وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے
دوسری آیت میں اسی مضمون کی مزید تاکید کے لئے ارشاد فرمایا (آیت) وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ، یعنی تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر درحقیقت سنا سنایا کچھ نہیں۔ ان لوگوں سے مراد عام کفار بھی ہیں جو سننے کا دعوی کرتے ہیں اعتقاد کا نہیں کرتے۔ اور منافقین بھی ہیں جو سننے کے ساتھ سمجھنے اور اعتقاد رکھنے کے بھی مدعی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ غور و فکر اور صحیح سمجھ سے یہ دونوں محروم ہیں اس لئے ان کا سننا نہ سننے کے حکم میں ہے مسلمانوں کو ان لوگوں کے مشابہ ہونے سے منع فرمایا گیا۔