إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
آیت ” نمبر 80 تا 84۔
قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور اس طرح نسل انسانی کے اجرا وامتداد کا سامان فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں اصناف کے وضائف مقرر کرکے انہیں ایک دوسرے کے لئے مناسب جسمانی اور نفسیاتی اہلیت دی اور باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا کا انتظام فرمایا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کے لئے گہری لذت ودیعت کی اور اسے ایک فطری لذت قرار یدا تاکہ وہ دلکشی اور کشش کے ساتھ باہم ملیں اور بقائے نسل انسانی کی ذمہ داریاں قبول کریں اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بھی برداشت کریں ۔ حمل ‘ وضع حمل اور بچوں کی پرورش اور رضاعت ‘ نفقہ اولاد واہلیہ اور تربیت اولاد کی ذمہ داریاں اور کفالت اور اس کے بعد پورے خاندان کے افراد کی باہم ذمہ داریاں ۔ باوجود اس کے کہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں انسانی بچوں کی نشوونما اور تربیت کا علم نہایت ہی طویل اور صبر آزما ہوتا ہے ۔
یہ فریضہ چونکہ نہایت ہی اساسی اور بنیادی فریضہ ہے اور اس کے سوا نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں ۔ اس لئے اس فریضے کے اندر انحراف کو بھی ایک اساسی جرم قرار دیا گیا جس طرح عقیدہ توحید کے اندر ذرا بھر انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کے اندر انحراف اور ہم جنسی پرستی کے انحراف کو ایک درجے کا جرم قرار دیا گیا۔
قوم لوط کے قصے میں انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ یہ فطرت سے انحراف ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی اخلاقی بےراہ روی انہوں نے شروع کی ہے اور ان سے پہلے کسی قوم میں یہ اخلاقی فساد نہ تھا ۔
آیت ” وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِیْنَ (80) إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81)
” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔ “
حضرت لوط (علیہ السلام) ان پر حد سے گزرنے کا جو الزام لگاتے ہیں اور اس پر ان کی سرزنش کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیمہ کا جو نظام انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اس سے آگے گزر جانا اسراف ہے ۔ پھر اللہ نے انہیں توالد وتناسل کے لئے جو قوتیں دی ہوئی ہیں ان کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ان کو یہاں زندگی کی نشوونما کیلئے صرف کیا جائے جبکہ وہ ان قوتوں کو بنجر زمین میں ضائع کر رہے ہیں اور محض عارضی لذت اور شہوت رانی کے لئے کام میں لاتے ہیں ‘ حالانکہ شہوت اور لذت کا حصول بھی طبعی راہ سے ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی سنت الہیہ کے خلاف لذت کوشی کی سعی کرتا ہے تو اسے بےراہ روی ‘ اور خلاف فطرت عمل تصور کیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ یہ عمل خلاف اخلاق بھی ہوگا ‘ اس لئے اسلامی اخلاق بھی فطری اخلاق ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوئی فساد اور انحراف نہیں ہوتا ۔
عورت کی نفسیاتی اور عضویاتی ساخت ایسی ہوتی ہے جس سے مرد کو حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ …