Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 61–70 of 206

61

قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَٰلَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62)

” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “

یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔

آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔

اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔

لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔

آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64)

” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “

ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔

اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ …

Al-A'raaf 7:61Listen in Qur'an →
62

أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62)

” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “

یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔

آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔

اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔

لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔

آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64)

” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “

ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔

اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ …

Al-A'raaf 7:62Listen in Qur'an →
63

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62)

” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “

یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔

آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔

اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔

لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔

آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64)

” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “

ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔

اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ …

Al-A'raaf 7:63Listen in Qur'an →
64

فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62)

” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “

یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔

آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔

اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔

لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔

آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64)

” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “

ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔

اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ …

Al-A'raaf 7:64Listen in Qur'an →
65

۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ

اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟

آیت ” نمبر 65 تا 74۔

یہ وہی رسالت اور وہی پیغام بری ہے وہی معاملہ اور وہی انجام ہے۔ وہی سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہی قانون الہی ہے جس کے مطابق یہ کائنات قائم ہے ۔ ایک ہی قانون ہے اور ایک ہی ضابطہ ہے ۔

قوم عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے ‘ یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ہے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی تعداد تیرہ ‘ ظاہر ہے کہ یہ سب لوگ دین نوح (علیہ السلام) کے پیرو تھے اور نوح (علیہ السلام) کا دین ‘ دین اسلام تھا ۔ یہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور وہ اللہ کے سوا اپنے لئے کسی اور کو الہ نہ بناتے تھے ‘ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ ہی رب العالمین ہے ‘ اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں یہی تعلیم دی تھی ۔

آیت ” وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67)

” میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں “۔

لیکن جب طویل زمانہ گزر گیا اور یہ لوگ زمین کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے تو شیطان نے انہیں اچھی طرح گمراہ کردیا اور انہیں اپنی خواہشات اور شہوات کے مطیع بنا دیا اور انسان کی سب سے بڑی خواہش ملکیت اور سازو سامان کی خواہش ہوتی ہے ۔ اور یہ مال و دولت اور سازو سامان وہ شریعت کے قانون کے علی الرغم جمع کرتے ہیں ‘ تو اس وجہ سے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد نے اس دعوت کو بہت ہی نابسندیدہ سمجھا کہ وہ اب صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں ۔

آیت ” وَإِلَی عَادٍ أَخَاہُمْ ہُوداً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ أَفَلاَ تَتَّقُونَ (65)

” اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز کرو گے ۔ “

اور یہ وہی بات ہے جو اس سے قبل حضرت نوح نے کہی تھی ‘ اور جس پر قوم نوح نے انکی تکذیب کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان پر جو عذاب آیا وہ معلوم ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا خلیفہ بنایا تاھ ۔ یہاں قرآن کریم نے قوم عاد کے مسکن کی نشاندہی نہیں فرمائی لیکن دوسری سورتوں میں یہ تصریح آئی ہے کہ یہ احقاف میں تھے ۔ یہ یمامہ اور حضر موت کے درمیان بڑے بڑے ٹیلے ہیں ۔ غرض یہ لوگ اسی راہ پر چل نکلے جس پر اس سے قبل قوم نوح چل رہی تھی ۔ چناچہ انہوں نے نہ تو نصیحت پر کان دھرا اور نہ ہی واقعات نوح سے عبرت پکڑی ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اپنے خطاب میں مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے ؟ یہ ان کے رویے پر نکیر ہے ‘ اور انہیں اس خوفناک انجام بد سے ڈرایا جارہا ہے ۔

غرض اس قوم کے سرداروں کو یہ بات بہت ہی ناگوار گزری کہ ان میں سے ایک عام آدمی اٹھ کر انہیں ڈرائے اور یہ ہے اور ہمارے مقام ومنصب کا صحیح خیال نہیں رکھ رہا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی کی طرف یہ باتیں منسوب کیں کہ وہ احمق اور جھوٹے ہیں اور اس قسم کے الزام لگانے میں انہوں نے ذرا بھر شرم محسوس نہ کی ۔

Al-A'raaf 7:65Listen in Qur'an →
66

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍۢ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66)

” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “

یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا :

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68)

” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “

آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔

یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔

آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔

اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

Al-A'raaf 7:66Listen in Qur'an →
67

قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66)

” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “

یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا :

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68)

” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “

آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔

یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔

آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔

اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

Al-A'raaf 7:67Listen in Qur'an →
68

أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66)

” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “

یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا :

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68)

” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “

آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔

یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔

آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69)

” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔

اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

Al-A'raaf 7:68Listen in Qur'an →
69

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةًۭ ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو

آیت ” وَاذکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَکُمْ فِیْ الْخَلْقِ بَسْطَۃً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (69)

” بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ‘ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔ “

انہیں زمین میں جو اقتدار اعلی عطا کیا گیا تھا اور جو جسمانی توانائی عطا ہوئی تھی اس کی وجہ سے ان کا فرض یہ تھا کہ وہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے اور اللہ کی پکڑ سے ڈرتے اور اس برے انجام سے خوف کھاتے جو ان سے پہلے آنے والی اقوام کا ہوا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے ایسا کوئی عہد تو نہیں کیا تھا کہ اللہ کی سنت کا اجراء ان پر نہ ہوگا ۔ کیونکہ اللہ کی ناقابل تغیر سنت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کے جاری کردی ضابطے کے مطابق چلتی رہتی ہے ۔ نعمتوں کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا مطلوب ہے کہ ان پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور شکر ادا کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کے اسباب کو قائم ودائم رکھا جائے کیونکہ دنیا وآخرت کی کامیابی اسی میں ہوتی ہے ۔

لیکن جب انسان کی فطرت میں فساد اور انحراف پیدا ہوجاتا ہے تو پھر وہ غور وفکر اور تدبر سے کام نہیں لیتا ‘ چناچہ یہ دعوت سن کر وہ آمادہ انکار وسرکشی ہوگئے اور برے طرز عمل کو اپنانے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ انہوں نے اب بات کو کاٹ کر مکالمہ ہی بند کردیا اور جلد ہی نزول عذاب چاہنے لگے ‘ ان کے لئے نصیحت بوجھل بن گئی اور ڈراوے کے ساتھ وہ مذاق کرنے لگے ۔

Al-A'raaf 7:69Listen in Qur'an →
70

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ٱللَّهَ وَحْدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

آیت ” قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّہَ وَحْدَہُ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ (70)

” انہوں نے جواب دیا ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے ۔ “

یہ روایات اور ان کے موجودہ حالات کی ذلت آمیز غلامی کی ایک تصویر ہے۔ انسان کے دل و دماغ حالات کے اسیر ہیں ۔ یہ ایسی غلامی اور قید ہے جس میں انسان سے اس کے اعلی ترین خصائص گم ہوجاتے ہیں ۔ وہ آزادانہ غور وفکر سے محروم ہوجاتا ہے ۔ چناچہ وہ لوگ بھی آزادی رائے اور آزادی اعتقاد کے حق سے محروم ہوگئے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ اپنی عادات ورسومات کے غلام ہیں ۔ تقلید آباء ان پر حکمران ہے اور ذاتی خواہشات اور شہوات نفسانیہ کے وہ اسیر ہیں اور ان لوگوں نے اپنے اوپر علم ومعرفت اور روشنی کے تمام دروازے بند کردیئے ہیں ۔

ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ سچائی سے فرار اختیار کرنے کے لئے خود کشی پر آمادہ ہیں اور عذاب کو جلدی سے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ سوچنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ کس قدر حماقت میں مبتلا ہیں اور جہالت کے اسیر ہیں ۔ چناچہ اپنے ناصح اور امین نبی کو کہتے ہیں ” اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس سے ہمیں ڈراتے ہو ؟ “ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد انہیں اپنے رسول کی طرف سے دو ٹوک جواب دلواتے ہیں ۔

Al-A'raaf 7:70Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.