Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 11–20 of 75

11

إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةًۭ مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے

آیت 11 اِذْ یُغَشِّیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمْ بِہٖ بدر کی رات تمام مسلمان بہت پر سکون نیند سوئے اور اسی رات غیر معمولی انداز میں بارش بھی ہوئی۔ مسلمانوں کی یہ پر سکون نیند اور بارش کا نزول گویا دو معجزے تھے ‘ جن کا ظہور مسلمانوں کی خاص مدد کے لیے عمل میں آیا۔ یہ معجزات اس انداز میں ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے باقاعدہ ان کے بارے میں اعلان فرمایا ہو ‘ یا یہ کہ یہ بالکل خرق عادت واقعات ہوں ‘ بلکہ یہ معجزات اس انداز میں تھے کہ اس وقت ان دونوں واقعات سے مسلمانوں کو غیر معمولی طور پر مدد ملی ‘ اور اس لیے بھی کہ ایسی چیزیں محض اتفاقات سے ظہور پذیر نہیں ہوتیں۔ حقیقت میں غزوۂ بدر کا یہ معاملہ مسلمانوں کے لیے بہت سخت تھا ‘ جس کی وجہ سے ہر شخص کے لیے بظاہر فکرمندی ‘ تشویش اور اندیشہ ہائے دور دراز کی انتہا ہونی چاہیے تھی ‘ کہ کل جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس میں میں زندہ بھی بچ پاؤں گا یا نہیں ؟ مگر عملی طور پر یہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوا۔ مسلمان رات کو آرام و سکون کی نیند سوئے اور صبح بالکل تازہ دم اور چاق و چوبند ہو کر اٹھے۔ اسی طرح اس رات جو بارش ہوئی وہ بھی مسلمانوں کے لیے اللہ کی تائید و نصرت ثابت ہوئی۔ اس بارش سے دوسرے فوائد کے علاوہ مسلمانوں کو ایک یہ سہو لت بھی میسر آگئی کہ جن لوگوں کو غسل کی حاجت تھی انہیں غسل کا موقع مل گیا۔وَیُذْہِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ ۔اس بارش میں مسلمانوں کے لیے اطمینان قلوب کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انہیں اس خشک صحرا کے اندر پانی کا وافر ذخیرہ مل گیا ‘ ورنہ لشکر قریش پہلے آکر پانی کے تالاب پر قبضہ کرچکا تھا اور مسلمان اس سے محروم ہوچکے تھے۔ بارش ہوئی تو نشیب کی بنا پر سارا پانی مسلمانوں کی طرف جمع ہوگیا ‘ جسے انہوں نے بند وغیرہ باندھ کر ذخیرہ کرلیا۔ بارش کی وجہ سے مٹی دب گئی ‘ ریت فرش کی طرح ہوگئی اور چلنے پھرنے میں سہولت ہوگئی۔

Al-Anfaal 8:11Listen in Qur'an →
12

إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ أَنِّى مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ سَأُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ فَٱضْرِبُوا۟ فَوْقَ ٱلْأَعْنَاقِ وَٱضْرِبُوا۟ مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍۢ

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

آیت 12 اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلآءِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط۔وہی ایک ہزار فرشتے جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے ‘ انہیں میدان جنگ میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ رہنے کی ہدایت کا تذکرہ ہے۔سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ اللہ تعالیٰ نے کفار کو بھر پور مقابلے کے دوران دہشت زدہ کردیا تھا اور جب کوئی شخص اپنے حریف کے مقابلے میں دہشت زدہ ہوجائے تو اس کے اندر قوت مدافعت نہیں رہتی۔ پھر وہ گویا حملہ آور کے رحم وکرم پر ہوتا ہے ‘ وہ جدھر سے چاہے اسے چوٹ لگائے ‘ جدھر سے چاہے اسے مارے۔

Al-Anfaal 8:12Listen in Qur'an →
13

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

آیت 13 ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗج وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ اس کے بعد اب قریش سے براہ راست خطاب ہے۔

Al-Anfaal 8:13Listen in Qur'an →
14

ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے

آیت 14 ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ ابھی ہماری طرف سے سزا کی پہلی قسط وصول کرو۔ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَاب النَّارِ ۔یعنی یہ مت سمجھنا کہ تمہاری یہی سزا ہے ‘ بلکہ اصل سزا تو جہنم ہوگی ‘ اس کے لیے بھی تیار رہو۔

Al-Anfaal 8:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ زَحْفًۭا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلْأَدْبَارَ

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

آیت 15 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا زحف میں باقاعدہ دو لشکروں کے ایک دوسرے کے مد مقابل آکر لڑنے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ غزوۂ بدر سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے علاقے میں آٹھ مہمات expeditions بھیجی گئی تھیں ‘ مگر ان میں سے کوئی مہم بھی باقاعدہ جنگ کی شکل میں نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ انہیں چھاپہ مار مہمات کہا جاسکتا ہے ‘ لیکن بدر میں مسلمانوں کی کفار کے ساتھ پہلی مرتبہ دو بدو جنگ ہوئی ہے۔ چناچہ ایسی صورت حال کے لیے ہدایات دی جارہی ہیں کہ جب میدان میں باقاعدہ جنگ کے لیے تم لوگ کفار کے مقابل آجاؤ :فَلاَ تُوَلُّوْہُمُ الْاَدْبَارَ مطلب یہ ہے کہ ڈٹے رہو ‘ مقابلہ کرو۔ جان چلی جائے لیکن قدم پیچھے نہ ہٹیں۔

Al-Anfaal 8:15Listen in Qur'an →
16

وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفًۭا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍۢ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

آیت 16 وَمَنْ یُّوَلِّہِمْ یَوْمَءِذٍ دُبُرَہٗٓ یعنی اگر کوئی مسلمان میدان جنگ سے جان بچانے کے لیے بھاگے گا۔اِلاَّ مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ جیسے دو آدمی دوبدو مقابلہ کر رہے ہوں اور لڑتے لڑتے کوئی دائیں ‘ بائیں یا پیچھے کو ہٹے ‘ بہتر داؤ کے لیے پینترا بدلے تو یہ بھاگنا نہیں ہے ‘ بلکہ یہ تو ایک تدبیراتی حرکت tactical move شمار ہوگی۔ اسی طرح جنگی حکمت عملی کے تحت کمانڈر کے حکم سے کوئی دستہ کسی جگہ سے پیچھے ہٹ جائے اور کوئی دوسرا دستہ اس کی جگہ لے لے تو یہ بھی پسپائی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِءَۃٍ یعنی لڑائی کے دوران اپنے لشکر کے کسی دوسرے حصے سے ملنے کے لیے منظم طریقے سے پیچھے ہٹنا orderly retreat بھی پیٹھ پھیرنے کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ ان دو استثنائی صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے بزدلی دکھائی اور بھگڈر کے اندر جان بچا کر بھاگا :فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰٹہُ جَہَنَّمُط وَبِءْسَ الْمَصِیْرُ ۔اب اگلی آیات میں یہ بات واضح تر انداز میں سامنے آرہی ہے کہ غزوۂ بدر دنیوی قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ‘ بلکہ اللہ کی خاص مشیت کے تحت وقوع پذیر ہوا تھا۔

Al-Anfaal 8:16Listen in Qur'an →
17

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

آیت 17 فَلَمْ تَقْتُلُوْہُمْ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمْ ویسے تو ہر کام میں فاعل حقیقی اللہ ہی ہے ‘ ہم جو کام بھی کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی مشیت سے ممکن ہوتا ہے ‘ اور جس شے کے اندر جو بھی تاثیر ہے وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ عام حالات کے لیے بھی اگرچہ یہی قاعدہ ہے : لَا فَاعِلَ فِی الْحَقِیْقَۃِ وَلَا مُؤَثِّرَ الاَّ اللّٰہ لیکن یہ تو مخصوص حالات تھے جن میں اللہ کی خصوصی مدد آئی تھی۔وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ج میدان جنگ میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے کچھ کنکریاں اپنی مٹھی میں لیں اور شاھَتِ الْوجُوْہ چہرے بگڑ جائیں فرماتے ہوئے کفار کی طرف پھینکیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ کنکریاں کہاں کہاں تک پہنچی ہوں گی اور ان کے کیسے کیسے اثرات کفار پر مرتب ہوئے ہوں گے۔ بہر حال یہاں پر آپ ﷺ کے اس عمل کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کر رہا ہے کہ اے نبی ﷺ جب وہ کنکریاں آپ نے پھینکی تھیں ‘ تو وہ آپ ﷺ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔ اسی بات کو اقبال ؔ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : ع ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ !وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآءً حَسَنًا ط۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی آزمائشیں اپنے بندوں کی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ بَلَا ‘ یَبْلُو ‘ بَلَاءًکے معنی ہیں آزمانا ‘ تکلیف اور آزمائش میں ڈال کر کسی کو پرکھنا ‘ لیکن اَبْلٰی ‘ یُبْلِی جب باب افعال سے آتا ہے تو کسی کے جوہر نکھارنے کے معنی دیتا ہے۔

Al-Anfaal 8:17Listen in Qur'an →
18

ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ ٱلْكَٰفِرِينَ

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

آیت 18 ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْہِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ ۔یہ گویا اہل ایمان اور کفار دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے۔ اس کے بعد صرف کفار سے خطاب ہے۔ ابو جہل کو بحیثیت سپہ سالار اپنے لشکر کی تعداد ‘ اسلحہ اور سازو سامان کی فراوانی کے حوالے سے پورا یقین تھا کہ ہم مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چناچہ انہوں نے پہلے ہی پراپیگنڈا شروع کردیا تھا کہ معرکہ کا دن یوم الفرقان ثابت ہوگا اور اس دن یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ کس کے ساتھ ہے۔ اللہ کو تو کفار بھی مانتے تھے۔ چناچہ تاریخ کی کتابوں میں ابو جہل کی اس دعا کے الفاظ بھی منقول ہیں جو بدر کی رات اس نے خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی۔ اس رات جب ایک طرف حضور اکرم ﷺ دعا مانگ رہے تھے تو دوسری طرف ابو جہل بھی دعا مانگ رہا تھا۔ اس کی دعا حیرت انگیز حد تک موحدانہ ہے۔ اس دعا میں لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ‘ بلکہ اس دعا میں وہ براہ راست اللہ سے التجاکر رہا ہے : اللّٰھم اقطعنا للرحم فاحنہ الغداۃ کہ اے اللہ جس شخص نے ہمارے رحمی رشتے کاٹ دیے ہیں ‘ کل تو اسے کچل کر رکھ دے۔ اس دعا سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ابو جہل کا حضور ﷺ پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ آپ ﷺ کی وجہ سے قریش کے خون کے رشتے کٹ گئے تھے۔ مثلاً ایک بھائی مسلمان ہوگیا ہے اور باقی کافر ہیں ‘ تو نہ صرف یہ کہ ان میں اخوت کا رشتہ باقی نہ رہا ‘ بلکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ اسی طرح اولاد ماں باپ سے اور بیویاں اپنے شوہروں سے کٹ گئیں۔ چونکہ اس عمل سے قریش کی یک جہتی ‘ طاقت اور ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی ‘ اس لیے سب سے زیادہ انہیں اسی بات کا قلق تھا۔ بہر حال ابوجہل سمیت تمام قریش کی خواہش تھی اور وہ دعا گو تھے کہ اس چپقلش کا واضح فیصلہ سامنے آجائے۔ ان کی اسی خواہش اور دعا کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔

Al-Anfaal 8:18Listen in Qur'an →
19

إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے

آیت 19 اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَ کُمُ الْفَتْحُ ج۔اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن فتح کے ذریعے بتادیا کہ اس کی تائید و نصرت کس گروہ کے ساتھ ہے۔ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہوگیا۔

Al-Anfaal 8:19Listen in Qur'an →
20

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

آیت 20 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ یعنی جب اللہ کے رسول ﷺ نے بدر کی طرف چلنے کا ارادہ کرلیا تو پھر تمہاری طرف سے ردّو قدح اور بحث و استدلال کیوں ہو رہا تھا ؟ تم سب کو تو چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی پر فوراً سَمِعْنَا وَاَطَعْنَاکہتے اور آپ ﷺ کے حکم پر سر تسلیم خم کردیتے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں خاص طور پر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اس موقع پر کمزوری دکھائی تھی۔

Al-Anfaal 8:20Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.