وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا قَالُوا۟ قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هَٰذَآ ۙ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں (یہ کلام) ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو اسی طرح کا (کلام) ہم بھی کہہ دیں اور یہ ہے ہی کیا صرف اگلے لوگوں کی حکایتیں ہیں
اکتیسویں اور بتیسویں آیتوں میں اسی دارالندوہ کے ایک شریک نضر بن حارث کی ایک بےہودہ گفتگو اور تینتیسویں آیت میں یہود و نصاری کی کتابیں اور ان کی عبادتیں دیکھنے کا بار بار اتفاق ہوتا تھا اس لئے جب اس نے قرآن کریم میں پچلھی امتوں کے حالات سنے تو کہنے لگا کہ (آیت) قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ، یعنی یہ باتیں تو ہماری سنی ہوئی ہیں اگر ہم چاہیں تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں یہ تو پچھلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اور جب بعض صحابہ نے اس کو لاجواب کیا کہ اگر تم ایسا کلام کہہ سکتے ہو تو پھر کہتے کیوں نہیں جب کہ قرآن نے حق و باطل کا فیصلہ اس پر رکھ دیا ہے اور پوری دنیا کو یہ چیلنج دیا ہے کہ اگر خلاف کرنے والے سچے ہیں تو قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت ہی کی مثال پیش کریں۔ اور خلاف میں سر دھڑ کی بازی لگانے والے مال و اولاد قربان کرنے والے سب مل کر بھی ایک چھوٹی سی سورت قرآن کے مقابلہ میں پیش نہ کرسکے تو اب یہ کہنا کہ ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام کہہ سکتے ہیں ایک ایسی بات ہے جو کوئی غیرت مند آدمی نہیں کہہ سکتا۔ پھر جب نضر بن حارث سے صحابہ کرام نے اس کلام الہی کا حق ہونا بیان کیا تو اپنے غلط مذہب پر پختگی دکھلانے کے لئے کہنے لگا :