Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 21–30 of 75

21

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا : ان سے مراد مشرکین، منافقین اور اہل کتاب ہیں جو کانوں سے تو اللہ اور اس کے رسول کا کلام سنتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ نہیں سنتے، کیونکہ نہ وہ دل سے سنتے ہیں نہ قبول کرتے ہیں، ان کا سننا نہ سننے کے برابر ہے۔ دیکھیے سورة نساء (٤٦) ۔

Al-Anfaal 8:21Listen in Qur'an →
22

۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ : ” الدَّوَاۗبِّ “ ” دَابَّۃٌ“ کی جمع ہے، ” دَبَّ یَدِبُّ (ض) “ زمین پر چلنا۔ انسان کو ” الدَّوَاۗبِّ “ میں اس لیے شمار کیا کہ کتب لغہ میں ہر جاندار کو دابہ کہہ لیتے ہیں۔ مصباح میں ہے ” دَابَّۃٌ“ زمین کا ہر جاندار، خواہ سمجھ رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، یعنی کفار و منافقین جو کان سے اچھی بات نہ سنیں، زبان سے اچھی بات نہ نکالیں اور اللہ کی دی ہوئی عقل سے کام نہ لیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جانوروں سے بدتر ہیں، کیونکہ جانور تو اپنے فطری تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں اور ان لوگوں کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، مگر یہ اس غرض کو بھی پورا نہیں کرتے۔ یہاں پہلے بہرے ہونے کا ذکر ہے، پھر گونگے ہونے کا، کیونکہ حق سن کر ہی اس کی تائید و تبلیغ زبان سے ہوتی ہے، پھر بےعقل ہونے کا، کیونکہ بعض بہرے اور گونگے عقل سے حق کو سمجھتے اور اسے قبول کرلیتے ہیں، مگر یہ لوگ تینوں چیزوں سے خالی ہیں۔ دیکھیے سورة اعراف (١٧٩) اور فرقان (٤٤) ۔

Al-Anfaal 8:22Listen in Qur'an →
23

وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ : یعنی اگر ان کے دل میں خیر یعنی حق کی طلب ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے سننے کو نافع بنا کر ایمان و عمل کی توفیق دے دیتا۔ پہلے ” لَّاَسْمَعَهُمْ “ (انھیں ضرور سنوا دیتا) سے مراد وہ سنانا ہے جو دل سے ہو اور فائدہ مند ہو اور ” لَّواَسْمَعَهُمْ “ (اور اگر وہ انھیں سنوا دیتا) سے مراد محض کانوں سے سنوانا ہے، یعنی اگر انھیں اسی حال میں کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں ہے، سنواتا تو یقیناً وہ منہ پھیر کر چل دیتے، یعنی ان لوگوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کر کے اپنے اندر سے وہ استعداد ہی ختم کردی ہے جو ایمان اور راہ ہدایت کی پیروی کے لیے بیج کی حیثیت رکھتی ہے، پھر جب بیج ہی نہ ہو تو پھل کی امید کیا ہوسکتی ہے، چناچہ دوسری آیت میں فرمایا : (كَلَّا بَلْ ۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ) [ المطففین : ١٤ ] ” خبردار رہو کہ ان کے برے اعمال ان کے دلوں پر زنگ بن کر چھا گئے ہیں۔ “

Al-Anfaal 8:23Listen in Qur'an →
24

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ :” اَجَابَ یُجِیْبُ “ کا معنی قبول کرنا ہے اور ” اسْتَجِيْبُوْا “ باب استفعال ” اِسْتَجَابَ یَسْتَجِیْبُ “ سے ہے، جس میں عموماً طلب ہوتی ہے، یہاں طلب کا معنی نہیں ہوسکتا، لہٰذا سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں زیادتی مراد ہوگی، اس لیے ” خوشی سے قبول کرو “ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر خوشی سے لبیک کہنا تم پر لازم ہے۔- اِذَا دَعَاكُمْ : ” جب وہ تمہیں دعوت دے “ کا مطلب یہ ہے کہ فوراً قبول کرو، دیر نہ کرو۔ ابی بن کعب (رض) نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں بلایا، وہ نماز پوری کرکے آئے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا : ” تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟ “ انھوں نے کہا : ” آئندہ میں ان شاء اللہ ایسا نہیں کروں گا۔ “ [ ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب : ٢٨٧٥ ] صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ابوسعید بن معلی (رض) کو نماز پڑھتے ہوئے بلانا اور اسی وقت نہ آنے پر یہی تلقین فرمانا موجود ہے۔ [ بخاری، التفسیر، باب : ( یأیھا الذین اٰمنوا استجیبوا۔۔ ) : ٤٦٤٧ ]- لِمَا يُحْيِيْكُمْ : ” اس چیز کے لیے جو تمہیں زندگی بخشتی ہے “ اس سے متعلق علمائے سلف کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے اسلام و ایمان اور بعض نے قرآن، لیکن اکثر نے اس سے جہاد مراد لیا ہے، کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ شروع سورت سے یہی بات چلی آرہی ہے، آیت : (اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ )[ البقرۃ : ٢٤٣ ] سے مراد بھی جہاد کی ترغیب ہے۔ ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرما رہے تھے : ” جب تم عینہ (حیلے سے سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کاشت کاری پر خوش ہوجاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی بڑی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تم اپنے دین (جہاد) کی طرف لوٹ آؤ۔ “ [ أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ : ٣٤٦٢۔ السلسۃ الصحیحۃ : ١١ ] - وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ : یعنی حق واضح ہوجانے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ سزا ملتی ہے کہ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملتی، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ) [ الصف : ٥ ] ” جب وہ خود ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا۔ “ آیت کے یہ معنی ابن عباس (رض) اور جمہو رمفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ سورة انعام کی آیت (١٠٩، ١١٠) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے، جنگ تبوک میں کعب بن مالک (رض) فوری طور پر نہ نکل سکے تو بعد میں جانے کی توفیق ہی نہیں ملی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق اور انابت کی وجہ سے انھیں توبہ کی توفیق دی اور قرآن میں ان کا ذکر خیر فرمایا۔ شاہ عبد القادر (رض) اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں : ” حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے، دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ (موضح) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ اللہ کے حائل ہونے سے مراد موت ہے، یعنی موت آنے سے پہلے اطاعت بجا لاؤ، اس کے بعد (وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ) (اور جان لو کہ یہ یقینی حقیقت ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کے جملے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دونوں معنی ہی مراد ہوسکتے ہیں اور ان کا …

Al-Anfaal 8:24Listen in Qur'an →
25

وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

وَاتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : ” فِتْنَةً “ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ” عظیم فتنہ “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب کسی قوم میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ سرانجام نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اس پر ہمہ گیر عذاب بھیج دیتا ہے۔ (ابن کثیر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے، یا پھر اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے گا، پھر تم اس سے دعا کرو گے مگر وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔ “ [ أحمد : ٥؍ ٣٨٨، ٣٨٩، ح : ٢٣٣٠١، عن حذیفۃ بن یمان (رض) وحسنہ شعیب أرنؤوط ] اصحاب سبت یعنی ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنے والوں کا قصہ اس کی ایک مثال ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (١٦٤ تا ١٦٧) ۔- وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : مطلب یہ ہے کہ حکم کی بجا آوری میں کاہلی کرنے سے ایک تو دل ہٹتا ہے، دم بدم مشکل میں پڑتا ہے، دوسرے نیک لوگوں کے عمل میں سستی اختیار کرنے سے گنہگار بالکل ہی عمل چھوڑ بیٹھیں گے، تو رسم بد پھیلے گی، اس کا وبال سب پر پڑے گا۔

Al-Anfaal 8:25Listen in Qur'an →
26

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو

وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ: اس میں مکی زندگی میں مسلمانوں کی قلت تعداد، سختی اور خوف کا، پھر مدینہ میں ان کو اپنا گھر، امن و سکون اور راحت و آرام ملنے کا ذکر ہے۔ ” اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا “ میں دوسری تمام پاکیزہ نعمتوں کے ساتھ غنیمت کے اموال کا حلال کرنا بھی شامل ہے، کیونکہ یہ پہلی امتوں کے لیے حلال نہیں تھے، بلکہ جلا دیے جاتے تھے۔

Al-Anfaal 8:26Listen in Qur'an →
27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ : امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے وہ تمام ذمہ داریاں اور عہد معاہدے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ یا بندوں سے کیے گئے ہوں۔ صلح، جنگ اور نکاح وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں، ایک دوسرے کے ذاتی راز اور فوجی راز بھی امانت ہیں۔ حاطب بن ابی بلتعہ (رض) نے فتح مکہ سے پہلے ایک عورت کو خط دے کر مکہ بھیجا تھا، جس میں اہل مکہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حملے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا اور اس پر اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تھی۔ [ بخاری، ٣٩٨٣۔ مسلم : ٢٤٩٤ ] سورة ممتحنہ کے شروع میں اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کم ہی کوئی خطبہ دیا مگر اس میں فرمایا : ( لاَ اِیْمَانَ لِمَنْ لاَّ أَمَانَۃَ لَہُ وَلاَ دِیْنَ لِمَنْ لاَّ عَھْدَ لَہُ ) [ أحمد : ٣؍١٣٥، ح : ١٢٣٨٣، و حسنہ شعیب الأرنؤوط۔ ابن حبان : ١٩٤ ] ” اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس کی کوئی امانت نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس کا کوئی عہد نہیں۔ “ عبداللہ بن عمرو اور ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ منافق کی علامات میں سے ایک علامت امانت میں خیانت بھی ہے۔ [ بخاری، الإیمان، باب علامات المنافق : ٣٣۔ مسلم : ٥٩ ]

Al-Anfaal 8:27Listen in Qur'an →
28

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌۭ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ: مال اور اولاد کی محبت انسان کے لیے بہت بڑی آزمائش ہے، کیونکہ عام طور پر انھی کے لیے آدمی خیانت اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَۃٌ مَجْبَنَۃٌ مَجْھَلَۃٌ مَحْزَنَۃٌ )” بیشک بچہ بخل، بزدلی، جہالت اور غم کا باعث ہوتا ہے۔ “ [ صحیح الجامع الصغیر : ١٩٩٠۔ مستدرک حاکم : ٣؍٢٩٦، ح : ٥٢٨٤، عن الأسود بن خلف ] درحقیقت اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتا ہے کہ آدمی اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو ترجیح دیتا ہے، یا مال اور اولاد کی ایسی محبت کو جس سے خیانت اور احکام الٰہی کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ اس ناجائز محبت پر غالب آنے کا طریقہ اس بات کا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس بہت ہی بڑا اجر ہے۔

Al-Anfaal 8:28Listen in Qur'an →
29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًۭا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا : مال اور اولاد کی آزمائش سے خبردار کرنے کے بعد اب تقویٰ کی تعلیم دی ہے اور اس کے فوائد بیان کیے ہیں، تقویٰ کا مادہ ” و ق ی “ ہے اور یہ اسم مصدر ہے۔ ” تَتَّقُوا “ باب افتعال سے ہے، اس کا معنی بچنا ہے، آدمی اسی چیز سے بچتا ہے جس سے ڈرتا ہو، اس لیے اس کا معنی ڈرنا بھی کرلیا جاتا ہے۔ ” فَرْقٌ“ اور ” فُرْقَانٌ“ مصدر ہیں، دونوں کا ایک ہی معنی ہے، مگر ” فُرْقَانًا “ کے حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا، یعنی اگر تم ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچتے رہو گے، خواہ کوئی دوسرا تمہارے پاس ہو یا نہ ہو تو تمہیں چار نعمتیں عطا ہوں گی، پہلی یہ کہ تم میں حق اور باطل کو پہچاننے اور ان کے درمیان فرق کرنے کی بہت بڑی قوت پیدا ہوجائے گی اور اس قوت کی بدولت اللہ تعالیٰ تمہیں کسی بھی شبہ، شک یا تذبذب کا شکار ہونے کے بجائے واضح طور پر ہر کام کے درست یا نا درست ہونے کی پہچان اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی قوت عطا کرے گا، تم آسانی سے حق کا فیصلہ کرکے اس پر عمل کرسکو گے۔ دیکھیے سورة حدید (٢٨) اسی طرح وہ تمہیں فتح و نصرت عطا کرکے تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ دوسری یہ کہ وہ تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تیسری یہ کہ قیامت کے دن وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ - وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ : یہ چوتھی نعمت ہے۔ فضل کا معنی زائد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اتنا ہی بدلہ نہیں دے گا جتنا تم عمل کر وگے بلکہ اس سے کہیں زیادہ دے گا، کیونکہ وہ بہت زائد حتیٰ کہ تمہاری سوچ سے بھی بہت زائد عطیہ دینے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْيُنٍ ) [ السجدۃ : ١٧ ] ” پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔ “

Al-Anfaal 8:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جب تقریباً تمام صحابہ ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر، علی (رض) اور اکّا دکّا مسلمان مکہ میں رہ گئے تو کفار کو فکر لاحق ہوئی کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہمارے ہاتھ سے نکل گئے تو وہ ہمارے لیے ایسا خطرہ ثابت ہوں گے جو ہمارے قابو سے باہر ہوگا۔ چناچہ ان کی دار الندوہ میں مجلس ہوئی، جس میں تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا خلاصہ بیان فرمایا ہے، ایک رائے یہ تھی کہ آپ کو قید کردیں اور موت تک وہاں سے نہ نکلنے دیں، اس پر یہ امکان سامنے آیا کہ ان کے ساتھی کار روائی کرکے انھیں چھڑا لیں گے۔ ایک تجویز یہ آئی کہ انھیں قتل کردیا جائے، اس پر آپ کے خاندان بنو عبد مناف کے ساتھ لڑائی کا خطرہ سامنے آیا اور ایک مشورہ یہ آیا کہ ہم خود ہی انھیں مکہ سے نکال دیں، جہاں چاہیں جائیں، ہماری تو جان چھوٹے گی، اس پر یہ خطرہ سامنے آیا کہ وہ اپنے صدق و امانت، خوش خلقی اور خوش کلامی سے لوگوں کو اکٹھا کرکے تم پر حملہ آور ہوں گے۔ آخر فیصلہ یہ ٹھہرا کہ ہر قبیلے سے ایک نوجوان لیا جائے، وہ سب رات کو آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیں، آپ جونہی باہر نکلیں وہ سب مل کر حملہ کرکے آپ کا کام تمام کردیں۔ بنو عبد مناف کس کس سے لڑیں گے، آخر دیت پر راضی ہوجائیں گے۔ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ کو ان کی سازش کی اطلاع دے دی اور یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔ آپ اس رات اپنے بستر پر نہیں سوئے، بلکہ علی (رض) کو اپنے بستر پر سلا دیا۔ کافر ساری رات انتظار میں رہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے کفار کی سازش کو ناکام کرکے آپ کو بحفاظت نکال لیا، اگلے دن آپ نے ابوبکر (رض) کی معیت میں ہجرت فرمائی۔ سیرت کی تمام کتابوں میں یہ قصہ مذکور ہے جس کا یہ خلاصہ قرآن مجید کے مطابق ہے۔ - عبد اللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : ” ہجرت کی رات علی (رض) نے اپنی جان کا سودا کیا، وہ یہ کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر اوڑھی اور آپ کی جگہ سو گئے۔ “ [ أحمد : ١؍٣٣٠، ٣٣١، ح : ٣٠٦٢۔ مستدرک حاکم : ٣؍٤، ح ٤٢٦٤۔ وصححہ الحاکم و وافقہ الذھبی ] ہجرت کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة توبہ (٤٠) اور ” مکر “ کے معنی کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (٥٤) ۔

Al-Anfaal 8:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.