Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 75

11

إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةًۭ مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے

یہ غنودگی کا واقعہ بھی نہایت ہی عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت تھی اور جنگ سے قبل مسلمانوں پر طاری ہوگئی تھی۔ یہ صرف امر الہی اور اللہ کی خاص تدبیر اور تقدیر کا کارنامہ تھا۔ جب لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمانوں پر قدرے خوف طاری ہوگیا کیونکہ ان کی توقع نہ تھی کہ اس قدر عظیم لشکر امنڈ آئے گا۔ اور اس وجہ سے ان کی تیاری بھی نہ تھی ، اچانک انہیں غنودگی نے آ لیا۔

جب یہ غنودگی دور ہوئی تو وہ بالکل فریش اور تروتازہ تھے۔ ان کے دل اطمینان سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ حالات ان پر احد میں طاری ہوگئی تھی۔ لوگوں کے اندر بےچینی آگئی ، اور اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی۔ اور انہیں اطمینان ہوگیا ۔ میں ان آیات کو پڑھ کر گذر جاتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ دور ماضی کا ایک واقعہ ہے۔ میں اس واقعہ کے بارے میں قران کریم کے اس قصے کو پڑھتا اور یہ سمجھتا کہ اس کا راز اللہ ہی جانتا ہے جس نے ہمیں اس کی اطلاع دی ہے۔ لیکن جب مجھ پر مشکلات آئیں اور بعض لمحات نہایت ہی تنگی اور پریشانی کے بھی گذرے تو مجھے ان آایت کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ ایک بار میں نامعلوم خوف سے دوچار ہوگیا ، غروب شمس کا وقت تھا ، اچانک چند منٹوں کے لیے مجھ پر غنودگی آجاتی ہے اور جب یہ حالت دور ہوتی ہے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو اس غنودگی سے پہلے تھا۔ میرا نفس نہایت ہی پرسکون تھا۔ دل مطمئن تھا اور میں گہرے اطمینان میں غرق تھا۔ چند لمحات میں یہ عمل کیسے طے ہوگیا۔ یہ اچانک کس طرح انقلاب برپا ہوگیا۔ یہ میں نہیں جانتا۔ لیکن یہ بات ضرور ہوگئی کہ قصہ بدر و احد میری سمجھ میں آگیا۔ اس واقعہ کے بعد میں اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اس قصے کو سمجھ لیا ، محض عقلی طور پر نہیں یہ اب میرے وجود میں ایک زندہ حقیقت تھی۔ محض تصور اور خیال نہ تھا۔ مجھے صاف نظر آیا کہ اس میں دست قدر کی کارفرمائی ہے اور نہایت ہی خفی طور پر مجھے اطمینان عطا ہوگیا۔

بدر کے دن جماعت مسلمہ کے لیے یہ غنودگی اللہ کی غیبی امداد تھی۔ اذ یغشکیم النعاس امنۃ ۔ اس وقت کو یاد کرو کہ تمہار رب اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بےخوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا۔ اس آیت میں یغشیکم النعاس اور امنۃ تینوں لفظ اس فضا پر ایک لطیف اور شفاف پرتو ڈالتے ہیں اور اس منظر کی عام فضا کی نقشہ کشی کرتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے شب و روز کیا تھے اور یہ کہ مسلمانوں کے عام حالات کے مقابلے میں اور ان کی اس نفسیاتی کیفیت میں فرق کیا تھا۔

اب بارش کا قصہ ملاحظہ فرمائیں۔

وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الأقْدَامَ (11): اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے۔

یہ واقعہ معرکہ سے قدرے پہلے پیش ٓیا۔ اور یہ بھی امت مسلمہ کے لیے ایک قسم کی خاص امداد تھی۔

علی ابن طلحہ نے حجرت ابن عباس سے روایت کی ہے ، کہ یوم بدر میں حضور ﷺ نے جس جگہ پر قیام کیا اس کی پوزیشن یہ تھی کہ مشرکین اور پانی کے درمیان ایک ریت کا ٹیلہ تھا جو ایک پتھریلی جگہ تھی۔ اس دن مسلمان بہت ہی تھکے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی شروع کردی کہ تم دعویٰ تو یہ کرتے ہو کہ تم اللہ کے دوست ہو اور تمہارے اندر اللہ کے رسول موجود ہیں۔ حالانکہ مشرکین پانی پر قبضہ کرچکے ہیں اور تمہاری حالت یہ ہے کہ تم حالت جنابت میں نماز پڑھتے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے شدید بارش برسائی۔ مسلمانوں نے پانی بھی پیا اور طہارت بھی حاصل کی اور اللہ نے شیطانی نجاست سے ان کو پاک کردیا۔ جب بارش ہوئی تو ریت بھی بیٹھ گئی اور لوگ اور جانور اس …

Al-Anfaal 8:11Listen in Qur'an →
12

إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ أَنِّى مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ سَأُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ فَٱضْرِبُوا۟ فَوْقَ ٱلْأَعْنَاقِ وَٱضْرِبُوا۟ مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍۢ

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

یہ ایک عظیم معاملہ ہے ، اس معرکے میں فوج ملائکہ کے ساتھ خود اللہ بھی موجود ہیں اور ملائکہ اہل ایمان کی مدد کے لیے آ رہے ہیں۔ یہ اس قدر عظیم معاملہ ہے جو کسی صورت میں بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ سوچئے ! ملائکہ کس طرح شریک ہوئے ؟ انہوں نے کتنے افراد کو مارا ؟ کس طرح مارا ؟ یہ ایک عظیم معاملہ ہے اور بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جو جماعت اقامت دین کا کام کرتی ہے اس میں اس کے ساتھ ملائکہ شریک ہوتے ہیں اور ملائکہ اس میں حصہ لیتے ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ مخلوقات رب العالمین میں ایک مخلوق ایسی ہے جسے ملائکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت اور ماہیت کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ہمیں صرف اس قدر علم دیا گیا ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ لہذا ہمیں اس کیفیت کا بھی علم نہیں جس کے مطابق اس مخلوق نے مومنین کی امداد کی۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ رب تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ مومنین کے لیے ثابت قدمی کا باعث ہوں اور میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور انہوں نے یہ کام کیا ، کیونکہ یہ وہ مخلوق ہے جو امر الہی کی پابند ہے۔ لیکن ہمیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے یہ کام کیسے کیا ؟ اللہ نے یہ حکم بھی دیا کہ کفار کی گردنوں پر وار کرو اور ان کے ایک ایک جوڑ پر وار کرو تاکہ یہ کام کے ہی نہ رہیں اور انہوں نے ایسا کیا۔ لیکن کیسے کیا ؟ یہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں اسی قدر علم ہے جو اللہ نے بتایا۔ پھر اللہ کا حکم یہ تھا کہ کفار کے دلوں کے اندر رعب ڈالا جائے اور یہ ڈال دیا گیا اور ایسا کردیا گیا۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ہمیں اس کی کیفیات کا بھی علم نہیں ہے کیونکہ یہ کفار اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس پر کس طرح اثر ہوگا۔ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور وہ شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔

ان افعال کی کیفیات سے بحث کرنا ، دین اسلام کے مزاج کے خلاف ہے اور اس دین کی سنجیدگی کے ساتھ یہ طرز عمل لگا نہیں کھاتا۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ یہ ایک عملی دین ہے اور یہ عقیدہ اور نظریات و تصورات کو بھی عملی حد تک رکھتا ہے۔ لیکن بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے علم الکلام کے اندر یہ مباحث زیادہ اہم ہوگئے اور یہ اس وقت ہوا کہ جب لوگ اسلام کے مثبت اور عملی کام سے فارغ ہوگئے اور علمی اور ثقافتی رنگ ان پر غالب ہوگیا۔ لیکن اصل بات تو یہ تھی کہ مسلمان میدان معرکہ ہوتے ، فرشتے ان کے ساتھ بزن کے عالم میں ہوتے اور فرشتوں اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتے تو یہ عملی صورت حال مسلمانوں کے لیے ، اس ثقافتی جدل وجدال سے زیادہ نفع بخش ہوتی۔

Al-Anfaal 8:12Listen in Qur'an →
13

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

اس تقریر کے آخر میں اور اس عظیم اور ہولناک حقیقت کے انکشاف کے آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس معرکے کا پس منظر کیا تھا اور کن حقائق کی وجہ سے کسی کو نصرت ملی اور کسی کے حصے میں ہزیمت آئی۔ وہ عظیم پس منظر یہ تھا :۔

” ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “

یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ اچانک پیش آگیا اور نہ ہی یہ اتفاقی حادثہ تھا جو پیش آگیا اور چلا گیا۔ اللہ نے جماعت مسلمہ کی نصرت کی اور اسے اس کے دشمنوں پر مسلط کردیا اور اس کے دشمنوں کے دلوں کے اندر رعب بٹھا دیا۔ مسلح فرشتے ان کی امداد کے لیے پہنچ گئے۔ یہ اس لیے تھا کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے لیے وہ محاذ چن لیا جو اللہ کا محاذ نہ تھا اور وہ اللہ اور رسول کی مخالف صفوں میں چلے گئے۔ انہوں نے خدا اور رسول سے محاذ آرائی شروع کردی اور وہ اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے رکاوٹ بن گئے تھے۔

” وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “ یعنی ایسے لوگوں پر وہ سخت عذاب نازل کرتا ہے۔ اللہ اس قدر طاقتور ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل کرسکتا ہے اور وہ اس قدر ضعیف ہیں جو اس عذاب کو برداشت کرنے کی قدرت اپنے اندر نہیں رکھتے۔

یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے ، اور اس کا اصول ہے۔ یہ کوئی اچانک یا کوئی حادثہ یا اتفاق نہیں ہے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ اس کرہ ارض پر جب بھی کوئی جماعت اس لیے اٹھے کہ وہ یہاں اللہ کے اقتدار اعلی کو قائم کرے گی اور یہاں صرف اسلامی نظام حیات قائم ہوگا اور اس جماعت کے خلاف اللہ کا کوئی دشمن اٹھ کھرا ہوا اور اس نے اس جماعت کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی اور ایسے لوگ قوت اور رعب و داب کے مالک بھی ہوتے تو اللہ کی مدد اس جماعت کے ساتھ ہوا کرتی ہے بشرطیکہ یہ جماعت ثابت قدمی سے اپنے مقصد کی طرف گامزن ہو اور رب تعالیٰ کی راہ میں مطمئن ہو۔ اس پر توکل کرنے والی ہو اور اپنی راہ پر اس کا سفر جاری ہو۔

Al-Anfaal 8:13Listen in Qur'an →
14

ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے

اس منطر کے آخر میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے کہ یہ رعب اور پھر یہ ہزیمت جو تمہیں اس دنیا میں اٹھانی پڑی اس پر یہ بات ختم نہیں ہوگئی ہے کیونکہ یہ دین ، اس کا قیام اور اس کی جماعت صرف اس مختصر سے زمانہ دنیا پر ختم ہوجانے والا معاملہ ہی نہٰں ہے۔ یہ معاملہ اس دنیا اور اس کائنات سے بہت آگے تک جاتا ہے۔ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی پر بھی اس کے اثرات ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ” ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ : یہ ہے تم لوگوں کی سزا ، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے “۔ یہ ہوگا اصلی انجام اور یہ عذاب اس عذاب سے بہت ہی مختلف قسم کا اور زیادہ ہوگا جو تمہیں مرعوب کرکے اور تمہاری گردنوں پر اور جوڑوں پر ضربات لگا کر تمہیں دیا گیا۔

۔۔۔۔

جنگ بدر کے واقعات اور حالات کی منظر کشی کے بعد اور یہ دکھانے کے بعد کہ اس کے پس منطر میں دست قدرت کام کر رہا تھا اور اللہ کی معاونت اور امداد اس میں شامل تھی اور یہ جان لینے کے بعد کہ مسلمان کو اس پوری تگ و دو میں دست قدرت کے لیے ایک پردہ تھے ، کیونکہ اللہ ہی نے رسول کو گھر سے نکالا۔ یہ محض نمائش قوت کے لیے نہ نکلے تھے اور نہ ہی مظالم کے لیے نکلے تھے ، یہ اللہ ہی نے فیصلہ کیا کہ دو گروہوں میں سے کون سا گروہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور وہی ہے جس نے مجرموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تاکہ حق ، حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہ کرتے تھے اور یہ اللہ ہی تھا جس نے ان کی مدد کے لیے وہ فرشتے بھیجے جو لگاتار آ رہے تھے۔ پھر وہ اللہ ہی تھا جس نے ان پر غنودگی طاری کردی تھی اور آسمانوں سے ان پر پانی اتارا تاکہ ان کو پاک کردے اور ان کو شیطانی نجاست سے پاک کردے ان کے دلوں کو مطمئن کردے اور قدم مضبوط کردے۔ اور یہ اللہ ہی تھا کہ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے قدم مضبوط کردیں ، اور کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں اور وہ اللہ ہی تھا جس نے اس معرکے میں فرشتوں کو شریک کیا۔ ان کو حکم دیا کہ ان کی گردنوں پر ضربات لگاؤ اور ان کے جوڑوں میں چوٹیں لگاؤ اور پھر اللہ ہی تھا جس نے ان کو اموال غنیمت عطا کیے حالانکہ جب وہ گھر سے نکلے تھے تو ان کے پاس نہ مال تھا اور نہ سازوسامان تھا۔

Al-Anfaal 8:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ زَحْفًۭا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلْأَدْبَارَ

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

اب جبکہ سابقہ واقعات بیان ہوگئے تو اس حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنے کے لیے دوبارہ بیان کیا جاتا ہے تاکہ یہ ان کی نظروں کے سامنے رہے کہ فیصلہ کن جنگ صرف سازوسامان اور زاد و عتاد پر موقوف نہیں ، بلکہ اس میں نصرت الٰہی اور اللہ کی تدبیر اور مشیت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اس راہ میں اصل سازوسامان توکل علی اللہ ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف التجا اور اللہ کے ہاں فریاد وزاری اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر اس میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔

یہ منظر ابھی تک ان لوگوں کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھا ہوا ہے۔ ایسے حالات اور ایسا ماحول اس بات کے لیے نہایت ہی مناسب ہوتا ہے اور اس میں بات مانی جاتی ہے۔ چناچہ ایسے ماحول میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ان کی صفت ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ جب کفار کے بالمقابل کھڑے ہوں تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور فرار اور ہزیمت کو ہرگز قبول نہ کریں۔ خصوصاً جبکہ نصرت اور ہزیمت اللہ کے اختیار میں ہوتی ہے اور اس پر تمہارا ایمان ہے۔ نصرت اور ہزیمت کا فیصلہ صرف اسباب ظاہریہ پر ہی نہیں ہوتا ، خصوصاً جبکہ کسی معرکے کی تدبیر اور کمان خود اللہ نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہو۔ جیسا کہ تمام امور کی تدبیر وہی کرتا ہے اور وہی ہے جو مومنین کے ہاتھوں کفار کو قتل کراتا ہے۔ وہی ہے جو تیرے کو نشانے پر بٹھاتا ہے۔ اہل ایمان تو دست قدرت کے لیے ایک پردہ اور بہانہ ہیں اور اللہ اس بہانہ سے انہیں جہاد کا ثواب عطا کرتا ہے اور کافروں کو مسلمانوں کی نسبت سے مرعوب کرتا ہے۔ ان کی تدبیر کی چولیں ڈھیلی کرتا ہے اور دنیا و آخرت میں انہیں عذاب سے دوچار کرتا ہے اس لیے کہ وہ درحقیقت اللہ اور رسول سے محاذ آرائی کیے ہوئے ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔

” يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو “

قرآن نے اس معاملے میں جو سخت انداز گفتگو اختیار کیا ہے اور سخت سزا تجویز کی ہے اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ جو شکست کھاتے ہوئے بھاگے وہ غضب الہی کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا۔ یہ ڈراوا ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے۔

اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم حالت ” زحف “ میں ہو یعنی جنگ میں دوبدو مقابلہ آن پڑے تو اس وقت فرار اختیار نہ کرو الا یہ کہ یہ فرار کسی جنگی چال کی صورت میں ہو ، کہ تم بہترین مواقع کے لیے فرار اختیار کر رہے ہو یا کوئی اور بہترین منصوبے کی خاطر فرار کا حکم دیا گیا ہو۔ یا تم کسی دوسری جنگی کمپنی سے ملنے کے لیے فرار اختیار کر رہے ہو۔ یا تم جنگی ہیڈ کو ارٹرز کی طرف بھاگ رہے ہو تاکہ دوبارہ حملہ کرسکو۔ ان حالات کے سوا کسی اور صورت میں اگر تم دشمن کو پیٹھ دکھاؤ گے تو تم عذاب کے مستحق بن جاؤگے تم پر اللہ کا غضب ہوگا اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہوگا۔

بعض اقوال ایسے منقول ہوئے ہیں کہ یہ حکم صرف اہل بدر کے لیے تھا یا ایسے غزوات کے لیے تھا کہ جن میں حضور اکرم ﷺ بذات خود شریک ہوا کرتے تھے لیکن جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت اور حکم عام ہے اور یہ کہ دو بدو مقابلے سے بھاگنا ان سات گناہ ہائے کبیرہ میں سے ایک ہے جن کے بارے میں حضور نے لفظ ” مولفات “ استعمال کیا ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا سات ان گناہوں سے اجتناب کرو جو مولفات ہیں۔ کہا گیا حضور وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا الشرک باللہ ، سحر ، ایسے شخص کا قتل …

Al-Anfaal 8:15Listen in Qur'an →
16

وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفًۭا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍۢ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

مومن کا دل و دماغ نہایت ہی پختہ ہونا چاہیے ۔ اس طرح کہ وہ زمین کی کسی بھی قوت کے سامنے متزلزل نہ ہو اور اس کا رابطہ ایسی قوت کے ساتھ ہونا چاہیے جسے اپنے امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اور وہ بندوں کے اوپر مکمل غلبہ رکھتی ہو اور جب کسی مومن کا دل و دماغ خطرات کو دیکھ کر متزلزل ہوگیا تو یہ تزلزل فرار پر منتج نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ موت کے ڈر سے پیٹھ پھیرے۔ یہ حکم ایسا نہیں ہے کہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم دیا جا رہا ہے ، کیونکہ مومن بھی انسان ہے اور اس کا دشمن بھی انسان ہے۔ اس لحاظ سے وہ گویا ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں۔ پھر مومن کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ربط ایسی قوت کے ساتھ ہے جس پر کوئی غالب نہیں ہے۔ اگر وہ زندہ ہے تو پھر وہ اللہ کا بندہ ہے اور اسی طرف متوجہ ہے اور اگر مر گیا تو بھی اللہ کی طرف لوتنے والا ہے۔ اگر اس کے لیے شہادت رکھ دی گئی ہے تو بھی وہ اس پوزیشن سے بہت اچھی ہے ، جو اس کے دشمن کی ہے کیونکہ دشمن تو اللہ اور رسول اللہ کے مقابلے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قطعی حکم دیا جاتا ہے۔ وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے۔

۔۔۔ یہاں قرآن کریم نے جو اسلوب گفتگو اپنایا ہے اس میں بہت سے اشارات ہیں۔ فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ۔ اوروَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ۔ یہ در اصل ہزیمت اور شکست کی حسی تعبیر ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ دیا گیا ہے بھاگنے والوں کا۔ اور یہ تصور دیا گیا ہے کہ دشمن کو منہ دکھانا چاہیے مقعد نہیں۔ پھر فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ گویا شکست کھانے والا در اصل پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے ساتھ غضب الہی ہوتا ہے اور یہ غضب الہی اسے جہنم تک لے جاتا ہے جو برا ٹھکانا ہے۔ وماواہ جہنم وبئس المصیر۔ یوں انداز کلام میں بھی جنگ کے دن پیٹھ پھیرنے کی منظر کشی اس طرح کی گئی ہے جس سے اس فعل کی قباحت اور کراہت بالکل واضح معلوم ہوتی ہے اور کوئی غیرت مند شخص اسے پسند نہیں کرتا۔

جنگ کے دن پیٹھ پھیرنے کی ممانعت کے بعد اب سیاق کلام میں یہ حقیقت بتائی جاتی ہے کہ اس معرکے کے پیچھے در اصل دست قدرت کام کر رہا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دشمنوں کو قتل کیا۔ وہی ہے جو تمہارے تیر کو درست نشانے پر پہنچاتا ہے۔ اور تمہیں جو اجر دیا جاتا ہے وہ تو محض اس لیے ہے کہ اہل ایمان اس آزمائش میں کامیاب رہے اور انہوں نے جدوجہد کی اور اللہ نے ان کو اس ثواب کا مستحق بنایا اور اجر عطا کیا۔

Al-Anfaal 8:16Listen in Qur'an →
17

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

روایات میں آتا ہے کہ اس مارنے سے وہ مارنا مراد ہے کہ حضور نے کنکریاں اور ریت ہاتھ میں لیں اور انہیں کفار کے لشکر کی طرف پھینکا اور حضور نے اس وقت یہ الفاظ کہے شاھت الوجوہ۔ شاھت الوجوہ۔ ان کے چہرے بد شکل ہوجائیں ، قبیح ہوجائیں۔ اور یہ آیت اور کنکریاں ان چہروں پر جا کر لگیں جن کا اس جنگ میں قتل ہونا مقدر تھا۔

لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بظاہر نبی ﷺ اور لشکر اسلام جو کچھ کر رہا تھا ، اس کے پیچے دست قدرت کام کر رہا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آیت میں یہ فقرہ ہے : وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۔ تاکہ مومنین کو اس آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ یعنی تاکہ وہ مومنین کو آزمائش کا یہ موقعہ دے اور اس پر وہ اجر کے مستحق ہوجائیں جبکہ فتح تو اس نے لکھ دی تھی۔ گویا یہ کامیابی ہر حال میں مزید اجر کا باعث تھی ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ وہ تمہاری دعاؤں کو سن رہا تھا ، اور تمہارے حالات سے اچھی طرح با خبر تھا۔

Al-Anfaal 8:17Listen in Qur'an →
18

ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ ٱلْكَٰفِرِينَ

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

یہ سب معاملہ تو یہ تھا کہ تمہیں اس نے اپنی قدرت کے لیے ایک راہ بنایا۔ لیکن یہ اس وقت بنایا جب تم نے خلوص کا اظہار کردیا۔ اسی لیے اس نے تمہیں نصرت بھی دی اور تم اجر کے مستحق بھی ٹھہرے۔ ہمیشہ اللہ ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ اس نے بدر میں کیا۔ ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ ۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔

یہ اللہ کی جانب سے دوسری امادا ہے ، اللہ کی تدبیر اس بات پر ختم نہیں ہوجاتی کہ وہ تمہارے دشمنوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتا ہے۔ اور تمہارے تیروں کو ٹھیک نشانے پر بٹھاتا ہے ، اور تمہارے لی آزمائش کا اچھا میدان فراہم کرتا ہے تاکہ وہ تمہیں اجر دے۔ وہ یہ کام بھی کرتا ہے کہ کفار جو جو سازشیں کرتے ہیں ان کے بند بھی ڈھیلے کرتا جاتا ہے اور ان کی تدابیر کو کمزور کرتا ہے۔ لہذا تمہیں ڈرنا نہیں چاہیے اور اس معرکے میں اہل ایمان کی شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ مسلمانوں کی جانب سے پیٹھ پھیرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

چناچہ ان فقرات سے تمام سوالات کا جواب خود بخود سامنے آجاتا ہے۔ اگر اللہ خود کفار کو قتل کرتا ہے اور اگر اللہ خود تیر یا پتھروں کو مارنے والا ہے اور خود وہ یہ میدان آزمائش سجانے والا ہے تاکہ مسلمانوں کو انعام دے ، اور اگر وہ خود شمنوں کی تدابیر کو کمزور کرنے والا ہے ، تو پھر انفال اور اموال غنیمت کے بارے میں نزاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، کیونکہ معاملات کا اختیار بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آغاز و انجام بھی اسی کی تدابیر کے مطابق ہے۔ رہے انسان اور مسلمان تو وہ صرف تقدیر الہی کے نشانات و علامات ہیں۔

Al-Anfaal 8:18Listen in Qur'an →
19

إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے

جب بات یہاں تک پہنچی کہ ” اللہ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے “ یہاں سے روئے سخن کفار کی طرف موڑ دیا جاتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اس معرکے سے پہلے ہی فیصلہ چاہتے تھے اور اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ دو مقابل فریقین میں سے جو گمراہ ہے ، یہ جنگ اس کے خلاف کردے۔ جو ایسی باتیں کرتا ہے جو معروف نہیں ہیں ، اسے تباہ کردے اور جو صلہ رحمی کے خلاف ہے ، اسے ہلاک کردے۔ یہ دعاء ابوجہل نے کی تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کا فیصلہ ان کے خلاف کردیا اور اب ان کو خطاب کرکے ان پر طنز کیا جاتا ہے کہ تم ہی تو تھے جو بد دعاء کرتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ بدر میں جو کچھ ہوا ، وہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ہوا اور یہ کہ کفار کی کثرت اور اجتماع نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ کیونکہ اللہ کی سنت جاریہ کو وہ بدل نہ سکتے تھے اور اللہ مومنین کے ساتھ تھا۔

۔۔۔

اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۔۔۔

تم یہ دعائے فیصلہ کرتے تھے کہ مسلمانوں اور مشرکوں میں سے جو بھی حق پر ہو ، اللہ یہ جنگ اس کے حق میں کردے یا یہ کہ فریقین میں سے جو گمراہ اور صلہ رحمی کے خلاف موقف اختیار کر رہا ہو اس کے خلاف کردے۔ اللہ نے یہ دعا قبول کرلی۔ جنگ تمہارے خلاف کردی۔ اس سے تمہاری بات کی تصدیق ہوگئی اور جنگ گمراہ تر فریق کے خلاف فیصل ہوگئی۔ اگر تم فی الواقعہ گمراہ فریق کو معلوم کرنا چاہتے تھے ، بھائی چارے کے خلاف فریق کو معلوم کرنا چاہتے تھے ، تو تمہیں معلوم ہوگیا کہ یہ کون سا فریق ہے۔ لہذا تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم نتائج جنگ دیکھ کر اسلام کی طرف آجاؤ اور شرک و کفر کو ترک کردو اور مسلمانوں اور رسول اللہ کے خلاف معاندانہ رویہ چھوڑ دو ۔

اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ (ان کافروں سے کہہ دو ) ـاگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو ، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔ اب باز آجاآ ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔

اور کے بعد ایک ڈراوا بھی وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ـورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے۔

اور انجام سب کو معلوم ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں کثرت افواج فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی اور نہ نتائج اس طرح بدل سکتے ہیں۔ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ ۔ اور تمہاری جمعیت ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو ، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔

اگر اللہ مسلمانوں کی طرف ہو تو کفار کی جمعیت کچھ بھی نہیں کرسکتی اور یہاں صورت یہ ہے : وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔

اس لیے کہ اس رنگ میں جو معرکہ ہوگا ، اس میں دونوں اطراف کی قوتوں کے درمیان کوئی توازن نہیں ہے۔ مومنین کے ساتھ اللہ ہے اور اللہ ان کے ساتھ صف میں ہوگا اور کفار کے ساتھ صرف ان ہی جیسے آدمی ہیں۔ یہ دوسری صف میں ہوں گے اور ایسے فریقین کے درمیان معرکے کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہے۔

مشرکین عرب بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے تھے۔ اللہ کے بارے میں ان کا تصور اور معرفت اس قدر سطحی نہ تھی اور نہ پیچیدہ تھی جس طرح بعد کے ادوار میں کفار نے اللہ کے بارے میں سطحی نظریات اختیار کیے۔ کیو کہ عربوں کا شرک اس نوعیت کا نہ تھا کہ وہ ذات باری کے صاف منکر ہوں۔ نہ یہ کہ وہ حقیقت سے بالکل بےبہرہ ہوں۔ ان کا شرک صرف یہ تھا کہ وہ عبودیت اور بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص نہ کرتے تھے اس طرح کہ وہ ہدایت اور قوانین صرف اللہ سے اخذ کرتے ہوں۔ اس قدر شرک بھی در اصل ان کی معرفت الوہیت کے ساتھ لگا نہ کھاتا تھا۔

اس سے قبل ہم اس معرکے واقعات میں یہ بات نقل کر آئے ہیں کہ خفاف بن ایما ابن رحضۃ الغفاری یا ان کے والد ایما ابن رحضۃ الغفاری نے لشکر قریش کو اپنے بیتے کے ہاتھ کچھ مویشی دے کر بھیجا اور یہ مویشی بطور ہدایہ ان کو دیے۔ اور یہ پیشکش بھی کی کہ اگر …

Al-Anfaal 8:19Listen in Qur'an →
20

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔

یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟

وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔

وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ …

Al-Anfaal 8:20Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.