Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)

[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔

[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)

[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔

[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ …

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)

[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔

[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ …

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

سوال کرتے ہیں وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں، کہہ دیجیے! غنیمتیں اللہ اوراس کے رسول کے لیے ہیں، پس ڈرو تم اللہ سے اور اصلاح کرولو تم اپنی آپس میں اور اطاعت کرو تم اللہ کی اوراس کے رسول کی اگر ہوتم مومن(1) یقینا (کامل) مومن تو وہ لوگ ہیں کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جاتے ہیں دل ان کےاور جب تلاوت کی جاتی ہیں اوپر ان کے اس کی آیتیں تو زیادہ کردیتی ہیں وہ ان کو ایمان میں اور اوپر اپنے رب ہی کے وہ توکل کرتے ہیں(2)وہ لوگ جو قائم کرتے ہیں نماز اوراس سے جو رزق دیا ہم نے اس کو وہ خرچ کرتے ہیں(3) یہی لوگ ہیں مومن سچے، ان کے لیے درجے ہیں نزدیک ان کے رب کے اور بخشش ہے اور رزق باعزت(4)

[1]﴿الۡاَنۡفَالِ ﴾سے مراد غنائم ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کفار کے مال میں سے اس امت کو عطا کی ہیں ۔ اس سورۂ مبارکہ کی یہ آیات کریمات غزوۂ بدر کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو کفار سے اولین مال غنیمت حاصل ہوا تو اس کے بارے میں بعض مسلمانوں میں نزاع واقع ہوگیا چنانچہ انھوں نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے استفسار کیا۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔﴿يَسۡـَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ﴾ ’’وہ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ‘‘ ان کو کیسے تقسیم کیا جائے اور انھیں کن لوگوں میں تقسیم کیا جائے۔ ﴿قُلِ ﴾ آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ﴾ ’’غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں ‘‘ وہ جہاں چاہیں گے ان غنائم کو خرچ کریں گے۔ پس تمھیں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تم پر فرض ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول فیصلہ کر دیں تو تم ان کے فیصلے پر راضی رہو اور ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’پس اللہ سے ڈرو’’ اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کر کے۔ ﴿ وَاَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَيۡنِكُمۡ﴾ ’’اور صلح کرو آپس میں ‘‘ یعنی تم آپس کے بغض، قطع تعلقی اور ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرنے کی، آپس کی مودت، محبت اور میل جول کے ذریعے سے اصلاح کرو۔ اس طرح تم میں اتفاق پیدا ہوگا اور قطع تعلق، مخاصمت اور آپس کے لڑائی جھگڑے کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔ آپس کے معاملات کی اصلاح میں حسن اخلاق اور برا سلوک کرنے والوں سے درگزر کا بہت بڑا دخل ہے اس سے دلوں کا بغض اور نفرت دور ہو جاتی ہے اور ان تمام باتوں کی جامع بات یہ ہے ﴿ وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم مومن ہو‘‘ کیونکہ ایمان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کا تقاضا کرتا ہے جیسے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں کرتا وہ مومن نہیں ، جس کی اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول ناقص ہے اس کا ایمان بھی اتنا ہی ناقص ہے۔

[2] چونکہ ایمان کی دو قسمیں ہیں : (۱) ایمان کامل، جس پر مدح و ثنا اور کامل فوز و فلاح مترتب ہوتی ہے۔ (۲) ناقص ایمان۔تو اس کامل ایمان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’مومن تو صرف وہ ہیں ‘‘ الف اور لام استغراق کے لیے ہے جو تمام شرائع ایمان کو شامل ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’کہ جب ذکر کیا جائے اللہ کا تو ڈر جائیں دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور یہ ڈر خشیت الٰہی اور محارم سے اجتناب کا موجب بنتا ہے کیونکہ خوف الٰہی گناہوں سے باز آنے کی سب سے بڑی علامت ہے۔﴿ وَاِذَا تُلِيَتۡ عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُهٗ زَادَتۡهُمۡ اِيۡمَانًا ﴾’’اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جائیں تو زیادہ ہو جاتا ہے ان کا ایمان‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آیات الٰہی کو حضور قلب کے ساتھ غور سے سنتے ہیں تاکہ وہ ان میں غور و فکر کریں جس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو کیونکہ …

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)

[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔

[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ …

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)

[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔

[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ …

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)

[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔

[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ …

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

جس طرح کہ نکالا تھا آپ کو آپ کے رب نے آپ کے گھر سے ساتھ حق کےاور بلاشبہ کچھ لوگ مومنوں میں سے البتہ ناپسند کرتے تھے(5) وہ جھگڑتے تھے آپ سے حق میں بعد اس کے کہ واضح ہوگیا تھا وہ، گویا کہ ہانکے جارہے ہیں وہ موت کی طرف اور وہ دیکھ رہے ہیں (اسے)(6)اور جب وعدہ کررہا تھا تم سے اللہ دو گروہوں میں سے ایک کا کہ یقینا وہ تمھارے لیے ہے اور تم چاہتے تھے کہ جو غیر مسلح(گروہ) ہے وہی ہوتمھارے لیےاور چاہتا تھا اللہ کہ وہ ثابت کر دکھائے حق کو ساتھ اپنے حکموں کے اور کاٹ دے جڑ کافروں کی(7)تاکہ وہ حق کر دکھائے حق کو اور باطل کر دکھائے باطل کو، اگرچہ ناپسند کریں(اسے) مجرم لوگ(8)

[6,5] پس جیسے ان کا ایمان، سچا اور حقیقی ایمان ہے ان کے لیے جزا بھی حقیقی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بدر کے مقام پر مشرکین کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے کے لیے اس حق کے ساتھ باہر نکالا، جس حق کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس معرکے کو اللہ تعالیٰ نے مقدر کر رکھا تھا اگرچہ گھر سے نکلنا اور اپنے دشمن کے خلاف لڑنا کبھی ان کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ آیا تھا۔جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ معرکہ ہو کر رہے گا تو مومنوں میں سے ایک گروہ نے اس بارے میں رسول اللہﷺ سے جھگڑنا شروع کر دیا، وہ دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کرتے تھے، گویا کہ ان کو، ان کے دیکھتے ہوئے، موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ رویہ ان کو زیب نہیں دیتا تھا خاص طور پر جب ان پر واضح ہوگیا تھا کہ ان کا گھر سے نکلنا حق پر مبنی ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور وہ اس پر راضی ہے۔ اس صورت حال میں یہ بحث کرنے کا مقام نہیں تھا بحث کرنے کا محل و مقام وہ ہوتا ہے جہاں حق میں اشتباہ اور معاملے میں التباس ہو، وہاں بحث کرنا مفید ہوتا ہے۔ لیکن جب حق واضح اور ظاہر ہو جائے تو اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سرافگندہ ہونے کے سوا کوئی اور صورت نہیں رہتی۔ یہ تو تھی ان لوگوں کی بات مگر اکثر اہل ایمان نے اس بارے میں کسی قسم کی بحث نہیں کی اور نہ انھوں نے دشمن کا مقابلہ کرنے کو ناپسند کیا۔ اس طرح وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا انھوں نے جہاد کے لیے سر تسلیم خم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور ان کو وہ اسباب مہیا فرمائے جن سے ان کے دل مطمئن ہوگئے۔ جیسا کہ ان میں سے بعض اسباب کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔

[7]ان کا مدینہ منورہ سے باہر نکلنے کا اصل مقصد تو اس تجارتی قافلے کا راستہ روکنا تھا جو ابوسفیان کی قیادت میں قریش کا سامان تجارت لے کر شام گیا تھا، یہ ایک بہت بڑا قافلہ تھا۔ جب مسلمانوں کو قریش کے قافلے کی واپسی کی اطلاع ملی تو رسول اللہﷺ نے اس قافلے کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اکٹھا کیا چنانچہ آپ کے ساتھ تین سو سے کچھ زائد مسلمان مدینہ منورہ سے نکلے۔ ستر اونٹوں کے ساتھ، جن پر وہ باری باری سوار ہوتے تھے اور ان پر انھوں نے اپنا سامان لادا ہوا تھا۔ قریش کو بھی مسلمانوں کے باہر نکلنے کی خبر پہنچ گئی، وہ اپنے تجارتی قافلے کو بچانے کے لیے کثیر تعداد میں جنگی ساز و سامان کی پوری تیاری، گھوڑ سواروں اور پیادوں کے ساتھ مکہ سے نکلے۔ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ وہ ان دونوں گروہوں ، یعنی قافلہ یا فوج، میں سے ایک کے مقابلے میں ان کو فتح سے نوازے گا۔ مسلمانوں نے اپنی تنگ دستی کی وجہ سے قافلے کے ملنے کو پسند کیا۔ نیز قافلہ والوں کے پاس طاقت بھی زیادہ نہیں تھی مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے لیے اس امر کو پسند کیا جو اس سے اعلیٰ و افضل تھا جسے مسلمان پسند کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ کفار کی فوج کے مقابلے میں ظفریاب ہوں جس کے اندر کفار کے بڑے سردار اور بہادر شہسوار لڑنے کے لیے آئے تھے۔﴿ وَيُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّحِقَّ …

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔

[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔

[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا …

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

جب فریاد کررہے تھے تم اپنے رب سے، پس قبول کرلی اس نے (فریاد) تمھاری کہ بے شک میں امداد کروں گا تمھاری ساتھ ایک ہزار فرشتوں کے، ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے(9)اور انھیں بنایا اس (مدد) کو اللہ نے مگر خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہوجائیں اس سے تمھارے دل اورنہیں ہے نصرت مگر اللہ ہی کے پاس سے، بلاشبہ اللہ غالب ہے خوب حکمت والا(10)(یاد کرو) جب طاری کررہا تھا (اللہ) تم پر اونگھ امن دینے کے لیے اپنی طرف سے اور نازل فرما رہا تھا تم پر آسمان سے پانی (بارش) تاکہ وہ پاک کردے تمھیں اس کے ساتھ اور لے جائے تم سے نجاست شیطان کی اور تاکہ مضبوط کردے تمھارے دلوں کواور تاکہ ثابت رکھے اس کی وجہ سے قدموں کو(11)(یاد کرو)جب وحی کر رہا تھا آپ کا رب طرف فرشتوں کی کہ بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں، پس ثابت (قدم) رکھو تم ان کو جو ایمان لائے، عنقریب ڈالوں گا میں دلوں میں ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، رعب۔ پس مارو تم اوپر (ان کی) گردنوں کےاور ضرب لگاؤ ان کی (ہر) ہر پور پر(12) یہ ، اس لیے کہ بلاشبہ انھوں نے مخالفت کی اللہ اوراس کے رسول کی اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ اوراس کے رسول کی تو یقینا اللہ سخت سزا دینے والا ہے(13) یہ (سزا) پس چکھو تم اس کواور بے شک کافروں کے لیے عذاب ہے آگ کا(14)

[9] یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب اس نے دشمنوں کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ کو یقینی اور قریب کر دیا تو تم نے اپنے رب کو مدد کے لیے پکارا اور اس سے اعانت اور نصرت کے طلب گار ہوئے۔ ﴿فَاسۡتَجَابَ لَكُمۡ ﴾ ’’پس اس نے تمھاری پکار کا جواب دیا‘‘ اور متعدد امور کے ساتھ تمھاری مدد فرمائی، مثلاً: اللہ تعالیٰ نے تمھاری مدد کے لیے فرشتوں کو بھیجا۔ ﴿ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ مُرۡدِفِيۡنَ ﴾ ’’ہزار فرشتے لگاتار آنے والے‘‘ یعنی وہ پے درپے ایک دوسرے کے پیچھے آرہے تھے۔

[10]﴿وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور نہیں بنایا اس کو اللہ نے‘‘ یعنی فرشتوں کے نازل کرنے کو ﴿ اِلَّا بُشۡرٰى ﴾ ’’مگر خوش خبری‘‘ تاکہ اس سے تمھارے دل خوشی حاصل کریں ۔ ﴿ وَلِتَطۡمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوۡبُكُمۡ﴾ ’’اور تمھارے دل مطمئن ہوں ‘‘ ورنہ فتح و نصرت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، فتح کثرت تعداد اور سازوسامان سے حاصل نہیں ہوتی۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ ﴾ ’’بے شک اللہ غالب ہے۔‘‘ کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا بلکہ وہی غالب ہے وہ جن لوگوں سے علیحدہ ہو کر ان کی مدد چھوڑ دیتا ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ اور آلات حرب خواہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں (غلبہ حاصل نہیں کر سکتے)﴿ حَكِيۡم ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے تمام امور کو ان کے اسباب کے ساتھ مقدر کیا ہے اور اس نے ہر چیز کو اس مقام پر رکھا ہے جو اس کے لیے مناسب ہے۔

[11] اس کی فتح و نصرت اور تمھاری دعا کی قبولیت یہ ہے کہ اس نے تم پر اونگھ نازل کر دی ﴿ يُغَشِّيۡكُمُ ﴾ ’’جو تمھیں ڈھانپ رہی تھی۔‘‘ یعنی تمھارے دل میں جو ڈر اور خوف تھا اسے دور کر رہی تھی۔ ﴿ اَمَنَةً ﴾ تمھارے لیے سکون کا باعث، فتح و نصرت اور اطمینان کی علامت تھی۔ اور اس کی نصرت ہی کی ایک صورت یہ تھی کہ اس نے تم پر آسمان سے بارش نازل کی تاکہ تم سے ناپاکی اور گندگی دور کر کے تمھیں پاک کرے اور شیطانی وسوسوں اور اس کی نجاست سے تمھاری تطہیر کرے۔ ﴿ وَلِيَرۡبِطَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے دلوں کو مضبوط کردے۔‘‘ یعنی دلوں کو مضبوطی اور ثبات بخشے کیونکہ دل کی مضبوطی بدن کی مضبوطی ہے۔ ﴿ وَيُثَبِّتَ بِهِ الۡاَقۡدَامَ ﴾ ’’اور جما دے اس کے ذریعے سے تمھارے قدم‘‘ کیونکہ زمین ہموار اور نرم تھی جب اس پر بارش نازل ہوئی تو سخت اور ٹھوس ہوگئی اور قدم مضبوطی سے جمنے لگے۔

[12] یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت تھی کہ اس نے فرشتوں کی طرف وحی بھیجی۔ ﴿ اَنِّيۡ مَعَكُمۡ ﴾ ’’کہ میں تمھارے ساتھ ہوں ۔‘‘ یعنی میری مدد، نصرت اور تائید تمھارے ساتھ ہے۔ ﴿ فَثَبِّتُوا …

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.