Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ : ” الْاَنْفَالِ “ یہ ” نَفَلٌ“ (نون اور فاء کے فتح کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ ” فَرَسٌ“ کی جمع ” اَفْرَاسٌ“ ہے۔ جس کا معنی زائد چیز ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ) [ بنی إسرائیل : ٧٩ ] ” اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ “ یعنی رات کا قیام فرض نمازوں سے زائد ہے۔ یہ لفظ کئی معنوں میں آتا ہے : 1 مال غنیمت، کیونکہ جہاد کا اصل مقصد تو ثواب اور حصول جنت ہے، غنیمت تو ایک زائد چیز ہے۔ شاید اسی لیے پہلی امتوں کے لیے غنیمت حلال نہیں تھی، اس امت کو ثواب پر مزید غنیمت بھی حلال کردی گئی۔ 2 امیر کسی خاص کارنامے پر غنیمت کے حصے سے زائد کسی انعام کا اعلان کر دے، یا دینا چاہے تو یہ بھی نفل ہے۔ 3 مقتول کے پاس جو بھی سامان اسلحہ یا سواری وغیرہ ہو وہ قاتل کو دیا جائے، اسے ” سلب “ کہتے ہیں، یہ بھی نفل ہے۔ 4 عام جنگ کے علاوہ کچھ دستے جنگ کے لیے جاتے ہوئے یا واپسی پر کسی بستی پر حملے کے لیے بھیجے جائیں اور وہ غنیمت لے کر آئیں تو وہ پورے لشکر کے لیے ہوگی، مگر اس دستے کو مجموعی غنیمت میں سے الگ زائد حصہ بھی دیا جائے گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاتے وقت چوتھا حصہ اور واپسی پر تیسرا حصہ عطا فرماتے تھے۔ 5 امیر غنیمت کی تقسیم سے پہلے کوئی ایک چیز اپنے لیے چن لے، مثلاً کوئی اسلحہ یا سواری، یا لونڈی وغیرہ، اسے ” صفی “ بھی کہتے تھے۔ - زمانۂ جاہلیت میں معمول تھا کہ جنگ میں جو شخص جو کچھ لوٹ لیتا اسی کا ہوتا۔ اسلام میں سب سے پہلا عظیم الشان معرکہ بدر واقع ہوا تو ابھی تک کفار سے حاصل ہونے والے مال کی تقسیم کا طریقہ مقرر نہیں ہوا تھا۔ بدر میں جب بہت سا مال غنیمت حاصل ہوا تو یہ مسئلہ پیش آیا۔ چناچہ عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے تو میں آپ کے ساتھ بدر میں شریک ہوا۔ لوگوں کا باہمی مقابلہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی، تو ایک گروہ انھیں ہزیمت دیتے اور قتل کرتے ہوئے ان کے پیچھے چل پڑا، ایک گروہ لشکر گاہ پر متوجہ ہو کر اس کی حفاظت اور مال جمع کرنے لگ گیا اور ایک گروہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ دشمن آپ کے متعلق کسی غفلت سے فائدہ نہ اٹھا لے۔ آخر سب لوگ واپس آ کر جمع ہوئے تو جنھوں نے غنیمتیں جمع کی تھیں، کہنے لگے، یہ ہم نے جمع کی ہیں، کسی اور کا ان میں کوئی حصہ نہیں، جو دشمن کے پیچھے گئے تھے انھوں نے کہا تم ہم سے زیادہ اس کے حق دار نہیں ہو، ہم نے دشمن کو ان سے ہٹایا اور انھیں مار بھگایا ہے۔ جنھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد گھیر ڈالے رکھا، انھوں نے کہا، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیرے میں رکھا اور اس بات سے ڈرے کہ دشمن کسی طرح کی غفلت میں آپ کو نقصان نہ پہنچائے، چناچہ ہم اس کام میں مشغول رہے، تو اس وقت یہ آیات اتریں : (يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جاتے تو چوتھا حصہ بطور نفل (زائد) دیتے تھے، پھر جب واپس آتے، لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو تیسرا حصہ بطور نفل عطا فرماتے تھے اور آپ خصوصاً زائد حصے دینا پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے : ” مومنوں کا قوت والا ان کے کمزور پر غنیمت واپس لاتا ہے۔ “ [ أحمد : ٥؍٣٢٣، ٣٢٤، ح ٢٢٧٦٢، وقال شعیب الأرنؤوط حسن لغیرہ ] ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور مستدرک حاکم میں بھی اس حدیث کے بعض اجزا مروی ہیں۔- قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ : …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ : اوپر فرمایا کہ اطاعت ہے تو ایمان ہے، اب ان آیات میں ایمان والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ سرفہرست یہ ہے کہ جب ان کے تنازعات کے درمیان اللہ کا ذکر یا اس کا حکم آجائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ دوسری علامت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے احکام بیان کیے جائیں تو وہ انھیں سچے دل سے مانتے ہوئے ان کی اطاعت کرتے ہیں، جس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان ایک ہی حالت پر نہیں رہتا بلکہ اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ دلائل کو دیکھ کر یقین و تصدیق میں بھی اور اعمال کی کمی بیشی کے لحاظ سے بھی۔ تیسری علامت یہ ہے کہ جس کام کا انھیں حکم دیا جاتا ہے وہ اس کے تمام ذرائع اور اسباب تو اختیار کرتے اور اپنی کوشش پوری کرتے ہیں، مگر ان کا بھروسا ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے، اپنی تیاری یا اسباب پر نہیں۔ اپنی پوری کوششوں کے بعد وہ اس کے انجام کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ ان کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ نماز کو اس کے پورے حقوق اور آداب کے ساتھ ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور پانچویں علامت یہ ہے کہ اپنے اموال میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، جن لوگوں میں یہ پانچ علامات پائی جائیں اللہ تعالیٰ نے صرف انھی کو ” الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا “ یعنی پکے سچے مومن قرار دیا ہے، ایسے ہی مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات بھی ہوں گے، بڑی بخشش بھی اور باعزت روزی بھی۔

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

Explained together with ayah 2

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

Explained together with ayah 2

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ : یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی بات ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ بھی اسی طرح ہے جیسے تیرے رب نے تجھے تیرے گھر سے حق کے ساتھ نکالا۔ مفسرین نے اس ”ۚكَمَآ “ (جس طرح) کی کئی توج ہیں کی ہیں، بعض نے وہ بیس تک پہنچا دی ہیں، البتہ صاحب کشاف نے صرف دو توج ہیں کی ہیں، جن میں سے زیادہ واضح یہ ہے کہ یہاں مبتدا محذوف ہے اور عبارت یوں ہوگی ” ھٰذِہِ الْحَالُ کَحَالِ إِخْرَاجِکَ یَعْنِیْ اَنَّ حَالَہُمْ فِیْ کَرَاہِیَۃِ مَا رَأَیْتَ مِنْ تَنْفِیْلِ الْغَزْوَۃِ مِثْلُ حَالِہِمْ فِیْ کَرَاہَۃِ خُرُوْجِکِ لِلْحَرْبِ “ یعنی غزوۂ بدر سے حاصل ہونے والی غنیمت کی تقسیم کے بارے میں آپ کی رائے اور فیصلے کو ناگوار سمجھنے میں ان کا حال ایسا ہی ہے جس طرح ان کا حال آپ کے لڑائی کے لیے نکلنے کے بارے میں تھا، حالانکہ دونوں ہی میں آپ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے خیر ہی خیر تھی۔ شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں : ” غنیمت کا یہ جھگڑا بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ نکلتے وقت عقل سے تدبیریں کرنے لگے اور آخر کار صلاح وہی ٹھہری جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، تو ہر کام میں یہی اختیار کرو کہ حکم برداری میں اپنی عقل کو دخل نہ دو ۔ “ (موضح)

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ : حق سے مراد کفار کا قافلہ نکل جانے کے بعد کفار سے ہر صورت لڑائی ہے، جس کا انجام فتح اور غنائم ہوگا۔ مختصراً واقعہ یہ ہے کہ سن ٢ ھ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ملی کہ کفار قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ جا رہا ہے اور مدینہ کے قریب کے راستے پر پہنچ چکا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کی مختصر سی جمعیت جو تین سو سے کچھ اوپر تھی، لے کر قافلے کے تعاقب کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ابوسفیان کو آپ کے نکلنے کی اطلاع ہوگئی، اس نے ایک تیز رفتار سوار کے ذریعے سے مکہ اطلاع بھیج دی اور خود احتیاطاً اصل راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کرلیا۔ مکہ میں جب یہ خبر پہنچی تو ابوجہل ایک بڑا مسلح لشکر لے کر قافلے کی حفاظت کے لیے روانہ ہوگیا اور آ کر بدر میں ڈیرے ڈال دیے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع ہوئی تو آپ نے مسلمانوں کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی کہ ایک طرف تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف قریش کا لشکر ہے، اللہ کا وعدہ ہے کہ تمہیں دونوں میں سے ایک ضرور ملے گا۔ اس پر بعض صحابہ کو تردد ہوا، وہ چاہتے تھے کہ لشکر کے بجائے قافلے کا تعاقب کیا جائے۔ اس وقت ابوبکر، عمر، سعد بن معاذ اور مقداد بن اسود (رض) نے اطاعت کی تقریریں کیں، مقداد (رض) نے کہا کہ آپ ہمیں موسیٰ ( (علیہ السلام) ) کے ساتھیوں جیسا نہیں پائیں گے، جنھوں نے کہا کہ جا تو اور تیرا رب لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں تب آپ بدر کی طرف روانہ ہوئے اور اس وقت بعض صحابہ نے لشکر سے نہ لڑنے کا مشورہ دیا تھا، اسے ” يُجَادِلُوْنَكَ “ (وہ تجھ سے جھگڑتے تھے) سے تعبیر کیا ہے۔- كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ : یعنی سمجھتے تھے کہ اتنے بڑے لشکر سے لڑنا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے۔

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ : یعنی قافلے یا کفار پر فتح اور اموال غنیمت۔ - وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَات الشَّوْكَةِ : ” الشَّوْكَةِ “ کانٹے کو کہتے ہیں، یعنی تمہاری خواہش یہ تھی کہ کسی تکلیف اور جنگ کے بغیر حاصل ہونے والا قافلہ تمہیں مل جائے، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنی باتوں اور وعدوں کے مطابق حق کو سچا ثابت فرمائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ : اس لیے اس نے ایسے اسباب پیدا فرما دیے کہ تمہارا مقابلہ تجارتی قافلے کے بجائے قریش کے لشکر سے ہوا اور تمہیں فتح نصیب ہوئی، جس سے ان کی سیاسی اور فوجی طاقت پر کاری ضرب لگی، یہی اللہ تعالیٰ کی وہ حکمت تھی جسے تم نہیں سمجھ رہے تھے اور تم میں سے بہت سے لوگ یہ چاہ رہے تھے کہ لشکر سے مقابلے کے بجائے تجارتی قافلہ ان کے ہاتھ لگے۔

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ : اپنی تعداد، تیاری، اسلحہ کی کے تین گنا سے زیادہ اور ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہونے کی وجہ سے سب مسلمان ہی اپنے پروردگار سے مدد کے لیے فریاد کر رہے تھے۔ خصوصاً رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو نہایت عجز اور الحاح کے ساتھ دعا فرما رہے تھے۔ عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ جب بدر کا دن ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کی طرف دیکھا، وہ ایک ہزار تھے اور آپ کے ساتھی تین سو انیس آدمی تھے، تو اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلے کی طرف رخ کرکے ہاتھ پھیلا دیے اور اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرنے لگے : ” اے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر، اے اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ مجھ سے پورا کر۔ اے اللہ اگر اہل اسلام کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ “ آپ اپنے رب سے بلند آواز سے فریاد کرتے رہے اور ہاتھ پھیلائے ہوئے دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی چادر کندھوں سے گرگئی تو ابوبکر (رض) آپ کے پاس آئے، آپ کی چادر پکڑی، اسے آپ کے کندھوں پر ڈالا، پھر پیچھے سے آپ سے چمٹ گئے اور کہا : ” اے اللہ کے نبی آپ کا اپنے رب کو قسم دینا آپ کے لیے کافی ہے، کیونکہ یقیناً وہ آپ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرے گا۔ “ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : (اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ ) پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ساتھ آپ کی مدد فرمائی۔ [ مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔۔ : ١٧٦٣ ] ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کے کہنے کے بعد آپ یہ کہتے ہوئے نکلے : (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ) [ القمر : ٤٥ ] ” یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھیں پھیر کر بھاگیں گے۔ “ [ بخاری، المغازی، باب قول اللہ تعالیٰ : ( إذ تستغیثون ربکم۔۔ ) : ٣٩٥٣ ]- اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ : ایک دوسرے کے پیچھے، یعنی پے در پے آنے والے ہیں۔ چناچہ بدر میں فرشتے نازل ہوئے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے دن فرمایا : ” یہ جبریل ہیں، اپنے گھوڑے کے سر (لگام) کو پکڑے ہوئے ہیں، لڑائی کے ہتھیار پہنے ہوئے ہیں۔ “ [ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدراً : ٣٩٩٥ ] یہاں ایک ہزار فرشتے اترنے کے وعدے کا ذکر ہے جو واقعی اترے۔ رفاعہ بن رافع قرظی بدری (رض) سے روایت ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، پوچھا : ” تم اہل بدر کو اپنے میں کیسا شمار کرتے ہو ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مسلمانوں کے سب سے بہتر لوگ۔ “ یا اس کے ہم معنی کوئی بات کہی۔ (جبریل (علیہ السلام) نے) فرمایا : ” اسی طرح وہ فرشتے بھی (افضل) ہیں جو بدر میں شریک ہوئے تھے۔ “ [ بخاری، المغازی، باب شہود الملائکۃ بدرًا : ٣٩٩٢ ] سورة آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کے وعدے کا ذکر ہے، تطبیق کے لیے دیکھیے آل عمران (١٢٤، ١٢٥) ۔

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي : آیت کے ان الفاظ سے بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ فرشتوں نے خود لڑنے میں کوئی حصہ نہیں لیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مسلمانوں کی مدد کے لیے محض اس لیے بھیجا تھا کہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور انھیں اطمینان رہے کہ ان کی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں، لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ صحیح مسلم میں ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اس دوران میں کہ ایک مسلمان مشرکین میں سے ایک آدمی کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ اس نے کوڑا مارنے کی ضرب کی آواز سنی اور ایک سوار کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا حیزوم آگے بڑھو۔ اس نے اس مشرک کو دیکھا کہ وہ چت گرگیا ہے، دیکھا تو اس کی ناک پر نشان تھا، چہرہ پھٹ گیا تھا، جس طرح کوڑا مارنے سے ہوتا ہے اور وہ ساری جگہ سبز ہوگئی تھی۔ وہ انصاری آیا اور اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات بیان کی، تو آپ نے فرمایا : ” تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان کی مدد میں سے تھا۔ “ [ مسلم، الجھاد، باب الامداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر۔۔ : ١٧٦٣ ] بدر کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے کئی جنگوں میں فرشتوں کے ساتھ مسلمانوں کی مدد فرمائی۔ میں نے بہت سے قابل اعتماد لوگوں سے سنا کہ متحدہ ہندوستان میں حافظ عبداللہ روپڑی (رض) کے حکم پر مسلمانوں نے عید الاضحی کے دن گائیں ذبح کیں، تو ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر حملہ کردیا، مسلمانوں نے تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مقابلہ کیا تو کفار کثیر تعداد میں قتل ہوئے اور بھاگ گئے۔ جب مقدمہ چلا تو جنگ میں شریک مسلمان اور کافر پیش ہوئے، کفار کو شناخت کے لیے کہا گیا تو انھوں نے کہا، ہم سے تو وہ لوگ لڑے ہیں جو سفید لباس میں ملبوس گھوڑوں پر سوار تھے، حالانکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہ تھا۔ کشمیر میں کفار کے خلاف کار روائیوں کے دوران بھی فرشتوں کی مدد کے کئی واقعات پیش آئے ہیں جو مجلہ الدعوۃ اور غزوہ کے مختلف شماروں میں شائع ہوئے ہیں۔ شاعر نے سچ کہا ہے ؂ - فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو - اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی - وَمَا النَّصْرُ اِلَّامِنْ عِنْدِ اللّٰهِ : یعنی یہ نہ سمجھو کہ تمہیں جو فتح نصیب ہوئی ہے وہ ان فرشتوں کی وجہ سے ہوئی ہے، بلکہ حقیقت میں مدد اللہ کی طرف سے ہے، وہ چاہتا تو فرشتوں کے بغیر ہی تمہیں فتح عطا کردیتا، مگر جہاد کو دین کا حصہ بنانے سے تمہارے ایمان کا امتحان، تمہارے ہاتھوں کافروں کو ذلیل اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت سے سرفراز کرنا مقصود ہے۔ پہلی امتوں میں سے جو امت اپنے پیغمبر کو جھٹلاتی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نہ کسی طرح کا عذاب نازل ہوجاتا، پانی میں غرق کرنا، خوف ناک چیخ، زلزلہ، پتھروں کی بارش اور شکلیں مسخ کردینا وغیرہ۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے غرق ہونے سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک یہی سلسلہ قائم رہا۔ آخر کار جب موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی تو جہاد شروع ہوا اور اس کے بعد یہی طریقہ جاری ہے، اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینا چاہتا ہے، فرمایا : (قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ ) [ التوبۃ : ١٤، ١٥ ] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے چھ فائدے بیان فرمائے ہیں، تفصیل کے لیے سورة توبہ میں ان آیات کی تفسیر دیکھیے۔ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بھی آسمان سے عذاب کے بعض واقعات پیش آئے، جیسے اصحاب الفیل کا واقعہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی امت میں شراب، زنا، ریشم اور باجوں گاجوں کو حلال کرلینے والوں پر زمین میں دھنس جانے اور بندر اور خنزیر بنا دیے جانے کے عذاب آئیں گے۔ [ بخاری، الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر۔۔ : ٥٥٩٠، عن أبی مالک الأشعری ] مگر وہ عبرت کے لیے ہوں گے اور جزوی، یعنی کہیں کہیں ہوں گے۔ کفار کو کفر سے روکنے اور …

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.