ہوگا اور وہ مغلوب ہوجائیں گے۔ اور کافر لوگ دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔

[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔

Al-Anfaal 8:36Listen in Qur'an →
37

لِيَمِيزَ ٱللَّهُ ٱلْخَبِيثَ مِنَ ٱلطَّيِّبِ وَيَجْعَلَ ٱلْخَبِيثَ بَعْضَهُۥ عَلَىٰ بَعْضٍۢ فَيَرْكُمَهُۥ جَمِيعًۭا فَيَجْعَلَهُۥ فِى جَهَنَّمَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

تاکہ خدا ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر ایک ڈھیر بنا دے۔ پھر اس کو دوزخ میں ڈال دے۔ یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں

بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، خرچ کرتے ہیں وہ اپنے مال تاکہ روکیں وہ (لوگوں کو) اللہ کے رستے سے، سو عنقریب خرچ کریں گے وہ ان مالوں کو، پھر ہوگا وہ (خرچ کرنا) ان پر (باعث) حسرت، پھر وہ مغلوب کردیے جائیں گےاور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، طرف جہنم کی اکٹھے کیے جائیں گے(36) تاکہ الگ کر دے اللہ، ناپاک کو پاک سےاور کردے ناپاک (، یعنی ) اس کے بعض کو اوپر بعض کے، پس اوپر تلے ڈھیر لگا دے وہ اس کا اکٹھا، پھر ڈال دے اسے جہنم میں، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(37)

[36] اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کی عداوت، ان کے مکر و فریب، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کی مخالفت، اللہ کے چراغ کو بجھانے کے لیے ان کی کوششوں اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی تگ و دو کا ذکر کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ ان کے مکر و فریب اور ان کی سازشوں کا وبال انھی پر پڑے گا۔ مکر و فریب کی برائی صرف فریب کاروں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔ ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمۡ لِيَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ ’’کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے راستے سے روکیں ‘‘ یعنی تاکہ وہ حق کا ابطال کر کے باطل کی مدد کریں اور اللہ رحمن کی وحدانیت کی نفی کر کے بتوں کی عبادت کے دین کو قائم کریں ۔ ﴿ فَسَيُنۡفِقُوۡنَهَا ﴾ ’’سو ابھی اور خرچ کریں گے‘‘ یعنی یہ نفقات ان سے ابھی اور صادر ہوں گے اور یہ نفقات انھیں بہت خفیف محسوس ہوں گے کیونکہ وہ باطل سے چمٹے ہوئے ہیں اور حق کے خلاف سخت بغض رکھتے ہیں ، ﴿ ثُمَّ تَكُوۡنُ عَلَيۡهِمۡ حَسۡرَةً ﴾ ’’پھر آخر ہو گا وہ ان پر افسوس‘‘ یعنی ان کو ندامت، رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا ہوگا، ﴿ ثُمَّ يُغۡلَبُوۡنَ﴾ ’’پھر وہ مغلوب ہوں گے‘‘ پس ان کے مال و متاع اور آرزوئیں خاک میں مل جائیں گی اور آخرت میں انھیں سخت عذاب دیا جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’تمام کفار کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا‘‘ تاکہ وہ جہنم کا عذاب چکھیں کیونکہ جہنم ہی خبیث مردوں اور ان کی خباثت کا ٹھکانا ہے۔

[37] اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر کے دونوں کو اپنے اپنے مخصوص ٹھکانوں میں داخل کر دے، پس خبیث اعمال، خبیث اموال اور خبیث اشخاص ، سب کو جمع کردے ﴿ فَيَرۡؔكُمَهٗ جَمِيۡعًا فَيَجۡعَلَهٗ فِيۡ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’پھر اس کو ڈھیر کر دے اکٹھا، پھر ڈال دے اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا۔ آگاہ رہنا، یہی کھلا خسارہ ہے۔

Al-Anfaal 8:37Listen in Qur'an →
38

قُل لِّلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِن يَنتَهُوا۟ يُغْفَرْ لَهُم مَّا قَدْ سَلَفَ وَإِن يَعُودُوا۟ فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ ٱلْأَوَّلِينَ

(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)

[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔

[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔

[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔

Al-Anfaal 8:38Listen in Qur'an →
39

وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ كُلُّهُۥ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ

اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)

[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔

[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔

[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔

Al-Anfaal 8:39Listen in Qur'an →
40

وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَوْلَىٰكُمْ ۚ نِعْمَ ٱلْمَوْلَىٰ وَنِعْمَ ٱلنَّصِيرُ

اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے

کہہ دیجیے! ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اگر باز آجائیں وہ تو بخش دیا جائے گا ان کے لیے جو کچھ پہلے گزر چکا اور اگر دوبارہ ایسا ہی کریں گے وہ تو تحقیق گزر چکی ہے (ہماری) سنت پہلے لوگوں(میں)(38)اور لڑو تم ان سے یہاں تک کہ نہ رہے فتنہ (شرک)اور ہوجائے دین سارا کا سارا اللہ ہی کا، پس اگر باز آجائیں وہ (کافر) تو یقینا اللہ، ساتھ اس کے جو وہ عمل کرتے ہیں، خوب دیکھنے والا ہے(39) اور اگر وہ منہ پھیر یں تو جان لو! یقینا اللہ ہی تمھارا کار ساز ہےاور وہ اچھا کارساز ہےاور اچھا مدد گار ہے(40)

[38] یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم ہے کہ ان کا کفر اور ان کا دائمی عناد اسے اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ انھیں رشد و ہدایت کے راستے کی طرف بلائے اور انھیں گمراہی اور ہلاکت کی راہوں پر چلنے سے منع کرے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا ﴾ ’’کفار سے کہہ دیجیے اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ یعنی اگر وہ کفر سے باز آجائیں اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، کے سامنے سرتسلیم خم کر دیں ۔ ﴿ يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَ﴾ ’’تو بخش دیا جائے گا جو کچھ ہو چکا ہے‘‘ یعنی ان سے جن جرائم کا ارتکاب ہو چکا ہے ﴿ وَاِنۡ يَّعُوۡدُوۡا﴾ ’’اگر وہ اعادہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ اپنے کفر اور عناد کا اعادہ کریں ﴿ فَقَدۡ مَضَتۡ سُنَّتُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’تو تحقیق گزر چکا ہے طریقہ پہلوں کا‘‘ یعنی رسولوں کو جھٹلانے والی قوموں کو ہلاک کرنے کا، پس وہ بھی اسی عذاب کا انتظار کریں جو ان معاندین حق پر نازل ہوا تھا.... عنقریب ان کے پاس وہی خبریں آئیں گی جن کا یہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ یہ خطاب تو جھٹلانے والوں سے تھا۔

[39] رہا وہ خطاب جو اہل ایمان کو کفار کے ساتھ معاملہ کرنے کا حکم دیتے وقت اہل ایمان کے ساتھ تھا تو اس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ﴿ وَقَاتِلُوۡهُمۡ حَتّٰى لَا تَكُوۡنَ فِتۡنَةٌ ﴾ ’’اور ان سے لڑتے رہو، یہاں تک کہ نہ رہے فساد‘‘ یعنی جب تک کہ شرک اور اللہ تعالیٰ کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور نہ ہو جائیں اور کفار اسلام کے احکام کے سامنے سرنگوں نہ ہو جائیں ۔ ﴿ وَّيَكُوۡنَ الدِّيۡنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ﴾’’اور ہو جائے حکم سب اللہ کا‘‘ پس دشمنان دین کے خلاف جہاد اور قتال کا یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو کفار کے شر سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ کے دین کی، جس کے لیے تمام کائنات تخلیق کی گئی ہے، حفاظت کی جائے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے۔﴿فَاِنِ انۡتَهَوۡا ﴾ ’’پس اگر وہ باز آجائیں ۔‘‘ اپنے ظلم کے رویے سے ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’تو بے شک اللہ ان کے کاموں کو دیکھتا ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی۔

[40]﴿ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا ﴾ ’’اور اگر وہ روگردانی کریں ۔‘‘ یعنی اگر اطاعت سے منہ موڑ کر کفروسرکشی میں سرگرم ہو جائیں۔ ﴿ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوۡلٰىكُمۡ١ؕ نِعۡمَ الۡمَوۡلٰى ﴾ ’’تو جان لو کہ اللہ تمھارا حمایتی ہے، کیا اچھا حمایتی ہے‘‘ جو اپنے مومن بندوں کی سرپرستی کرتا ہے، انھیں ان کے مصالح بہم پہنچاتا ہے اور ان کے لیے دینی اور دنیاوی فوائد کے حصول میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَنِعۡمَ النَّصِيۡرُ ﴾ ’’اور کیا اچھا مددگار ہے‘‘ جو ان کی مدد کرتا ہے، ان کے خلاف فساق و فجار کی سازشوں کو ناکام بناتا ہے اور اشرار کی عداوت سے حفاظت کرتا ہے اور جس کا سرپرست اور حامی و ناصر اللہ تعالیٰ ہو تو اسے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا اور جس کا اللہ تعالیٰ مخالف ہو اسے کوئی مدد اور سہارا نہیں دے سکتا۔

Al-Anfaal 8:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.