Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 206

51

ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَجْحَدُونَ

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ انہیں اس انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے مگر اس منظر میں وہ واقع ہوچکا ہے ۔

یہ عجیب مناظر ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں پیش کئے گئے اور انہیں اس انداز میں یہی کتاب معجز بیان پیش کرسکتی تھی ۔ اس طرح یہ طویل منظر کشی یہاں ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے یہ آخر تبصرہ آتا ہے ‘ جس میں لوگوں کو ان مناظر قیامت کی روشن یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کا انجام کیا ہو گا ؟

کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کتاب میں دیئے گئے انجام کے بارے میں انتظار کرتے ہیں تو یہ ہے اس کا انجام اور اس انجام کے دنتوبہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی ۔ مشکلات میں کوئی سفارش نہ چلے گی اور یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ آزمائش کے لئے دوبارہ چانس دیا جائے ۔

یوں یہ منظر ختم ہوتا ہے اور انسان اس منظر میں گم رہتا ہے ۔ جب یہ منظر ختم ہوتا ہے تو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے گویا وہ قیامت کے میدان سے لوٹ کر دنیا میں آگیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی ہم آخرت میں چلے گئے اور واپس آگئے ۔

یہ پورے مناظر زندگی کے سفرپر مشتمل ہیں ۔ زندگی کا طویل سفر ‘ حشر ونشر اور حساب و کتاب اور جزا و سزاء جبکہ اس سے قبل کے سبق میں انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ انسان کے جد امجد جنت میں تھے ان کی لغزش کی وجہ سے انسان جنت سے اترا تھا ۔

یوں قرآن کریم انسان کو اور اس کے تصورات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ‘ زمان ومکان کے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں ‘ فاصلے مٹ جاتے ہیں اور انسان کو ملکوت السماوات کی سیرکرائی جاتی ہے اور یہ سیر چند لمحات میں کرا دی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑے اور ڈرانے والوں کی باتوں کی طرف توجہ کرے اور سورة اعراف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوب کہا ۔

آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3)

” یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والے لوگوں کو نصیحت ہو ۔ “

Al-A'raaf 7:51Listen in Qur'an →
52

وَلَقَدْ جِئْنَٰهُم بِكِتَٰبٍۢ فَصَّلْنَٰهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ انہیں اس انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے مگر اس منظر میں وہ واقع ہوچکا ہے ۔

یہ عجیب مناظر ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں پیش کئے گئے اور انہیں اس انداز میں یہی کتاب معجز بیان پیش کرسکتی تھی ۔ اس طرح یہ طویل منظر کشی یہاں ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے یہ آخر تبصرہ آتا ہے ‘ جس میں لوگوں کو ان مناظر قیامت کی روشن یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کا انجام کیا ہو گا ؟

کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کتاب میں دیئے گئے انجام کے بارے میں انتظار کرتے ہیں تو یہ ہے اس کا انجام اور اس انجام کے دنتوبہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی ۔ مشکلات میں کوئی سفارش نہ چلے گی اور یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ آزمائش کے لئے دوبارہ چانس دیا جائے ۔

یوں یہ منظر ختم ہوتا ہے اور انسان اس منظر میں گم رہتا ہے ۔ جب یہ منظر ختم ہوتا ہے تو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے گویا وہ قیامت کے میدان سے لوٹ کر دنیا میں آگیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی ہم آخرت میں چلے گئے اور واپس آگئے ۔

یہ پورے مناظر زندگی کے سفرپر مشتمل ہیں ۔ زندگی کا طویل سفر ‘ حشر ونشر اور حساب و کتاب اور جزا و سزاء جبکہ اس سے قبل کے سبق میں انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ انسان کے جد امجد جنت میں تھے ان کی لغزش کی وجہ سے انسان جنت سے اترا تھا ۔

یوں قرآن کریم انسان کو اور اس کے تصورات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ‘ زمان ومکان کے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں ‘ فاصلے مٹ جاتے ہیں اور انسان کو ملکوت السماوات کی سیرکرائی جاتی ہے اور یہ سیر چند لمحات میں کرا دی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑے اور ڈرانے والوں کی باتوں کی طرف توجہ کرے اور سورة اعراف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوب کہا ۔

آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3)

” یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والے لوگوں کو نصیحت ہو ۔ “

Al-A'raaf 7:52Listen in Qur'an →
53

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُۥ ۚ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوا۟ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا

درس نمبر 76 ایک نظر میں :

پہلے دو اسباق میں ہم نے قصہ آغاز انسانیت ‘ جنت سے اس کے نزول اور پھر حشر ونشر کے میدان اور جنت اور دوزخ کے مناظر کی سیر کی ۔ اب اگلے سبق میں ملکوت السموات والارض کی سیر ہے ۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کے ضمیر کی سیر مطلوب ہے ۔ انسان کی تخلیق سے ذرا پیچھے جا کر اس پوری کائنات کی تخلیق کی روئیداد بھی سن لیجئے ۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا اس کائنات کے اسرار و رموز پر بھی غور کرو اور یہ سمجھو کہ اس کا قصہ تخلیق کیا ہے ؟ ذرا اس کے مناظر ومظاہر پر بھی غور کرو ۔ گردش افلاک میں مناظر لیل ونہار کی دوڑ پر غور کرو۔ سورج اور چاند کو دیکھو اور فضا کی وسعتوں میں سیاروں اور ستاروں کی بندش کو ملاحظہ کرو۔ فضا میں ہواؤں کی گردش اور ان کے اثرات ‘ بادل اور بارش اور پھر مردہ زمین اور باران رحمت کے بعد اس کی تازگی اور روئیدگی ‘ ایک لمحہ مردہ اور ایک لمحہ فصلوں اور پھلوں سے بھرپور۔

اللہ کی بادشاہت کی وادیوں سے قبل قصہ تخلیق انسانیت بیان ہوچکا ہے ۔ اس کے بعدانسانیت کے اس طویل سفر کا آغاز و انجام بیان ہوچکا ہے اور اس سے قبل یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ اتباع شیطان اور اللہ کی آیات اور احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے استکبار کا انجام کیا ہوگا ۔ نیز یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ جاہلی تصورات ورسومات کیا ہیں اور انسان کی جانب سے اپنے لئے شریعت ساری اللہ کی نظر میں کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان موضوعات کے بعد انسان کو کائنات کی وسعتوں میں لے جایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے اس رب کی طرف لوٹ سکے جو ان وسعتوں کا خالق ہے اور پھر ان کو مسخر کرنے والا ہے ‘ جو اس وسیع و عریض کائنات کو اپنے نظام قضاوقدر سے چلاتا ہے ‘ اس کے لئے اس نے ایک ناموس تجویز کر رکھا ہے ۔ لہذا وہی ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا اور وہی ہے جو سیاسی اقتدار اعلی کا مالک ہے ۔

ملکوت السموات کی اس سیر کے ذریعے یہ گہرا تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ پوری کائنات رب کائنات کی مطیع ہے ‘ لہذا اس ناقابل تصور طویل و عریض کائنات کے اندر اس چھوٹے سے انسان کی سرکشی اور استکبار فطرت کائنات سے نافرمانی ہے ۔ اس طرز عمل سے انسان ناموس فطرت اور ناموس شریعت سے بیک وقت سرکشی اختیار کرتا ہے لہذا انسان کو اس کائنات کے اندر رہتے ہوئے یہ رویہ اختیار نہ کرنا چاہئے ۔

آیت ” ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56)

” اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اور خدا ہی کو پکار وخوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں کے قریب ہے ۔ “

دین کو اللہ کے لیئے خالص کردینا ‘ اور تمام انسانوں کی جانب سے اللہ کی بندگی اختیار کرنا اس عظیم بندگی اور سرنگونی کا ایک معمولی سا جزء اور ایک چھوٹی سی شاخ ہے جو اس عظیم اور بیکران کائنات کی طرف سے رب ذوالجلال کے حضور کی جاری ہے ۔ یہ ہے وہ سوچ اور وہ تصور جسے پورا قرآن کریم انسان کے دل و دماغ اور اس کی نظریات و تصورات میں نہایت ہی عمدگی سے بٹھانا چاہتا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ جو دل و دماغ بھی سوچ اور ادراک کے دروازے کھول کر اس پوری کائنات اور اس کے ان نوامیس کی طرف متوجہ ہوگا جو اس کائنات میں پوشیدہ ہیں یا بالکل ظاہر ہیں تو لابدی ہے کہ وہ نہایت ہی پختہ انداز میں اور نہایت ہی گہرائی کے ساتھ اس سے متاثر ہوگا اور دل کی گہرائیوں سے یہ شعور پائے گا کہ وہ نہایت ہی عظیم ہے جس نے اس کائنات اور اس کے نوامیس کو بنایا ہے اور وہی بنانے والی ذات سیاسی اقتدار اعلی کی بھی سزاوار ہے ۔ یہ غور وفکر وہ پہلا قدم ہے جو انبیاء کی …

Al-A'raaf 7:53Listen in Qur'an →
54

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے

آیت ” نمبر 54۔

اسلام کا نظریہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ہر قسم کے انسانی تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اللہ کے افعال کی کیفیات کی بھی وہ نفی کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ ایسا ہے جیسا کوئی بھی نہیں ہے ۔ چناچہ انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ‘ کیونکہ انسانی تصور اور انسانی عقل وہی تصاویر اللہ پر چسپاں کرے گا جو وہ اپنے ماحول سے اخذ کرے گا اور اس میں ان اشکال کا دخل ہوگا جو انسان دیکھتا ہے اور اللہ کی ذات ایسی ہے جیسا کوئی اور ذات نہیں ہے لہذا انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ۔ اور جب ذات باری انسانی تصور کے دائرہ تصویر کشی سے باہر ہے تو اللہ کے افعال کی کیفیات بھی دائرہ عقل سے وراء ہیں ۔ انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ ذات باری اور افعال باری کے آثار ہی ہمارے فہم وادراک کا موضوع ہو سکتے ہیں ۔

چناچہ ایسے سوالات کہ اللہ نے آسمان و زمین کو کس طرح پیدا کیا ؟ اللہ پھر عرش پر کیسے متمکن ہوا ؟ اور وہ عرش کیسا ہے جس پر باری تعالیٰ متمکن ہوا ؟ یہ تمام سوالات لغو سوالات ہیں اور اسلامی تصورات و عقائد کے اصول کے خلاف ہیں ۔ ایسے سوالات سے بھی لغو بات ہے اور کوئی شخص جو اسلامی تصورات و عقائد کے ان اصولوں سے واقف ہے ‘ وہ کبھی ان سوالات کا جواب دینے کی سعی نہیں کرے گا ۔ اسلامی فرقوں میں سے بعض لوگوں نے ان سوالات کے جوابات دینے کی سعی کی ہے ‘ جو نہایت ہی افسوسناک مشغلہ تھا ۔ اسلامی افکار کی تاریخ ایسے مباحث سے بھری پڑی ہے اور یہ مباحث اس وقت پیدا ہوئے جب اسلامی فکر کو یونان کی اکفار کی بیماری لاحق ہوئی ۔

رہے وہ چھ دن جن میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا تو یہ بھی ایک غیبی حقیقت ہے ۔ جس کا صحیح علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس وقت انسان موجود نہ تھا کہ وہ اس تخلیق اور زمانہ تخلیق کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہو۔ نہ اللہ کی دوسری مخلوق کے بارے میں انسان کچھ کہہ سکتا ہے ۔ آیت ” ما اشھدتم خلق السموت ولا خلق انفسھم “۔ تم نے تخلیق سماوات اور زمین اور خود اپنے نفوس کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا ۔ “ اس کے بعد ان موضوعات پر کوئی شخص جو بھی کہے گا وہ کسی یقینی اصول پر مبنی نہ ہوگا ۔

یہ چھ مراحل بھی ہو سکتے ہیں ‘ چھ طریقے بھی ہو سکتے ہیں ۔ اور اللہ کے ایام میں سے چھ یوم بھی ہو سکتے ہیں ۔ ایام الہی ان ایام جیسے نہیں ہوتے جو اجرام سماوی کی حرکات کے نتیجے میں ہم لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ تخلیق کائنات سے قبل یہ اجرام فلکی تو موجود ہی نہ تھے جن سے ہم وقت کا تعین کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ یہ ایام اور کوئی چیز بھی ہو سکتے ہیں ۔ لہذا کوئی انسان متعین طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چھ ایام کے عدد سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں انسانوں نے جو کچھ کہا ہے وہ بہرحال انسانی مفروضے ہیں جو ظن وتخمین پر مبنی ہیں اور تعجب ہے کہ بعض لوگ ان اندازوں کو علم اور سائنس قرار دیتے ہیں جو کھلا تحکم ہے اور ذہنی وروحانی شکست پر مبنی ہے ۔ یہ سائنس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے برابر ہے جو بذات خود غیر یقینی چیز ہے اور اکثر اوقات مفروضات پر مبنی ہوتی ہے ۔

ہم اس آیت کو ان مفروضوں سے آلودہ نہیں کرتے ‘ کیونکہ ان مفروضوں کی وجہ سے اس کے مفہوم میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ آئیے ہم اس وسیع و عریض کائنات کی سیر شروع کرتے ہیں ۔ آیت پر دوبارہ نگاہ ڈالیں ۔

آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54)

” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو …

Al-A'raaf 7:54Listen in Qur'an →
55

ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

آیت ” نمبر 55 تا 56۔

یہ ہدایات ایسے وقت میں دی جارہی ہیں جبکہ مطالعہ کرنے والا نفسیانی طور پر ان کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہوجاتا ہے ۔ وہ دعاء اور رجوع الی اللہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس عظیم کارخانہ قدرت کے مطالعہ کے بعد اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی حالت میں ہوتا ہے ۔ خفیہ سے مراد یہ ہے کہ چیخ و پکار نہ کرو ‘ دھیمی آواز سے پکارو کیونکہ اللہ کی جلالت شان کے لائق یہ ہے کہ انسان اسے نہایت ہی نرم اور دھیمی آواز میں پکارے اور اس انداز میں جس سے معلوم ہو کہ اللہ قریب ہے اور سن رہا ہے ۔

مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک روایت میں آتا ہے ایک غزوہ میں تھے ‘ لوگوں نے زور زور سے اللہ اکبر کہنا شروع کردیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوذرا نرمی کے ساتھ اور اپنے دل میں پکارو ‘ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ کسی ایسے شخص کو پکار رہے ہو جو غائب ہے ‘ تم تو سننے والی قریب ذات کو پکار رہے ہو جو تمہارے ساتھ ہے ۔

یہاں قرآن کریم کا یہ اسلوب لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کر رہا ہے کہ اللہ کی ذات جلیل القدر ہے اور قریب ہے اور دعا اور پکارنے کے وقت قرآن کریم عملا ایسی ہئیت اور شکل پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ پکارنے والا ذات باری کی برتری کی وجہ سے چیخنے اور چلانے سے حیا کرتا ہے ۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کی جلالت قدر بیٹھی ہوئی ہے وہ اللہ کی جناب میں شور وشغب سے دور رہتے ہیں ۔

غرض اس عاجزانہ دعا اور انکساری اور خشوع و خضوع کی فضا میں ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کی ممانعت کردیتے ہیں کہ وہ اپنے لئے اس حاکمیت کا دعوی کریں جو وہ ایام جاہلیت میں کیا کرتے تھے کیونکہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا حق صرف اللہ کو ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ممانعت بھی آجاتی ہے کہ فساد فی الارض سے باز رہو ‘ جبکہ اسلامی شریعت کے نظام کے ذریعے اللہ نے اس کی اصلاح کردی ہے ۔ جو شخص عاجزی ‘ تضرع اور نہایت ہی خفیہ طریقے سے اللہ کو پکارتا ہے جو قریب بھی ہے اور سننے والا بھی ہے تو ظاہر ہے کہ ایسا شخص زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہیں پھیلاتا کیونکہ ان دونوں تاثرات کے درمیان ایک گہرا داخلی اور نفسیانی ربط ہے ۔ قرآن کا منہاج اصلاح یہ ہے کہ وہ دلوں کی گہری سوچوں اور نفسیاتی میلانات کو لے کر چلتا ہے اور یہ منہاج وہی ذات اختیار کرسکتی ہے جو لطیف وخبیر ہے ۔

آیت ” ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56)

اپنے رب کو پکارو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو ‘ جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے ۔ “

خوف اس لئے کہ تم اس کے غضب سے بچ جاؤ اور طمع اس لئے کرو کہ وہ تم سے راضی ہوگا اور اجر دے گا ۔ جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں کہ گویا اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر وہ اسے دیکھ نہیں رہے تو ان کی حالت ایسی ہو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے ۔ جیسا کہ حدیث کے مضمون میں آتا ہے تو یہ ہے احسان ۔ حضور ﷺ کی تعریف کے مطابق ۔

ایک بار پھر قرآن کریم اس کھلی کائنات کا ایک دوسرا ورق انسان کے مطالعے کیلئے الٹتا ہے ۔ یہ ورق تو ہمارے سامنے ہر وقت کھلا رہتا ہے لیکن ہم غفلت میں اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں ہیں ہم اس سے کوئی تاثر نہیں لیتے ‘ ہم اس کی پکار کو نہیں سنتے ۔ یہ وہ صفحہ ہے کہ آیت سابقہ میں رحمت الہیہ کے ضمن میں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ یہاں رحمت الہیہ کے ایک نمونے …

Al-A'raaf 7:55Listen in Qur'an →
56

وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا وَٱدْعُوهُ خَوْفًۭا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے

آیت ” نمبر 55 تا 56۔

یہ ہدایات ایسے وقت میں دی جارہی ہیں جبکہ مطالعہ کرنے والا نفسیانی طور پر ان کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہوجاتا ہے ۔ وہ دعاء اور رجوع الی اللہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس عظیم کارخانہ قدرت کے مطالعہ کے بعد اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی حالت میں ہوتا ہے ۔ خفیہ سے مراد یہ ہے کہ چیخ و پکار نہ کرو ‘ دھیمی آواز سے پکارو کیونکہ اللہ کی جلالت شان کے لائق یہ ہے کہ انسان اسے نہایت ہی نرم اور دھیمی آواز میں پکارے اور اس انداز میں جس سے معلوم ہو کہ اللہ قریب ہے اور سن رہا ہے ۔

مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک روایت میں آتا ہے ایک غزوہ میں تھے ‘ لوگوں نے زور زور سے اللہ اکبر کہنا شروع کردیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوذرا نرمی کے ساتھ اور اپنے دل میں پکارو ‘ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ کسی ایسے شخص کو پکار رہے ہو جو غائب ہے ‘ تم تو سننے والی قریب ذات کو پکار رہے ہو جو تمہارے ساتھ ہے ۔

یہاں قرآن کریم کا یہ اسلوب لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کر رہا ہے کہ اللہ کی ذات جلیل القدر ہے اور قریب ہے اور دعا اور پکارنے کے وقت قرآن کریم عملا ایسی ہئیت اور شکل پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ پکارنے والا ذات باری کی برتری کی وجہ سے چیخنے اور چلانے سے حیا کرتا ہے ۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کی جلالت قدر بیٹھی ہوئی ہے وہ اللہ کی جناب میں شور وشغب سے دور رہتے ہیں ۔

غرض اس عاجزانہ دعا اور انکساری اور خشوع و خضوع کی فضا میں ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کی ممانعت کردیتے ہیں کہ وہ اپنے لئے اس حاکمیت کا دعوی کریں جو وہ ایام جاہلیت میں کیا کرتے تھے کیونکہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا حق صرف اللہ کو ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ممانعت بھی آجاتی ہے کہ فساد فی الارض سے باز رہو ‘ جبکہ اسلامی شریعت کے نظام کے ذریعے اللہ نے اس کی اصلاح کردی ہے ۔ جو شخص عاجزی ‘ تضرع اور نہایت ہی خفیہ طریقے سے اللہ کو پکارتا ہے جو قریب بھی ہے اور سننے والا بھی ہے تو ظاہر ہے کہ ایسا شخص زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہیں پھیلاتا کیونکہ ان دونوں تاثرات کے درمیان ایک گہرا داخلی اور نفسیانی ربط ہے ۔ قرآن کا منہاج اصلاح یہ ہے کہ وہ دلوں کی گہری سوچوں اور نفسیاتی میلانات کو لے کر چلتا ہے اور یہ منہاج وہی ذات اختیار کرسکتی ہے جو لطیف وخبیر ہے ۔

آیت ” ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56)

اپنے رب کو پکارو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو ‘ جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے ۔ “

خوف اس لئے کہ تم اس کے غضب سے بچ جاؤ اور طمع اس لئے کرو کہ وہ تم سے راضی ہوگا اور اجر دے گا ۔ جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں کہ گویا اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر وہ اسے دیکھ نہیں رہے تو ان کی حالت ایسی ہو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے ۔ جیسا کہ حدیث کے مضمون میں آتا ہے تو یہ ہے احسان ۔ حضور ﷺ کی تعریف کے مطابق ۔

ایک بار پھر قرآن کریم اس کھلی کائنات کا ایک دوسرا ورق انسان کے مطالعے کیلئے الٹتا ہے ۔ یہ ورق تو ہمارے سامنے ہر وقت کھلا رہتا ہے لیکن ہم غفلت میں اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں ہیں ہم اس سے کوئی تاثر نہیں لیتے ‘ ہم اس کی پکار کو نہیں سنتے ۔ یہ وہ صفحہ ہے کہ آیت سابقہ میں رحمت الہیہ کے ضمن میں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ یہاں رحمت الہیہ کے ایک نمونے …

Al-A'raaf 7:56Listen in Qur'an →
57

وَهُوَ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتْ سَحَابًۭا ثِقَالًۭا سُقْنَٰهُ لِبَلَدٍۢ مَّيِّتٍۢ فَأَنزَلْنَا بِهِ ٱلْمَآءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو

آیت ” نمبر 57۔

یہاں اس کائنات میں شان ربوبیت کے آثار کو قلم بند کیا گیا ہے ‘ مثلا کائنات میں فعالیت ‘ اس پر کنٹرول اس کا مدبرانہ نظام اور اس کی قوتوں کی تحدید وتقدیر ۔ یہ سب امور اللہ کی عظیم کارفرمائیوں کے مظہر ہیں اور ایسے امور ہیں جو بتاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ہو سکتا ۔ وہی خالق اور رازق ہے ‘ مسبب الاسباب ہے اور یہ اسباب اس نے اپنی مخلوق کے لئے تیار کئے ہیں ۔

ہوا ہر وقت چلتی رہتی ہے ‘ ہر وقت وہ اس کائنات میں بادلوں کو اٹھاتی اور دوڑاتی ہے ۔ ہر وقت بادلوں سے بارش برستی رہتی ہے ۔ لیکن یہ سب امور اللہ کے فضل وکرم کے مظہر ہیں جیسا کہ یہ حقیقت ہے ۔ یہ بات ہمارے مشاہدے سے وراء ہے ۔ اور نئی ہے جسے سیاق کلام میں سمو دیا گیا ہے اور نہایت ہی موثر ‘ متحرک اور مشخص انداز میں اسے یہاں پیش کیا جارہا ہے ‘ یوں کہ گویا منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔

یہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت لئے ہوئے ہوتی ہیں ۔ لوگوں کے لئے سامان مسرت فراہم کرتی ہیں ۔ یہ ہوائیں ان نوامیس فطرت کے مطابق چلتی ہیں جو اللہ نے اس کائنات پر حاوی کردیئے ہیں ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے عقل کی کسی بڑی مقدار کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ کائنات اپنے آپ کو وجود میں خود نہیں لائی اور نہ اس نے اپنے لئے یہ نوامیس فطرت خود وضع کئے ہیں ‘ جب کہ اسلام کے معقول تصور حیات میں ہے کہ اس کائنات میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں وہ ان قوانین تکوینی کے مطابق ہوتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں اور مقدر کردیئے ہیں ۔ تمام حادثات کا ظہور ان قوانین کے مطابق ہوتا ہے ‘ تمام انفرادی حوادث کا ظہور بھی اسی ناموس کے مطابق ہوتا ہے ‘ لہذا ہواؤں کا کسی معین وقت اور معین خطے میں چلنا بھی اسی قاعدے کلیہ اور اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے ۔

چناچہ یہ ہوائیں بھی سنت الہیہ اور ناموس الہی کے مطابق چلتی ہیں لیکن ایک خاص مقدار کے مطابق ان ہواؤں کو مردہ علاقے اور صحراؤں کی طرف چلایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ امر الی کے مطابق ہوتا ہے ۔ کسی جگہ جو بارش برستی ہے وہ مقررہ مقدار کے مطابق برستی ہے ۔ اس سے جو روئیدگی اور پیداوار حاصل ہوتی ہے ‘ وہ بھی تقدیر الہی کے مطابق بطور خاص ہوتی ہے اور یہ تمام عمل اس کائنات کے نظام کے مطابق ہوتا ہے ۔

غرض اسلامی تصور حیات کے مطابق یہاں کوئی واقعہ آزادنہ یا بطور اتفاق وقوع پذیر نہیں ہوتا ۔ تخلیق سے لے کر ظہور واقعات تک ہر حرکت ‘ ہر تغیر اور ہر تبدیلی بروقت مقررہ تقدیر اور سنت کے مطابق ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہاں اسلامی نقطہ نظر سے یہ تصور بھی غلط ہے کہ یہ کائنات مجبور محض ہے اور اللہ نے اسے پیدا کرکے اپنے طور پر اسے چھوڑ دیا ہے ۔ اس نے اس کی حرکت کے قوانین وضع کردیئے ہیں ‘ اب وہ اس کی حرکت کے قوانین میں جکڑی ہوئی ہے اور اس حرکت کے پیچھے کوئی ارادہ اب نہیں ہے ۔

اسلامی تصور یہ ہے کہ تخلیق اللہ کی مشیت اور ارادے سے ہوتی ہے ۔ اس کے بعد مخلوقات میں اللہ کی سنت جاری کا نفاذ ہوتا ہے ۔ لیکن اس کائنات کی ہر حرکت تقدیر الہی کے مطابق ہوتی ہے ۔ اور ہر دفعہ کی حرکت میں سنت الہیہ جاری وساری نظر آتی ہے اور ہر حرکت کی مقدار مقرر ہے ۔ یہ سب کچھ اس مشیت الہیہ کے مطابق ہوتا ہے جس کو نوامیس الہیہ پر بھی بالا دستی حاصل ہوتی ہے ۔

یہ ایک زندہ اور روشن دل و دماغ کا حامل تصور ہے اور اس کے مطابق ۔۔۔۔ ۔۔ یہ کائنات مجبور محض اور مردہ نہیں ہیں ۔ یہ کائنات سوتی نہیں ‘ جاگتی ہے اور خود سر نہیں بلکہ اس کا قیم اور نگران ہر وقت اس کی طرف متوجہ ہے۔ یہاں جو کچھ واقعہ ہوتا ہے اور ارادہ مدبرہ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ہر حرکت ناموس کے مطابق ہوتی ہے ‘ اور ہر حرکت سے قبل مومن جاگ اٹھتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور سنت کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنے کام کر رہی ہے ۔ چناچہ قلب مومن اللہ کی حمد میں رطب اللسان ہوتا ہے ‘ اللہ کو یاد …

Al-A'raaf 7:57Listen in Qur'an →
58

وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًۭا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَشْكُرُونَ

جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں

آیت ” نمبر 58۔

اچھے دل کو قرآن وسنت میں زرخیز مٹی اور صالح زمین سے مشابہت دی جاتی ہے ‘ اور برے دلوں کو بیکار مٹی اور بنجر زمین سے۔ اس لئے اچھی زمین میں اچھی فصل پیدا ہوتی ہے اور وہ پھل پھول لاتی ہے اور اسی طرح اچھے دل میں صالح خیالات اور اچھے تصورات پیدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ ایک پاکیزہ شعور و تصورات کا مسکن ہوتا ہے ۔ اس کے اندر انسانی رجحانات میلانات اور ادارے اور عزائم جاگزیں ہوتے ہیں جو بعد میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں بعینہ اس طرح جس طرح زمین سے ہر قسم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے اور مختلف رنگوں اور مختلف ذائقوں کے پھل نمودار ہوتے ہیں۔

آیت ” وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِیْ خَبُثَ لاَ یَخْرُجُ إِلاَّ نَکِداً “۔ (7 : 58)

” جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ “

اچھی زمین وہ ہوتی ہے جو نرم اور آسان ہوتی ہے اور جو بری ہوتی ہے وہ اذیت دہ ‘ سخت مشقت خیز اور تنگ ہوتی ہے ۔ ایک اچھے دل پر ہدایت ‘ نصیحت اور یاد دہائی کی بارش نازل ہوتی ہے ‘ جس طرح اچھی زمین پر بادلوں سے بارش برستی ہے ۔ اگر دل پاکیزہ ہو ‘ ایک اچھی اور زرخیز زمین کی طرح تو وہ کھل جاتا ہے ۔ وہ ہدایت اور نصیحت کو قبول کرتا ہے اور مزید پاکیزہ ہو کر کامیاب ہوجاتا ہے ۔ اگر دل فاسد ہو ‘ جس طرح خبیث اور بنجر زمین ہوتی ہے تو اس دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں ‘ وہ سخت ہوجاتا ہے اور شروفساد کی راہ لیتا ہے ۔ یقین کے بجائے اس دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں جس طرح بنجز زمین میں جھاڑیاں پیدا ہوتی ہیں۔

آیت ” کَذَلِکَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ (58)

” اس طرح ہم اپنی نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے شکر گزار ہونے والے ہیں۔ “

شکر کا پودار پاکیزہ دل ہی میں اگ سکتا ہے ‘ اور اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ دل پر نصیحت کا اثر ہوگیا ہے اور وہ قبولیت کی راہ لے رہا ہے ۔ ایسے دل رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور دلائل بار بار ور مختلف انداز میں بیان کرتا ہے ۔ کیونکہ صرف ایسے ہی لوگ ان بیانات سے نفع اٹھاتے ہیں اور اپنے شب وروز کو درست کرتے ہیں ۔

شکر الہی ‘ اس سورة کا خاص مضمون ہے ۔ اس سورة میں انذار وتذکیر کے ساتھ ساتھ اس کا خصوصا ذکر ہوا ہے اس سے پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور آئندہ بھی اسی سورة کی دوسری خصوصیات یعنی انذار وتذکیر کے ساتھ ساتھ اس کا ذکر کریں گے ۔

درس نمبر 77 ایک نظر میں :

اس سبق میں ہم قافلہ ایمان کے ہمرکاب ہیں ۔ یہ ہیں اس کے لیڈر اور یہ ہیں اس کے جھنڈے اور یہ ہیں ان کے نشانات رہ ۔ یہ قافلہ اس کرہ ارض کی تاریخ کے طویل میدانوں میں رواں دواں ہے ۔ اور پوری انسانیت کے ساتھ ہمکلام ہے۔ اس طویل سفر میں انسانیت جب بھی بےراہ روی اختیار کرتی ہے ‘ یہ قافلہ اہل حق اس کی راہ روکتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ انسانیت راہ مستقیم سے اس وقت ہٹ جاتی ہے کہ جب اس پر شیطانی خواہشات کا غلبہ ہوجائے ۔ شیطان ہر وقت اس تاک میں لگا رہتا ہے کہ انسانیت کو بدراہ کرکے اپنے جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرتا رہے اور انسانیت کے منہ میں شہوات نفسانیہ کی لگام ڈال کر اسے جہنم رسید کر دے ۔ جب شیطان یہ اسکیم شروع کرتا ہے پیغمبروں کا قافلہ ایمان نمودار ہوجاتا ہے پیغمبر اور ان کے پیروکار انسانیت کے سامنے روشنی کے مینار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور انسانیت کے لئے جنت کی باد نسیم کے جھونکے کھل جاتے ہیں ۔ یہ پروقار قافلہ جہنم کی گرم لو سے انہیں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ اور شیطان رجیم کے وسوسوں سے اسے نجات دیتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا ازلی دشمن ہے ۔

یہ نہایت ہی خوبصورت منظر ہے ۔ ایک طویل شاہراہ حیات پر حق و باطل کی گھمسان کی جنگ جاری ہے حقیقت …

Al-A'raaf 7:58Listen in Qur'an →
59

لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے

درس نمبر 77 تشریح آیات :

59۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 93۔

انسانی تاریخ میں قافلہ انسانیت کے اس سفر کے بیان سے پہلے ‘ ایسے ہی ایک کائناتی مومن قافلے کا ذکر تھا ‘ جو اس کائنات میں رواں دواں نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں ایسے مومنین کا ذکر جو امر الہی سے ذرا بھی سرتابی نہیں کرتے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے ۔

آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ۔

” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ رب العالمین “۔

قرآن کریم میں بسا اوقات اس حقیقت کو کہ یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے اور یہ حقیقت کہ تمام انسانوں پر اللہ کا امر جاری ہونا چاہئے ایک ساتھ لایا جاتا ہے ۔ یعنی جس طرح وہ کائنات مطیع فرمان ہے جس میں انسان بستے ہیں اسی طرح انہیں بھی اللہ کا مطیع فرمان ہونا چاہئے ۔ تمہارا اسلام اس طرح ہونا چاہئے جس طرح کا اس پوری کائنات کا ہے ۔ اور جس کے قوانین میں وہ جکڑی ہوئی ہے ۔ اس طرح اس پوری کائنات کے مسلم ہونے کے اثرات قلب مومن پر پڑتے ہیں ‘ اسے خوب جھنجوڑتے ہیں اور اسے آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت کے لئے آمادہ ہوجائے اور یہ کہ اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے اردگرد یہ پھیلی ہوئی کائنات تو اللہ کی مطیع فرمان ہو اور اس کائنات میں وہ اللہ وحدہ کے مقابلے میں سرکشی کرے ۔

غرض رسولوں کی دعوت کوئی ایسی دعوت نہیں ہے جو انوکھی ہو ‘ بلکہ وہ تو اس حقیقت کی طرف بلاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس پوری کائنات کے ضمیر میں رچی بسی ہے اور یہی حقیقت خود انسان کی فطرت کے اندر بھی موجود ہے ۔ جب بھی انسان کی فطرت پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے یہ فطرت ضمیر کے اندر اسے پکارتی ہے اور اس طرح شیطان انسان کو گمراہ کر کے اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس سبق کے تمام قصوں میں مختلف پیرائیوں میں بیان کی گئی ہے ۔

آیت ” نمبر 59 تا 64۔

یہاں اس قصے کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے ‘ جبکہ دوسرے مقامات پر جہاں تفصیلات کی ضرورت تھی اس کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ مثلا سورة ہود اور سورة نوح میں ‘ اس لئے کہ یہاں صرف ان نشانات راہ کی طرف اشارہ کرنا مطلوب تھا جن کے بارے میں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے اور اور اس کے پھیلانے اور دعوت اسلامی کا طریقہ تفہیم کیا ہے اور اس دعوت کے آغاز کے بعد لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟ اس کے داعی کے جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہاں ہم صرف انہی نشانات رہ کی طرف اشارہ کریں گے جن کے لئے اس قصے کو یہاں لایا گیا ہے ۔

آیت ” لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَی قَوْمِہِ “۔ (7 : 59)

” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ اللہ ہر قوم کی طرف رسول اس کی قوم سے بھیجتے ہیں ۔ وہ ان سے ان کی زبان میں بات کرتا ہے ۔ یہ رعایت اللہ نے ہر قوم کی تالیف قلب کے لئے دی ہے اور اس لئے دی ہے کہ ان کے پیغام کو سمجھنا آسان ہو اور ان کا باہم تعارف ہو لیکن یہ سہولتیں بھی ان لوگوں کے لئے مفید ہوتی ہیں کی فطرت بگڑ نہ چکی ہو ۔ رہے وہ لوگ جن کی فطرت بگڑی ہوئی ہوتی ہے انہیں یہ انتظام بھی عجیب لگتا ہے ۔ وہ دعوت کو قبول …

Al-A'raaf 7:59Listen in Qur'an →
60

قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں

آیت ” قَالَ الْمَلأُ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (60)

” قوم کے سرداروں نے جواب دیا : ” ہم کو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ “

یہی بات مشرکین عرب نے حضور ﷺ کے بارے میں کہی تھی ۔ انہ صباء ” یہ کہ آپ بےدین ہوگئے ہیں۔ “ اور آپ نے دین ابراہیم سے روگردانی اختیار کرلی ہے ۔ جب کوئی شخص گمراہی کی حدیں پار کرلیتا ہے تو وہ ان لوگوں کو گمراہ سمجھتا ہے جو اسے راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور جب کسی کی فطرت مسخ ہوجاتی ہے تو وہ بھی خود سری کے اس مقام تک جا پہنچتا ہے ۔ یوں اقدار بدل جاتی ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کا معیار بدل جاتا ہے ۔ انسان نفسانی خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ الا یہ کہ انسان اللہ کی اقدار اور پیمانوں کو نہیں اپنا لیتا اس لئے کہ یہ اقدار اور پیمانے غیر متبدل ہوتے ہیں اور ان کے اندر کبھی انحراف نہیں ہوتا ۔

جو لوگ آج کے دور میں ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ان کو دور جدید کی جاہلیت گمراہ کہتی ہے اور جو محض جاہلیت جدید سے ہدایت اخذ کرے ‘ مغربی تہذیب کے گندے نالے میں گر جائے اور اس کریہہ ماحول میں اتر ائے اسے وہ ہدایت یافتہ اور ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔

آج جو عورت اپنے گوشت کو ننگا نہیں کرتی ‘ اپنے جسم کو عریاں نہیں کرتی ‘ اور جو اس پست حالت کو قبول نہیں کرتی اس کے بارے میں جدید جاہلیت کیا کہتی ہے ؟ یہ دنیا جدید دور کی اس پاک وصاف اور صالح عورت کو رجعت پسند کہتی ہے اسے پسماندگی اور دیہاتی پن کا طعنہ دیا جاتا ہے اور جاہلیت جدید نے اپنے پورے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کو اس مقصد کے لئے مصروف کر رکھا ہے کہ وہ ہماری عورت کی اس پاکیزگی نظافت اور سربلندی کو ختم کرکے اسے جنسیت کے اس گندے تالاب میں گرا دے جو نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔

جن لوگوں کو ترجیحات کھیل کود سے بلند ہیں ‘ جو فلموں ‘ سینماؤں اور ٹیلی ویژن کے جنون سے سربلند ہیں اور جو لوگ رقص و سرود اور جام وسبو کی فحاشیوں اور عیاشیوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتے ہیں ‘ یہ جاہلیت ان کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟ یہ کہتی ہے کہ یہ لوگ جامد اور کوڑ مغز ہیں ‘ اپنے آپ کو گم ‘ غیر مہذب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں ۔ یہ جاہلیت ہر وقت اسی کام میں لگی ہوئی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس گندگی میں ڈال دے اور لوگ سب کے سب عیاشی اور فحاشی میں زندگی بسر کریں ۔ غرض جاہلیت ہر دور میں جاہلیت ہوتی ہے وہ اشکال وظروف تو بدلتی ہے مگر اس کی ماہیت وہی رہتی ہے ۔

حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ گمراہ نہیں ہیں ۔ وہ ان کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی دعوت کیا ہے اور اس دعوت کا سرچشمہ کیا ہے ؟ یہ کہ انہوں نے اپنی سوچ اور فکر سے اس دعوت کو نہیں شروع کیا نہ انکی شروع کیا نہ ان کی یہ ذاتی خواہش ہے ۔ وہ تو رب العالمین کے رسول ہیں اور حامل رسالت ہیں۔ وہ نہایت ہی امانت و دیانت سے اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق نصیحت کرتے ہیں اور وہ جو تعلیمات دیتے ہیں وہ بھی رب العالمین کی طرف سے ہیں ۔ یہ تعلیمات ان کے قلب پر اترتی ہیں اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے جبکہ تم لوگ اللہ کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتے ۔

Al-A'raaf 7:60Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.