Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 75

21

وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)

[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔

[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔

Al-Anfaal 8:21Listen in Qur'an →
22

۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ

کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے

بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)

[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔

[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔

Al-Anfaal 8:22Listen in Qur'an →
23

وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ

اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے

بے شک بدترین، زمین پر چلنے والے، اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو نہیں عقل رکھتے(22) اور اگر جانتا اللہ ان میں کوئی بھلائی تو ، البتہ سنوادیتا وہ انھیں اوراگر سنواتا وہ انھیں تو ضرور منہ پھیر لیتے وہ اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے(23)

[22] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’سب جان داروں سے بدتر اللہ کے ہاں ‘‘ جن کو معجزات اور ڈرانے والے کوئی فائدہ نہیں دیتے، وہ ہیں جو۔ ﴿ الصُّمُّ ﴾ حق سننے سے بہرے ہیں ۔ ﴿ الۡبُكۡمُ ﴾ حق بولنے سے گونگے ہیں ۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ وہ کسی ایسی چیز کو سمجھ نہیں سکتے جو ان کو فائدہ دیتی ہے اور نہ اسے اس چیز پر ترجیح دے سکتے ہیں جو انھیں نقصان دیتی ہے۔یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں بدترین چوپاؤں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کان، آنکھ اور عقل سے نوازا تاکہ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستے میں استعمال کریں مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی راہ میں استعمال کیا اور اس وجہ سے وہ خیر کثیر سے محروم ہوگئے۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ بہترین مخلوق بننے کی کوشش کرتے مگر انھوں نے اس راستے پر چلنے سے انکار کر دیا اور انھوں نے بدترین مخلوق بننا پسند کیا۔وہ سماعت، جس کی اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں نفی کی ہے، وہ ہے دل میں اثر کرنے والے معانی کی سماعت.... رہی سماعت حجت تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جو آیات سنی ہیں اس کی وجہ سے ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوگئی ہے۔

[23] اللہ تعالیٰ نے ان کو سماع نافع سے محروم کر دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ان کے اندر کوئی بھلائی نہیں جس کی وجہ سے ان میں اللہ تعالیٰ کی آیات کو سننے کی صلاحیت ہوتی۔﴿ وَلَوۡ اَسۡمَعَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر اب وہ ان کو سنا دے‘‘ یعنی اگر یہ فرض کر لیا جائے ﴿ لَتَوَلَّوۡا ﴾ ’’تو وہ ضرور پھر جائیں ‘‘ یعنی اللہ کی اطاعت سے ﴿وَّهُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ﴾ ’’اور وہ اعراض کرنے والے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کسی طور بھی حق کی طرف التفات نہیں کریں گے۔ یہ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ صرف اس شخص کو ایمان اور بھلائی سے محروم کرتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی اور نہ بھلائی اس کے پاس پھلتی پھولتی ہے۔ اس بارے میں وہ نہایت قابل تعریف اور دانائی کا مالک ہے۔

Al-Anfaal 8:23Listen in Qur'an →
24

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔

[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔

Al-Anfaal 8:24Listen in Qur'an →
25

وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کہنا مانو تم اللہ کا اوراس کے رسول کا جب بلائے وہ تمھیں طرف اس (امر) کی جو زندگی بخشتا ہے تمھیں اور جان لو تم کہ یقینا اللہ حائل ہوجاتا ہے درمیان بندے اوراس کے دل کےاور بلاشبہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(24) اور ڈرو اس فتنے سے جو نہیں پہنچے گا(صرف) انھی لوگوں کو، جنھوں نے ظلم کیا تم میں سے خاص طورپر اور جان لو تم! بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)

[24] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو ان امور کا حکم دیتا ہے جو ان کے ایمان کا تقاضا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہنا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہے اس کی تعمیل کرنا، اس کی تعمیل کے لیے سبقت کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دینا اور انھوں نے جس چیز سے روکا ہے اس سے باز رہنا اور اس سے اجتناب کرنا۔ ﴿ اِذَا دَعَاكُمۡ لِمَا يُحۡيِيۡكُمۡ﴾ ’’جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘ یہ ہر اس امر کا وصف لازم ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ دعوت دیتے ہیں اور نیز یہ اس کے حکم کے فائدے اور حکمت کو بیان کرتا ہے کیونکہ قلب و روح کی زندگی کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی عبودیت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کے دائمی التزام پر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک نہ کہنے پر ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوۡلُ بَيۡنَ الۡمَرۡءِ وَقَلۡبِهٖ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ آڑ بن جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے درمیان۔‘‘ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کا حکم پہلی بار تمھارے پاس آئے تو اس کو ٹھکرانے سے بچو کیونکہ پھر اگر اس کے بعد اس کا ارادہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے درمیان اور تمھارے درمیان حائل ہو جائے گا اور تمھارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بندے اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ جیسے چاہتا ہے اسے ادل بدل کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پس بندے کو بہت کثرت سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے (یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ، اَللّٰہُمَّ مُصَرِّف الْقُلُوبِ صَرِّفْ قَلْبِی عَلٰی طَاعَتِکَ)( صحیح مسلم، القدر، ح:2654) فرمایا: ﴿ وَاَنَّهٗۤ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤگے۔‘‘ یعنی تم سب اس دن اکٹھے کیے جاؤ گے جس کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا اور بدکاروں کو ان کی بدی کی سزا دے گا۔

[25]﴿ وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً﴾ ’’اور اس فتنے سے بچو، جو تم میں سے خاص ظالموں پر ہی نہیں آئے گا‘‘ بلکہ یہ فتنہ ظلم کرنے والوں اور دیگر لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ جب ظلم غالب آجائے اور اس کو بدلا نہ جائے تو اس کی سزا ظلم کرنے والوں اور دوسرے لوگوں ، سب کے لیے عام ہوتی ہے۔ اس لیے برائیوں سے منع کر کے، اہل شر کا قلع قمع کر کے کہ وہ ظلم اور معاصی کا ارتکاب نہ کر سکیں ، اس فتنہ سے بچا جائے۔ ﴿ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ ﴾ ’’اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔‘‘ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے اور اس کی رضا کو ترک کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت عذاب دیتا ہے۔

Al-Anfaal 8:25Listen in Qur'an →
26

وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو

اور یاد کرو جب تم (بہت) تھوڑے تھے، کمزور سمجھے جاتے تھے زمین میں، خوف کھاتے تھے تم اس بات سے کہ (کہیں) اچک (نہ) لے جائیں تمھیں لوگ، پس جگہ دی اللہ نے تمھیں اور تمھاری تائید کی ساتھ اپنی نصرت کےاور رزق دیا تمھیں پاکیزہ چیزوں سے تاکہ تم شکر گزار ہو(26)

[26] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے احسان کا تذکرہ کرتا ہے کہ وہ کمزور اور مغلوب تھے، اس نے ان کو اپنی نصرت سے نوازا، وہ قلیل تھے اس نے ان کو کثرت عطا کی اور وہ تنگ دست تھے، اس نے ان کو فراخی عطا کی۔ چنانچہ فرمایا:﴿وَاذۡكُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِيۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، کمزور تھے زمین میں ‘‘ یعنی تم غیروں کی حکومت میں محکوم و مجبور تھے ﴿ تَخَافُوۡنَ اَنۡ يَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ ﴾ ’’تم ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمھیں اچک نہ لیں ‘‘ ﴿ فَاٰوٰىكُمۡ وَاَيَّدَكُمۡ بِنَصۡرِهٖ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’تو اس نے تمھیں جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت دی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں ایک شہر عطا کیا جہاں تم نے پناہ لی، اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں تمھارے دشمنوں کو شکست دی، تم نے ان سے مال غنیمت حاصل کیا جس کے ذریعے سے تم مال دار ہوگئے۔ ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ تم شکر کرو۔‘‘ یعنی شاید کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور کامل احسان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر کے اور اس کے ساتھ شرک سے اجتناب کر کے اس کا شکر ادا کرو۔

Al-Anfaal 8:26Listen in Qur'an →
27

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت خیانت کرو تم اللہ اوراس کے رسول سےاور (نہ)خیانت کرو تم اپنی آپس کی امانتوں میں جبکہ تم جانتے ہو(27) اور جان لو! یقینا تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ، اس کے ہاں اجر عظیم ہے(28)

[27] اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ ) اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔

[28] چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں ۔ ﴿ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہو جانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔

Al-Anfaal 8:27Listen in Qur'an →
28

وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌۭ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت خیانت کرو تم اللہ اوراس کے رسول سےاور (نہ)خیانت کرو تم اپنی آپس کی امانتوں میں جبکہ تم جانتے ہو(27) اور جان لو! یقینا تمھارے مال اور تمھاری اولاد فتنہ ہیں اور بلاشبہ اللہ، اس کے ہاں اجر عظیم ہے(28)

[27] اللہ تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کو حکم دیتا ہے کہ اس نے اوامر و نواہی کی جو امانت ان کے سپرد کی ہے، وہ اسے ادا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر پیش کی تو وہ ڈر گئے اور انھوں نے اس امانت کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا اور انسان نے اس بوجھ کو اٹھا لیا کیونکہ وہ نہایت ظالم اور نادان ہے۔پس جو کوئی امانت ادا کرتا ہے وہ بے پایاں ثواب کا مستحق بن جاتا ہے اور جو کوئی یہ امانت ادا نہیں کرتا تو سخت عذاب اس کے حصے میں آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ ) اور اپنی امانت میں خیانت کا مرتکب قرار پاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خیانت جیسی خسیس ترین صفات اور بدترین علامات سے متصف کر کے اپنے نفس کو نقصان میں ڈالتا ہے اور امانت جیسی بہترین اور کامل ترین صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔

[28] چونکہ بندے کو اس کے مال اور اولاد کے ذریعے سے امتحان میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے بسا اوقات مال اور اولاد کی محبت میں بندہ خواہشات نفس کو امانت کی ادائیگی پر ترجیح دیتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مال اور اولاد ایک آزمائش ہے جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں بندے کو عاریتاً عطا کی گئی ہیں جو عنقریب اس ہستی کو واپس لوٹانا ہوں گی جس نے یہ چیزیں عاریتاً عطا کی تھیں ۔ ﴿ وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔‘‘ پس اگر تم میں کوئی عقل اور رائے ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل عظیم کو چھوٹی سی فانی اور ختم ہو جانے والی لذت پر ترجیح نہ دو۔ عقل مند شخص تمام اشیاء کے درمیان موازنہ کرتا ہے اور بہترین چیز کو ترجیح دیتا ہے اور تقدیم کی مستحق چیز کو مقدم رکھتا ہے۔

Al-Anfaal 8:28Listen in Qur'an →
29

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًۭا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ

مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر ڈرو تم اللہ سے تو وہ بنادے گا تمھارے لیے کسوٹی (دلیل حق) اور مٹا دے گا تم سے تمھاری برائیاں اور بخش دے گا تمھیں اور اللہ مالک ہے فضل عظیم کا(29)

[29] بندے کا اپنے رب سے تقویٰ اختیار کرنا سعادت کا عنوان اور فلاح کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائی کا دارومدار تقویٰ پر رکھا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرتا ہے اسے چار چیزیں عطا ہوتی ہیں اور ان میں سے ہر چیز دنیا و مافیہا سے کہیں بہتر ہے۔ (۱) اللہ تعالیٰ صاحب تقویٰ مومن کو ’’فرقان‘‘ عطا کرتا ہے۔ فرقان سے مراد علم و ہدایت ہے جس کے ذریعے سے وہ ہدایت اور گمراہی، حق اور باطل، حلال اور حرام، خوش بخت اور بدبخت لوگوں کے درمیان امتیاز کرتا ہے۔ (۲،۳)برائیوں کو مٹانا اور گناہوں کو بخش دینا۔ اطلاق اور اجتماع کے وقت یہ دونوں امور ایک دوسرے میں داخل ہیں ۔ (السئیات) برائیوں کے مٹانے کی تفسیر گناہ صغیرہ سے اور گناہوں (الذنوب) کو بخش دینے کی تفسیر کبیرہ گناہوں کو مٹا دینے سے کی جاتی ہے۔ (۴) وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنی خواہش نفس پر اللہ تعالیٰ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے، اس کے لیے بہت بڑا اجر اور بے پایاں ثواب ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘

Al-Anfaal 8:29Listen in Qur'an →
30

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ

اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے

اور یاد کیجیے! جب تدبیر کررہے تھے آپ کی بابت وہ لوگ جنھوں نے کفر کیاتاکہ وہ قید کردیں آپ کو یا قتل کردیں آپ کو یا نکال دیں آپ کواور تدبیریں کر رہے تھے وہ اور تدبیر کر رہا تھا اللہ بھی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے(30)

[30] یعنی اے رسولﷺ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، ﴿ وَاِذۡ يَمۡؔكُرُ بِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں ‘‘ جب مشرکین مکہ نے ’’دارالندوہ‘‘ میں مشورہ کیا کہ رسولﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ (۱) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کر دیا جائے۔ (۲) آپ کو قتل کر دیا جائے تاکہ... بزعم خود... ہمیشہ کے لیے آپ سے نجات حاصل کر لیں ۔ (۳) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کر دیا جائے۔ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لَعَنَہُ اللہُ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں ۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں گے اور قصاص لینے کے لیے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھ گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیدار ہوں تو آپ پر حملہ کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کر دیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا ’’وائے تمھاری ناکامی! محمد (ﷺ ) تو نکل گیا اور تمھارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔‘‘انھوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کر لی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔

Al-Anfaal 8:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.