Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 21–30 of 75

21

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

[٢٠] یہاں سننے سے مراد اس کو قبول کرنا ہے اور اس آیت میں روئے سخن بالخصوص منافقوں کی طرف ہے۔

Al-Anfaal 8:21Listen in Qur'an →
22

۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

[٢١] بدترین مخلوق کون ہیں ؟ اس آیت کا مضمون سورة اعراف کی آیت نمبر ١٧٩ میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان اعضاء سے وہ کام لینا چھوڑ دے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں تو پھر بالآخر وہ اعضاء اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مثلاً آنکھیں اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی کائنات کو دیکھیں، کان اس لیے کہ وہ حق بات کو سنیں اور عقل اس لیے کہ وہ آنکھ اور کان کی بہم پہنچائی ہوئی معلومات میں غور و فکر کرے۔ اب جو شخص ان اعضاء سے کام نہ لیتے ہوئے انہیں بےکار بنا دیتا ہے تو ایسے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو برباد کردیا۔

Al-Anfaal 8:22Listen in Qur'an →
23

وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

[٢٢] بالآخر ایسے لوگوں میں بھلائی کا جوہر موجود ہی نہیں رہتا اور اگر لوگ اپنے آپ میں کچھ ایسا جوہر موجود رہنے دیتے تو اللہ تعالیٰ انہیں سنا بھی دیتا۔ مگر ان کی موجودہ حالت یہ ہے کہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات سنا اور سمجھا بھی دی جائیں تو یہ ضدی اور معاند لوگ سمجھ کر بھی انہیں تسلیم و قبول کرنے پر تیار نہ ہوں گے۔

Al-Anfaal 8:23Listen in Qur'an →
24

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے

[٢٣] اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ کی زندگی بخش دعوت :۔ یعنی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دعوتی پیغام ایسا ہے جس سے تمہیں دنیا میں بھی عزت و اطمینان کی زندگی نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی نعمتوں سے بھرپور ابدی زندگی حاصل ہوگی، اس کے مفہوم کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ ذہن میں رکھئے کہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ جب کہ مسلمانوں کی ایک ریاست قائم ہوچکی تھی اور وہ آزادانہ زندگی گزار رہے تھے اور غزوہ بدر میں فتح نے انہیں ایک مساوی قوم کا درجہ دے دیا تھا اور وہ آپس میں نہایت پیار، محبت اور بھائی بھائی بن کر رہ رہے تھے۔ اب اس کے مقابلہ میں دور جاہلیت کے معاشرہ کو سامنے لائیے جب کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے مدینہ میں جنگ بعاث نے اور مکہ میں حرب فجار نے گھروں کے گھروں کا صفایا کردیا تھا۔ قبائلی جنگیں کسی طرح ختم ہونے کو نہ آتی تھیں اور تم لوگ ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور شراب کے دور چلتے تھے۔ کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں رہی تھی اور لوگوں پر ان کا جینا حرام ہوچکا تھا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں وہ تعلیم دی کہ تمہاری زندگی کا رخ ہی موڑ دیا اور اب تم امن چین سے زندگی گزار رہے ہو۔ لہذا تمہیں فوراً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا چاہیے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر فوراً حاضر ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی کا راز مضمر ہے۔- اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان خواہ کتنے ہی ضروری کام مثلاً فریضہ نماز میں بھی مشغول ہو تو اسے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر نماز چھوڑ کر فوراً حاضر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔- رسول کے بلانے پر فورا حاضر ہونا :۔ ابو سعیدبن معلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ میرے سامنے سے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا : تم میرے بلانے پر فوراً کیوں نہ آئے ؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ 24؀) 8 ۔ الانفال :24) پھر آپ نے فرمایا : میں جانے سے پہلے تمہیں قرآن کی بڑی سورت بتلاؤں گا۔ جب آپ جانے لگے تو میں نے آپ کو یہ بات یاد دلائی تو آپ نے فرمایا وہ سورت (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ) الفاتحه "1) ہے۔ اس میں سات آیتیں ہیں جو (ہر نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں۔ (بخاری، کتاب التفسیر)- اور حدیث جریج سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے بلانے پر انسان کو نفلی نماز توڑ کر فوراً حاضر ہوجانا چاہیے۔- [ ٢٤] اللہ کے آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا مطلب دل کو شیطانی وساوس سے بچانے کی کوشش :۔ یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے اتنا قریب ہے کہ وہ اس کے راز، ارادوں اور نیت تک کو جانتا ہے اور یہ دل ہی خیر و شر کا منبع ہے۔ لہذا مسلمان کو اللہ کے رسول کی اطاعت میں دیر نہ کرنی چاہیے۔ ورنہ ممکن ہے کہ بعد میں کوئی اور خیال پیدا ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کا تو قانون ہی یہ ہے کہ انسان جیسا ارادہ یا نیت کرتا ہے۔ اللہ اس کے دل کو اسی طرح کی راہیں سجھانے لگتا ہے لہذا حتی الامکان دل کو شیطانی وساوس کی آماجگاہ بننے سے بچانا چاہیے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ بلاتاخیر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔- چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ اللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قُلُوْبُنَا عَلٰی دِیْنِکَ یا الفاظ یہ ہوتے تھے۔ یا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قُلُوْبُنَا عَلٰی دِیْنِکَ

Al-Anfaal 8:24Listen in Qur'an →
25

وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

[٢٥] برائی کو روکنا ہر ایک پر واجب ہے :۔ اس آیت میں اجتماعی زندگی کے فتنہ سے بچاؤ اور نھی عن المنکر کے فریضہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی معاشرہ میں اللہ کے رسول کی نافرمانی یا کوئی برائی پیدا ہوتی ہے اور لوگ اس کا بروقت نوٹس نہیں لیتے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ برائی معاشرہ میں پھیل جاتی ہے تو اس برائی کی پاداش میں اللہ کی طرف سے جو عذاب آئے گا وہ سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ یہ ممکن نہ رہے گا کہ جو لوگ یہ برائی کا کام نہیں کرتے تھے وہ بچ جائیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا جرم یہ ہوتا ہے کہ جب وہ برائی پیدا ہوئی یا بڑھنے لگی تھی تو اس وقت انہوں نے اسے روکنے میں غفلت کیوں کی تھی، اگر وہ روکتے تو سب لوگ عذاب سے بچ سکتے تھے۔

Al-Anfaal 8:25Listen in Qur'an →
26

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو

[٢٦] اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر سختیاں :۔ اس آیت کی تشریح کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے جس میں سیدنا ابوذر غفاری (رض) کے ایمان لانے کا ذکر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان کن مصائب اور حوصلہ شکن حالات سے دو چار تھے۔- سیدنا ابوذر غفاری (رض) کا اسلام لانا :۔ سیدنا ابوذر (رض) خود بیان کرتے ہیں کہ میں غفار قبیلے کا ایک شخص تھا مجھے خبر ملی کہ مکہ میں ایک شخص پیدا ہوا ہے جو اپنے تئیں پیغمبر کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا کہ مکہ جا کر اس شخص سے ملو۔ بات چیت کرو اور اس کا حال مجھے آ کر بتلاؤ۔ وہ آپ سے مل کر واپس میرے پاس آیا اور کہا واللہ وہ اچھی بات کا حکم کرتا اور بری بات سے منع کرتا ہے۔ اس جواب سے میری تسلی نہ ہوئی اور خود مکہ آگیا۔ یہاں میں کسی کو پہچانتا نہیں تھا۔ نہ مجھے کسی سے آپ کا حال پوچھنا مناسب معلوم ہوا۔ میں زمزم کا پانی پیتا رہا اور مسجد میں بیٹھ رہا۔ سیدنا علی (رض) میرے سامنے سے گزرے اور پوچھا : تم مسافر معلوم ہوتے ہو۔ میں نے کہا : ہاں۔ آپ نے کہا۔ تو میرے گھر چلو۔ میں ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی میں نے کوئی بات کی۔ صبح پھر میں مسجد میں آگیا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ کسی سے نبی کے متعلق کچھ پوچھوں، مگر مجھے کوئی ایسا آدمی نہ ملا۔ دوسرے دن سیدنا علی (رض) پھر میرے پاس سے گزرے اور پوچھا تجھے ابھی تک کوئی ٹھکانہ نہیں ملا۔ میں نے کہا : نہیں۔ انہوں نے کہا تو میرے ساتھ چلو اور بتلاؤ تمہارا کیا کام ہے ؟ یہاں کیسے آئے ہو ؟ میں نے کہا : اگر تم کسی کو بتلاؤ نہیں تو میں آپ کو بتلاتا ہوں۔ سیدنا علی (رض) نے کہا ٹھیک ہے۔ تب میں نے انہیں اپنے بھائی کو بھیجنے کا واقعہ سنایا اور کہا کہ میں اس نبی کو ملنا چاہتا ہوں۔ سیدنا علی (رض) نے کہا : یہ تمہارے لیے بہت اچھا اتفاق ہوا کہ میں بھی اسی نبی کے پاس جا رہا ہوں، تم میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ جہاں میں داخل ہوا تم بھی داخل ہوجانا اور اگر کوئی خطرہ کی بات ہوئی تو میں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوجاؤں گا جیسے اپنا جوتا صاف کرنے لگا ہوں (اور ایک روایت میں ہے جیسے پیشاب کرنے لگا ہوں) تم وہاں سے آگے نکل جانا۔ اس طرح ہم ایک مکان میں داخل ہوئے۔ جہاں آپ موجود تھے۔ میں نے عرض کی کہ آپ مجھے اسلام سکھلائیے۔ پھر میں اسی وقت مسلمان ہوگیا تو آپ نے فرمایا : ابو ذر اپنے ایمان کو چھپائے رکھو اور اپنے وطن واپس لوٹ جاؤ۔ جب تمہیں ہمارے غلبہ کی خبر پہنچے تو چلے آنا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی قسم میں اسلام کا کلمہ کافروں کے سامنے ببانگ دہل پکاروں گا۔ پھر میں مسجد میں آیا اور پکارا : قریشیو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ کہنے لگے اٹھو اس بےدین کی خبر لو۔ پھر انہوں نے مجھے خوب مارا۔ سیدنا عباس (رض) نے مجھے دیکھ لیا اور آ کر مجھ پر جھک گئے اور کہا تمہاری خرابی تم ایک غفاری کو مار رہے ہو، جبکہ تمہارا تجارتی راستہ اسی قوم پر سے گزرتا ہے یہ سن کر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ دوسرے دن صبح پھر میں مسجد میں آگیا اور وہی کلمہ کہا جو کل کہا تھا قریشیوں نے پھر وہی بات کہی کہ اٹھو اور اس کی خبر لو۔ چناچہ مجھے مار پڑنے لگی۔ اتنے میں سیدنا عباس (رض) آن پہنچے، وہ مجھ پر جھک گئے اور وہی بات کہی جو کل کہی تھی تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب قصہ زمزم، نیز باب اسلام ابی ذر)- یعنی مکی زندگی میں مسلمانوں پر ایسا وقت بھی آیا جبکہ اپنے اسلام کو ظاہر کرنا بھی جان جوکھوں کا کام تھا۔ پھر مکی زندگی کے آخری دور تک مسلمانوں پر کفار کی طرف سے سختیوں میں کمی واقع نہیں ہوئی انہیں سختیوں سے تنگ آ کر …

Al-Anfaal 8:26Listen in Qur'an →
27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

[٢٨] امانتوں میں خیانت کی مختلف صورتیں :۔ امانتوں میں خیانت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ امانتوں سے مراد وہ تمام عہد معاہدے اور وہ ذمہ داریاں ہیں جو کسی انسان پر عائد کی گئی ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ سے انسان کا عہد، عہد میثاق بھی ہے جس کو پورا کرنے پر انسان اللہ کا نافرمان رہ ہی نہیں سکتا اور وہ عہد بھی جو انسان ذاتی طور پر اللہ سے باندھتا ہے جیسے نذریں اور منتیں وغیرہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خیانت یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی مسلمان نے آپ سے بیعت کی ہے۔ ان میں فرار کی راہیں سوچنے لگے اور لوگوں سے معاہدے دین کے بھی ہوسکتے ہیں۔ صلح و جنگ کے سمجھوتے بھی، نکاح کے بھی، پھر انسان پر اس کے منصب کے لحاظ سے طرح طرح کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ غرض اس آیت کے مضمون میں انسان کی پوری زندگی آجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر واقعہ کے وقت متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی حال میں خیانت نہ کرے۔ اور بالخصوص جس بات پر اس آیت میں مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ کفار سے متعلق مسلمانوں کی پالیسی کو منافقوں یا مشکوک لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کریں اور اس سلسلہ میں انتہائی احتیاط سے کام لیں۔ کیونکہ ہر قسم کی جنگی تدابیر اللہ اور اس کے رسول کی امانت ہیں اور ایسے اقدامات کے متعلق کافروں کو اشارتاً یا کنایتہ مطلع کرنا یعنی جنگی راز کو فاش کرنا بھی امانت میں خیانت ہے۔ جس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ بسا اوقات فتح شکست میں بدل جاتی ہے۔

Al-Anfaal 8:27Listen in Qur'an →
28

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌۭ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

[٢٩] مال اور اولاد سے آزمائش :۔ مال اور اولاد ایسی چیزیں ہیں جن سے انسان کا فطری لگاؤ اور محبت ہوتی ہے اور انہیں کے ذریعہ مسلمان کے ایمان کی آزمائش ہوتی ہے اور یہ آزمائش ایسی پرخطر ہوتی ہے کہ انسان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ آزمائش میں پڑا ہوا ہے۔ سابقہ آیت کی طرح یہ آیت بھی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے۔ پھر ان میں سے مال کا فتنہ اولاد کے فتنہ سے شدید ہوتا ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث میں واضح ہے۔- ١۔ عمر و بن عوف (رض) سے روایت ہے (جو بنی عامر کے حلیف تھے) کہ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم میں تمہارے محتاج ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگ جاؤ، تو وہ تمہیں اس طرح ہلاک کر دے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا تھا۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب، شہود الملائکۃ بدرا) نیز کتاب الرقاق، باب مایحذرمن زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا)- ٢۔ آپ نے فرمایا : ہر امت کی ایک آزمائش ہے اور میری امت کی آزمائش مال ہے۔ (ترمذی بحوالہ مشکوۃ، کتاب الرقاق، دوسری فصل)- ٣۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا ہے۔ محتاج مہاجرین دولت مند مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ترمذی، ابو اب الزہد۔ باب ان فقراء المھاجرین یدخلون الجنۃ قبل اغنیاء ھم )- ٤۔ سیدنا عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ وہاں ان لوگوں کی کثرت ہے جو دنیا میں محتاج تھے۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب فضل الفقر )- ٥۔ مال کا فتنہ :۔ ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ (خطبہ ارشاد فرمانے) منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اپنے بعد میں جس بات سے ڈرتا ہوں وہ یہ ہے کہ زمین کی برکتیں تم پر کھول دی جائیں گی۔ (تم مالدار ہوجاؤ گے) پھر آپ نے دنیا کی آرائش کا بیان شروع کیا، پہلے ایک بات بیان کی، پھر دوسری۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا بھلائی سے برائی پیدا ہوگی ؟ یہ سن کر آپ خاموش ہوگئے ہم سمجھے کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے اور لوگ ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ پھر آپ نے اپنے منہ سے پسینہ پونچھا (وحی بند ہوئی) تو آپ نے پوچھا : وہ سائل کہاں ہے جو ابھی پوچھ رہا تھا۔ پھر آپ نے سوال کا جواب دیتے ہوئے تین بار فرمایا : مال و دولت سے بھلائی ہی نہیں ہوتی۔ پھر فرمایا : بھلائی سے تو بھلائی ہی پیدا ہوتی ہے مگر بہار کے موسم میں جب ہری ہری گھاس پیدا ہوتی ہے (جو ایک نعمت ہے، اس کا زیادہ کھا لینا) جانور کو یا تو مار ڈالتا ہے یا مرنے کے قریب کردیتا ہے۔ الا یہ کہ جانور اپنی کو کھیں بھرنے کے بعد دھوپ میں جا کھڑا ہو اور پیشاب کرے پھر اس کے ہضم ہوجانے کے بعد) اور گھاس چرے اور یہ مال و دولت بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور بہتر مسلمان وہ ہے جو اپنے حق کے مطابق ہی لے پھر اس میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرے اور جو شخص اپنے حق پر اکتفا نہ کرے اس کی مثال اس کھانے والے کی سی ہے جس کا پیٹ بھرتا ہی نہیں اور یہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل النفقہ فی سبیل اللہ )- ٦۔ ابراہیم بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف (رض) کے سامنے ایک روز کھانا رکھا گیا۔ تو کہنے لگے مصعب بن عمیر (رض) جنگ احد میں شہید ہوگئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کے لیے ایک چادر ملی اور حمزہ یا کسی اور کا نام لے کر کہا کہ وہ شہید ہوئے اور وہ بھی مجھ سے بہتر تھے ان کے کفن کو بھی صرف ایک چادر تھی۔ میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ عیش و آرام کے سامان ہمیں دنیا میں ہی دے دیئے …

Al-Anfaal 8:28Listen in Qur'an →
29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًۭا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

[٣٠] تقویٰ کے ثمرات :۔ یعنی اگر تم اس بات سے ڈرتے رہے کہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو تو اللہ تمہارے اندر ایسا نور بصیرت یا قوت تمیز پیدا کر دے گا جو زندگی کے ہر موڑ پر تمہاری رہنمائی کرے گا کہ فلاں کام اللہ کی رضا کے مطابق ہے اور فلاں اس کی مرضی کے خلاف ہے یعنی جو لوگ ایمان لانے کے بعد تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں تین قسم کے انعامات سے نوازتا ہے۔ ایک تو ان میں حق و باطل میں تمیز کرنے کی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسرے ان کی برائیوں کو مٹا دیا جاتا ہے اور تیسرے ان کے اکثر و بیشتر گناہ معاف ہی کردیئے جاتے ہیں اور تقویٰ کے یہ ثمرات محض تقویٰ کی بنا پر نہیں بلکہ اس لیے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لامحدود فضل کا مالک ہے۔

Al-Anfaal 8:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

[١ ٣] آپ کو قید جلاوطن یا قتل کرنے کا مشورہ :۔ جب کچھ مسلمان ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو کفار مکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہاں مکہ سے ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر یہ خطرہ ہمارے قابو سے نکل جائے گا۔ لہذا جیسے بھی ممکن ہو اس کا علاج فوری طور پر سوچنا چاہیے۔ اس غرض کے لیے انہوں نے دارالندوہ میں میٹنگ کی اور شرکائے مجلس سے تجاویز و آراء طلب کی گئیں۔ کسی نے کہا کہ اسے پابہ زنجیر کر کے قید کردیا جائے۔ شیطان جو خود اس میٹنگ میں انسانی صورت میں حاضر ہوا تھا کہنے لگا : یہ تجویز درست نہیں۔ کیونکہ اس کے پیروکار اس کے اس قدر جانثار ہیں کہ وہ اپنی جانیں خطرہ میں ڈال کر بھی اس کو کسی نہ کسی وقت چھڑا لے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسرے نے کہا اسے یہاں سے جلاوطن کردیا جائے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ کم از کم ہم تو ہر روز کی بک بک سے نجات پاجائیں گے۔ شیطان نے کہا یہ تجویز بھی درست نہیں۔ کیونکہ اس شخص کے کلام اور بیان میں اتنا جادو ہے کہ وہ جہاں جائے گا وہیں اس کے جانثار پیدا ہوجائیں گے۔ پھر وہ انہیں لے کر کسی وقت بھی آپ پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔ بعد میں ابو جہل بولا کہ ہم سب قبائل میں سے ایک ایک نوجوان لے لیں اور یہ سب مل کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یکبارگی حملہ کر کے اسے جان سے ہی ختم کردیں۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ بنو عبد مناف سب قبیلوں سے لڑائی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ لامحالہ خون بہا پر فیصلہ ہوگا جو سب قبائل مل کر حصہ رسدی ادا کردیں گے۔ یہ رائے سن کر شیطان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوگئی اور اس نے اس رائے کو بہت پسند کیا۔ پھر اس کام کے لیے وقت بھی اسی مجلس میں مقرر ہوگیا کہ فلاں رات یہ سب نوجوان مل کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کا محاصرہ کرلیں اور جب باہر نکلے تو سب یکبارگی اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کردیں۔ - آپ کی ہجرت کا فوری سبب :۔ ادھر یہ مشورے ہو رہے تھے ادھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو اس مجلس کی کارروائی سے مطلع کردیا اور ہجرت کی اجازت بھی دے دی۔ آپ کڑکتی دوپہر میں، جب لوگ عموماً آرام کر رہے ہوتے ہیں، چھپتے چھپاتے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے گھر گئے اور انہیں بتلایا کہ ہجرت کی اجازت مل گئی ہے سیدنا ابو بکرصدیق (رض) پہلے ہی اس موقع کے منتظر بیٹھے تھے۔ چناچہ سیدنا ابو بکرصدیق (رض) کے ہمراہ چھپتے چھپاتے غار ثور تک پہنچ گئے۔ (اس کی تفصیل کسی اور مقام پر آئے گی) اسی رات قاتلوں کے گروہ نے آپ کا محاصرہ کرنے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔ وہ بروقت اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔ جب صبح تک آپ گھر سے نہ نکلے تو پھر وہ خود اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ سیدنا علی (رض) کے سوا کوئی موجود نہیں اور جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ جا چکے ہیں تو ان کی برہمی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کیونکہ اللہ نے ان کی اس پورے ہاؤس کی منظور کردہ تدبیر کو بری طرح ناکام بنادیا تھا۔

Al-Anfaal 8:30Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.