Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 75

21

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

کائنات کا نظام تقاضا کرتا ہے کہ آخری فیصلہ کا ایک دن آئے۔ اسی دن کی خبر تمام پیغمبر اور ان کے سچے نائب دیتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کا اعتراف نہ کریں بلکہ حق کے داعیوں کے دشمن بن جائیں وہ ایسی سرکشی کرتے ہیں جس کے ہولناک انجام سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ تاہم جو لوگ ہر قسم کی مشکلات کے باوجود صداقت کی آواز پر لبیک کہیں وہ خدائے مہرباں کی طرف سے ایسا انعام پائیں گے جس سے بڑا انعام اور کوئی نہیں۔

آسمانی کتابوں میں قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ کتاب ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہے۔ اس کو زیر کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

Al-Anfaal 8:21Listen in Qur'an →
22

۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

کائنات کا نظام تقاضا کرتا ہے کہ آخری فیصلہ کا ایک دن آئے۔ اسی دن کی خبر تمام پیغمبر اور ان کے سچے نائب دیتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کا اعتراف نہ کریں بلکہ حق کے داعیوں کے دشمن بن جائیں وہ ایسی سرکشی کرتے ہیں جس کے ہولناک انجام سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ تاہم جو لوگ ہر قسم کی مشکلات کے باوجود صداقت کی آواز پر لبیک کہیں وہ خدائے مہرباں کی طرف سے ایسا انعام پائیں گے جس سے بڑا انعام اور کوئی نہیں۔

آسمانی کتابوں میں قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ کتاب ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہے۔ اس کو زیر کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

Al-Anfaal 8:22Listen in Qur'an →
23

وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

آدمی کے سامنے جب حق بات پیش کی جائے تو ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کو ان تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے سنے جو خدا نے اس کو بحیثیت انسان عطا کی ہیں۔ وہ اس پر پوری طرح دھیان دے۔ وہ اس کی صداقت کے وزن کو محسوس کرلے۔ اور پھر اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش کرے جو ایک حق کے مقابلہ میں انسان کی فطرت کو پیش کرنا چاہیے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو انسان کی طرح سنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس کو اس طرح سنے جیسے کہ اس کے پاس سننے کے ليے کان نہیں ہیں۔ اس کے سمجھنے کی صلاحیت اس کی سچائی کو پکڑنے سے عاجز رہ جائے۔ وہ اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش نہ کرسکے جو اس کو ازروئے واقعہ پیش کرنا چاهيے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو جانور کی طرح سنا۔

کوئی بات خواہ وہ کتنی ہی برحق ہو اس کی حقانیت صرف اسی شخص پر کھلتی ہے جو دل کی آمادگی کے ساتھ اس کو سنے۔ اس کے برعکس، جو شخص حسد، کبر، مصلحت اندیشی اور ظاہر پرستی کا مزاج اپنے اندر ليے ہوئے ہو وہ سچائی کو قابل غور نہیں سمجھے گا، وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنے گا، اس ليے وہ اس کی صداقت کو پانے میں بھی یقینی طور پر ناکام رہے گا۔

ایمان بظاہر ایک قول ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انسانی فیصلہ ہے۔ ایمان محض شہادت کے الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنی معنوی حالت کا لفظی اظہار ہے۔ اگر آدمی کی حالت فی الواقع وہی ہو جس کا وہ ان الفاظ کے ذریعے اعلان کررہا ہے تو وہ خدا کی نظر میں حقیقی مومن ہے۔ مومن سنجیدہ ترین انسان ہے اور سنجیدہ انسان کبھی ایسا نہیں کرسکتا کہ اس کي اندرونی حالت کچھ ہو اور بولے ہوئے الفاظ میں وہ اپنے کو کچھ ظاہر کرے۔

جس آدمی کا ایمان اپنی اندرونی حقیقت کے اعلان کے ہم معنی ہو وہ ایمان کا اقرار کرتے ہی عملاً خدا کو اپنا معبود بنالے گا اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اس کی پیروی کرنے والا بن جائے گا۔ زبان سے ایمان کا اقرار اس کے ليے اپنی سمت سفر بتانے کے ہم معنی ہوگا، نہ کہ کسی قسم کے لسانی تلفظ کے ہم معنی۔ اس کے برعکس، حالت اس شخص کی ہے جس نے بات سنی۔ وہ اس کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب بھی ہوگیا۔ مگر وہ اس کی روح میں نہیں اتری۔ وہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں شامل نہیں ہوئی۔ تاہم اوپری طورپر اس نے زبان سے کہہ دیا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ مگر اس کی واقعی زندگی اس کے بعد بھی ویسی ہی رہی جیسی کہ وہ اس سے پہلے تھی۔ یہ دوسری نفاق کی صورت ہے اور خدا کے یہاں ایسے منافقانہ ایمان کی کوئی قیمت نہیں۔

Al-Anfaal 8:23Listen in Qur'an →
24

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے

’’زندگی کی پکار‘‘ سے مراد یہاں جہاد کی پکار ہے۔ یعنی حق کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد۔ یہ جدوجہد ابتداء ً زبان وقلم کے ذریعہ تلقین کی صورت میں شروع ہوتی ہے۔ مگر مدعو کا مخالفانہ رد عمل اس کو مختلف مراحل تک پہنچا دیتاہے، حتی کہ ہجرت اور جنگ تک بھی۔

آدمی انفرادی سطح پر اپنے خیال کے مطابق ایک دینی زندگی بناتا ہے۔ اس زندگی کو وہ اپنے حالات سے اس طرح مطابق کرلیتاہے کہ وہ اس کو عافیت کا جزیرہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ اگر وہ دوسروں کی اصلاح کے ليے اٹھتاتو اس کا بنا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا۔ اس کی لگی بندھی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے وقت اور اس کے مال کا وہ نظام باقی نہ رہے گا، جو اس نے اپنے ذاتی تقاضوں کے تحت بنا رکھا ہے۔

اس قسم کے اندیشے اس کے ليے دعوت واصلاح کی جدوجہد میں نکلنے اور اس کی راه میں جان ومال پیش کرنے کے ليے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس عافیت کدہ کو اپنے ليے زندگی سمجھ رہا ہے، وہ اس کا قبرستان ہے۔ اور جس قربانی میں اس کو اپنی موت نظر آتی ہے اسی میں اس کی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔

دعوت واصلاح کا عمل، بشرطیکہ وہ آخرت کے ليے ہو، نہ کہ دنیوی مقاصد کے ليے، انتہائی اہم عمل ہے۔ وہ آدمی کے مُردہ دین کو زندہ دین بناتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین سطح پر انسان کو خدا سے جوڑتاہے۔ وہ ان قیمتی دینی تجربات سے آدمی کو آشنا کرتاہے جو انفرادی خول میں رہ کر کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ خدا کی طرف سے اتنی اہم پکار کو سن کر جو لوگ اس کے بارے میں بے توجہ رہیں، وہ یہ خطرہ مول لے رهے ہیں کہ ان کے اور حق کے درمیان ایک نفسیاتی آڑ کھڑی ہوجائے۔ ان کی یہ فطری صلاحیت ہمیشہ کے ليے کُند ہوجائے کہ وہ حق کی پکار سنیں اور اس کی طرف دوڑ کر اپنے رب کو پالیں۔

انسان کی زندگی ایک سماجی زندگی ہے۔ کوئی شخص اس کے اندر اپنا انفرادی جزیرہ بنا کر نہیں رہ سکتا۔ اگر ایک شخص ذاتی دین داری پر قانع ہے تو وہ ہر وقت اس اندیشہ میں ہے کہ اجتماعی بگاڑ کے نتیجہ میں کوئی عمومی آگ پھیلے اور وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آجائے۔ اصلاحی جدوجہد اصلاح کے ساتھ برأت بھی ہے۔ اگر آدمی اپنی برأت پیش کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کے معاملہ کو کیوں دوسروں سے الگ کرے گا۔

کوئی برائی ہمیشہ چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

Al-Anfaal 8:24Listen in Qur'an →
25

وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

’’زندگی کی پکار‘‘ سے مراد یہاں جہاد کی پکار ہے۔ یعنی حق کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد۔ یہ جدوجہد ابتداء ً زبان وقلم کے ذریعہ تلقین کی صورت میں شروع ہوتی ہے۔ مگر مدعو کا مخالفانہ رد عمل اس کو مختلف مراحل تک پہنچا دیتاہے، حتی کہ ہجرت اور جنگ تک بھی۔

آدمی انفرادی سطح پر اپنے خیال کے مطابق ایک دینی زندگی بناتا ہے۔ اس زندگی کو وہ اپنے حالات سے اس طرح مطابق کرلیتاہے کہ وہ اس کو عافیت کا جزیرہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ اگر وہ دوسروں کی اصلاح کے ليے اٹھتاتو اس کا بنا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا۔ اس کی لگی بندھی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے وقت اور اس کے مال کا وہ نظام باقی نہ رہے گا، جو اس نے اپنے ذاتی تقاضوں کے تحت بنا رکھا ہے۔

اس قسم کے اندیشے اس کے ليے دعوت واصلاح کی جدوجہد میں نکلنے اور اس کی راه میں جان ومال پیش کرنے کے ليے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس عافیت کدہ کو اپنے ليے زندگی سمجھ رہا ہے، وہ اس کا قبرستان ہے۔ اور جس قربانی میں اس کو اپنی موت نظر آتی ہے اسی میں اس کی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔

دعوت واصلاح کا عمل، بشرطیکہ وہ آخرت کے ليے ہو، نہ کہ دنیوی مقاصد کے ليے، انتہائی اہم عمل ہے۔ وہ آدمی کے مُردہ دین کو زندہ دین بناتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین سطح پر انسان کو خدا سے جوڑتاہے۔ وہ ان قیمتی دینی تجربات سے آدمی کو آشنا کرتاہے جو انفرادی خول میں رہ کر کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ خدا کی طرف سے اتنی اہم پکار کو سن کر جو لوگ اس کے بارے میں بے توجہ رہیں، وہ یہ خطرہ مول لے رهے ہیں کہ ان کے اور حق کے درمیان ایک نفسیاتی آڑ کھڑی ہوجائے۔ ان کی یہ فطری صلاحیت ہمیشہ کے ليے کُند ہوجائے کہ وہ حق کی پکار سنیں اور اس کی طرف دوڑ کر اپنے رب کو پالیں۔

انسان کی زندگی ایک سماجی زندگی ہے۔ کوئی شخص اس کے اندر اپنا انفرادی جزیرہ بنا کر نہیں رہ سکتا۔ اگر ایک شخص ذاتی دین داری پر قانع ہے تو وہ ہر وقت اس اندیشہ میں ہے کہ اجتماعی بگاڑ کے نتیجہ میں کوئی عمومی آگ پھیلے اور وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آجائے۔ اصلاحی جدوجہد اصلاح کے ساتھ برأت بھی ہے۔ اگر آدمی اپنی برأت پیش کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کے معاملہ کو کیوں دوسروں سے الگ کرے گا۔

کوئی برائی ہمیشہ چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

Al-Anfaal 8:25Listen in Qur'an →
26

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو

آدمی دیکھتا ہے کہ اونٹ جیسا عجیب الخلقت جانور اس کا مطیع ہے۔ آسمان اپنی ساری عظمتوں کے باوجود اس کے لیے مسخر ہے۔ زمین ہماری کسی کوشش کے بغیر ہمارے لیے حد درجہ موافق بنی ہوئی ہے۔ یہ واقعات سوچنے والے کو خدا اور آخرت کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ جو لوگ دنیا کے اس نظام سے یاد دہانی کی غذا لیں انھوں نے اپنے لیے خدا کی ابدي نعمتوں کا استحقاق ثابت کیا۔ اور جو لوگ غفلت میں پڑے رہیں انہوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ صرف اس قابل ہیں کہ ان کو ہر قسم کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے محروم کردیا جائے۔

Al-Anfaal 8:26Listen in Qur'an →
27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

مکہ میں مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں تھے۔ ہر وقت اندیشہ لگا رہتا کہ کب ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ وہ ایسے کمزور کی مانندتھے جس کو ہر طرح دبایا جاتاہے اور اس کے جائز حقوق بھی اس کو نہیں ديے جاتے۔ بالآخر ان کے ليے مدینہ کا راستہ کھلا۔ ان کو یہ موقع دیاگیا کہ وہ مدینہ جاکر اپنا مرکز بنائیں اور وہاں کے ماحول میں آزادی اور عزت کے ساتھ رہیں۔

مشکل کے بعد آسانی فراہم کرنے کا یہ معاملہ اس ليے کیا جاتاہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ آدمی کے حالات جب اس حد پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ اس وقت اچانک خدا کی مدد ظاہر ہو کر حالات کو بدل دیتی ہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے تاکہ آدمی یقین کرے کہ جو کچھ ہوا وہ خدا کی طرف سے ہوا۔ اس احساس کی بنا پر وہ خدا کے انعامات کے جذبہ سے سرشار ہوجائے۔

آدمی خدا اور ا س کے رسول پر ایمان لاتاہے۔ اس طرح وہ عہد کرتاہے کہ وہ خدا ورسول کے راستہ پر چلے گا۔ مگر جب ایمانی طریقہ کو اختیار کرنے میں اس کے مال واولاد کے تقاضے حائل ہوتے ہیں تو وہ ایمان کے تقاضے کو چھوڑ کر مال واولاد کے تقاضے کو پکڑ لیتاہے۔ یہ ایمانی عہد کے ساتھ کھلی ہوئی غداری ہے۔ اس غداری کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ آدمی جس چیز کے ساتھ غداری کا معاملہ کررہا ہے وہ بھی خود خدا کا ایک عطیہ ہے۔

آدمی کا مال اور اس کی اولاد کیا ہے۔ وہ خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے۔ وہ بندہ کے پاس خدا کی امانت ہے۔ اس امانت کا اگر کوئی سب سے بہتر مصرف ہوسکتاہے تو وہ یہ ہے کہ جب دینے والا اس کو مانگے تو اس کو بخوشی اس کے حوالے کردیا جائے۔ مگر جب خدا کہتاہے کہ میرے دین کے ليے اٹھو اور اس میں اپنی اپنی قوتیں لگاؤ تو آدمی اسی امانت کو اپنے ليے عذر بنا لیتاہے جس کو خدا کے دین کی راہ میں دے کر اسے خدا سے كيے ہوئے عہدِ ایمان کو پورا کرنا تھا — وہ کامیابی کے کنارے پہنچ کر اپنے کو ناکاموں کی فہرست میں لکھوا لیتاہے۔

کوئی فعل خدا کے یہاں جرم اس وقت بنتا ہے جب کہ یہ جانتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے کہ وہ غلط ہے۔ کسی شخص پر اگر اس کے ایک کام کی غلطی واضح ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اس کا ارتکاب کرتاہے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری اپنے سر لے رہا ہے۔ کیوں کہ غلطی کو غلطی جاننے کے بعد اس کو دہرانا ڈھٹائی ہے اور ڈھٹائی خدا کے یہاں قابل معافی نہیں۔

Al-Anfaal 8:27Listen in Qur'an →
28

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌۭ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

مکہ میں مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں تھے۔ ہر وقت اندیشہ لگا رہتا کہ کب ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ وہ ایسے کمزور کی مانندتھے جس کو ہر طرح دبایا جاتاہے اور اس کے جائز حقوق بھی اس کو نہیں ديے جاتے۔ بالآخر ان کے ليے مدینہ کا راستہ کھلا۔ ان کو یہ موقع دیاگیا کہ وہ مدینہ جاکر اپنا مرکز بنائیں اور وہاں کے ماحول میں آزادی اور عزت کے ساتھ رہیں۔

مشکل کے بعد آسانی فراہم کرنے کا یہ معاملہ اس ليے کیا جاتاہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ آدمی کے حالات جب اس حد پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتاہے۔ اس وقت اچانک خدا کی مدد ظاہر ہو کر حالات کو بدل دیتی ہے۔ ایسا اس ليے ہوتاہے تاکہ آدمی یقین کرے کہ جو کچھ ہوا وہ خدا کی طرف سے ہوا۔ اس احساس کی بنا پر وہ خدا کے انعامات کے جذبہ سے سرشار ہوجائے۔

آدمی خدا اور ا س کے رسول پر ایمان لاتاہے۔ اس طرح وہ عہد کرتاہے کہ وہ خدا ورسول کے راستہ پر چلے گا۔ مگر جب ایمانی طریقہ کو اختیار کرنے میں اس کے مال واولاد کے تقاضے حائل ہوتے ہیں تو وہ ایمان کے تقاضے کو چھوڑ کر مال واولاد کے تقاضے کو پکڑ لیتاہے۔ یہ ایمانی عہد کے ساتھ کھلی ہوئی غداری ہے۔ اس غداری کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ آدمی جس چیز کے ساتھ غداری کا معاملہ کررہا ہے وہ بھی خود خدا کا ایک عطیہ ہے۔

آدمی کا مال اور اس کی اولاد کیا ہے۔ وہ خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے۔ وہ بندہ کے پاس خدا کی امانت ہے۔ اس امانت کا اگر کوئی سب سے بہتر مصرف ہوسکتاہے تو وہ یہ ہے کہ جب دینے والا اس کو مانگے تو اس کو بخوشی اس کے حوالے کردیا جائے۔ مگر جب خدا کہتاہے کہ میرے دین کے ليے اٹھو اور اس میں اپنی اپنی قوتیں لگاؤ تو آدمی اسی امانت کو اپنے ليے عذر بنا لیتاہے جس کو خدا کے دین کی راہ میں دے کر اسے خدا سے كيے ہوئے عہدِ ایمان کو پورا کرنا تھا — وہ کامیابی کے کنارے پہنچ کر اپنے کو ناکاموں کی فہرست میں لکھوا لیتاہے۔

کوئی فعل خدا کے یہاں جرم اس وقت بنتا ہے جب کہ یہ جانتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے کہ وہ غلط ہے۔ کسی شخص پر اگر اس کے ایک کام کی غلطی واضح ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اس کا ارتکاب کرتاہے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری اپنے سر لے رہا ہے۔ کیوں کہ غلطی کو غلطی جاننے کے بعد اس کو دہرانا ڈھٹائی ہے اور ڈھٹائی خدا کے یہاں قابل معافی نہیں۔

Al-Anfaal 8:28Listen in Qur'an →
29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًۭا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

فرقان کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز۔ یہاں فرقان سے مراد حق وباطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ آدمی اگر اللہ سے ڈرے، وہ وہی کرے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اس سے بچے جس سے اللہ نے منع کیا ہے تو اس کو اس بات کی توفیق ملتی ہے کہ وہ حق اور باطل کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھ سکے (مَنِ اتَّقَى اللهَ بِفِعْلِ أَوَامِرِهِ وَتَرْكِ زَوَاجِرِهِ، وُفِّقَ لِمَعْرِفَةِ الْحَقِّ مِنَ الْبَاطِلِ )تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 43 ۔

انسانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والي سب سے بڑی چیز ڈر ہے۔ جس معاملہ میں انسان کے اندر ڈر کی نفسیات پیدا ہوجائے اس معاملہ میں وہ حد درجہ حقیقت پسند بن جاتاہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے ذہن کے تمام پردوں كو اس طرح هٹا ديتي هےكه اس بارے ميں وه هر قسم كي غفلت يا غلط فهمي سے بلند هو كر صحیح ترین رائے قائم کرسکے۔ یہی معاملہ اس بندۂ خدا کے ساتھ پیش آتاہے جس کو رب العالمین کے ساتھ تقویٰ (ڈر) کاتعلق پیداہوگیا ہو۔

یہ فرقان تقریباً وہی چیز ہے جس کو معرفت یا بصیرت کہاجاتاہے۔ بصیرت کسی آدمی میں وہ اندرونی روشنی پیداکرتی ہے کہ وہ ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے۔ جب بھی کوئی آدمی کسی معاملہ میںاپنے کو اتنا زیادہ شامل کرتا ہے کہ وہ اس کی پروا کرنے لگے۔ وہ اس کے بارے میں اندیشہ ناک رہتاہو تو اس کے بعد اس کے اندر ایک خاص طرح کی حساسيت پیدا ہوتی ہے جو اس کو اس معاملہ کے موافق اور مخالف کی پہچان کرادیتی ہے۔ یہ فرقانی معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتاہے خواہ وہ ایک مذہبی آدمی ہو یا ایک تاجر اور ڈاکٹر اور انجینئر۔ کوئی بھی آدمی جب اپنے کام سے تقویٰ (کھٹک) کی حد تک اپنے کو وابستہ کرتاہے تو اس کو اس معاملہ کی ایسی معرفت ہوجاتی ہے کہ ادھر اُدھر کے مغالطوں میںاُلجھے بغیر وہ اس کی حقیقت تک پہنچ جائے۔

کسی آدمی کے اندر یہ خدائی بصیرت (فرقان) پیدا ہونا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہ برائیوں سے بچے، وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرے اور بالآخر خداکے فضل کا مستحق بن جائے۔ یہ فرقان (حق وباطل کی نفسیاتی تمیز) پیدا ہوجانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حق کے ساتھ اتنا زیادہ وابستہ کرچکا ہے کہ اس میں اور حق میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وہ اور حق دونوں ایک دوسرے کا مُثني (counterpart) بن چکے ہیں۔ اس کے بعد اس کا بچایا جانا اتنا ہی ضروری ہو جاتاہے جتنا حق کو بچایا جانا۔ ایسے لوگ براہِ راست خدا کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اب ان کے خلاف تدبیریں کرنا خود حق کے خلاف تدبیریں کرنا بن جاتا ہے۔ اور خدا کے خلاف تدبیر کرنے والا ہمیشہ ناکام رہتا ہے خواہ اس نے کتنی ہی بڑی تدبیر کر رکھی ہو۔

Al-Anfaal 8:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

فرقان کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز۔ یہاں فرقان سے مراد حق وباطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ آدمی اگر اللہ سے ڈرے، وہ وہی کرے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اس سے بچے جس سے اللہ نے منع کیا ہے تو اس کو اس بات کی توفیق ملتی ہے کہ وہ حق اور باطل کو ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھ سکے (مَنِ اتَّقَى اللهَ بِفِعْلِ أَوَامِرِهِ وَتَرْكِ زَوَاجِرِهِ، وُفِّقَ لِمَعْرِفَةِ الْحَقِّ مِنَ الْبَاطِلِ )تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 43 ۔

انسانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والي سب سے بڑی چیز ڈر ہے۔ جس معاملہ میں انسان کے اندر ڈر کی نفسیات پیدا ہوجائے اس معاملہ میں وہ حد درجہ حقیقت پسند بن جاتاہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے ذہن کے تمام پردوں كو اس طرح هٹا ديتي هےكه اس بارے ميں وه هر قسم كي غفلت يا غلط فهمي سے بلند هو كر صحیح ترین رائے قائم کرسکے۔ یہی معاملہ اس بندۂ خدا کے ساتھ پیش آتاہے جس کو رب العالمین کے ساتھ تقویٰ (ڈر) کاتعلق پیداہوگیا ہو۔

یہ فرقان تقریباً وہی چیز ہے جس کو معرفت یا بصیرت کہاجاتاہے۔ بصیرت کسی آدمی میں وہ اندرونی روشنی پیداکرتی ہے کہ وہ ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے۔ جب بھی کوئی آدمی کسی معاملہ میںاپنے کو اتنا زیادہ شامل کرتا ہے کہ وہ اس کی پروا کرنے لگے۔ وہ اس کے بارے میں اندیشہ ناک رہتاہو تو اس کے بعد اس کے اندر ایک خاص طرح کی حساسيت پیدا ہوتی ہے جو اس کو اس معاملہ کے موافق اور مخالف کی پہچان کرادیتی ہے۔ یہ فرقانی معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتاہے خواہ وہ ایک مذہبی آدمی ہو یا ایک تاجر اور ڈاکٹر اور انجینئر۔ کوئی بھی آدمی جب اپنے کام سے تقویٰ (کھٹک) کی حد تک اپنے کو وابستہ کرتاہے تو اس کو اس معاملہ کی ایسی معرفت ہوجاتی ہے کہ ادھر اُدھر کے مغالطوں میںاُلجھے بغیر وہ اس کی حقیقت تک پہنچ جائے۔

کسی آدمی کے اندر یہ خدائی بصیرت (فرقان) پیدا ہونا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہ برائیوں سے بچے، وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرے اور بالآخر خداکے فضل کا مستحق بن جائے۔ یہ فرقان (حق وباطل کی نفسیاتی تمیز) پیدا ہوجانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حق کے ساتھ اتنا زیادہ وابستہ کرچکا ہے کہ اس میں اور حق میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وہ اور حق دونوں ایک دوسرے کا مُثني (counterpart) بن چکے ہیں۔ اس کے بعد اس کا بچایا جانا اتنا ہی ضروری ہو جاتاہے جتنا حق کو بچایا جانا۔ ایسے لوگ براہِ راست خدا کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اب ان کے خلاف تدبیریں کرنا خود حق کے خلاف تدبیریں کرنا بن جاتا ہے۔ اور خدا کے خلاف تدبیر کرنے والا ہمیشہ ناکام رہتا ہے خواہ اس نے کتنی ہی بڑی تدبیر کر رکھی ہو۔

Al-Anfaal 8:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.