وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے
Explained together with ayah 18
سُورَةُ الأَنفَالِ
Reading Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani
Ayahs 21–30 of 75
وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم (خدا) سن لیا مگر (حقیقت میں) نہیں سنتے
Explained together with ayah 18
۞ إِنَّ شَرَّ ٱلدَّوَآبِّ عِندَ ٱللَّهِ ٱلصُّمُّ ٱلْبُكْمُ ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ
کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے
11: پچھلی آیت میں سننے سے مراد سمجھنا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ کانوں سے تو سننے کا دعوی کرتے ہیں، مگر سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس لحاظ سے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ بے زبان جانور اگر کسی کی بات کو نہ سمجھیں تواتنی بری بات نہیں ہے، ان میں یہ صلاحیت پیدا ہی نہیں کی گئی، اور نہ ان سے یہ مطالبہ ہے، لیکن انسانوں میں تو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی گئی ہے، اور ان سے یہ مطالبہ بھی ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی راستہ اپنائیں، اگر وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں توجانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
وَلَوْ عَلِمَ ٱللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًۭا لَّأَسْمَعَهُمْ ۖ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوا۟ وَّهُم مُّعْرِضُونَ
اور اگر خدا ان میں نیکی (کا مادہ) دیکھتا تو ان کو سننے کی توفیق بخشتا۔ اور اگر (بغیر صلاحیت ہدایت کے) سماعت دیتا تو وہ منہ پھیر کر بھاگ جاتے
12: بھلائی سے یہاں مراد حق کی طلب اور جستجو ہے، اور جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، سننے سے مراد سمجھنا ہے، اس طرح اس آیت میں یہ اہم نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق اس کو دیتا ہے جس کے دل میں حق کی طلب ہو، اگر کسی میں حق کی طلب ہی نہ ہو اور وہ غفلت کی حالت میں اس طرح زندگی گزاررہا ہو کہ بس جو کچھ میں کررہا ہوں ٹھیک کررہا ہوں اور مجھے کسی سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے تو اول تو وہ حق بات کو سمجھنے ہی محروم رہتا ہے، اور اگر سمجھ بھی جائے تو اس کا نوٹس ہی نہیں لیتا اور حق سے بدستور منہ موڑے رہتا ہے۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱسْتَجِيبُوا۟ لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ ٱلْمَرْءِ وَقَلْبِهِۦ وَأَنَّهُۥٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے
13: اس مختصر جملے میں بڑی عظیم حقیقت بیان فرمائی گئی ہے۔ اول تو اسلام کی دعوت اور اس کے احکام ایسے ہیں کہ اگر ان پر تمام اِنسان پوری طرح عمل کرنے لگیں تواسی دُنیا میں وہ پر سکون زندگی کی ضمانت دیتے ہیں۔ عبادات کے علاوہ جو روحانی سکون کا بہترین ذریعہ ہیں، اسلام کے تمام معاشرتی، معاشی اور سیاسی احکام دُنیا کو نہایت خوشگوار زندگی فراہم کرسکتے ہیں، دوسری طرف زندگی تو اصل میں آخرت کی ابدی زندگی ہے، اور اس کی خوشگواری تمام تر اسلامی احکام کی پیروی پر موقوف ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو اسلام کا کوئی حکم مشکل بھی محسوس ہو تو اسے یہ سوچنا چاہئے کہ میری خوشگوار زندگی کا دارومدار اس پر ہے، جس طرح اِنسان زندگی کے خاطر بڑے سے بڑے اور مشکل آپریشن کو منظور کرلیتا ہے، اسی طری شریعت کا ہر وہ حکم جس میں محنت یا مشقت معلوم ہوتی ہو، یا نفسانی خواہشات کی قربانی دینی پڑتی ہو، اس کو بھی خندہ پیشانی سے منظور کرنا چاہئے، کیونکہ اس کی حقیقی زندگی کا دارومدار اس پر ہے۔
14: اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں حق کی طلب ہوتی ہے، اگر اس کے دل میں کبھی گناہ کا تقاضا پیدا ہو، اور وہ طالب حق کی طرح اﷲ تعالیٰ سے رجوع کرکے اس سے مدد مانگے تو اﷲ تعالیٰ اس کے اور گناہ کے درمیان آڑ بن جاتے ہیں، اور وہ گناہ کے ارتکاب سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر کبھی غلطی ہو بھی جائے تو اسے توبہ کی توفیق ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے دل میں حق کی طلب نہ ہو، اور وہ اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کرتا ہو تو اگر کبھی اس کے دل میں نیک خیال آبھی جائے اور وہ اسے ٹلا تا چلا جائے تو اسے نیکی کی توفیق نہیں ملتی، کچھ نہ کچھ اسباب ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ اس کے دل میں جو خیال آیا تھا، وہ کمزور پڑجاتا ہے، اس پر عمل کا موقع نہیں ملتا۔ اسی لئے بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جس کسی نیکی کا خیال آئے تو اسے فوراً کر گذرنا چاہئے، ٹلانا خطرناک ہے۔
وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
اور اس فتنے سے ڈرو جو خصوصیت کے ساتھ انہیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں گنہگار ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے
15: اس آیت کریمہ میں ایک اور اہم حکم بیان فرمایا گیا ہے، اور وہ یہ کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات کی حد تک شریعت پر عمل کرلے، اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اگر معاشرے میں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اپنی طاقت کی حد تک اس کو روکنے کی کوشش کرے، اگر لوگ اپنے فریضے میں کوتاہی کریں اور اس برائی کا کوئی وبال آئے تو وہ وبال صرف ان لوگوں کی حد تک محدود نہیں رہے گا جو اس برائی میں براہ راست ملوث تھے ؛ بلکہ جو لوگ اس برائی کا خود تو ارتکاب نہیں کررہے تھے مگر دوسروں کو اس سے روکتے بھی نہیں تھے وہ بھی اس وبال کا شکار ہوں گے۔
وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌۭ مُّسْتَضْعَفُونَ فِى ٱلْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ ٱلنَّاسُ فَـَٔاوَىٰكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِهِۦ وَرَزَقَكُم مِّنَ ٱلطَّيِّبَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اور اس وقت کو یاد کرو جب تم زمین (مکہ) میں قلیل اور ضعیف سمجھے جاتے تھے اور ڈرتے رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اُڑا (نہ) لے جائیں (یعنی بےخان وماں نہ کردیں) تو اس نے تم کو جگہ دی اور اپنی مدد سے تم کو تقویت بخشی اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں تاکہ (اس کا) شکر کرو
Explained together with ayah 25
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَخُونُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ وَتَخُونُوٓا۟ أَمَٰنَٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
اے ایمان والو! نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو اور تم (ان باتوں کو) جانتے ہو
Explained together with ayah 25
وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَأَوْلَٰدُكُمْ فِتْنَةٌۭ وَأَنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجْرٌ عَظِيمٌۭ
اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے
16: مال اور اولاد کی محبت تو انسان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور معقول حد تک ہو تو بری بھی نہیں ہے، لیکن آزمائش یہ ہے کہ یہ محبت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پرتو آمادہ نہیں کررہی ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے ساتھ یہ محبت ہوگی تونہ صرف جائز بلکہ باعث ثواب ہے ؛ لیکن اگر وہ نافرمانی تک لے جائے توایک وبال ہے اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی اس سے حفاظت فرمائیں، آمین۔
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِن تَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًۭا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ
مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے
17: تقوی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ انسان کو ایسی سمجھ عطا کردیتا ہے جو حق اور ناحق میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور گناہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل خراب کردیتا ہے جس سے وہ اچھے کو برا اور برے کو اچھا سمجھنے لگتا ہے
وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ ٱللَّهُ ۖ وَٱللَّهُ خَيْرُ ٱلْمَٰكِرِينَ
اور (اے محمدﷺ اس وقت کو یاد کرو) جب کافر لوگ تمہارے بارے میں چال چل رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا جان سے مار ڈالیں یا (وطن سے) نکال دیں تو (ادھر تو) وہ چال چل رہے تھے اور (اُدھر) خدا چال چل رہا تھا۔ اور خدا سب سے بہتر چال چلنے والا ہے
18: یہ آیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کے واقعے کی طرف اشارہ کررہی ہے، کفار مکہ نے جب یہ دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور مدینہ منورہ میں بڑی تعداد مسلمان ہوچکی ہے، تو انہوں نے ایک مجلس مشاورت منعقد کی اس میں مختلف تجویزیں پیش کی گئیں، یہ آیت ان تمام تجویزوں کا ذکر کررہی ہے، یعنی گرفتاری، قتل، اور جلا وطنی، آخر میں فیصلہ یہ ہوا تھا کہ مختلف قبیلوں سے ایک ایک نوجوان لے کر سب یکبارگی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہوں، اللہ تعالیٰ نے یہ ساری باتیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی کے ذریعے بتادیں اور ہجرت کا حکم دے دیا، آپ کے گھر کا محاصرہ ہوچکا تھا، مگر آپ وہاں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اس طرح نکل آئے کہ وہ آپ کو نہ دیکھ سکے، تفصیلی واقعہ سیرت کی کتابوں میں موجود ہے اور معارف القرآن میں بھی اس آیت کے تحت بیان ہوا ہے۔
Commentary: Aasan Tarjuma-e-Quran (notes) by Mufti Taqi Usmani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.