Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

آیت 1 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یہاں مال غنیمت کے لیے لفظ انفال استعمال کیا گیا ہے۔ انفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نماز نفل ‘ جسے ادا کرلیں تو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مال غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔ جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ یہاں ایک مختصر قطعی اور دو ٹوک حکم کے ذریعے سے اس مسئلہ کی جڑ کاٹ دی گئی ہے اور بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ انفال کل کے کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ملکیت ہیں۔ اس لیے کہ یہ فتح تمہیں اللہ کی خصوصی مدد اور اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے نصیب ہوئی ہے۔ لہٰذا انفال کے حق دار بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی ہیں۔ اس قانون کے تحت یہ تمام غنیمتیں اسلامی ریاست کی ملکیت قرار پائیں اور تمام مجاہدین کو حکم دے دیا گیا کہ انفرادی طور جو چیز جس کسی کے پاس ہے وہ اسے لا کر بیت المال میں جمع کرا دے۔ اس طریقے سے سب لوگوں کو zero level پر لا کر کھڑا کردیا گیا اور یوں یہ مسئلہ احسن طور پر حل ہوگیا۔ اس کے بعد جس کو جو دیا گیا اس نے وہ بخوشی قبول کرلیا۔اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں بندۂ مومن کی شخصیت کے کچھ خدوخال بیان ہوئے ہیں۔ مگر ان خدوخال کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مؤمن اور مسلمان دو مترادف الفاظ یا اصطلاحات نہیں ہیں۔ قرآن ان دونوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ یہ فرق سورة الحجرات کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط اے نبی ﷺ ! یہ بدو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں جبکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اسلام اور ایمان کا یہ فرق اچھی طرح سمجھنے کے لیے ارکان اسلام کی تفصیل ذہن میں تازہ کرلیجئے جو قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا کا مرحلۂ اولیٰ طے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاِقَام الصَّلَاۃِ وَاِیْتَاء الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ 1 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوٰۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔یہ پانچ ارکان اسلام ہیں ‘ جن سے ہر مسلمان واقف ہے۔ مگر جب ایمان کی بات ہوگی تو ان پانچ ارکان کے ساتھ دو مزید ارکان اضافی طور پر شامل ہوجائیں گے ‘ اور وہ ہیں دل کا یقین اور عمل میں جہاد۔ چناچہ ملاحظہ ہو سورة الحجرات کی اگلی آیت میں بندۂ مؤمن کی شخصیت کا یہ نقشہ : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ مؤمن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائیں اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر ان کے دلوں میں شک باقی نہ رہے اور وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ صرف وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ یعنی کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد انسان قانونی طور پر مسلمان …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

آیت 1 یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ ج فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْص وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ یہاں مال غنیمت کے لیے لفظ انفال استعمال کیا گیا ہے۔ انفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نماز نفل ‘ جسے ادا کرلیں تو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مال غنیمت ایک اضافی انعام ہے۔ جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکا ہے کہ غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ یہاں ایک مختصر قطعی اور دو ٹوک حکم کے ذریعے سے اس مسئلہ کی جڑ کاٹ دی گئی ہے اور بہت واضح انداز میں بتادیا گیا ہے کہ انفال کل کے کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ملکیت ہیں۔ اس لیے کہ یہ فتح تمہیں اللہ کی خصوصی مدد اور اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے سے نصیب ہوئی ہے۔ لہٰذا انفال کے حق دار بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی ہیں۔ اس قانون کے تحت یہ تمام غنیمتیں اسلامی ریاست کی ملکیت قرار پائیں اور تمام مجاہدین کو حکم دے دیا گیا کہ انفرادی طور جو چیز جس کسی کے پاس ہے وہ اسے لا کر بیت المال میں جمع کرا دے۔ اس طریقے سے سب لوگوں کو zero level پر لا کر کھڑا کردیا گیا اور یوں یہ مسئلہ احسن طور پر حل ہوگیا۔ اس کے بعد جس کو جو دیا گیا اس نے وہ بخوشی قبول کرلیا۔اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں بندۂ مومن کی شخصیت کے کچھ خدوخال بیان ہوئے ہیں۔ مگر ان خدوخال کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مؤمن اور مسلمان دو مترادف الفاظ یا اصطلاحات نہیں ہیں۔ قرآن ان دونوں میں واضح فرق کرتا ہے۔ یہ فرق سورة الحجرات کی آیت 14 میں اس طرح بیان ہوا ہے : قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط اے نبی ﷺ ! یہ بدو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو ‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں جبکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے۔ اسلام اور ایمان کا یہ فرق اچھی طرح سمجھنے کے لیے ارکان اسلام کی تفصیل ذہن میں تازہ کرلیجئے جو قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا کا مرحلۂ اولیٰ طے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَاِقَام الصَّلَاۃِ وَاِیْتَاء الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ 1 اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ‘ نماز قائم کرنا ‘ زکوٰۃ ادا کرنا ‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔یہ پانچ ارکان اسلام ہیں ‘ جن سے ہر مسلمان واقف ہے۔ مگر جب ایمان کی بات ہوگی تو ان پانچ ارکان کے ساتھ دو مزید ارکان اضافی طور پر شامل ہوجائیں گے ‘ اور وہ ہیں دل کا یقین اور عمل میں جہاد۔ چناچہ ملاحظہ ہو سورة الحجرات کی اگلی آیت میں بندۂ مؤمن کی شخصیت کا یہ نقشہ : اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ مؤمن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائیں اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر ان کے دلوں میں شک باقی نہ رہے اور وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ صرف وہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔ یعنی کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد انسان قانونی طور پر مسلمان …

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

آیت 3 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ۔۔اس سے انفاق فی سبیل اللہ مراد ہے۔ یعنی وہ لوگ اللہ کے دین کے لیے خرچ کرتے ہیں۔

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

آیت 4 اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط۔یہاں پر ایک مؤمن کی تعریف definition کا پہلا حصہ بیان ہوا ہے ‘ جب کہ اس کا دوسرا اور تکمیلی حصہ اس سورت کی آیت 74 میں بیان ہوگا ‘ یعنی آخری سے پہلی second last آیت میں۔ اس آیت میں بھی یہی الفاظ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ط ایک دفعہ پھر آئیں گے۔ ایمان کے ان حقائق کو تقسیم کر کے سورت کے آغاز اور اختتام پر اس طرح رکھا گیا ہے جیسے ساری سورت اس مضمون کی گود میں آگئی ہو۔

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

آیت 5 کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بالْحَقِّص وَاِنَّ فَرِیْقًًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِہُوْنَ ۔یہ اس پہلی مشاورت کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رض سے مدینہ ہی میں فرمائی تھی۔ لشکر کے میدان بدر کی طرف روانگی کو ناپسند کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو منافقین تھے جو کسی قسم کی آزمائش میں پڑنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے منصوبے کے تحت اس طرح کی کسی مہم جوئی کی روایت کو Nip the evil in the budکے مصداق ابتدا ہی میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے ان کے دلائل بظاہر بڑے بھلے تھے کہ لڑائی جھگڑا اچھی بات نہیں ہے ‘ ہمیں تو اچھی باتوں اور اچھے اخلاق سے دین کی تبلیغ کرنی چاہیے ‘ اور لڑنے بھڑنے سے بچنا چاہیے ‘ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف کچھ نیک سرشت سچے مؤمن بھی ایسے تھے جو اپنے خاص مزاج اور سادہ لوحی کے سبب یہ رائے رکھتے تھے کہ ابھی تک قریش کی طرف سے تو کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں ہوا ‘ لہٰذا ہمیں آگے بڑھ کر پہل نہیں کرنی چاہیے۔ زیر نظر آیت میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ کا بدر کی طرف روانہ ہونا اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھا۔

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

آیت 6 یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ یہ آیت میرے نزدیک دوسری مشاورت کے بارے میں ہے جو مقام صفراء پر منعقد ہوئی تھی۔ نبی اکرم ﷺ مدینہ سے قریش کے تجارتی قافلے کا پیچھا کرنے کے ارادے سے نکلے تھے ‘ اور یہ بظاہر اسی طرح کی ایک مہم تھی جس طرح کی آٹھ مہمات اس علاقے میں پہلے بھی بھیجی جا چکی تھیں۔ اس وقت تک لشکر قریش کے بارے میں نہ کوئی اطلاع تھی اور نہ ہی ایسا کوئی گمان تھا۔ لیکن جب آپ ﷺ مدینہ سے نکل کر صفراء کے مقام پر پہنچے تو آپ ﷺ کو اپنے ذرائع سے بھی لشکر قریش کی مکہ سے روانگی کی اطلاع مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے بھی آپ ﷺ کو اس بارے میں مطلع فرما دیا۔ چناچہ جس طرح حضرت طالوت نے راستے میں اپنے لشکر کی آزمائش کی تھی کہ دریا کو عبور کرتے ہوئے جو شخص سیر ہو کر پانی پیے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا اور اس طرح مخلص ساتھیوں کا خلوص ظاہر ہوگیا ‘ اسی طرح آپ ﷺ نے بھی اللہ کے حکم سے سارا معاملہ مسلمانوں کے سامنے مشاورت کے لیے رکھ دیا اور ان کو واضح طور پر بتادیا کہ مکہ سے ابوجہل ایک ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر جرار لے کر روانہ ہوچکا ہے۔کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَہُمْ یَنْظُرُوْنَ ظاہر بات ہے یہ کیفیت تو پکے منافقین ہی کی ہوسکتی تھی۔

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

آیت 7 وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّہَا لَکُمْ لشکر یا قافلے میں سے کسی ایک پر مسلمانوں کی فتح کی ضمانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے دی گئی تھی۔ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَات الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ تم لوگوں کی خواہش تھی کہ لشکر اور قافلے میں سے کسی ایک کے مغلوب ہونے کی ضمانت ہے تو پھر غیر مسلح گروہ یعنی قافلے ہی کی طرف جایا جائے ‘ کیونکہ اس میں کوئی خطرہ اور خدشہ risk نہیں تھا۔ قافلے کے ساتھ بمشکل پچاس یا سو آدمی تھے جبکہ اس میں پچاس ہزار دینار کی مالیت کے سازوسامان سے لدے پھندے سینکڑوں اونٹ تھے ‘ لہٰذا اس قافلے پر بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا تھا اور بظاہر عقل کا تقاضا بھی یہی تھا۔ ان لوگوں کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے پاس تو ہتھیار بھی نہیں ہیں اور سامان رسد وغیرہ بھی نا کافی ہے ‘ ہم پوری تیاری کر کے مدینے سے نکلے ہی نہیں ہیں ‘ لہٰذا یہ بہتر ہوگا کہ پہلے قافلے کی طرف جائیں ‘ اس طرح سازو سامان بھی مل جائے گا ‘ اہل قافلہ کے ہتھیار بھی ہمارے قبضے میں آجائیں گے اور اس کے بعد لشکر کا مقابلہ ہم بہتر انداز میں کرسکیں گے۔ تو گویا عقل و منطق بھی اسی رائے کے ساتھ تھی۔ وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة الانعام آیت 45 میں پڑھ آئے ہیں : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط کہ ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ یعنی اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ یہ سب کچھ دنیا کے عام قواعد و ضوابط physical laws کے تحت نہیں ہونے جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس دن کو یوم الفرقان بنانا چاہتا تھا۔ وہ تین سو تیرہ نہتے افراد کے ہاتھوں کیل کانٹے سے پوری طرح مسلح ایک ہزار جنگجوؤں کے لشکر کو ذلت آمیز شکست دلوا کردکھانا چاہتا تھا کہ اللہ کی تائید و نصرت کس کے ساتھ ہے اور چاہتا تھا کہ کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

آیت 7 وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّہَا لَکُمْ لشکر یا قافلے میں سے کسی ایک پر مسلمانوں کی فتح کی ضمانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے دی گئی تھی۔ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَات الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ تم لوگوں کی خواہش تھی کہ لشکر اور قافلے میں سے کسی ایک کے مغلوب ہونے کی ضمانت ہے تو پھر غیر مسلح گروہ یعنی قافلے ہی کی طرف جایا جائے ‘ کیونکہ اس میں کوئی خطرہ اور خدشہ risk نہیں تھا۔ قافلے کے ساتھ بمشکل پچاس یا سو آدمی تھے جبکہ اس میں پچاس ہزار دینار کی مالیت کے سازوسامان سے لدے پھندے سینکڑوں اونٹ تھے ‘ لہٰذا اس قافلے پر بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا تھا اور بظاہر عقل کا تقاضا بھی یہی تھا۔ ان لوگوں کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے پاس تو ہتھیار بھی نہیں ہیں اور سامان رسد وغیرہ بھی نا کافی ہے ‘ ہم پوری تیاری کر کے مدینے سے نکلے ہی نہیں ہیں ‘ لہٰذا یہ بہتر ہوگا کہ پہلے قافلے کی طرف جائیں ‘ اس طرح سازو سامان بھی مل جائے گا ‘ اہل قافلہ کے ہتھیار بھی ہمارے قبضے میں آجائیں گے اور اس کے بعد لشکر کا مقابلہ ہم بہتر انداز میں کرسکیں گے۔ تو گویا عقل و منطق بھی اسی رائے کے ساتھ تھی۔ وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة الانعام آیت 45 میں پڑھ آئے ہیں : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط کہ ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ یعنی اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا۔ یہ سب کچھ دنیا کے عام قواعد و ضوابط physical laws کے تحت نہیں ہونے جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس دن کو یوم الفرقان بنانا چاہتا تھا۔ وہ تین سو تیرہ نہتے افراد کے ہاتھوں کیل کانٹے سے پوری طرح مسلح ایک ہزار جنگجوؤں کے لشکر کو ذلت آمیز شکست دلوا کردکھانا چاہتا تھا کہ اللہ کی تائید و نصرت کس کے ساتھ ہے اور چاہتا تھا کہ کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

آیت 9 اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ قریش کے ایک ہزار کے لشکر کے مقابلے میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے آسمانوں سے قطار در قطار اتریں گے۔

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

آیت 10 وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ الاَّ بُشْرٰی وَلِتَطْمَءِنَّ بِہٖ قُلُوْبُکُمْ ط وَمَا النَّصْرُ الاَّ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اللہ تعالیٰ تو کُنْ فَیَکُوْن کی شان کے ساتھ جو چاہے کر دے۔ وہ فرشتوں کو بھیجے بغیر بھی تمہاری مدد کرسکتا تھا ‘ لیکن انسانی ذہن کا چونکہ سوچنے کا اپنا ایک انداز ہے ‘ اس لیے اس نے تمہارے دلوں کی تسکین اور تسلی کے لیے نہ صرف ایک ہزار فرشتے بھیجے بلکہ تمہیں ان کی آمد کی اطلاع بھی دے دی کہ خاطر جمع رکھو ‘ ہم تمہاری مدد کے لیے فرشتے بھیج رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اللہ کے وعدے کے مطابق میدان بدر میں فرشتے اترے ضرور ہیں لیکن انہوں نے عملی طور پر لڑائی میں حصہ نہیں لیا۔ عملی طور پر جنگ کفار کے ایک ہزار اور مسلمانوں کے تین سو تیرہ افراد کے درمیان ہوئی اور قوت ایمانی سے سرشار مسلمان اس بےجگری اور بےخوفی سے لڑے کہ ایک ہزار پر غالب آگئے۔

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.