Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 11–20 of 75

11

إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةًۭ مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے

خلاصہ تفسیر - اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم پر اونگ طاری کر رہا تھا اپنی طرف سے چین دینے کے لئے اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس پانی کے ذریعہ تم کو ( بےوضو یا بےغسل ہونے کی حالت سے) پاک کردے اور ( تاکہ اس کے ذریعہ) تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کردے اور ( تاکہ) تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور (تاکہ) تمہارے پاؤں جمادے ( یعنی تم ریگ میں نہ دھسو) اس وقت کو یاد کرو جب کہ آپ کا رب ( ان) فرشتوں کو ( جو امداد کے لئے نازل ہوئے تھے) حکم دیتا تھا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں تو ایمان والوں کی ہمت بڑھاؤ میں ابھی کفار کے قلوب میں رعب ڈالے دیتا ہوں سو تم کفار کی گردنوں پر ( حربہ) مارو اور ان کے پور پور کو مارو۔ یہ اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ( اس کو سخت سزا دیتے ہیں ( خواہ دنیا میں کسی حکمت سے یا آخرت میں یا دونوں میں) سو ( بالفعل) یہ سزا چکھو اور جان رکھو کہ کافروں کے لئے جہنم کا عذاب مقرر ہی ہے۔

Al-Anfaal 8:11Listen in Qur'an →
12

إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ أَنِّى مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ سَأُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ فَٱضْرِبُوا۟ فَوْقَ ٱلْأَعْنَاقِ وَٱضْرِبُوا۟ مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍۢ

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

معارف ومسائل - شروع سورة انفال سے اللہ تعالیٰ کے ان انعامات کا بیان ہو رہا ہے جو اس کے فرمانبردار بندوں پر مبزول ہوئے۔ غزوہ بدر کے واقعات بھی اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔ غزوہ بدر میں جو انعامات حق تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئے ان میں سے پہلا انعام تو خود اس جہاد کے لئے مسلمانوں کو نکالنا ہے جس کا بیان (آیت) كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ میں ہوا ہے، دوسرا انعام فرشتوں کی مدد کا وعدہ ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ میں آیا ہے۔ تیسرا انعام دعا کی قبولیت اور مدد کا وعدہ پوا کرنا ہے جس کا ذکر (آیت) اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ ، میں ہوا ہے۔ مذکور الصدر آیات میں سے پہلی آیت میں چوتھے انعام کا تذکرہ ہے جس میں مسلمانوں کے لئے دو نعمتوں کا ذکر ہے ایک سب پر نیند غالب آکر پریشانی اور تکان کا دور ہوجانا دوسرے بارش کے ذریعہ ان کے لئے پانی مہیا فرمانا اور میدان جنگ کو ان کے لئے ہموار اور دشمن کے لئے دلدل بنادینا۔ - تفصیل اس واقعہ کی یہ ہے کہ جس وقت کفر و اسلام کا یہ پہلا معرکہ ٹھن گیا تو کفار مکہ کا لشکر پہلے پہنچ کر ایک ایسے مقام پر پڑاؤ ڈال چکا تھا جو اونچائی پر تھا۔ پانی اس کے قریب تھا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام اس جگہ پہنچے تو وادی کے نچلے حصہ میں جگہ ملی۔ قرآن کریم نے اس میدان جنگ کا نقشہ اسی سورت کی بیالیسویں آیت میں اس طرح کھینچا ہے (آیت) اِذْ اَنْتُمْ بالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي، جس کا مفصل بیان بعد میں آئے گا۔ - جس جگہ پہنچ کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اول قیام فرمایا۔ اس مقام کے واقف کار حضرت حباب بن منذر نے اس کو جنگی اعتبار سے نامناسب سمجھ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ جو مقام آپ نے اختیار فرمایا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے جس میں ہمیں کوئی اختیار نہیں یا محض رائے اور مصلحت کے پیش نظر اختیار فرمایا گیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں یہ کوئی حکم خداوندی نہیں، اس میں تغیر و تبدل کیا جاسکتا ہے، تب حضرت حباب بن منذر نے عرض کیا کہ پھر تو بہتر ہے کہ اس مقام سے آگے بڑھ کر مکی سرداروں کے لشکر کے قریب ایک پانی کا مقام ہے اس پر قبضہ کیا جائے وہاں ہمیں پانی افراط کے ساتھ مل جائے گا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا مشورہ قبول فرمایا اور وہاں جاکر پانی پر قبضہ کیا ایک حوض پانی کے لئے بنا کر اس میں پانی کا ذخیرہ جمع فرمایا۔- اس سے مطمئن ہونے کے بعد حضرت سعد بن معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہم آپ کے لئے ایک سایہ بان کسی محفوظ جگہ میں بنادیں جہاں آپ مقیم رہیں اور آپ کی سواریاں بھی آپ کے پاس رہیں۔ - منشاء اس کا یہ ہے کہ ہم دشمن کے مقابلہ میں جہاد کریں گے اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب فرمائی تو یہی مقصد ہے اور اگر خدانخواستہ کوئی دوسری صورت ہو تو آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر ان صحابہ کرام کے ساتھ جاملیں جو مدینہ طیبہ میں رہ گئے ہیں کیونکہ میرا گمان یہ ہے کہ وہ لوگ بھی جانثاری اور آپ سے محبت میں ہم سے کم نہیں اور اگر ان کو آپ کے نکلنے کے وقت یہ خیال ہوتا کہ آپ کا اس مصلح لشکر سے مقابلہ ہوگا تو ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہتا، آپ مدینہ میں پہنچ جائیں گے تو وہ آپ کے رفیق کار رہیں گے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس جانبازانہ پیش کش پر دعائیں دیں۔ اور ایک مختصر سا سایہ بان آپ کے لئے بنادیا گیا جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صدیق اکبر کے سوا کوئی نہ تھا۔ حضرت معاذ دروازہ پر حفاظت کے لئے تلوار لئے کھڑے تھے۔- معرکہ کی پہلی رات تھی۔ تین سو تیرہ بےسامان لوگوں کا مقابلہ اپنے سے تین گنی تعداد یعنی ایک ہزار مصلح فوج سے تھا۔ میدان جنگ کا بھی اچھا مقام ان کے قبضہ میں آچکا تھا۔ نچلا حصہ وہ بھی سخت ریتیلا جس میں چلنا دشوار مسلمانوں کے ہاتھ آیا …

Al-Anfaal 8:12Listen in Qur'an →
13

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

Explained together with ayah 12

Al-Anfaal 8:13Listen in Qur'an →
14

ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے

Explained together with ayah 12

Al-Anfaal 8:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ زَحْفًۭا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلْأَدْبَارَ

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والوں جب تم کافروں سے ( جہاد میں) دو بدو مقابل ہوجاؤ تو ان سے پشت مت پھیرنا ( یعنی جہاد سے مت بھاگنا) اور جو شخص ان سے اس موقع پر ( یعنی مقابلہ کے وقت) پشت پھیرے گا مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا جو اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائے گا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے ( فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ الایة کے اندر بھی ایک قصہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ آپ نے بدر کے روز ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھا کر کافروں کی طرف پھینکی جس کے ریزے سب کی آنکھوں میں جاگرے اور ان کو شکست ہوئی اور فرشتوں کا امداد کے لئے آنا اوپر آچکا ہے اس پر بطور تفریع فرماتے ہیں کہ جب ایسے عجیب واقعات ہوئے جو کہ بالکل تمہارے اختیار سے خارج ہیں) سو ( اس سے معلوم ہوا کہ تاثیر حقیقی کے مرتبہ میں) تم نے ان ( کافروں) کو قتل نہیں کیا لیکن ( ہاں اس مرتبہ میں) اللہ تعالیٰ نے ( بیشک) ان کو قتل کیا ( یعنی موثر حقیقی اس کی قدرت ہے) اور ( اسی طرح تاثیر حقیقی کے مرتبہ میں) آپ نے خاک کی مٹھی ان کی طرف) نہیں پھینکی، لیکن ( ہاں اس مرتبہ میں) اللہ تعالیٰ نے (واقعی) وہ پھینکی اور ( باوجود اس کے کہ موثر حقیقی قدرت حق ہے پھر جو آثار قتل وغیرہ کو قدرت عبد پر مرتب فرما دیا تو اسمیں حکمت یہ ہے کہ) تاکہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے ( ان کے عمل کا) خواب اجر دے ( اور اجر کا ملنا حسب سنت الہیہ موقوف ہے اس پر کہ فعل ان کے عزم و اختیار سے صادر ہو) بلا شبہ اللہ تعالیٰ ( ان مومنین کے اقوال کے) خوب سننے والے ( اور ان کے افعال و احوال کے) خوب جاننے والے ہیں ( ان اقوال استغاثہ اور افعال قتال و احوال تشویش وغیرہا میں جو ان کو محنت پیش آئی ہم کو اس کی اطلاع ہے ان کو اس پر جزا دیں گے) ایک بات تو یہ ہوئی اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کافروں کی تدبیر کا کمزور کرنا تھا ( اور زیادہ کمزوری اس وقت ظاہر ہوئی ہے جب اپنے برابر والے کے بلکہ اپنے سے کمزور کے ہاتھ سے مغلوب ہوجائے اور یہ بھی موقوف ہے اس پر کہ وہ آثار مؤمنین کے ہاتھ سے ظاہر ہوں ورنہ کہہ سکتے تھے کہ تدابیر تو ہماری قوی تھیں لیکن اقوی کے سامنے کہ تدبیر الہی ہے نہ چل سکیں تو اس سے آئندہ مسلمانوں کے مقابلہ میں ان کا حوصلہ پست نہ ہو کیونکہ ان کو تو ضعیف ہی سمجھتے) اگر تم لوگ فیصلہ چاہتے ہو تو وہ فیصلہ تو تمہارے پاس آموجود ہوا (جو حق پر تھا اس کو غلبہ ہوگیا) اور اگر (اب حق زیادہ واضح ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت سے) باز آجاؤ تو یہ تھمارے لئے نہایت خوب ہے اور اگر (اب بھی باز نہ آئے بلکہ) تم پھر وہی کام کرو گے (یعنی مخالفت) تو ہم بھی پھر یہی کام کریں گے (یعنی تم کو مغلوب اور مسلمانوں کو غالب کردینا) اور (اگر تم کو اپنی جمعیت کا گھمنڈ ہو کہ اب کی بار اس سے زیادہ جمع کرلیں گے تو یاد رکھو کہ) تمہاری جمعیت تمہارے ذرا بھی کام نہ آئے گی گو کتنی زیادہ ہو اور واقعی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ (اصل میں) ایمان والوں کے ساتھ (یعنی ان کا مددگار) ہے (گو کسی عارض کی وجہ سے کسی وقت ان کے غلبہ کا ظہور نہ ہو لیکن اصل محل غلبہ کے یہی ہیں اس لئے ان سے مقابلہ کرنا اپنا نقصان کرنا ہے) ۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ میں سے پہلی دو آیتوں میں اسلام کا ایک جنگی قانون بتلایا گیا ہے پہلی آیت میں لفظ زحف سے مراد دونوں لشکروں کا مقابلہ اور اختلاط ہے۔ معنی یہ ہیں کہ ایسی جنگ چھڑ جانے کے بعد پشت پھیرنا اور میدان سے بھاگنا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔- دوسری آیت میں اس حکم سے ایک استثناء کا ذکر اور ناجائز طور پر بھاگنے والوں کے عذاب شدید کا بیان ہے۔

Al-Anfaal 8:15Listen in Qur'an →
16

وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفًۭا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍۢ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

استثناء دو حالتوں کا ہے (آیت) اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ یعنی جنگ کے وقت پشت پھیرنا صرف دو حالتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ میدان سے پشت پھیرنا محض ایک جنگی چال کے طور پر دشمن کو دکھلانے کے لئے ہو حقیقتہ میدان سے ہٹنا مقصد نہ ہو بلکہ مخالف کو ایک غفلت میں ڈال کر یکبارگی حملہ پیش نظر ہو یہ معنی ہیں اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ کے کیونکہ تحرف کے معنی کسی ایک جانب مائل ہونے کے آتے ہیں۔ (روح المعانی) - دوسری استشنائی حالت جس میں میدان سے پشت پھیرنے کی اجازت ہے یہ ہے کہ اپنے موجودہ لشکر کی کمزوری کا احساس کرکے اس لئے پیچھے ہٹیں کہ مجاہدین کی مزید کمک حاصل کرکے پھر حملہ آور ہوں۔ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ کے یہی معنی ہیں کیونکہ تحیز کے لفظی معنی انضمام اور ملنے کے ہیں اور فہ کے معنی جماعت کے، مطلب یہ ہے کہ اپنی جماعت سے مل کر قوت حاصل کرنے اور پھر حملہ کرنے کی نیت سے میدان چھوڑے تو یہ جائز ہے۔- یہ استثناء ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کی سزا کا ذکر ہے جنہوں نے استثنائی حالات کے بغیر ناجائز طور پر میدان چھوڑا یا پشت موڑی۔ ارشاد ہے (آیت) فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ۔ یعنی میدان سے بھاگنے والے اللہ تعالیٰ کا غضب لے کر لوٹے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔- ان دونوں آیتوں میں سے یہ حکم معلوم ہوا کہ فریق مقابل کتنی ہی زیادہ تعداد اور قوت و شوکت میں ہو مسلمانوں کو ان کے مقابلہ سے پشت پھیرنا حرام ہے بجز دو استثنائی صورتوں کے یہ کہ پشت پھیرنا بھاگنے کے لئے نہ ہو بلکہ یا تو پینترا بدلنے کے طور پر ہو اور یا کمک حاصل کرکے دوبارہ حملہ کرنے کے قصد سے ہو۔ - غزوہ بدر میں یہ آیتیں نازل ہوئیں اس وقت یہی حکم عام تھا کہ خواہ کتنی بڑی تعداد سے مقابلہ ہوجائے اور اپنی تعداد سے ان کی کوئی نسبت نہ ہو پھر بھی پشت پھیرنا اور میدان چھوڑنا جائز نہیں۔ میدان بدر میں یہی صورت تھی کہ تین سو تیرہ کا مقابلہ تگنی تعداد یعنی ایک ہزار سے ہو رہا تھا۔ بعد میں تخفیف کے احکام سورة انفال کی آیت (٦٥) اور (٦٦) میں نازل ہوئے آیت (٦٥) میں بیس مسلمانوں کو دو سو کافروں کے اور سو مسلمانوں کو ایک ہزار کافروں کے مقابلہ میں جہاد کرنے کا حکم ہے اور آیت (٦٦) میں مزید تخفیف کا یہ قانون نازل ہوگیا۔ (آیت) اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِيْكُمْ ضَعْفًا ۭفَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَّغْلِبُوْا مِائَتَيْنِ ۔ یعنی اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے آسانی کردی اور تمہارے ضعف کے پیش نظر یہ قانون جاری کردیا کہ اگر مسلمان سو آدمی ثابت قدم ہوں تو دو سو کفار پر غالب آسکیں گے۔ اس میں اشارہ کردیا کہ اپنے سے دوگنی تعداد تک تو مسلمانوں ہی کے غالب رہنے کی توقع ہے اس لئے پشت پھیرنا جائز نہیں۔ ہاں فریق مخالف کی تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوجائے تو ایسی حالت میں میدان چوڑ دینا جائز ہے۔- حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ جو شخص اکیلا تین آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگا وہ بھاگا نہیں ہاں جو دو آدمیوں کے مقابلہ سے بھاگا وہ بھاگنے والا ہے یعنی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے (روح البیان) اب یہی حکم قیامت تک باقی ہے جمہور امت اور ائمہ اربعہ کے نزدیک حکم شرعی یہی ہے کہ جب تک فریق مخالف کی تعداد دوگنی سے زائد نہ ہو اس وقت تک میدان جنگ سے بھاگنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔- صحیحین میں بروایت حضرت ابوہریرہ منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات کاموں کو انسان کے لئے مہلک فرمایا ان میں میدان جنگ سے بھاگنا بھی شمار فرمایا۔ اور غزوہ حنین کے واقعہ میں صحابہ کرام کی ابتدائی پسپائی کو قرآن کریم نے شیطانی لغزش قرار دیا جو اس کے گناہ عظیم ہونے کی دلیل ہے ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ …

Al-Anfaal 8:16Listen in Qur'an →
17

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

بالکل مایوسی اور ناامیدی کے عالم میں یہ فتح عظیم مسلمانوں کو حاصل ہوئی میدان جنگ سے واپس آکر آپس میں گفتگوئیں شروع ہوئیں صحابہ کرام اپنے اپنے کارنامے ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ ، جس میں ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ اپنی سعی و عمل پر ناز نہ کرو یہ جو کچھ ہوا وہ صرف تمہاری محنت و کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص حق تعالیٰ کی نصرت و امداد کا ثمرہ تھا۔ جو دشمن تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے ان کو درحقیقت تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے قتل کیا ہے۔ - اسی طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرکے ارشاد ہوا۔ (آیت) وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى۔ یعنی یہ مٹھی کنکریوں کی جو آپ نے پھینکی وہ درحقیقت آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پھینکنے کا یہ نتیجہ کہ لشکر دشمن کے ہر فرد کی آنکھوں میں پہنچ کر سب کو سراسیمہ کردے یہ آپ کے پھینکنے کا اثر نہیں تھا بلکہ حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ صورت پیدا فرمائی۔ - مارمیت اذ رمیت گفت حق کا رما بر کارہا دارد سبق - غور کیا جائے تو مسلمانوں کے لئے جہاد کی فتح و کامیابی سے زیادہ قیمتی یہ ہدایت تھی جس نے ان کے ذہنوں کو اسباب سے پھیر کر مسبب الاسباب سے وابستہ کردیا اور اس کے ذریعہ اس فخر و عجب کی خرابی سے بچا لیا جس کے نشہ میں عموما فاتح اقوام مبتلا ہوجایا کرتی ہیں۔ اور اس کے بعد یہ بتلایا کہ فتح و شکست ہمارے حکم کے تابع ہیں۔ اور ہماری فتح و نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اطاعت گزار ہوں۔ (آیت) وَلِيُبْلِيَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا، یعنی یہ فتح عظیم ہم نے اس لئے دی کہ مومنین کو ان کی محنت کا پورا صلہ دے دے۔ بلاء کے لفظی معنی امتحان کے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا امتحان کبھی مصیبت و مشقت میں مبتلا کرکے ہوتا ہے اور کبھی راحت و دولت دے کر۔ بلاء حسن اس امتحان کو کہا گیا ہے جو راحت، دولت اور فتح و نصرت دے کرلیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کو ہمارا انعام سمجھ کر شکر گزار ہوتے ہیں یا اس کو اپنی ذاتی قابلیت کا اثر سمجھ کر فخر و ناز میں مبتلا ہوجاتے اور اپنے عمل کو برباد کردیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی کے فخر و ناز کی کوئی گنجائش نہیں ہے بقول مولانارومی :- فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ

Al-Anfaal 8:17Listen in Qur'an →
18

ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ ٱلْكَٰفِرِينَ

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

چوتھی آیت میں اس کے بالمقابل اس فتح کا ایک اور فائدہ بھی یہ بتلایا گیا کہ (آیت) ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ ۔ یعنی یہ فتح و نصرت اس لئے بھی مسلمانوں کو دی گئی کہ اس کے ذریعہ کافروں کی تدبیروں کو ناکام اور ناکارہ بنادیا جائے۔ جس سے وہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں۔ اور کوئی تدبیرب غیر اللہ تعالیٰ کی مدد کے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ - پانچویں آیت میں شکست خوردہ قریشی کفار کو خطاب اور ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو قریشی لشکر کے مسلمانوں کے مقابلہ پر مکہ سے نکلنے کے وقت پیش آیا تھا۔ وہ یہ کہ جب قریشی کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے تیار ہوگیا تو مکہ سے نکلنے سے پہلے لشکر کے سردار ابو جہل وغیرہ نے بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر دعائیں مانگی تھیں، اور عجیب بات یہ ہے کہ اس دعا میں انہوں نے اپنی فتح کی دعا کرنے کے بجائے عام الفاظ میں اس طرح دعا مانگی :- یا اللہ دونوں لشکروں میں سے جو اعلی و افضل ہے اور دونوں جماعتوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہے اور دونوں پارٹیوں میں سے جو زیادہ کریم و شریف ہے اور دونوں میں سے جو دین افضل ہے اس کو فتح دیجئے۔ ( مظہری)

Al-Anfaal 8:18Listen in Qur'an →
19

إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے

یہ بیوقوف تو یوں سمجھ رہے تھے کہ بمقابلہ مسلمانوں کے ہم ہی اعلی و افضل اور زیادہ ہدایت پر ہیں اس لئے یہ دعا ہمارے حق میں ہے اور اس دعا کے ذریعہ وہ یہ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق و باطل کا فیصلہ ہوجائے۔ اور جب ہم فتح پائیں تو یہ گویا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے حق پر ہونے کا فیصلہ ہوگا۔ - مگر ان کو یہ خبر نہ تھی کہ اس دعا میں درحقیقت وہ اپنے لئے بددعا اور مسلمانوں کے لئے دعا کر رہے ہیں انجام جنگ سامنے آنے کے بعد قرآن کریم نے ان کو بتلایا (آیت) اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ، یعنی اگر تم خدائی فیصلہ چاہتے ہو تو وہ سامنے آچکا کہ حق کو فتح اور باطل کو شکست ہوگئی۔ (آیت) وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ اور اگر تم اب بھی اپنے کفر وعناد سے باز آگئے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے (آیت) وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ اور اگر تم پھر اپنی شرارت اور جنگ کی طرف لوٹے تو ہم بھی مسلمانوں کی امداد کی طرف لوٹیں گے۔ (آیت) وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ یعنی تمہاری جماعت اور جتھا کتنا ہی زیادہ ہو اللہ تعالیٰ کی نصرت کے مقابلہ میں تمہیں کچھ کام نہ دے گا۔ (آیت) وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤ ْمِنِيْنَ یعنی کوئی جماعت تمہیں کیا کام دے سکتی ہے جب کہ قادر مطلق اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے۔

Al-Anfaal 8:19Listen in Qur'an →
20

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو اللہ کا کہنا مانو اور اس کے رسول کا اور اس کہنا ماننے سے روگردانی مت کرو اور تم ( اعتقاد سے) سن تو لیتے ہی ہو ( یعنی جیسا اعتقاد سے سن لیتے ہو ایسا ہی عمل بھی کیا کرو) اور تم ترک اطاعت میں) ان لوگوں کی طرح مت ہونا جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم نے سن لیا ( جیسا کفار کہ مطلق سماع کے اور منافقین سماع مع الاعتقاد کے مدعی تھے) حالانکہ وہ سنتے سناتے کچھ نہیں ( کیونکہ تفہم اور اعتقاد دونوں میں مفقود ہے مطلب یہ کہ ثمرہ اعتقاد سننے کا عمل ہے جب عمل نہ ہوا تو بعض وجوہ سے مشابہ اسی کے ہوگیا کہ جیسے اعتقاد کے ساتھ سنا ہی نہیں جس کو تم بھی سخت مزموم جانتے ہو) بیشک یہ بات ضرور ہے کہ اعتقاد سے سن کر عمل نہ کرنے والے اور ایک بلا اعتقاد سننے والے جو مثل نہ سننے کے ہے برے ہونے میں متفاوت ضرور ہیں کیونکہ کافر اور عاصی برابر نہیں چنانچہ) بدترین خلائق اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جو ( حق بات کو اعتقاد کے ساتھ سننے سے) بہرے ہیں ( اور حق بات کے کہنے سے) گونگے ہیں ( اور) جو کہ ( حق بات کو) ذرا نہیں سمجھتے ( اور باوجود اعتقاد کے جن سے عمل میں کوتاہی ہوجاتی ہے وہ بدتر نہیں ہیں گو بد ہیں سو بد بھی نہ ہونا چاہئے) اور ( جن کا حال مذکور ہوا کہ وہ اعتقاد سے نہیں سنتے وجہ اس کی یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی خوبی کی کسر ہے اور وہ خوبی طلب حق ہے کیونکہ مبدأ اعتقاد کا بھی طلب اور تلاش ہے گو اس وقت اعتقاد نہ ہو مگر کم از کم تردد تو ہو پھر اسی تردد و طلب کی برکت سے حق واضح ہوجاتا ہے اور وہ تردد اعتقاد بن جاتا ہے جس پر سماع کا نافع ہونا موقوف ہے سو ان میں یہی خوبی مفقود ہے چنانچہ) اگر اللہ تعالیٰ ان میں کوئی خوبی دیکھتے ( مراد یہ کہ ان میں وہ خوبی مذکورہ ہوتی کیونکہ خوبی کے وجود کے وقت علم الہی کا تعلق لازم ہے پس لازم بول کر ملزوم مراد لے لیا اور کوئی خوبی اس لئے کہا کہ جب ایسی خوبی نہیں جس پر مدار نجات ہے تو گویا کوئی خوبی بھی نہیں یعنی اگر ان میں طلب حق ہوتی) تو ( اللہ تعالی) ان کو ( اعتقاد کے ساتھ) سننے کی توفیق دیتے ( جیسا مذکور ہوا کہ طلب سے اعتقاد پیدا ہوجاتا ہے) اور اگر ( اللہ تعالیٰ ) ان کو اب ( حالت موجودہ میں کہ ان میں طلب حق نہیں ہے) سنا دیں ( جیسا کہ گاہ گاہ ظاہری کانوں سے سن ہی لیتے ہیں) تو ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے ( یعنی یہ نہیں کہ تامل و تدبر کے بعد بوجہ ظہور غلطی کے روگردانی کی ہو کیونکہ یہاں غلطی کا نام و نشان ہی نہیں بلکہ غضب تو یہ ہے کہ ادھر توجہ ہی نہیں کرتے اور) اے ایمان والو ( ہم نے جو اوپر تم کو اطاعت کا حکم کیا ہے تو یاد رکھو اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے کہ وہ حیات ابدی ہے جب یہ بات ہے تو) تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو جب کہ رسول ( جن کا ارشاد خدا ہی کا ارشاد ہے) تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف ( یعنی دین کی طرف جس سے زندگی جاوید میسر ہوتی ہے) بلاتے ہوں ( تو اس حالت میں جب کہ ہر طرح تمہارا ہی فائدہ ہے کوئی وجہ نہیں کہ تم عمل نہ کرو) اور ( اس کے متعلق دو باتیں اور) جان رکھو ( ایک بات یہ) کہ اللہ تعالیٰ آڑ بن جایا کرتا ہے آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان میں ( دو طریق سے ایک طریق یہ کہ مومن کے قلب میں اطاعت کی برکت سے کفر و معصیت کو نہیں آنے دیتا دوسرا طریق یہ کہ کافر کے قلب میں مخالف کی نحوست سے ایمان و اطاعت کو نہیں آنے دیتا اس سے معلوم ہوا کہ اطاعت کی مداومت بڑی نافع چیز ہے اور مخالفت کی مواظبت بڑی مضر چیز ہے) اور ( دوسری بات یہ جان رکھو کہ) بلاشبہ تم سب کو خدا ہی کے پاس جمع ہونا ہے ( اس وقت اطاعت پر جزا اور مخالفت پر سزا ہوگی اس سے بھی اطاعت کا نافع ہونا اور مخالفت کا مضر ہونا ثابت ہوا)- معارف ومسائل - غزوہ بدر جس کا واقعہ پھچلی آیات میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے اس میں اہل اسلام اور کفار دونوں کے لئے …

Al-Anfaal 8:20Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.