Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 11–20 of 75

11

إِذْ يُغَشِّيكُمُ ٱلنُّعَاسَ أَمَنَةًۭ مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ لِّيُطَهِّرَكُم بِهِۦ وَيُذْهِبَ عَنكُمْ رِجْزَ ٱلشَّيْطَٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ ٱلْأَقْدَامَ

جب اس نے (تمہاری) تسکین کے لیے اپنی طرف سے تمہیں نیند (کی چادر) اُڑھا دی اور تم پر آسمان سے پانی برسادیا تاکہ تم کو اس سے (نہلا کر) پاک کر دے اور شیطانی نجاست کو تم سے دور کردے۔ اور اس لیے بھی کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کردے اور اس سے تمہارے پاؤں جمائے رکھے

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔

Al-Anfaal 8:11Listen in Qur'an →
12

إِذْ يُوحِى رَبُّكَ إِلَى ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ أَنِّى مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ سَأُلْقِى فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلرُّعْبَ فَٱضْرِبُوا۟ فَوْقَ ٱلْأَعْنَاقِ وَٱضْرِبُوا۟ مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍۢ

جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رعب وہیبت ڈالے دیتا ہوں تو ان کے سر مار (کر) اڑا دو اور ان کا پور پور مار (کر توڑ) دو

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔

Al-Anfaal 8:12Listen in Qur'an →
13

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَآقُّوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ وَمَن يُشَاقِقِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

یہ (سزا) اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔

Al-Anfaal 8:13Listen in Qur'an →
14

ذَٰلِكُمْ فَذُوقُوهُ وَأَنَّ لِلْكَٰفِرِينَ عَذَابَ ٱلنَّارِ

یہ (مزہ تو یہاں) چکھو اور یہ (جانے رہو) کہ کافروں کے لیے (آخرت میں) دوزخ کا عذاب (بھی تیار) ہے

بدر کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلّح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر بعض مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے ليے وہ اپنی زندگی ویران کررہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا۔ کیوں اسباب کے اعتبار سے دشمن برتر نظر آرهے هيں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا بنا کر بارش کا پانی جمع کرلیا۔ دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پاني سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے ليے آسمان سے پانی کا انتظام کردیا۔ اسی طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کردی۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے ليے بہت ضروری ہے۔ مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کردی۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سوگئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے — جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کرديے کہ ان کے اندر نیا یقین واعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بد دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنانِ حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ اور جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہوجائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچاسکتی۔

Al-Anfaal 8:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ زَحْفًۭا فَلَا تُوَلُّوهُمُ ٱلْأَدْبَارَ

اے اہل ایمان جب میدان جنگ میں کفار سے تمہار مقابلہ ہو تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا

اسلام اور غیر اسلام کا ٹکراؤ جب جنگ کے میدان تک پہنچ جائے تو یہ گویا دونوں فریقوں کے ليے آخری فیصلہ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے نازک لمحہ میں اگر کوئی شخص یا گروہ ایسا کرے کہ عین معرکہ کے وقت وہ میدان چھوڑ کر بھاگے تو اس نے بدترین جرم کیا۔ ایک طرف اس نے حق کو بچانے کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بچانے کو زیادہ اہم سمجھا، اس نے اپنے مقصد کے مقابلہ میں اپنی ذات کو ترجیح دی۔ اور یہ سب کچھ اس نے اس وقت کیا جب کہ اس حق کی زندگی کی بازی لگی ہوئی تھی جس کو اعلیٰ ترین صداقت قرار دے کر وہ اس پر ایمان لایا تھا۔

دوسرے یہ کہ ایسے نازک موقع پر اکثر ایک چھوٹا سا واقعہ بہت بڑے واقعہ کا سبب بن جاتاہے۔ ایک شخص یا ایک گروہ کا میدان چھوڑ کر بھاگنا پوری فوج کا حوصلہ توڑ دیتاہے۔ ایک شخص کی بھگدڑ بالآخر عام بھگدڑ کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور ہنگامی حالات میں جب کسی مجمع میں عام بھگدڑ شروع ہوجائے تو وہ اپنی آخری حد پر پہنچنے سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔

اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورت ہے جب کہ کوئی سپاهی یا سپاہیوں کا کوئی دستہ جنگی تدبیر کے ليے پیچھے ہٹتاہے یا وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر کسی دوسرے مورچہ کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ فرار کے طور پر اگر کوئی پیچھے ہٹتا ہے تو وہ بلا شبہ ناقابل معافی جرم کرتاہے۔ مگر جو پیچھے ہٹنا تدبیر جنگ سے تعلق رکھتا ہو، وہ جائز ہے۔ اس کے ليے آدمی پر کوئی الزام نہیں۔

مذکورہ حکم اصلاً جنگ سے متعلق ہے۔ تاہم دوسری مشابہ صورتیں بھی درجہ بدرجہ اسی کے ذیل میں آسکتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص بے آمیز اسلام کے خاموش اور تعمیری عمل کی طرف لوگوں کو پکارے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دیکھے کہ اس کی دعوت لوگوں میں زیادہ مقبول نہیں ہورہی ہے تو وہ بے صبري کا شکار ہو جائے اور خاموش تعمیر کے محاذ کو چھوڑ کر ایسے اسلام کی طرف دوڑے جس کے ذریعے عوام میں بہت جلد شہرت اور مرتبہ حاصل کیا جاسکتاہے۔

جنگ کے میدان سے بھاگنا شعور اور ارادہ کے تحت ہوتا ہے۔ مگر جنگی میدان کے باہر جو معرکہ جاری ہے اس سے ’’بھاگنا‘‘ ایک غیر شعوری واقعہ هے۔ آدمی طبعی طورپر نتیجہ پسند واقع ہوا ہے۔ وہ اپنے کام کا اعتراف چاہتا ہے۔ اس کا یہ مزاج غیر شعوری طورپر اس کو ان کاموں سے ہٹا دیتا ہے جن میں فوری نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ وہ اپنے اندر کام کرنے والے غیر شعوری اثرات کے تحت ان چیزوں کی طرف کھنچ اٹھتا ہے جن میں بظاہر یہ امید ہو کہ فوراً عزت وکامیابی حاصل ہوجائے گی۔ اس قسم کا ہر انحراف اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی نوعیت کی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں میدان مقابلہ سے بھاگنا کہاگیا ہے۔

Al-Anfaal 8:15Listen in Qur'an →
16

وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ دُبُرَهُۥٓ إِلَّا مُتَحَرِّفًۭا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍۢ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ

اور جو شخص جنگ کے روز اس صورت کے سوا کہ لڑائی کے لیے کنارے کنارے چلے (یعنی حکمت عملی سے دشمن کو مارے) یا اپنی فوج میں جا ملنا چاہے۔ ان سے پیٹھ پھیرے گا تو (سمجھو کہ) وہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوگیا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے

اسلام اور غیر اسلام کا ٹکراؤ جب جنگ کے میدان تک پہنچ جائے تو یہ گویا دونوں فریقوں کے ليے آخری فیصلہ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے نازک لمحہ میں اگر کوئی شخص یا گروہ ایسا کرے کہ عین معرکہ کے وقت وہ میدان چھوڑ کر بھاگے تو اس نے بدترین جرم کیا۔ ایک طرف اس نے حق کو بچانے کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بچانے کو زیادہ اہم سمجھا، اس نے اپنے مقصد کے مقابلہ میں اپنی ذات کو ترجیح دی۔ اور یہ سب کچھ اس نے اس وقت کیا جب کہ اس حق کی زندگی کی بازی لگی ہوئی تھی جس کو اعلیٰ ترین صداقت قرار دے کر وہ اس پر ایمان لایا تھا۔

دوسرے یہ کہ ایسے نازک موقع پر اکثر ایک چھوٹا سا واقعہ بہت بڑے واقعہ کا سبب بن جاتاہے۔ ایک شخص یا ایک گروہ کا میدان چھوڑ کر بھاگنا پوری فوج کا حوصلہ توڑ دیتاہے۔ ایک شخص کی بھگدڑ بالآخر عام بھگدڑ کی صورت اختیار کرلیتی ہے اور ہنگامی حالات میں جب کسی مجمع میں عام بھگدڑ شروع ہوجائے تو وہ اپنی آخری حد پر پہنچنے سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔

اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورت ہے جب کہ کوئی سپاهی یا سپاہیوں کا کوئی دستہ جنگی تدبیر کے ليے پیچھے ہٹتاہے یا وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر کسی دوسرے مورچہ کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ فرار کے طور پر اگر کوئی پیچھے ہٹتا ہے تو وہ بلا شبہ ناقابل معافی جرم کرتاہے۔ مگر جو پیچھے ہٹنا تدبیر جنگ سے تعلق رکھتا ہو، وہ جائز ہے۔ اس کے ليے آدمی پر کوئی الزام نہیں۔

مذکورہ حکم اصلاً جنگ سے متعلق ہے۔ تاہم دوسری مشابہ صورتیں بھی درجہ بدرجہ اسی کے ذیل میں آسکتی ہیں۔ مثلاً ایک شخص بے آمیز اسلام کے خاموش اور تعمیری عمل کی طرف لوگوں کو پکارے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دیکھے کہ اس کی دعوت لوگوں میں زیادہ مقبول نہیں ہورہی ہے تو وہ بے صبري کا شکار ہو جائے اور خاموش تعمیر کے محاذ کو چھوڑ کر ایسے اسلام کی طرف دوڑے جس کے ذریعے عوام میں بہت جلد شہرت اور مرتبہ حاصل کیا جاسکتاہے۔

جنگ کے میدان سے بھاگنا شعور اور ارادہ کے تحت ہوتا ہے۔ مگر جنگی میدان کے باہر جو معرکہ جاری ہے اس سے ’’بھاگنا‘‘ ایک غیر شعوری واقعہ هے۔ آدمی طبعی طورپر نتیجہ پسند واقع ہوا ہے۔ وہ اپنے کام کا اعتراف چاہتا ہے۔ اس کا یہ مزاج غیر شعوری طورپر اس کو ان کاموں سے ہٹا دیتا ہے جن میں فوری نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ وہ اپنے اندر کام کرنے والے غیر شعوری اثرات کے تحت ان چیزوں کی طرف کھنچ اٹھتا ہے جن میں بظاہر یہ امید ہو کہ فوراً عزت وکامیابی حاصل ہوجائے گی۔ اس قسم کا ہر انحراف اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی نوعیت کی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں میدان مقابلہ سے بھاگنا کہاگیا ہے۔

Al-Anfaal 8:16Listen in Qur'an →
17

فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِىَ ٱلْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ

تم لوگوں نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا۔ اور (اے محمدﷺ) جس وقت تم نے کنکریاں پھینکی تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ الله نے پھینکی تھیں۔ اس سے یہ غرض تھی کہ مومنوں کو اپنے (احسانوں) سے اچھی طرح آزمالے۔ بےشک خدا سنتا جانتا ہے

ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے اپنا پورا حق وصول کرے۔ مگر اعلی انسانی کردار یہ ہے کہ آدمی دوسروں کو بھی ان کا پورا پورا حق ادا کرے۔ وہ دوسروں کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کر رہا ہے، جو لوگ خود پورا لیں اور دوسروں کو کم دیں وہ آخرت میں اس حال میں پہنچیں گے کہ وہاں وہ برباد ہو کر رہ جائیں گے۔

جو اپنے لیے پورا وصول کر رہا ہے وہ گویا اس بات کو جانتا ہے کہ آدمی کو اس کا پورا حق ملنا چاہیے۔ ایسی حالت میں جب وہ دوسروں کو دینے کے وقت انہیں کم دیتا ہے تو وہ دوسروں کے حقوق کے بارے میںاپنی حساسیت کو گھٹاتا ہے ۔ جو شخص بار بار اس طرح کا عمل کرے اس پر بالآخر وہ وقت آئے گا جب کہ دوسروں کے حقوق کے بارے میں اس کی حساسیت بالکل ختم ہوجائے۔ اس کے دل کے اوپر پوری طرح اس کے برے عمل کا زنگ لگ جائے۔

Al-Anfaal 8:17Listen in Qur'an →
18

ذَٰلِكُمْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ ٱلْكَٰفِرِينَ

(بات) یہ (ہے) کچھ شک نہیں کہ خدا کافروں کی تدبیر کو کمزور کر دینے والا ہے

روایات میں آتاہے کہ جب بدر کا معرکہ گرم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے يَا رَبُّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا (دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد3، صفحہ 79 )۔ یعنی، اے میرے رب، اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو کبھی زمین پر تیری پرستش نہ ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک لی اور اس کو مشرکین کی طرف پھینکتے ہوئے کہاشَاهَتِ الْوُجُوهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 2762)۔ یعنی،چهرے بگڑ جائیں۔ اس کے بعد کافروں کے لشکر کا یہ حال ہوا جیسے سب کی آنکھوں میں ریت پڑ گئی ہو۔ چنانچہ مسلمانوں نے نہایت آسانی سے جس کو چاہا قتل کیا اور جس کو چاہا گرفتار کرلیا۔

یہ اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ اہلِ ایمان کی مدد کرتا ہے۔ ان کے دشمن خواہ کتنی ہی سازش کریں وہ ان کی سازشوں کو اپنی تدبیروں سے بے اثر کردیتا ہے۔ وہ ان کو مغلوب کرکے اہل ایمان کو ان کے اوپر غالب کردیتاہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اہلِ ایمان اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ میں اس طرح ملا دیں کہ خدا کی منشا اور اہلِ ایمان کی منشا دونوں ایک ہو جائے۔ جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو خدا کے مطابق کرلیتاہے تو جو کچھ خدا کا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے کیوں کہ جو کچھ اس کا ہے وہ خدا کو دے چکا ہوتاہے۔

بد رکے ليے روانگی سے پہلے مکہ کے سردار بیت اللہ گئے اور کعبہ کے پردہ کو پکڑ کر یہ دعا کی خدایا، اس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے معزز ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو (اللَّهُمَّ انْصُرْ أَعْلَى الْجُنْدَيْنِ، وَأَكْرَمَ الْفِئَتَيْنِ، وَخَيْرَ الْقَبِيلَتَيْنِ )تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 33 ۔ بد رکی لڑائی میں سرداران مکہ کو کامل شکست اور اہلِ ایمان کو کامل فتح ہوئی۔ اس طرح خود سرداران مکہ کے معیار کے مطابق یہ ثابت ہوگیا کہ خدا کے نزیک اعلیٰ واشرف گروہ وہ نہیں ہیں بلکہ اہلِ اسلام ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ جو لوگ ایسا کریں ان کے ليے آخرت میں سخت ترین عذاب ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں بھی۔

’’دونوں میں جو سب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف ہو اس کو فتح دے‘‘— یہ بظاہر دعا تھی مگر حقیقۃً وہ اپنے حق میں پُرفخر اعتماد کا اظہار تھا۔ اس کے پیچھے ان کی یہ نفسیات کام کررہی تھی کہ ہم کعبہ کے پاسبان ہیں۔ ہم ابراہیم واسماعیل سے نسبت رکھنے والے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ اتنی بڑی فضیلتیں جمع ہیں توجیت بہر حال ہماری ہونی چاہیے۔ مگر خدا کے یہاں ذاتی عمل کی قیمت ہے، نہ کہ خارجی انتسابات کی۔ خارجی انتساب خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو آدمی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

Al-Anfaal 8:18Listen in Qur'an →
19

إِن تَسْتَفْتِحُوا۟ فَقَدْ جَآءَكُمُ ٱلْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا۟ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا۟ نَعُدْ وَلَن تُغْنِىَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْـًۭٔا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُؤْمِنِينَ

(کافرو) اگر تم (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر) فتح چاہتے ہو تو تمہارے پاس فتح آچکی۔ (دیکھو) اگر تم (اپنے افعال سے) باز آجاؤ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر پھر (نافرمانی) کرو گے تو ہم بھی پھر تمہیں عذاب کریں گے اور تمہاری جماعت خواہ کتنی ہی کثیر ہو تمہارے کچھ بھی کام نہ آئے گی۔ اور خدا تو مومنوں کے ساتھ ہے

روایات میں آتاہے کہ جب بدر کا معرکہ گرم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے يَا رَبُّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا (دلائل النبوۃ للبیہقی، جلد3، صفحہ 79 )۔ یعنی، اے میرے رب، اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو کبھی زمین پر تیری پرستش نہ ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک لی اور اس کو مشرکین کی طرف پھینکتے ہوئے کہاشَاهَتِ الْوُجُوهُ (مسند احمد، حدیث نمبر 2762)۔ یعنی،چهرے بگڑ جائیں۔ اس کے بعد کافروں کے لشکر کا یہ حال ہوا جیسے سب کی آنکھوں میں ریت پڑ گئی ہو۔ چنانچہ مسلمانوں نے نہایت آسانی سے جس کو چاہا قتل کیا اور جس کو چاہا گرفتار کرلیا۔

یہ اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے کہ وہ اہلِ ایمان کی مدد کرتا ہے۔ ان کے دشمن خواہ کتنی ہی سازش کریں وہ ان کی سازشوں کو اپنی تدبیروں سے بے اثر کردیتا ہے۔ وہ ان کو مغلوب کرکے اہل ایمان کو ان کے اوپر غالب کردیتاہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اہلِ ایمان اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ میں اس طرح ملا دیں کہ خدا کی منشا اور اہلِ ایمان کی منشا دونوں ایک ہو جائے۔ جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو خدا کے مطابق کرلیتاہے تو جو کچھ خدا کا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے کیوں کہ جو کچھ اس کا ہے وہ خدا کو دے چکا ہوتاہے۔

بد رکے ليے روانگی سے پہلے مکہ کے سردار بیت اللہ گئے اور کعبہ کے پردہ کو پکڑ کر یہ دعا کی خدایا، اس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے معزز ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو (اللَّهُمَّ انْصُرْ أَعْلَى الْجُنْدَيْنِ، وَأَكْرَمَ الْفِئَتَيْنِ، وَخَيْرَ الْقَبِيلَتَيْنِ )تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 33 ۔ بد رکی لڑائی میں سرداران مکہ کو کامل شکست اور اہلِ ایمان کو کامل فتح ہوئی۔ اس طرح خود سرداران مکہ کے معیار کے مطابق یہ ثابت ہوگیا کہ خدا کے نزیک اعلیٰ واشرف گروہ وہ نہیں ہیں بلکہ اہلِ اسلام ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ جو لوگ ایسا کریں ان کے ليے آخرت میں سخت ترین عذاب ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں بھی۔

’’دونوں میں جو سب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف ہو اس کو فتح دے‘‘— یہ بظاہر دعا تھی مگر حقیقۃً وہ اپنے حق میں پُرفخر اعتماد کا اظہار تھا۔ اس کے پیچھے ان کی یہ نفسیات کام کررہی تھی کہ ہم کعبہ کے پاسبان ہیں۔ ہم ابراہیم واسماعیل سے نسبت رکھنے والے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ اتنی بڑی فضیلتیں جمع ہیں توجیت بہر حال ہماری ہونی چاہیے۔ مگر خدا کے یہاں ذاتی عمل کی قیمت ہے، نہ کہ خارجی انتسابات کی۔ خارجی انتساب خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو آدمی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

Al-Anfaal 8:19Listen in Qur'an →
20

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ

اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور اس سے روگردانی نہ کرو اور تم سنتے ہو

کائنات کا نظام تقاضا کرتا ہے کہ آخری فیصلہ کا ایک دن آئے۔ اسی دن کی خبر تمام پیغمبر اور ان کے سچے نائب دیتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود جو لوگ حق کا اعتراف نہ کریں بلکہ حق کے داعیوں کے دشمن بن جائیں وہ ایسی سرکشی کرتے ہیں جس کے ہولناک انجام سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ تاہم جو لوگ ہر قسم کی مشکلات کے باوجود صداقت کی آواز پر لبیک کہیں وہ خدائے مہرباں کی طرف سے ایسا انعام پائیں گے جس سے بڑا انعام اور کوئی نہیں۔

آسمانی کتابوں میں قرآن استثنائی طور پر ایک محفوظ کتاب ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرآن کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہے۔ اس کو زیر کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے۔

Al-Anfaal 8:20Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.