Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

مضامین سورت :- سورة انفال جو اس وقت شروع ہو رہی ہے مدنی سورت ہے۔ اس سے پہلی سورت یعنی سورة اعراف میں مشرکین اور اہل کتاب کے جہل وعناد اور کفر و فساد کا تذکرہ اور اس کے متعلقہ مباحث کا بیان تھا۔- اس سورت میں زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے موقع پر انھیں لوگوں کے انجام بد، ناکامی اور شکست، اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کامیابی اور فتوحات سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کے لئے احسان و انعام اور کفار کے لئے عذاب و انتقام تھا۔- اور چونکہ اس انعام کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا خلوص اور للّٰہیت اور ان کا باہمی اتفاق ہے اور یہ اخلاص و اتفاق نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کا اس لئے شروع سورت میں تقوی اور اطاعت حق اور ذکر اللہ اور توکل وغیرہ کی تعلیم دی گئی۔ - خلاصہ تفسیر - یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں (یعنی وہ اللہ کی ملک ہیں اس کو ہی حق ہے کہ ان کے متعلق جو چاہیں حکم دے) اور رسول کی ہیں (بایں معنی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر اس کو نافذ کریں گے حاصل یہ ہے کہ اموال غنیمت کے بارے میں تمہاری رائے اور تجویز کا کوئی دخل نہیں بلکہ اس کا فیصلہ حکم شرعی پر ہوگا) تو تم (دنیا کی حرص مت کرو آخرت کے طالب رہو اس طرح پر کہ) اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو (کہ آپس میں حسد اور بغض نہ رہے) اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔ - معارف و مسائل - یہ آیت غزوہ بدر میں پیش آنے والے ایک واقعہ سے متعلق ہے۔ آیت کی مفصل تفسیر سے پہلے وہ واقعہ سامنے رکھا جائے تو تفسیر سمجھنا آسان ہوجائے گا۔- واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر جو کفر و اسلام کا سب سے پہلا معرکہ تھا اس میں جب مسلمانوں کو فتح ہوئی اور کچھ مال غنیمت ہاتھ آیا تو صحابہ کرام کے درمیان اس کی تقسیم کے متعلق ایک ایسا واقعہ پیش آگیا جو اخلاص و اتفاق کے اس مقام کے شایان نہ تھا جس پر صحابہ کرام کی پوری زندگی ڈھلی ہوئی تھی اس لئے سب سے پہلی ہی آیت میں اس کا فیصلہ فرما دیا گیا تاکہ اس مقدس گروہ کے قلوب میں صدق و اخلاص اور اتفاق و ایثار کے سوا کچھ نہ رہے۔- اس واقعہ کی تفصیل غزوہ بدر کے شریک حضرت عبادہ (رض) کی زبانی مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، مستدرک، حاکم وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت سے کسی نے آیت مذکورہ میں لفظ انقال کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت تو ہمارے یعنی اصحاب بدر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کا واقعہ یہ تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں ہمارے درمیان کچھ اختلاف پیدا ہوگیا تھا جس نے ہمارے اخلاق پر برا اثر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ اموال غنیمت کو ہمارے ہاتھوں سے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب حاضرین بدر میں اس کو مساوی طور پر تقسیم فرمادیا۔- صورت یہ پیش آئی تھی کہ ہم سب غزوہ بدر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور دونوں فریق میں گھمسان کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی تو اب ہمارے لشکر کے تین حصے ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے دشمن کا تعاقب کیا تاکہ وہ پھر واپس نہ آسکے۔ کچھ لوگ کفار کے چھوڑے ہوئے اموال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے اور کچھ لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد اس لئے جمع رہے کہ کسی طرف سے چھپا ہوا دشمن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ نہ کردے۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور رات کو ہر شخص اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ مال تو ہم نے جمع کیا ہے اس لئے اس میں ہمارے سوا کسی کا حصہ نہیں۔ اور جو لوگ دشمن کے تعاقب میں گئے تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ ہم سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہو۔ کیونکہ ہم …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

خلاصہ تفسیر - (بس) ایمان والے تو وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر آتا ہے تو (اس کی عظمت کے استحضار سے) ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ (مضبوط) کردیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (اور) جو کہ نماز کی اقامت کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں (بس) سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لئے بڑے بڑے درجے ان کے رب کے پاس اور (ان کے لئے) مغفرت ہے اور عزت کی روزی۔- معارف و مسائل - مؤ من کی مخصوص صفات : - آیات مذکورہ میں ان مخصوص صفات کا بیان ہے جو ہر مومن میں ہونا چاہئے۔ اس میں اشارہ ہے کہ ہر مومن اپنی ظاہر اور باطنی کیفیات اور صفات کا جائزہ لیتا رہے اگر یہ صفات اس میں موجود ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر کرے کہ اس نے اس کو مؤمنین کی صفات عطا فرمادی۔ اور اگر ان میں سے کوئی صفت موجود نہیں یا ہے مگر ضعیف و کمزور ہے تو اس کے حاصل کرنے یا قوی کرنے کی فکر میں لگ جائے۔- پہلی صفت خوف خدا :- پہلی صفت یہ بیان فرمائی (آیت) الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ، یعنی جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل سہم جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت و محبت ان کے دلوں میں رچی اور بھری ہوئی ہے جس کا ایک تقاضا ہیبت و خوف ہے قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اس کا ذکر کرکے اہل محبت کو بشارت دی گئی ہے (آیت) وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ ، الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ ، یعنی خوشخبری دے دیجئے ان متواضع نرم خو لوگوں کو جن کے دل ڈر جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد کے ایک خاص تقاضا کا ذکر ہے، یعنی ہیبت اور خوف اور دوسری آیت میں ذکر اللہ کی یہ خاصیت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ اس سے دل مطمئن ہوجاتے ہیں (آیت) اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ۔ یعنی اللہ ہی کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔- اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں جس خوف وہیبت کا ذکر ہے وہ دل کے سکون و اطمینان کے خلاف نہیں جیسے کسی درندے یا دشمن کا خوف قلب کے سکون کو برباد کردیتا ہے ذکر اللہ کے ساتھ دل میں پیدا ہونے والا خوف اس سے بالکل مختلف ہے اور اسی لئے یہاں لفظ خوف استعمال نہیں فرمایا وَجِلَ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس کا ترجمہ مطلق خوف نہیں بلکہ وہ ہیبت ہے جو بڑوں کی جلالت شان کے سبب دل میں پیدا ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس جگہ اللہ کے ذکر اور یاد سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص کسی گناہ کے ارتکاب کا ارادہ کر رہا تھا اسی حال میں اس کو اللہ تعالیٰ کی یاد آگئی تو وہ اللہ کے عذاب سے ڈر گیا۔ اور گناہ سے باز آگیا۔ اس صررت میں خوف سے مراد خوف عذاب ہی ہوگا۔ (بحر محیط)- دوسری صفت ایمان میں ترقی :- مؤ من کی دوسری صفت یہ بتلائی کہ جب اس کے سامنے اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ ایمان بڑھنے کے ایسے معنی جن پر سب علماء مفسرین و محدثین کا اتفاق ہے یہ ہیں کہ ایمان کی قوت و کیفیت اور نور ایمان میں ترقی ہوجاتی ہے۔ اور تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اعمال صالحہ سے ایمان میں قوت اور ایسا شرح صدر پیدا ہوجاتا ہے کہ اعمال صالحہ اس کی عادت طبعی بن جاتے ہیں جس کے چھوڑنے سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اور گناہ سے اس کو طبعی نفرت پیدا ہوجاتی ہے کہ ان کے پاس نہیں جاتا۔ ایمان کے اسی مقام کو حدیث میں حلاوت ایمان کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جس کو کسی نے اس طرح نظم کیا ہے :- واذاحلت الحلاوة قلبا نشطت فی العبادة الاعضاء - یعنی جب کسی دل میں حلاوت ایمان جگہ پکڑ لیتی ہے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت و لذت محسوس کرنے لگتے ہیں۔- اس لئے خلاصہ آیت کے مضمون کا یہ ہوا کہ مومن …

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

چوتھی صفت اقامت صلوة :- چوتھی صفت مومن کی اقامت صلوة بتلائی۔ اس میں یہ بات قابل یاد رکھنے کے ہے کہ یہاں نماز پڑھنے کا نہیں بلکہ نماز کی اقامت کا ذکر ہے۔ اقامت کے لفظی معنی کسی چیز کو سیدھا کھڑا کرنے کے ہیں۔ مراد اقامت صلوة سے یہ ہے کہ نماز کے پورے آداب و شرائط اس طرح بجا لائے جس طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قول و عمل سے بتلائے ہیں۔ آداب و شرائط میں کوتاہی ہوئی تو اس کو نماز پڑھنا تو کہہ سکتے ہیں مگر اقامت صلوة نہیں کہہ سکتے۔ قرآن مجید میں نماز کے جو فوائد اور آثار اور برکات ذکر کی گئی ہیں اور فرمایا گیا ہے (آیت) ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ، یعنی نماز روکتی ہے بےحیائی اور ہر گناہ سے۔ یہ بھی اقامت صلوة ہی پر موقوف ہے جب نماز کے آداب میں کوتاہی ہوئی تو گو فتوٰی کی رو سے اس کی نماز کو جائز ہی کہا جائے مگر نماز کی برکات میں کوتاہی کی مقدار پر فرق پڑجائے گا۔ اور بعض صورتوں میں ان برکات سے کلی طور پر محرومی ہوجائے گی۔ - پانچویں صفت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا :- پانچویں صفت مرد مومن کی یہ بیان فرمائی کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کو رزق دیا ہے وہ اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عام ہے تمام صدقات و خیرات اور وقف و صلہ کو جس میں زکوٰۃ، صدقۃ الفطر وغیرہ واجبات شرعی بھی داخل ہیں اور نفلی صدقات و تبرعات بھی، مہمانوں، دوستوں، بزرگوں کی مالی خدمت بھی۔

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

مرد مومن کی یہ پانچ صفات بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤ ْمِنُوْنَ حَقًّا، یعنی ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں جن کا ظاہر و باطن یکساں اور زبان اور دل متفق ہیں ورنہ جن میں یہ صفات نہیں وہ زبان سے تو اشھد ان لآ الہ الا اللہ واشھد ان محمد الرسول اللہ کہتے ہیں مگر ان کے دلوں میں نہ توحید کا رنگ نہ اطاعت رسول کا۔ ان کے اعمال ان کے اقوال کی تردید کرتے ہیں۔ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہر حق کی ایک حقیقت ہوتی ہے جب وہ حاصل نہ ہو حق حاصل نہیں ہوتا۔ - ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے پوچھا کہ اے ابو سعید کیا آپ مومن ہیں تو آپ نے فرمایا کہ بھائی ایمان دو قسم کے ہیں۔ تمہارے سوال کا مطلب اگر یہ ہے کہ میں اللہ تعالے اور اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر اور جنت دوزخ اور قیامت اور حساب کتاب پر ایمان رکھتا ہوں تو جواب یہ ہے کہ بیشک میں مومن ہوں۔ اور اگر تمہارے سوال کا مطلب یہ ہے کہ میں وہ مومن کامل ہوں جس کا ذکر سورة انفال کی آیات میں ہے تو مجھے کچھ معلوم نہیں کہ میں ان میں داخل ہوں یا نہیں۔ سورة انفال کی آیات سے وہی آیات مراد ہیں جو ابھی آپ نے سنی ہیں۔ - آیات مذکورہ میں سچے مومن کی صفات و علامات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ - اس میں سچے مومنین کے لئے تین چیزوں کا وعدہ فرمایا۔ ایک درجات عالیہ دوسرے مغفرت، تیسرے رزق عمدہ۔- تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے پہلی آیات میں سچے مومنین کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ تین قسم کی ہیں، ایک وہ جن کا تعلق قلب اور باطن کے ساتھ ہے جیسے ایمان۔ خوف خدا۔ توکل علی اللہ، دوسرے وہ جن کا تعلق جسمانی اعمال سے ہے جیسے نماز وغیرہ۔ تیسرے وہ جن کا تعلق انسان کے مال سے ہے جیسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔- ان تینوں قسموں کے بالمقابل تین انعاموں کا ذکر آیا ہے۔ درجات عالیہ قلبی اور باطنی صفات کے مقابلہ میں اور مغفرت ان اعمال کے مقابلہ میں جو انسان کے ظاہر بدن سے متعلق ہیں جیسے نماز روزہ وغیرہ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ نماز گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے اور رزق کریم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بالمقابل آیا ہے کہ جو کچھ خرچ کیا اس سے بہت بہتر اور بہت زیادہ اس کو آخرت میں ملے گا۔

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

خلاصہ تفسیر - ( مال غنیمت کا لوگوں کی مرضی کے موافق تقسیم نہ ہونا بلکہ منجانب اللہ اس کی تقسیم ہونا اگرچہ بعض لوگوں کو طبعا گراں گزرا ہو مگر مصالح کثیرہ کی وجہ سے یہی خیر اور بہتر ہے۔ اور یہ معاملہ خلاف طبع مگر مصلح کثیرہ کو متضمن ہونے میں ایسا ہی ہے) جیسا آپ کے رب نے آپ کے گھر ( اور بستی) سے مصلحت کے ساتھ آپ کو ( بدر کی طرف) روانہ کیا اور مسلمانوں کی ایک جماعت ( اپنی تعداد اور سامان جنگ کی قلت کی وجہ سے طبعا) اس کو گراں سمجھتی تھی وہ اس مصلحت ( کے کام) میں ( یعنی جہاد اور مقابلہ لشکر کے معاملے میں) بعد اس کے کہ اس کا ظہور ہوچکا تھا ( اپنے بچاؤ کے لئے بطور مشورہ کے) آپ سے اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویا کوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لئے جاتا ہے اور وہ ( موت کو گویا) دیکھ رہے ہیں ( مگر آخر کار انجام اس کا بھی اچھا ہوا کہ اسلام غالب اور کفر مغلوب ہوا) ۔- معارف ومسائل - شروع سورت میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ سورة انفال کے بیشتر مضامین کفار و مشرکین پر عذاب و انتقام اور مسلمانوں پر احسان و انعام کے متعلق ہیں اور اس کے ضمن میں دونوں فریق کے لئے عبرت و نصیحت کے احکام بیان ہوئے ہیں۔ اور ان معاملات میں سب سے پہلا اور سب سے اہم واقعہ غزوہ بدر کا تھا جس میں بڑے ساز و سامان اور تعداد و قوت کے باوجود مشرکین کو جانی اور مالی نقصانات کے ساتھ شکست اور مسلمانوں کو باوجود ہر طرح کی قلت اور بےسامانی کے فتح عظیم نصیب ہوئی۔ اس سورت میں واقعہ بدر کا تفصیلی بیان ہے۔ جو آیات مذکورہ سے شروع ہو رہا ہے۔- پہلی آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ بعض مسلمانوں کو بدر کے موقع پر جہاد کے لئے اقدام ناپسند تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فرمان کے ذریعہ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جہاد کا حکم دیا تو ناپسند کرنے والے بھی ساتھ ہوگئے۔ اس بات کے بیان کرنے کے لئے قرآن کریم نے جو الفاظ اختیار فرمائے ہیں وہ کئی طرح سے قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ آیت کا شروع (آیت) كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ سے ہوتا ہے۔ اس میں لفظ كَمَآ ایک ایسا لفظ ہے جو تشبیہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو غور طلب یہ ہے کہ یہاں تشبیہ کس چیز کی کس چیز سے ہے، حضرات مفسرین نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں۔ امام تفسیر ابوحیان نے اس طرح کے پندرہ اقوال نقل کئے ان میں زیادہ قرب تین احتمال ہیں۔- اول یہ کہ اس تشبیہ سے مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ جس طرح غزوہ بدر کے مال غنیمت کی تقسیم کے وقت صحابہ کرام کے آپس میں کچھ اختلاف رائے ہوگیا تھا۔ پھر حکم خداوندی کے تحت سب نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور اس کی برکات اور اچھے نتائج کا ظہور سامنے آگیا۔ اسی طرح اس جہاد کے شروع میں کچھ لوگوں کی طرف سے ناپسندیدگی کا اظہار ہوا پھر حکم ربانی کے ماتحت سب نے اطاعت کی اور اس کے مفید نتائج اور اعلی ثمرات کا مشاہدہ ہوگیا۔ یہ توجیہ فراء اور مبرد کی طرف منسوب ہے ( بحر محیط) اسی کو بیان القرآن میں ترجیح دی ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر سے معلوم ہوچکا۔- دوسرا احتمال یہ ہے کہ گذشتہ آیات میں سچے مومنین کے لئے آخرت میں درجات عالیہ اور مغفرت اور باعزت روزی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ان آیات میں اس وعدہ کے یقینی ہونے کا ذکر اس طرح کیا گیا کہ آخرت کا وعدہ اگرچہ ابھی آنکھوں کے سامنے نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ نصرت و فتح غزوہ بدر میں آنکھوں کے سامنے آچکا ہے اس سے عبرت پکڑو اور یقین کرو کہ جس طرح یہ وعدہ دنیا ہی میں پورا ہوچکا ہے اسی طرح آخرت کا وعدہ بھی ضرور پورا ہوگا۔ ( تفسیر قرطبی بحوالہ نحاس) - تیسرا احتمال وہ ہے جس کو ابوحیان نے مفسرین کے پندرہ اقوال نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مجھے ان میں سے کسی قول پر اطمینان نہیں تھا۔ ایک روز میں اسی آیت پر غور و فکر کرتے ہوئے سو گیا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کسی جگہ جارہا ہوں اور ایک شخص میرے ساتھ ہے میں اسی آیت کے متعلق اس …

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

اور اسی واقعی کا بیان دوسری آیت میں ہے (آیت) يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ، یعنی یہ لوگ آپ سے حق کے معاملہ میں مجادلہ اور اختلاف کرتے ہیں گو یا ان کو موت کی طرف کھینچا جارہا ہے جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ صحابہ کرام نے اگرچہ کوئی عدول حکمی نہ کی تھی بلکہ مشورہ کے جواب میں اپنے ضعف اور پست ہمتی کا اظہار کیا تھا۔ مگر رسول کے ساتھیوں سے ایسی رائے کا اظہار بھی ان کے مقام بلند کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند تھا اس لئے ناراضی کے الفاظ سے اس کو بیان فرمایا گیا۔

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

خلاصہ تفسیر - اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم سے ان دو جماعتوں ( یعنی تجارتی قافلہ یا لشکر) میں سے ایک ( جماعت) کا وعدہ کر رہے تھے کہ وہ ( جماعت) تمہارے ہاتھ آجائے گی ( یعنی مغلوب ہوجائے گی۔ یہ وعدہ مسلمانوں سے بواسط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذریعہ وحی ہوا تھا) اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مصلح جماعت ( یعنی تجارتی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجائے اور اللہ کو یہ منظور تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ( اس کو عملا غلبہ دے کر) ثابت کردے اور ( یہ منظور تھا کہ) ان کافروں کی بنیاد کو قطع کردے تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ( عملا) ثابت کردے اگرچہ یہ مجرم لوگ ( یعنی مغلوب ہونے والے کفار اس کو کتنا ہی) ناپسند کریں۔ اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے ( اپنی تعداد اور سامان جنگ کی قلت اور دشمن کی کثرت دیکھ کر) فریاد کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی ( اور وعدہ فرمایا) کہ تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو سلسلہ وارچلے آویں گے اور اللہ تعالیٰ نے یہ امداد صرف اس ( حکمت) کے لئے کی کہ ( تم کو غلبہ پانے کی) بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو قرار آجائے ( یعنی انسان کی تسلی طبعی طور پر اسباب سامان سے ہوتی ہے اس لئے وہ بھی جمع کردیا گیا) اور ( واقع میں تو) نصرت ( اور غلبہ) صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے جو زبردست حکمت والے ہیں۔

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

معارف و مسائل :- آیات مذکورہ میں غزوہ بدر کا واقعہ اور اس میں جو حق تعالیٰ کی طرف سے نصرت و امداد کے مخصوص انعامات مسلمانوں پر مبذول ہوئے ان کا بیان ہے۔ - پہلی اور دوسری آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ قریشیوں کا ایک عظیم لشکر اپنے تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے مکہ سے نکل چکا ہے تو اب مسلمانوں کے سامنے دو جماعتیں تھیں ایک تجارتی قافلہ جس کو روایات میں عیر سے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسری یہ مصلح فوج جو مکہ سے چلی تھی جس کو نفیر کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس آیت میں یہ بتلایا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بواسطہ آپ کے سب مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت پر تمہارا مکمل قبضہ ہوجائے گا، کہ اس کے متعلق جو تم چاہو گے کرسکو گے۔ - اب یہ ظاہر ہے کہ تجارتی قافلہ پر قبضہ آسان اور بےخطر تھا اور مصلح فوج پر مشکل اور خطرات سے پُر۔ اس لئے اس مبہم وعدہ کو سن کر بہت سے صحابہ کرام کی تمنا اور خواہش یہ ہوئی کہ وہ جماعت جس پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے وہ غیر مصلح تجارتی قافلہ ہوجائے لیکن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بہت سے اکابر صحابہ کا باشارات ربانی یہ ارادہ ہوا کہ مصلح فوج پر قبضہ ہو تو بہتر ہوگا۔ - اس آیت میں غیر مصلح جماعت پر قبضہ چاہنے والے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہیں تو اپنی سہولت پسندی اور خطرات سے یکسوئی کے پیش نظر یہی پسند تھا کہ غیر مصلح تجارتی قافلہ پر تمہارا قبضہ ہوجائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ اسلام کا اصل مقصد حاصل ہو یعنی حق کا حق ہونا واضح ہوجائے اور کافروں کی جڑ کٹ جائے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام اسی وقت ہوسکتا تھا جب کہ مصلح فوج سے مقابلہ اور اس پر مسلمانوں کا مکمل قبضہ اور غلبہ ہو۔ - خلاصہ اس کا مسلمانوں کو اس پر تنبیہ ہے کہ تم نے جو صورت پسند کی وہ نہایت پست ہمتی اور آرام طلبی اور وقتی اور ہنگامی فائدہ کی چیز تھی اور اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا وہ عالی ہمتی اور بلند مقاصد اور مکمل اور دائمی فوائد پر مشتمل تھا۔ پھر دوسری آیت میں اس کو مزید واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت سے تو کوئی چیز باہر نہ تھی اگر وہ چاہتے تو تجارتی قافلہ پر مسلمانوں کا غلبہ اور قبضہ ہوجاتا مگر اس نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام کی شان کے شایان اس کو سمجھا کہ مصلح فوج سے مقابلہ ہو کر اس پر قبضہ ہو تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجائے۔ - یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ حق تعالیٰ تو علیم خبیر اور ہر کام کے آغاز و انجام سے باخبر ہیں ان کی طرف سے اس مبہم وعدہ میں کیا مصلحت تھی کہ ان دونوں جماعتوں میں سے کسی ایک جماعت پر مسلمانوں کا غلبہ اور قبضہ ہوگا۔ وہ ان میں سے کسی ایک کو متعین کرکے بھی فرما سکتے تھے فلاں کہ جماعت پر قبضہ ہوجائے گا۔- اس ابہام کی وجہ واللہ اعلم یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس میں صحابہ کرام کا امتحان کرنا تھا کہ آسان کام کو پسند کرتے ہیں یا مشکل کو۔ اور ان کی اخلاقی تربیت بھی تھی جس کے ذریعہ ان عالی ہمتی اور اعلی مقاصد کی جد و جہد اور خطرات سے نہ گھبرانا سکھایا گیا۔

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

تیسری اور چوتھی آیتوں میں اس واقعہ کا بیان ہے جو مصلح فوج سے مقابلہ ٹھن جانے کے بعد پیش آیا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب یہ دیکھا کہ آپ کے رفقاء صرف تین سو تیرہ اور وہ بھی اکثر غیر مصلح ہیں اور مقابلہ پر تقریبا ایک ہزار جوانوں کا مصلح لشکر ہے تو اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں نصرت و امداد کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔ آپ دعا مانگتے تھے اور صحابہ کرام آپ کے ساتھ آمین کہتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کے یہ کلمات نقل فرمائے ہیں :- یا اللہ مجھ سے جو وعدہ آپ نے فرمایا ہے اس کو جلد پورا فرمادے۔ یا اللہ اگر یہ تھوڑی سی جماعت مسلمین فنا ہوگئی تو پھر زمین میں کوئی تیری عبادت کرنے والا باقی نہ رہے گا ( کیونکہ ساری زمین کفر و شرک سے بھری ہوئی ہے یہی چند مسلمان ہیں جو صحیح عبادت بجالا تے ہیں ) ۔- آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برابر اسی طرح الحاح وزاری کے ساتھ دعا میں مشغول رہے یہاں تک کہ آپ کے شانوں سے چادر بھی سرک گئی، حضرت ابوبکر صدیق نے آگے بڑھ کر چادر اوڑھائی اور عرض کیا یا رسول اللہ آپ زیادہ فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے اور اپنا وعدہ پورا فرمائیں گے۔ - آیت میں اِذْ تَسْتَغِيْثُوْنَ رَبَّكُمْ کے الفاظ سے یہی واقعہ مراد ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے جب تم اپنے رب سے استغاثہ کر رہے تھے اور مدد طلب کر رہے تھے یہ استغاثہ اگرچہ دراصل رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ہوا تھا مگر تمام صحابہ آمین کہہ رہے تھے اس لئے پوری جماعت کی طرف منسوب کیا گیا۔ اس کے بعد اس دعا کی قبولیت کا بیان اس طرح فرمایا (آیت) فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّىْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُرْدِفِيْنَ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد سن لی اور فرمایا کہ ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری امداد کروں گا جو یکے بعد دیگرے قطار کی صورت میں آنے والے ہوں گے۔- فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے جو بےنظیر قوت و طاقت عطا فرمائی ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوسکتا ہے جو قوم لوط (علیہ السلام) کی زمین کا تختہ الٹنے کے وقت پیش آیا کہ جبریل امین نے ایک پر کے ذریعہ یہ تختہ الٹ دیا۔ اسی بےمثال طاقت والے فرشتوں کی اتنی بڑی تعداد مقابلہ میں بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی ایک بھی کافی تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی فطرت سے واقف ہیں کہ وہ تعداد سے بھی متاثر ہوتے ہیں اس لئے مقابل فریق کی تعداد کے مطابق فرشتوں کی تعداد بھیجنے کا وعدہ فرمایا تاکہ ان کے قلوب پوری طرح مطمئن ہوجائیں۔

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

چوتھی آیت میں بھی یہی مضمون ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰي وَلِتَطْمَىِٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ صرف اس لئے کیا کہ تمہیں بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہوجائیں۔ - غزوہ بدر میں جو اللہ تعالیٰ کے فرشتے امداد کے لئے بیھجے گئے ان کی تعداد اس جگہ ایک ہزار مذکور ہے اور سورة آل عمران میں تین ہزار اور پانچ ہزار ذکر کی گئی ہے۔ اس کا سبب دراصل تین مخلتف وعدے ہیں جو مختلف حالات میں کئے گئے ہیں۔ پہلا وعدہ ایک ہزار فرشتوں کا ہوا جس کا سبب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا اور عام مسلمانوں کی فریاد تھی۔ دوسرا وعدہ جو تین ہزار فرشتوں کا سورة آل عمران میں پہلے مذکور ہے وہ اس وقت کیا گیا جب مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ قریشی لشکر کے لئے اور کمک آرہی ہے۔ روح المعانی میں ابن ابی شیبہ اور ابن المنذر وغیرہ سے بروایت شعبی منقول ہے کہ مسمانوں کو بدر کے دن یہ خبر پہنچی کہ کرز بن جابر محاربی مشرکین کی امداد کے لئے کمک لے کر آرہا ہے۔ اس خبر سے مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس پر آل عمران کی (آیت) اَلَنْ يَّكْفِيَكُمْ اَنْ يُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُنْزَلِيْنَ ، نازل ہوئی جس میں تین ہزار فرشتے امداد کے لئے آسمان سے نازل کرنے کا وعدہ ذکر کیا گیا۔ اور تیسرا وعدہ پانچ ہزار کا اس شرط کے ساتھ مشروط تھا کہ اگر فریق مخالف نے یکبارگی حملہ کردیا تو پانچ ہزار فرشتوں کی مدد بھیج دی جائے گی وہ آل عمران کی آیت مذکورہ کے بعد کی آیت میں اس طرح مذکور ہے (آیت) بَلٰٓى ۙاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا وَيَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِھِمْ ھٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ مُسَوِّمِيْنَ ، یعنی اگر تم ثابت قدم رہے اور تقوی پر قائم رہے اور مقابل لشکر یکبارگی تم پر ٹوٹ پڑا تو تمہارا رب تمہاری امداد پانچ ہزرا فرشتوں سے کرے گا جو خاص نشان یعنی خاص وردی میں ہوگے۔ - بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس وعدہ میں تین شرطیں تھیں ایک ثابت قدمی دوسرے تقوی تیسرے مخالف فریق کا یکبارگی حملہ۔ پہلی دو شرطیں تو صحابہ کرام میں موجود تھیں اور اس میدان میں اول سے آخر تک ان میں کہیں فرق نہیں آیا مگر تیسری شرط یکبارگی ہلہ کی واقع نہیں ہوئی اس لئے پانچ ہزار ملائکہ کے لشکر کی نوبت نہیں آئی۔- اس لئے معاملہ ایک ہزار اور تین ہزار میں دائر رہا۔ جس میں یہ بھی احتمال ہے کہ تین ہزار سے مراد یہ ہو کہ ایک ہزار جو پہلے بھیجے گئے ان کے ساتھ مزید دو ہزار شامل کرکے تین ہزار کردیئے گئے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ تین ہزار اس پہلے ہزار کے علاوہ ہوں۔ - یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ ان تین آیتوں میں ملائکہ کی تین جماعتوں کے بھیجنے کا وعدہ ہے اور ہر جماعت کے ساتھ ایک خاص صفت کا ذکر ہے۔ سورة انفال کی آیت جس میں ایک ہزار کا وعدہ ہے اس میں تو ان ملائکہ کی صفت میں مُرْدِفِيْنَ فرمایا ہے جس کے معنی ہیں پیچھے لگانے والے اس میں شاید اس طرف پہلے ہی اشارہ کردیا گیا کہ ان فرشتوں کے پیچھے دوسرے بھی آنے والے ہیں۔ اور سورة آل عمران کی پہلی آیت میں ملائکہ کی صفت مُنْزَلِيْنَ ارشاد فرمائی۔ یعنی یہ فرشتے آسمان سے اتارے جائیں گے اس میں اشارہ خاص اہمیت کی طرف ہے کہ زمین میں جو فرشتے پہلے سے موجود ہیں ان سے کام لینے کے بجائے خاص اہتمام کے ساتھ یہ فرشتے آسمان سے اسی کام کے لئے بھیجے جائیں گے اور آل عمران کی دوسری آیت جس میں پانچ ہزار کا ذکر ہے اس میں ملائکہ کی صفت مُسَوِّمِيْنَ ارشاد فرمائی ہے کہ وہ ایک خاص لباس اور علامت کے ساتھ ہوں گے۔ جیسا کہ روایات حدیث میں ہے کہ بدر میں نازل ہونے والے فرشتوں کے عمامے سفید اور غزوہ حنین میں مدد کے لئے آنے والے فرشتوں کے عمامے سرخ تھے۔- آخرت آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) وَمَا النَّصْرُ …

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.