يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو
مضامین سورت :- سورة انفال جو اس وقت شروع ہو رہی ہے مدنی سورت ہے۔ اس سے پہلی سورت یعنی سورة اعراف میں مشرکین اور اہل کتاب کے جہل وعناد اور کفر و فساد کا تذکرہ اور اس کے متعلقہ مباحث کا بیان تھا۔- اس سورت میں زیادہ تر مضامین غزوہ بدر کے موقع پر انھیں لوگوں کے انجام بد، ناکامی اور شکست، اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کامیابی اور فتوحات سے متعلق ہیں جو مسلمانوں کے لئے احسان و انعام اور کفار کے لئے عذاب و انتقام تھا۔- اور چونکہ اس انعام کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا خلوص اور للّٰہیت اور ان کا باہمی اتفاق ہے اور یہ اخلاص و اتفاق نتیجہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کا اس لئے شروع سورت میں تقوی اور اطاعت حق اور ذکر اللہ اور توکل وغیرہ کی تعلیم دی گئی۔ - خلاصہ تفسیر - یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کا حکم دریافت کرتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ یہ غنیمتیں اللہ کی ہیں (یعنی وہ اللہ کی ملک ہیں اس کو ہی حق ہے کہ ان کے متعلق جو چاہیں حکم دے) اور رسول کی ہیں (بایں معنی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے حکم پاکر اس کو نافذ کریں گے حاصل یہ ہے کہ اموال غنیمت کے بارے میں تمہاری رائے اور تجویز کا کوئی دخل نہیں بلکہ اس کا فیصلہ حکم شرعی پر ہوگا) تو تم (دنیا کی حرص مت کرو آخرت کے طالب رہو اس طرح پر کہ) اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو (کہ آپس میں حسد اور بغض نہ رہے) اور اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان والے ہو۔ - معارف و مسائل - یہ آیت غزوہ بدر میں پیش آنے والے ایک واقعہ سے متعلق ہے۔ آیت کی مفصل تفسیر سے پہلے وہ واقعہ سامنے رکھا جائے تو تفسیر سمجھنا آسان ہوجائے گا۔- واقعہ یہ ہے کہ غزوہ بدر جو کفر و اسلام کا سب سے پہلا معرکہ تھا اس میں جب مسلمانوں کو فتح ہوئی اور کچھ مال غنیمت ہاتھ آیا تو صحابہ کرام کے درمیان اس کی تقسیم کے متعلق ایک ایسا واقعہ پیش آگیا جو اخلاص و اتفاق کے اس مقام کے شایان نہ تھا جس پر صحابہ کرام کی پوری زندگی ڈھلی ہوئی تھی اس لئے سب سے پہلی ہی آیت میں اس کا فیصلہ فرما دیا گیا تاکہ اس مقدس گروہ کے قلوب میں صدق و اخلاص اور اتفاق و ایثار کے سوا کچھ نہ رہے۔- اس واقعہ کی تفصیل غزوہ بدر کے شریک حضرت عبادہ (رض) کی زبانی مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، مستدرک، حاکم وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت سے کسی نے آیت مذکورہ میں لفظ انقال کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت تو ہمارے یعنی اصحاب بدر ہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کا واقعہ یہ تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں ہمارے درمیان کچھ اختلاف پیدا ہوگیا تھا جس نے ہمارے اخلاق پر برا اثر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعہ اموال غنیمت کو ہمارے ہاتھوں سے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سپرد کردیا۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب حاضرین بدر میں اس کو مساوی طور پر تقسیم فرمادیا۔- صورت یہ پیش آئی تھی کہ ہم سب غزوہ بدر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے اور دونوں فریق میں گھمسان کی جنگ کے بعد اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست دی تو اب ہمارے لشکر کے تین حصے ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے دشمن کا تعاقب کیا تاکہ وہ پھر واپس نہ آسکے۔ کچھ لوگ کفار کے چھوڑے ہوئے اموال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے اور کچھ لوگ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد اس لئے جمع رہے کہ کسی طرف سے چھپا ہوا دشمن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ نہ کردے۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور رات کو ہر شخص اپنے ٹھکانے پر پہنچا تو جن لوگوں نے مال غنیمت جمع کیا تھا وہ کہنے لگے کہ یہ مال تو ہم نے جمع کیا ہے اس لئے اس میں ہمارے سوا کسی کا حصہ نہیں۔ اور جو لوگ دشمن کے تعاقب میں گئے تھے انہوں نے کہا کہ تم لوگ ہم سے زیادہ اس کے حقدار نہیں ہو۔ کیونکہ ہم …