Muslim99Muslim99
← Tafsir library

8. Al-Anfaal

The Spoils of War · Medinan · 75 ayahs

سُورَةُ الأَنفَالِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 75

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْأَنفَالِ ۖ قُلِ ٱلْأَنفَالُ لِلَّهِ وَٱلرَّسُولِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَصْلِحُوا۟ ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(اے محمد! مجاہد لوگ) تم سے غنیمت کے مال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ (کیا حکم ہے) کہہ دو کہ غنیمت خدا اور اس کے رسول کا مال ہے۔ تو خدا سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو

(سورۃ کے تعارف کا بقیہ حصہ)

جو لوگ نظریہ جہاد اسلامی کے اخلاقی جواز کے لیے صرف دار الاسلام کی حفاظت کے اسباب و وجوہ تلاش کرتے ہیں ، انہوں نے در اصل نظام اسلامی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔ وہ اس نظام کو ایک وطن سے بھی کم تر درجے کی کوئی چیز سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطہ نظفر سے یہ خیال درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایک یا تصور ہے جو اسلامی تصور پر غالب ہورہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام پہلے عقیدے کو اہمیت دیتا ہے ، پھر اس نظام کو جو اس عقیدے پر مبنی ہوتا ہے۔ پھر اس معاشرے کو جس میں وہ نظام قائم ہوتا ہے یہی چیزیں اسلامی تصور حیات میں اہمیت کی حامل ہیں۔۔۔ باقی رہی صرف کوئی سرزمین تو بذات خود اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ کسی اسلامی سرزمین کو اہمیت صرف اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم ہوتی ہے اور وہ اسلامی عقیدے کا گہوارا اور اسلامی نظام حیات کے لیے ایک کھیت کی حیثیت اختیار کرکے دار الاسلام قرار پاتی ہے اور " تحریک آزادی انسان " کے لیے مرکز بن جاتی ہے۔

دار الاسلام کی حفاظت بھی اس لیے ہوتی ہے کہ اس عقیدے ، اس نظام حیات اور اس معاشرے کی حفاظت ہو ، جو اس دار الاسلام میں قائم ہوتا ہے۔ بذات خود دار الاسلام کوئی مستقل بالذات مقصد نہیں اور نہ تحریک جہاد اسلامی منتہائے نظر صرف دار الاسلام کی حفاظت ہی ہے۔ اس کی حفاظت تو محض اس لیے کی جاتی ہے کہ وہاں حکومت الہیہ کا قیام عمل میں لایا جاسکے اور اس کے بعد تمام روئے زمین پر پھیلنے اور تمام نوع انسانی تک دعوت اسلامی کو پہنچانے کے لیے اسے مرکز بتایا جاسکے۔ اس طرح گویا پوری انسانیت اس دین کا موضوع ہے اور پورا کرہ ارض اس کا میدان کار ہے۔

جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ، جب بھی دین کو پھیلانے کا کام شروع ہوگا اس کے راستے میں اس وقت کی سیاسی طاقت ، اس وقت کے موجودہ اجتماعی نظام اور اس وقت کے معاشروں کی عادات واطوار کی جانب سے مادی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ پھر اسلام بھی ، ان تمام چیزوں کو اپنی قوت کے بل بوتے پر اپنے راستے سے ہٹاتا ہے تاکہ وہ براہ راست لوگوں کو اپیل کرسکے ، ان کے ضمیر اور ان کے افکار کو مخاطب کرسکے اور تبلیغ دین اور انسان کے درمیان کوئی مادی رکاوٹ نہ رہے۔ اس کے بعد انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ اسلامی عقیدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

ہمیں اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ، کسی سے مرعوب نہ ہونا چاہیے اور نہ مستشرقین کی وسوسہ اندازیوں سے متاثر ہونا چاہیے۔ موجودہ بین الاقوامی حالات سے دب کر ، اسلام کے نظریہ جہاد کی جدید تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے اس کی روح ختم ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ حالات اور واقعات جن کا وقتی دفاع سے تھا ، اگر وہ نہ بھی ہوتے تو بھی مسلمان اسی طرح جہاد کرتے جس طرح انہوں نے ان حالات کے ہوتے ہوئے کیا۔

براہ راست مطالعہ

ہمیں صرف اسلامی نظام حیات کا تاریخی جائزہ لینا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ کن کن امور کو اولیت دیتا ہے۔ اس کا مزاج کیا ہے ، اور وہ کس چیز کا اعلان کرتا ہے۔ اس کا طریق کار کیا ہے ؟ ان تمام امور کے بارے میں کوئی حتمی فیصلے کرتے وقت ہمیں وقتی اور دفاعی اقدامات اور دائمی نصب العین میں فرق کرنا چاہیے۔

یہ بات اپنی جگہ بالکل درست کہ یہ دین حملہ آوروں کا دفاع بھی کرتا ہے کیونکہ جاہلیت کسی حال میں بھی اسے برداشت نہیں کرسکتی۔ محض یہ اعلان ہی جاہلیت کے ایک بڑا چیلنج ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی انسان کسی کا غلام نہیں۔ خالی خولی اعلان ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک قیادت کے تحت عملی تحریک بھی منظم کرنا اور بالکل ایک نئے اور ممتاز معاشرہ کی بنیاد رکھنا ، جو سیاسی لحاظ سے اللہ کے سوا تمام حاکمیتوں کا انکار کرتا ہو ، یہ سب چیزیں ہمیشہ جاہلیت کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ غرض اسلامی نظام زندگی کا …

2

إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُهُۥ زَادَتْهُمْ إِيمَٰنًۭا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ

مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے۔ اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں

(سورۃ کے تعارف کا تیسرا حصہ)

حضور ﷺ نے عمار ابن یاسر اور عبداللہ ابن مسعود کو بھیجا تاکہ وہ دشمن کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے دشمن کی قیام گاہ کے گرد چکر لگایا اور واپس آکر حضور ﷺ کو یہ رپورٹ دی کہ دشمن بہت پریشان حال ہے اور یہ کہ بارش ان پر خوب برس رہی ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ کنویں پر اترے تو آپ کے لیے ایک چبوترہ بنایا گیا ، کھجور کی شاخوں سے اور حضرت سعد ابن معاذ اپنی تلوار سونت کر اس کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ نے میدان جنگ میں گشت کیا۔ اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو قریش کے سرداروں میں سے ایک ایک کی قتل گاہ بتائی۔ آپ فرماتے یہاں فلان قتل ہوگا ، یہاں فلاں قتل ہوگا ، یہ سب قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی بھی حضور اکرم ﷺ کی مقرر کردہ جگہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کی صفوں کو درست کیا اور اپنے چبوترے کی طرف لوٹے۔ آپ کے ساتھ صرف حضرت ابوبکر تھے۔

ابن اسحاق کہتے ہیں ، قریش ساری رات سفر کرتے رہے اور صبح کے وقت مقابلے پر آگئے۔ جب حضور ﷺ نے قریش کو دیکھا تو آپ نے اس ٹیلے سے منہ پھیر کر اپنا چہرہ وادی کی طرف موڑ دیا اور اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی " اے اللہ یہ ہے قبیلہ قریش جو نہایت ہی کبر و غرور کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہا ہے اور یہ تیری دشمنی میں آیا ہے ، اور تیرے رسول کی تکذیب کر رہا ہے۔ آج میں تیری اس امداد کا طلبگار ہوں جس کا تونے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ اے اللہ کل انہیں پیس کر رکھ دیجیے "۔ حضور ﷺ یہ کہہ رہے تھے۔ آپ کی نظر عتبہ ابن ربیعہ پر پری جو سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ وہ قریش کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا اگر اہل قریش میں سے کسی کے ہاں کوئی بھلائی ہوسکتی ہے تو صرف سرخ اونٹ والے سوار کے ہاں ہوسکتی ہے۔

حفاف ابن ایما ابن رحضہ الغفاری نے یا اس کے باپ ایما نے اہل قریش کو اپنے بیٹے کے ہاتھ کچھ مویشی برائے ذبح بھیجے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اسلحہ اور افراد کی امداد بھی دے سکتے ہیں۔ قریش نے اس کے بیٹے کے ذریعے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تونے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا ہے۔ اور تم پر جو حق تھا وہ تم نے ادا کردیا ہے اور کہا خدا کی قسم اگر ہم انسانوں سے لڑنے نکلے ہیں تو انسانوں کے مقابلے میں ہم اپنے اندر کوئی کمزوری محسوس نہیں کرتے۔ اور اگر ہماری یہ جنگ خدا کے خلاف ہے جس طرح محمد سمجھتے ہیں تو خدا کے مقابلے میں کسی کی کوئی طاقت نہیں ہے۔

جب لوگ اپنی منزل پر اترے تو حضور ﷺ کے تیار کردہ حوض پر کچھ لوگ پانی لینے آئے۔ ان میں حکیم ابن حزام بھی تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : " انہیں پانی پینے دو "۔ غرض اس حوض سے جس نے بھی پانی پیا۔ وہ مارا گیا ماسوائے حکیم ابن حزام کے ، یہ بعد میں مسلمان ہوگئے اور بہت اچھے مسلمان بنے اور جب حلف اٹھاتے اور بہت تاکید کرتے تو کہتے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بدر کے دن نجات دی۔

ابن اسحاق کہتے ہیں : مجھے ابو اسحاق ابن یسار جمحی انصار کے دوسرے اکابر نے بتایا کہ جب اہل قریش نے اطمینان سے پڑاؤ کرلیا تو انہوں نے عمر ابن وہب جمحی کو بھیجا کہ وہ اصحاب محمد کا اندازہ لگا کر بتائیں کہ اسلامی لشکر کی کوئی خفیہ فوج بھی ہے یا کوئی امدادی فوج ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ دو بار وادی میں دور تک گیا۔ اسے کچھ نظر نہ آیا اور واپس آ کر رپوٹ دی کہ مجھے کچھ سراغ نہیں ملا۔ لیکن اے اہل قریش میں ایک ایسی مصیبت دیکھ رہا ہوں جس میں بہت لوگوں کی موت ہے۔ یثرت کے ترشح میں موت واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ ہمارا مقابلہ ایسی قوم سے ہے جن کا دفاع اور جن کا قلعہ صرف ان کی تلواریں ہیں۔ خدا کی قسم میں یہ نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کوئی شخص مارا جائے گا الا یہ کہ وہ ہم سے ایک آدمی کو قتل کردے۔ اگر وہ اپنی تعداد جتنے لوگ بھی ہم سے مار لیں تو ہمارے لیے زندہ رہنے میں کوئی مزہ نہ ہوگا۔ اس لیے مناسب ہے کہ آپ لوتگ اس جنگ کے بارے میں سوچ لیں۔

جب حکیم ابن حزام نے یہ …

3

ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ

(اور) وہ جو نماز پڑھتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں

درس نمبر 83 ایک نظر میں

یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں نصرت اور عزت سے نوازے۔ پھر انہیں یاد دلاای کہ ذرا اس معرکے کے مراحل پر غور کرو کہ تمہاری تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا ، وہ تم سے کہیں زیادہ تھا۔ مگر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے تمہارے قدم مضبوط کیے۔ پھر اس نے بارش برسا کر تمہارے لیے لڑنا آسان کردیا۔ تمہارے پاؤں مضبوطی سے جمتے تھے ، تم بارش کے پانی سے مویشیوں کو سیراب کرائے تھے اور غسل کرتے تھے کیونکہ جنگ بدر ریت کے میدان میں لڑی گئی تھی اور ریت میں انسانوں اور گھوڑوں کے قدم دھنس جایا کرتے ہیں۔ پھر یاد دلایا گیا کہ تم کو ایک قسم کی نیند نے آ لیا اور نیند آتے ہی تم مطمئن ہوگئے۔ پھر اللہ نے تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان پر شدید عذاب نازل کردیا۔

ان تجربات کی روشنی میں قرآن ان کو حکم دیتا ہے کہ تم ہر جنگ میں ثابت قدمی اختیار کرو۔ اگرچہ بظاہر تمہیں دشمنوں کی قوت زیادہ نظر آئے کیونکہ قتل کرنے والا اللہ ہوتا ہے۔ اللہ ہی دراصل تیر چلاتا ہے وہی معاملات کی تدبیر کرتا ہے ، تم تو در اصل تقدیر الہی کے لیے ایک پردہ ہو ، وہ تمہیں جس طرح چاہتی ہے ، چلاتی ہے۔ اس کے بعد اس سبق میں مشرکین کی اس احمقانہ حرکت پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس واقعہ سے قبل اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ آپ آج کی جنگ میں اس فرقے کو تباہ کردیں جو گمراہ ہو اور جو صلہ رحمی کا قاطع ہو۔ اللہ فرماتے ہیں ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔

مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے نفاق کو دور کرو اور منافقوں کا رویہ اختیار نہ کرو۔ جو کہتے تو یہ تھے کہ ہم سنتے ہیں لیکن سنتے نہ تھے اس لیے کہ وہ سن کر مانتے نہ تھے۔

اس سبق کے آخر میں مسلمانو کو بار بار پکارا جاتا ہے کہ مسلمانو ! رسول تمہیں جب بھی پکارے تو لبیک کہو ، اس لیے کہ وہ تمہیں ایک ایسی دعوت دیتا ہے جس کے نتیجے میں تمہیں زندگی دوام حاصل ہوگی۔ اگرچہ بظاہر وہ تمہیں موت اور قتل کی طرف بلا رہا ہو۔ اللہ اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم قلیل اور کمزور تھے۔ تمہیں ہر وقت ہر طرف سے ڈر لگا رہتا تھا کہ دشمن کہیں تمہیں اچک نہ جائے۔ ان حالات میں اللہ نے تمہیں پناہ دی ، نصرت دی۔ اور اب تمہارے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر تم تقویٰ کی راہ اختیار کرو تو اللہ تمہیں فیصلہ کن طرز عمل اور فیصلہ کن رائے عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا ، تمہاری تقصیرات سے درگذر کرے گا اور اللہ کے ہاں جو کچھ تمہارے لیے دار آخرت میں تیار ہے وہ اس جہاں کے تمام غنائم و اموال سے کہیں زیادہ ہے۔

۔۔۔

درس نمبر 83 تشریح آیات : 1 ۔۔ تا۔۔ 29:۔

تفسیر آیات 1 تا 4 ۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ …

4

أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُؤْمِنُونَ حَقًّۭا ۚ لَّهُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ

یہی سچے مومن ہیں اور ان کے لیے پروردگار کے ہاں (بڑے بڑے درجے) اور بخشش اور عزت کی روزی ہے

درس نمبر 83 ایک نظر میں

یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں نصرت اور عزت سے نوازے۔ پھر انہیں یاد دلاای کہ ذرا اس معرکے کے مراحل پر غور کرو کہ تمہاری تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا ، وہ تم سے کہیں زیادہ تھا۔ مگر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے تمہارے قدم مضبوط کیے۔ پھر اس نے بارش برسا کر تمہارے لیے لڑنا آسان کردیا۔ تمہارے پاؤں مضبوطی سے جمتے تھے ، تم بارش کے پانی سے مویشیوں کو سیراب کرائے تھے اور غسل کرتے تھے کیونکہ جنگ بدر ریت کے میدان میں لڑی گئی تھی اور ریت میں انسانوں اور گھوڑوں کے قدم دھنس جایا کرتے ہیں۔ پھر یاد دلایا گیا کہ تم کو ایک قسم کی نیند نے آ لیا اور نیند آتے ہی تم مطمئن ہوگئے۔ پھر اللہ نے تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان پر شدید عذاب نازل کردیا۔

ان تجربات کی روشنی میں قرآن ان کو حکم دیتا ہے کہ تم ہر جنگ میں ثابت قدمی اختیار کرو۔ اگرچہ بظاہر تمہیں دشمنوں کی قوت زیادہ نظر آئے کیونکہ قتل کرنے والا اللہ ہوتا ہے۔ اللہ ہی دراصل تیر چلاتا ہے وہی معاملات کی تدبیر کرتا ہے ، تم تو در اصل تقدیر الہی کے لیے ایک پردہ ہو ، وہ تمہیں جس طرح چاہتی ہے ، چلاتی ہے۔ اس کے بعد اس سبق میں مشرکین کی اس احمقانہ حرکت پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس واقعہ سے قبل اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ آپ آج کی جنگ میں اس فرقے کو تباہ کردیں جو گمراہ ہو اور جو صلہ رحمی کا قاطع ہو۔ اللہ فرماتے ہیں ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔

مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے نفاق کو دور کرو اور منافقوں کا رویہ اختیار نہ کرو۔ جو کہتے تو یہ تھے کہ ہم سنتے ہیں لیکن سنتے نہ تھے اس لیے کہ وہ سن کر مانتے نہ تھے۔

اس سبق کے آخر میں مسلمانو کو بار بار پکارا جاتا ہے کہ مسلمانو ! رسول تمہیں جب بھی پکارے تو لبیک کہو ، اس لیے کہ وہ تمہیں ایک ایسی دعوت دیتا ہے جس کے نتیجے میں تمہیں زندگی دوام حاصل ہوگی۔ اگرچہ بظاہر وہ تمہیں موت اور قتل کی طرف بلا رہا ہو۔ اللہ اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم قلیل اور کمزور تھے۔ تمہیں ہر وقت ہر طرف سے ڈر لگا رہتا تھا کہ دشمن کہیں تمہیں اچک نہ جائے۔ ان حالات میں اللہ نے تمہیں پناہ دی ، نصرت دی۔ اور اب تمہارے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر تم تقویٰ کی راہ اختیار کرو تو اللہ تمہیں فیصلہ کن طرز عمل اور فیصلہ کن رائے عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا ، تمہاری تقصیرات سے درگذر کرے گا اور اللہ کے ہاں جو کچھ تمہارے لیے دار آخرت میں تیار ہے وہ اس جہاں کے تمام غنائم و اموال سے کہیں زیادہ ہے۔

۔۔۔

درس نمبر 83 تشریح آیات : 1 ۔۔ تا۔۔ 29:۔

تفسیر آیات 1 تا 4 ۔

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ …

5

كَمَآ أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنۢ بَيْتِكَ بِٱلْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًۭا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ لَكَٰرِهُونَ

(ان لوگوں کو اپنے گھروں سے اسی طرح نکلنا چاہیئے تھا) جس طرح تمہارے پروردگار نے تم کو تدبیر کے ساتھ اپنے گھر سے نکالا اور (اس وقت) مومنوں ایک جماعت ناخوش تھی

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

۔۔۔

اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔

اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ …

6

يُجَٰدِلُونَكَ فِى ٱلْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى ٱلْمَوْتِ وَهُمْ يَنظُرُونَ

وہ لوگ حق بات میں اس کے ظاہر ہوئے پیچھے تم سے جھگڑنے لگے گویا موت کی طرف دھکیلے جاتے ہیں اور اسے دیکھ رہے ہیں

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

۔۔۔

اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔

اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ …

7

وَإِذْ يَعِدُكُمُ ٱللَّهُ إِحْدَى ٱلطَّآئِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ ٱلشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُحِقَّ ٱلْحَقَّ بِكَلِمَٰتِهِۦ وَيَقْطَعَ دَابِرَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب خدا تم سے وعدہ کرتا تھا کہ (ابوسفیان اور ابوجہل کے) دو گروہوں میں سے ایک گروہ تمہارا (مسخر) ہوجائے گا۔ اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بے (شان و) شوکت (یعنی بے ہتھیار ہے) وہ تمہارے ہاتھ آجائے اور خدا چاہتا تھا کہ اپنے فرمان سے حق کو قائم رکھے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر (پھینک) دے

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

۔۔۔

اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔

اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ …

8

لِيُحِقَّ ٱلْحَقَّ وَيُبْطِلَ ٱلْبَٰطِلَ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُجْرِمُونَ

تاکہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کردے۔ گو مشرک ناخوش ہی ہوں

اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔

۔۔۔

اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔

اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔

كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ …

9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَٱسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُم بِأَلْفٍۢ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُرْدِفِينَ

جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ (تسلی رکھو) ہم ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے جائیں گے تمہاری مدد کریں گے

تفسیر آیات 9 تا 14:

اب سیاق کلام میں اس فیصلہ کن جنگ کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جماعت مسلمہ کا حال کیسا تھا ، اور اللہ نے ان کے لیے کیسی تدابیر اختیار کیں اور اللہ کی تائید و نصرت ان کو محض مشیت الہیہ اور تائید ایزدی کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ قرآن کریم کا بےمثال انداز بیان اس معرکے کے مشاہدات ، تاثرات ، واقعات ، پریشانیوں اور امیدوں کو نہایت ہی دقت سے قلم بند کرتا ہے اس طرح کہ قاری گویا اپنے اپ کو اس معرکے کے اندر محسوس کرے مگر قرآنی تبصرے کے ساتھ ، تاکہ وہ حقائق کو بدر سے وسیع تر دائرے میں سمجھیں۔ جزیرۃ العرب سے بھی ان کی نظر وسیع بلکہ ان کا نقطہ نظر پوری کائنات سے بھی زیادہ وسیع ہو۔ اس بیان میں اب اس معرکے کا پس منظر ملاء اعلی تک وسیع ہوجاتا ہے۔ اب یہ معرکہ یوم بدر سے بھی آگے ، پوری انسانی تاریخ سے بھی آگے بڑھ کر ، پوری دنیاوی زندگی کے دائرے سے بھی وسیع تر دار آخرت تک پہنچ جاتا ہے اور اس پیش منظر میں جماعت مسلمہ کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی کیا قدروقیمت ہے ، اس کے اعمال کس قدر اہم ہیں اور اس کی اقامت دین کی جدو جہد اور حرکت کس قدر مقدس ہے۔

یہ ایک معرکہ ہے جو اللہ کے امر اور اس کی مشیت کے مطابق چل رہا ہے۔ اللہ کا نظام قضا و قدر اور اس کی تدبیر خود کر رہا ہے۔ اللہ کے خاص دستے اس میں شریک ہیں۔ اس معرکے میں حرکت الابزن کے مناظر اور اس کی خطرناکیاں اور اس کی کامیابیاں قرآنی عبارات میں صاف نظر آرہی ہیں۔ یہ ایک زندہ منظر ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ شاید یہ نظر ابھی آنکھوں کے سامنے ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس معرکے میں اہل ایمان کی فریاد کی تھی ؟ امام احمد حضرت عمر ابن الخطاب سے روایت کرتے ہیں ، جب بدر کا واقعہ درپیش ہوا ، تو نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا کہ وہ تین سو سے کچھ اوپر ہیں اور جب کفار کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک ہزار سے کچھ اوپر ہیں تو حضور ﷺ نے قبلہ کی طرف چہرہ مبارک پھیرا ، آپ چادر اور تہہ بند اوڑھے ہوئے تھے اور کہا : اے اللہ آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کردیجیے۔ اے اللہ اگر آج آپ نے اہل اسلام کے اس گروہ کو ہلاک کردیا تو پھر دنیا میں کبھی تیری بندگی نہ ہوگی " کہتے ہیں آپ اللہ کے سامنے اسی طرح فریاد کرتے رہے اور پکارتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کے کاندھوں سے چادر گرگئی۔ حضرت ابوبکر آئے ، انہوں نے چادر کو پکڑا اور اسے اپنی جگہ پر رکھ دیا اور پیچھے سے اسے پکڑے رکھا اور اس کے بعد آپ نے کہا " اے اللہ کے نبی ، بس اللہ کے سامنے آپ کی یہ فریاد کافی ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔

"إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ (9): اور وہ موقع جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں " یوم بدر میں فرشتوں کی تعداد اور ان کے طریقہ جنگ کے بارے میں متعدد اور مفصل روایات وارد ہیں۔ اور ان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اہل ایمان کو کیا کہتے تھے اور کس طرح ان کو جرات دلاتے تھے اور کفار کو کیا کہتے تھے اور کس طرح انہیں شرمندہ کرتے تھے۔ لیکن ظلال القرآن میں ہمارا جو طریقہ ہے ، اس کے مطابق ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص واضح ہیں۔ یہاں قرآنی آیات بالکل واضح ہیں۔ مثلاً :

"إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ (9): اور وہ موقع جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں "۔ یہ تو تھی ان کی …

10

وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِۦ قُلُوبُكُمْ ۚ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اور اس مدد کو خدا نے محض بشارت بنایا تھا کہ تمہارے دل سے اطمینان حاصل کریں۔ اور مدد تو الله ہی کی طرف سے ہے۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے

مسلمان اللہ کے دربار میں زاری کر رہے تھے تو اللہ نے ان کو جواب دیا کہ میں ایک ہزار فرشتوں کی امداد تمہارے لیے بھیج رہا ہوں جو لگاتار نازل ہوتے رہیں گے۔ اس اعلان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بہت عظیم تھا ، اور اللہ کے نزدیک اقامت دین کی بہت اہمیت تھی ، لیکن اللہ تعالیٰ یہاں اس بات کی وضاحت بار بار فرماتے ہیں کہ دنیا میں اسباب کی اس قدر اہمیت نہیں کہ ان سے تخلف ممکن نہ ہو۔ اصل اختیار اللہ کی مشیت کا ہوتا ہے۔ لہذا اسباب کے معاملے میں مومن کو اپنا ذہن صاف رکھنا چاہیے۔ اللہ کی جانب سے مدد کی قبولیت اور پھر اس کی اطلاع محض ایک خوشخبری تھی جس کے ذریعے مومنین کو اطمینان دلانا مقصود تھا۔ رہی نصرت تو وہ اللہ کی جانب سے تھی۔

یہ ہے وہ حقیقت جو یہاں قرآن مومنین کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہے تاکہ وہ کلی تکیہ اسباب پر نہ کریں۔

مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ وہ اپنی پوری قوت کو اس معرکے میں جھونک دیں اور کچھ بھی باقی نہ رکھیں۔ ابتدائی طور پر بعض لوگوں کے اندر جو تزلزل پیدا ہوگیا تھا اس پر قابو پا لیں۔ کیونکہ اس وقت وہ واقعی اور حقیقی خطرے سے دوچار تھے۔ وہ اللہ کا حکم بجا لاتے ہوئے اگے بڑھیں اور اللہ کی نصرت پر یقین رکھیں۔ بس یہی ان کے لیے کافی تھا تاکہ وہ اپنے حصے کا کردار اچھی طرح ادا کرلی۔ آگے پھر قدرت الہیہ کا کام آتا ہے اور قدرت الہی اپنے معاملات کی تدبیر خود کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جو اقدامات ہوئے اور اطلاعات دی گئیں وہ محض مسلمانوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ ان کے قدموں کو ثابت کرنے کے لیے تھیں کیونکہ وہ ایک حقیقی خطرے سے دوچار تھے۔ جماعت مسلمہ کے لیے یہ بات کافی تھی کہ اسے یہ اطمینان ہو کہ اللہ کے لشکر اس کے ساتھ ہیں اور یہ کہ نصرت ان کے لیے مقدر ہے۔ کیونک نصر اللہ کی جانب سے ہوتی ہے اور اللہ ان کے ساتھ ہے ، وہ عزیز ہے اور وہی غالب ہے ، وہی حکیم ہے اور وہ ہر بات کو اپنے حقیقی مقام پر رکھتا ہے۔

Al-Anfaal 8:10Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.