Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 11–20 of 75

11

إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةًۭ مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔

[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔

[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا …

Al-Anfaal 8:11Listen in Qur'an →
12

إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ أَنِّى مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ سَأُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ فَٱضْرِبُوا۟ فَوْقَ ٱلْأَعْنَاقِ وَٱضْرِبُوا۟ مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍۢ

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔

[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔

[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا …

Al-Anfaal 8:12Listen in Qur'an →
13

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔

[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔

[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا …

Al-Anfaal 8:13Listen in Qur'an →
14

ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔

[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔

[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا …

Al-Anfaal 8:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ زَحْفًۭا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلْأَدْبَارَ

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔

[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)

Al-Anfaal 8:15Listen in Qur'an →
16

وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفًۭا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍۢ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جب ملو تم ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا، اکٹھے ہوکر تو نہ پھیرو ان سے (اپنی) پیٹھیں(15) اور جو شخص پھیرے گا ان سے اس دن اپنی پیٹھ، سوائے اس شخص کے جو پینترا بدلنے والا ہو لڑائی کے لیے یا پناہ پکڑنے والا ہو طرف (اپنی) کسی جماعت کی تو یقینا لوٹا وہ شخص ساتھ غضب کے اللہ کےاوراس کا ٹھکانا جہنم ہےاور بری ہے وہ جگہ ، پھرنے کی(16)

[15] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اہل ایمان بندوں کو شجاعت ایمانی، اللہ کے معاملے میں قوت اور دلوں اور جسموں کو مضبوط کرنے والے اسباب فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور جب دونوں فوجوں کے درمیان معرکہ ہو تو میدان جنگ سے فرار ہونے سے منع کیا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِيۡتُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا زَحۡفًا﴾ ’’اے ایمان والو، جب بھڑو تم کافروں سے میدان جنگ میں ‘‘ یعنی جب لڑائی کے لیے صف بندی ہو چکی ہو، فوجیں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہوں اور جنگجو ایک دوسرے کے قریب آچکے ہوں ، ﴿ فَلَا تُوَلُّوۡهُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴾ ’’تو پھر کفار کے سامنے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو‘‘ بلکہ ان سے لڑنے کے لیے ثابت قدمی سے ڈٹ جاؤ اور ان کی قوت اور حملے کا صبر سے مقابلہ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت، اہل ایمان کے دلوں کی مضبوطی اور دشمنوں کو خوف زدہ کرنے کا باعث ہوگی۔

[16]﴿ وَمَنۡ يُّوَلِّهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ دُبُرَهٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَيِّزًا اِلٰى فِئَةٍ فَقَدۡ بَآءَؔ ﴾ ’’اور جو کوئی پیٹھ پھیرے ان سے اس دن مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں تو پھرا وہ‘‘ یعنی وہ لوٹا ﴿ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاۡوٰىهُ ﴾ ’’اللہ کا غضب لے کر اور اس کا ٹھکانا‘‘ ﴿ جَهَنَّمُ١ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’جہنم ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ کسی عذر کے بغیر، میدان جنگ سے فرار ہونا سب سے بڑا گناہ ہے۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے اور جیسا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرار ہونے والے کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔اس آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ جنگی چال کے طور پر میدان جنگ سے ہٹنے میں ، یعنی میدان جنگ میں ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر لڑنا تاکہ اس جنگی چال میں دشمن کو زک پہنچا سکے، کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ میدان جنگ سے منہ موڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اس نے دشمن پر غالب آنے کے لیے ایسا کیا ہے یا اس نے کسی پہلو سے دشمن پر حملہ کرنے کے لیے یا دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے یہ چال چلی ہے یا دیگر جنگی مقاصد کے لیے ایسا کیا ہے۔ اسی طرح کفار کے خلاف کمک کے طور پر ایک جماعت سے علیحدہ ہو کر دوسری جماعت میں جا کر ملنا بھی جائز ہے۔اگر لشکر کا وہ گروہ جس کے ساتھ یہ گروہ جا کر ملا ہے، میدان جنگ میں موجود ہے تو ایسا کرنے کا جواز بالکل واضح ہے اور اگر وہ گروہ مقام معرکہ کی بجائے کسی اور مقام پر ہے ، مثلاً: مسلمانوں کا کفار کے مقابلے سے کسی ایک شہر سے پسپا ہو کر مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر میں پناہ لینا یا ایک میدان جنگ کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ دشمن پر حملہ آور ہونا تو اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے جو آراء منقول ہوئی ہیں وہ اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں ۔ شاید پسپائی اس شرط سے مشروط ہے کہ مسلمان سمجھتے ہوں کہ پسپائی انجام کار ان کے لیے بہتر اور دشمن کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ میدان جنگ میں جمے رہنے سے کفار پر ان کو غلبہ حاصل ہو جائے گا تو اس صورت حال میں یہ بعید ہے کہ پسپائی کا جواز ہو کیونکہ تب میدان جنگ سے فرار ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے جس سے روکا گیا ہے۔ یہ آیت کریمہ مطلق ہے۔ (یعنی فرار کی ہر صورت ممنوع ہے) البتہ سورت کے آخر میں اس کو تعداد کے ساتھ مشروط کرنے کا بیان ہے۔ (دیکھیے آیت نمبر ۶۶ کی تفسیر)

Al-Anfaal 8:16Listen in Qur'an →
17

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)

[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔

[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔

[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم …

Al-Anfaal 8:17Listen in Qur'an →
18

ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ ٱلْكَٰفِرِينَ

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)

[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔

[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔

[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم …

Al-Anfaal 8:18Listen in Qur'an →
19

إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے

پس نہیں قتل کیا تم نے انھیں لیکن اللہ ہی نے قتل کیا ہے انھیں اورنہیں پھینکی تھی آپ نے (مٹھی بھر خاک) جبکہ پھینکی تھی آپ نے لیکن اللہ ہی نے پھینکی تھی وہ اور تاکہ نوازے وہ مومنوں کو اپنی طرف سے اچھے انعام سے، یقینا اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے(17) یہ تھی(حکمت) اور بے شک اللہ کمزور کرنے والا ہے تدبیر کافروں کی(18)اگر طلب کرتے ہوتو فیصلہ تو تحقیق آگیا ہے تمھارے پاس فیصلہ اوراگر باز آجاؤ تم تو وہ بہت بہتر ہے تمھارے لیےاور اگر تم ، پھر ایسا کرو گے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گےاور ہرگز نہیں فائدہ دے گی تمھیں تمھاری جماعت کچھ اگرچہ وہ کثیر ہی ہواور یقینا اللہ ساتھ ہے مومنوں کے (19)

[17] جب غزوۂ بدر میں مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کو قتل کیا تو اس ضمن میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ ﴾ ’’تم نے ان کو قتل نہیں کیا۔‘‘ یعنی تم نے اپنی قوت سے ان کو قتل نہیں کیا ﴿ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡ ﴾ ’’لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا‘‘ کیونکہ ان کے قتل پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد فرمائی تھی، جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزرا۔ ﴿ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ﴾’’اور آپ نے نہیں پھینکی مٹھی خاک کی جس وقت کہ پھینکی تھی لیکن اللہ نے پھینکی۔‘‘اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب معرکہ شروع ہوا تو رسول اللہﷺ ایک خیمہ میں چلے گئے اور اللہ تعالیٰ سے قسمیں دے دے کر فتح و نصرت کے لیے دعائیں کرنے لگے، پھر خیمے سے باہر تشریف لائے، آپﷺ نے خاک کی ایک مٹھی اٹھا کر کفار کے چہروں کی طرف پھینکی اور اللہ تعالیٰ نے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچا دی، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جس کے چہرے، منہ اور آنکھوں میں یہ خاک نہ پڑی ہو۔ پس اس وقت ان کی طاقت ٹوٹ گئی، ان کے ہاتھ شل ہوگئے، ان کے اندر کمزوری اور بزدلی ظاہر ہوئی پس وہ شکست کھا گئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ’’جب آپ نے کفار کی طرف خاک کی مٹھی پھینکی تو آپ نے اپنی قوت سے یہ خاک ان کے چہروں تک نہیں پہنچائی تھی بلکہ ہم نے اپنی قوت اور قدرت سے یہ خاک ان کے چہروں تک پہنچائی‘‘۔﴿وَلِيُبۡلِيَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَآءًؔ حَسَنًا ﴾ ’’اور تاکہ اللہ آزمائے مومنوں کو اپنی طرف سے خوب آزمانا‘‘ یعنی براہ راست لڑائی کے بغیر اللہ تعالیٰ کفار کے مقابلے میں اہل ایمان کی مدد کرنے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ مومنوں کا امتحان لینا اور جہاد کے ذریعے سے انھیں بلند ترین درجات اور اعلیٰ ترین مقامات پر فائز کرنا، نیز انھیں اجر حسن اور ثواب جزیل عطا کرنا چاہتا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ سنتا جانتا ہے۔‘‘ بندہ جو بات چھپا کر کرتا ہے یا اعلانیہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے خوب سنتا ہے۔ بندے کے دل میں جو اچھی یا بری نیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم و حکمت اور بندوں کے مصالح کے مطابق ان کی تقدیر مقرر کرتا ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق جزا دیتا ہے۔

[18]﴿ ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ فتح و نصرت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ ﴿ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوۡهِنُ كَيۡدِ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور بلاشبہ اللہ کافروں کی تدبیر کو کمزور کردینے والا ہے۔‘‘ یعنی کفار اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو مکر و فریب اور سازشیں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی چالوں کو کمزور کرتا ہے اور انھی کو ان کی چالوں میں پھنسا دیتا ہے۔

[19]﴿ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم چاہتے ہو فیصلہ‘‘ اے مشرکو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرتے ہو کہ وہ ظلم و تعدی کا ارتکاب کرنے والوں پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ ﴿ فَقَدۡ جَآءَكُمُ الۡفَتۡحُ﴾ ’’تو تحقیق آچکا تمھارے پاس فیصلہ‘‘ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا عذاب نازل کیا جو تمھارے لیے سزا اور متقین کے لیے عبرت ہے ﴿ وَاِنۡ تَنۡتَهُوۡا ﴾ ’’اور اگر تم باز آجاؤ۔‘‘ یعنی اگر تم …

Al-Anfaal 8:19Listen in Qur'an →
20

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اطاعت کرو اللہ کی اوراس کے رسول کی اورنہ منہ پھیرو تم اس سے، جبکہ تم سن رہے ہو(20) اورنہ ہوتم مانند ان لوگوں کی جنھوں نے کہا تھا سن لیا ہم نے حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے(21)

[20] چونکہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں جن سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ ﴾ ’’اے ایمان والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی‘‘ یعنی ان کے اوامر کی پیروی اور ان کے نواہی سے اجتناب کر کے ﴿ وَلَا تَوَلَّوۡا عَنۡهُ ﴾ ’’اور اس سے روگردانی نہ کرو۔‘‘ یعنی اس معاملے سے منہ نہ موڑو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہے۔ ﴿ وَاَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم سنتے ہو۔‘‘ حالانکہ تم پر اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے اوامر، اس کی وصیتوں اور اس کی نصیحتوں کی جو تلاوت کی جاتی ہے، تم اسے سنتے ہو۔ اس حال میں تمھارا اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ موڑنا بدترین حال ہے۔

[21]﴿ وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنھوں نے کہا ہم نے سن لیا اور وہ سنتے نہیں ‘‘ یعنی مجرد خالی خولی دعووں پر اکتفا نہ کرو جن کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ یہ ایسی حالت ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول راضی نہیں ۔ ایمان محض تمناؤں اور دعوؤں سے مزین ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔

Al-Anfaal 8:20Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.