Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 206

31

۞ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

آیت ” نمبر 31 تا 33۔

یہ اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقائد پر تاکید مزید ہے۔ زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ عرب جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کی اساس ان امور پر ہے ۔ یہ نظریہ پوری انسانیت کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور اسے اس بحث کے ضمن میں لایا گیا ہے جو اس کرہ ارض پوری انسانیت کی تخلیق کے قصے سے متعلق ہے۔

ان حقائق میں سے اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق ‘ انسان کے لئے جن چیزوں کو پیدا کیا ہے ‘ اس میں سے بعض چیزوں کو خود بعض انسان حرام قرار دیتے ہیں اور کام بھی وہ اذن الہی کے بغیر کرتے ہیں اور اللہ کے قانون میں سے کسی سند کے بغیر جبکہ ان کا یہ فعل یعنی یہ تحریم وتحلیل ایک شرکیہ فعل ہے ۔ پھر یہ اللہ تعالیٰ پر ایک افتراء بھی ہے اور ان کا ذاتی زعم بھی ۔

چناچہ اللہ ان کو پکارتے ہیں کہ اللہ نے تمہاری زیب وزینت کے لئے جو سامان پیدا کیا ہے اس سے آراستہ رہو۔ عربی میں اسے ” ریش “ کہتے ہیں خصوصا عبادت کے وقت اور عبادات میں طواف بھی شامل ہے ‘ جسے وہ برہنہ حالت میں ادا کرتے تھے ۔ وہ ایسے لباسوں کو حرام قرار دیتے تھے جنہیں اللہ نے حرام قرار نہیں دیا بلکہ وہ بندوں کے لئے انعام واکرام تھا ۔ لہذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اللہ کے فراہم کردہ زیب وزینت میں اس کی عبادت کریں ‘ نہ کہ ننگے ہو کر اور نہ ہی فحاشی کرتے ہوئے ۔

آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ خُذُواْ زِیْنَتَکُمْ “۔ (7 : 31)

” اے بنی آدم ‘ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو۔ “

اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کو یہ بھی حکم دیتے ہیں کہ یہاں پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرو اور کھانے پینے کی قسم کی تمام چیزوں کو کام میں لاؤ ۔ لیکن اسراف نہ کرو ‘ اور دوسرے یہ کہ پاکیزہ چیزیں استعمال میں لاؤ ۔

آیت ” وکُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (31)

” اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “

احادیت میں وارد ہے کہ جس طرح وہ لوگ بعض اوقات لباس کو حرام قرار دیتے تھے ‘ اسی طرح وہ بعض کپڑوں کو پہننا بھی حرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ باتیں قریش نے اپنی طرف سے گھڑ لی تھیں ۔

صحیح مسلم مٰن ہشام ابن عروہ کی روایت ہے کہ عرب بیت اللہ کا طواف عریانی کی حالت میں کرتے تھے ماسوائے قریش اور ان کی اولاد کے ۔ یہ لوگ ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ‘ الا یہ کہ قریش انہیں کپڑے دیں ۔ چناچہ قریش کے مرد مردوں کو کپڑے دیتے تھے اور عورتیں عورتوں کو ‘ نیز قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے جبکہ دوسرے لوگ عرفات تک جاتے تھے ۔ قریش یہ کہتے تھے کہ ہم حرم والے ہیں اس لئے کسی عرب کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ہمارے کپڑوں کے سوا کسی اور کپڑے میں طواف کرے ۔ اسی طرح جب کوئی عرب حرم میں داخل ہو تو وہ سرف اہل قریش کا کھانا کھا سکتا ہے اس لئے کہ اگر کسی عرب کا مکہ میں دوست نہ ہوتا جو اسے کپڑے عاریتا دے سکتا ‘ اور یا اگر اسے یہ سہولت حاصل نہ ہوتی کہ وہ کرایہ کے کپڑے خرید سکتا تو اس کے لئے دو راستے کھلے ہوئے تھے ‘ ایک یہ کہ وہ عریانی کی حالت میں طواف کرے اور یا کپڑوں میں طواف کرکے کپڑے پھینک دے ۔ ایسے کپڑوں کو لقی کہا جاتا تھا اور پھر انہیں کوئی بھی ہاتھ نہ لگاتا ۔ “

قرطبی ‘ احکام القرآن میں لکھتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ عرب ایمان حج میں مرغن غذا نہ کھاتے تھے اور تھوڑا بہت کھاتے تھے اور برہنہ حالت میں طواف کرتے تھے ۔ انہیں کہا گیا ” ہر عبادت کے وقت اپنے آپ کو زینت سے آراستہ کرو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ “ یعنی جو چیزیں تم پر حرام نہیں قرار دی گئی ہیں ان کو حرام کرنے میں اسراف نہ کرو۔ اس لئے کہ اسراف کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا اور حد سے تجاوز یہ بھی ہے کہ حلال چیزوں کو حرام قرار دیا جائے ۔ جائز کرنے میں حدود توڑنا اور حرام کرنے میں حدود سے آگے بڑھنا دونوں …

Al-A'raaf 7:31Listen in Qur'an →
32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا خَالِصَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32)

” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “

اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔

آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (33)

اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بےشرمی کے کام ۔۔۔۔۔۔ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔۔۔۔۔ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ‘ اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو ۔ (کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے)

یہ ہیں وہ چیزیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ وہ فحش افعال جو حدود الہیہ سے متجاوز ہوں ۔ چاہے وہ ظاہر ہوں یا خفیہ ہوں ‘ (اثم) ہر معصیت کو کہتے ہیں ۔ (بغی بغیر الحق) وہ ظلم جو حق و انصاف کے خلاف ہو ‘ اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا جبکہ شرک کی پست پر کوئی قوت دلیل نہیں ہوتی ۔ اس شرک میں وہ بھی شامل ہے جو عرب جاہلیت میں بھی تھی اور اس کے علاوہ بھی تمام جاہلیتوں میں تھی کہ قانون سازی میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے حالانکہ قانون سازی اور شریعت سازی اللہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنا جو خود نسبت کرنے والے کے علم میں بھی نہ ہوں ‘ مثلا وہ جن چیزوں کو حلال و حرام قرار دیتے تھے وہ ان کے علم میں نہ تھیں اور وہ بغیر علم ویقین کے ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے تھے ۔ یہ بجائے خود شرک ہے ۔

اس سلسلے میں کلبی نے ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ جب مشرکین کو یہ خطاب کیا گیا اور ان پر یہ گرفت کی گئی تو اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ ” جب مسلمانوں نے لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کیا تو مشرکین نے ان کو غیرت دلائی اور انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔ “

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جاہلیت اپنے پیروکاروں کو کس حد تک پہنچا دیتی ہے۔ بعض لوگ ننگے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ ان کی فطرت نے اپنی حالت بدل دی تھی اور ان کی فطرت اس حقیقی شرم وحیا سے محروم ہوچکی تھی جس کے بارے میں قصہ آدم وابلیس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ شرم وحیا آدم وحوا میں موجود تھا کیونکہ ” جب انہوں نے درخت کو چکھا تو انکی شرمگائیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے لپیٹنے لگے ۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمان تو لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور زیب وزینت کے ساتھ طواف کر رہے ہیں اور ستر و شرافت کے ساتھ کر رہے ہیں تاکہ ان میں فطرت کے عین مطابق انسانی خصوصیات پروان چڑھیں اور وہ حیوانوں کی طرح عریانی سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں نے یہ فطری حال اختیار کی تو انہوں نے اس پر نکتہ چینی شروع کردی ۔

یہ ہے جاہلیت کا کارنامہ ۔ وہ لوگوں کی فطرت ‘ ان کی روح ‘ انکے تصورات اور انکی اقدار اور پیمانوں کو مسخ کردیتی ہے ۔ آج دور جدید کی جاہلیت لوگوں کے ساتھ وہی کچھ کررہی ہے جو ان کے ساتھ جاہلیت عربیہ کر رہی تھی یا اس سے پہلے یونانی جاہلیت کر رہی تھی یا رومی جاہلیت کر رہی تھی یا فارس کی مشرک جاہلیت کر رہی تھی غرض ہر خطے اور ہر دور میں جاہلیت کے یہی خدوخال رہے ہیں ۔

دور جدید کی جاہلیت کیا کر رہی ہے ‘ صرف یہ کہ وہ لوگوں …

Al-A'raaf 7:32Listen in Qur'an →
33

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں

آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32)

” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “

اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔

آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (33)

اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بےشرمی کے کام ۔۔۔۔۔۔ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔۔۔۔۔ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ‘ اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو ۔ (کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے)

یہ ہیں وہ چیزیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ وہ فحش افعال جو حدود الہیہ سے متجاوز ہوں ۔ چاہے وہ ظاہر ہوں یا خفیہ ہوں ‘ (اثم) ہر معصیت کو کہتے ہیں ۔ (بغی بغیر الحق) وہ ظلم جو حق و انصاف کے خلاف ہو ‘ اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا جبکہ شرک کی پست پر کوئی قوت دلیل نہیں ہوتی ۔ اس شرک میں وہ بھی شامل ہے جو عرب جاہلیت میں بھی تھی اور اس کے علاوہ بھی تمام جاہلیتوں میں تھی کہ قانون سازی میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے حالانکہ قانون سازی اور شریعت سازی اللہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنا جو خود نسبت کرنے والے کے علم میں بھی نہ ہوں ‘ مثلا وہ جن چیزوں کو حلال و حرام قرار دیتے تھے وہ ان کے علم میں نہ تھیں اور وہ بغیر علم ویقین کے ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے تھے ۔ یہ بجائے خود شرک ہے ۔

اس سلسلے میں کلبی نے ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ جب مشرکین کو یہ خطاب کیا گیا اور ان پر یہ گرفت کی گئی تو اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ ” جب مسلمانوں نے لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کیا تو مشرکین نے ان کو غیرت دلائی اور انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔ “

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جاہلیت اپنے پیروکاروں کو کس حد تک پہنچا دیتی ہے۔ بعض لوگ ننگے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ ان کی فطرت نے اپنی حالت بدل دی تھی اور ان کی فطرت اس حقیقی شرم وحیا سے محروم ہوچکی تھی جس کے بارے میں قصہ آدم وابلیس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ شرم وحیا آدم وحوا میں موجود تھا کیونکہ ” جب انہوں نے درخت کو چکھا تو انکی شرمگائیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے لپیٹنے لگے ۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمان تو لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور زیب وزینت کے ساتھ طواف کر رہے ہیں اور ستر و شرافت کے ساتھ کر رہے ہیں تاکہ ان میں فطرت کے عین مطابق انسانی خصوصیات پروان چڑھیں اور وہ حیوانوں کی طرح عریانی سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں نے یہ فطری حال اختیار کی تو انہوں نے اس پر نکتہ چینی شروع کردی ۔

یہ ہے جاہلیت کا کارنامہ ۔ وہ لوگوں کی فطرت ‘ ان کی روح ‘ انکے تصورات اور انکی اقدار اور پیمانوں کو مسخ کردیتی ہے ۔ آج دور جدید کی جاہلیت لوگوں کے ساتھ وہی کچھ کررہی ہے جو ان کے ساتھ جاہلیت عربیہ کر رہی تھی یا اس سے پہلے یونانی جاہلیت کر رہی تھی یا رومی جاہلیت کر رہی تھی یا فارس کی مشرک جاہلیت کر رہی تھی غرض ہر خطے اور ہر دور میں جاہلیت کے یہی خدوخال رہے ہیں ۔

دور جدید کی جاہلیت کیا کر رہی ہے ‘ صرف یہ کہ وہ لوگوں …

Al-A'raaf 7:33Listen in Qur'an →
34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی

آیت ” نمبر 34۔

اسلامی تصورحیات کا یہ ایک اساسی عقیدہ ہے۔ اور قرآن کریم بار بار غافل اور ناشکرے دلووں کے اندر اس کا جگاتا رہتا ہے تاکہ وہ اپنی اس زندگی اور اس کی محدود مہلت کو دائمی نہ سمجھ لیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ۔

یہاں اس مہلت سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آج کی نسل انسانی کے لئے طبیعی زندگی کی ایک حد ہے اور اس سے مراد ملت اور تہذیب کی عمر طبیعی بھی ہو سکتی ہے ۔ جس میں اس کے اقتدار اعلی اور دنیا میں اس کی برتری کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ مراد کسی نسل کی عمر طبیعی ہو یا کسی ملت کی عمر طبیعی ہو ‘ بہرحال جب مہلت ختم ہو تو اس کے بعد ان کا زندہ رہنا مقتدر اعلی رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ۔

یہاں بحث کے خاتمہ سے پہلے ایک عجیب نکتے پر اظہار خیال ضروری ہے۔ سورة انعام اور سورة اعراف میں جاہلیت کے زاوے سے نذر ونیاز ‘ حلال و حرام کے تعین کے مسائل پر قرآن نے جو منہاج بحث اختیار کیا اور مسائل لباس اور خوراک اور کھانوں کے مسائل پر جو بحث کی گئی اس میں ایک عجیب مماثلت پائی جاتی ہے ۔

وہاں ذبیحوں ‘ نذر ونیاز ‘ مویشیوں اور کھانوں پر بحث کا آغاز اس طرح کیا گیا کہ سب سے پہلے اس صورت حالات کو سامنے لایا گیا جو عملا موجود تھی اور کہا گیا کہ یہ اللہ پر افتراء ہے کہ اس صورت حالات کو منجانب اللہ شریعت سے تعبیر کیا جائے ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ تم اس پر کوئی دلیل پیش کرو اگر تمہارے اس کوئی سند ہے تو ۔ کہا گیا ۔ آیت ” ام کنتم شھدا اذ وصکم اللہ بھذا “۔ کہ جب اللہ نے یہ شریعت بنائی اور تمہیں تلقین کی کہ اس پر عمل کرو کیا تم خود اس وقت موجود تھے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور جھوٹ اس لئے بولے کہ لوگوں کو بغیر علم کے وہ گمراہ کرے ‘ ایسا شخص ظالم ہے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ اس کے بعد بیان یوں آگے بڑھا کہ کفار نے کہا کہ وہ جو شرک کر رہے ہیں وہ امر الہی کے نتیجے میں ہے ‘ اگر اللہ نہ چاہتا تو ایسا نہ ہوتا آیت ” سیقول الذین اشرکوا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا ہے وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے ۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا ۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ ‘ تم تو ماسوائے ظن وتخمین کے کسی اور چیز کی پیروی نہیں کر رہے ہو ‘ بلکہ تم اپنی جانب سے باتیں گھڑتے ہو ‘ کہہ دو اللہ ہی کے پاس حجت بالغہ ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ کہہ دو ‘ لاؤ اپنے گواہوں کو جو یہ شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اے پیغمبر اگر کوئی گواہ یہ شہادت دے بھی تو تم اس کے ساتھ شہادت نہ دو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر قرار دیتے ہیں ۔

اس کے بعد وہاں ان کے ان مزعومات اور مفتریات کو مضحکہ خیز بتایا گیا اور کہا گیا کہ آؤ ‘ ہم تمہیں بتائیں کہ اللہ کی جانب سے کیا حرام ہے ‘ کیونکہ حلال و حرام کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔ اور وہی کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے سکتا ہے ۔ فرمایا آیت ” قل تعالواـ۔۔۔۔۔۔ “۔ کہہ دو آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا حرام کیا ہے ؟ یہ کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ “۔

یہاں بھی اسی منہاج بحث کو اختیار کیا گیا ہے ۔ وہی مدارج بیان یہاں بھی ہیں ۔ پہلے ان کی صورت حالات کو پیش کیا گیا کہ وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور از خود حلال و حرام کے حدود مقرر کرتے ہیں ‘ خصوصا لباس اور کھانوں کے معاملات میں ۔ پھر انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ فحاشی اور شرک جیسے خطرناک گناہوں میں مبتلا ہیں اور ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی …

Al-A'raaf 7:34Listen in Qur'an →
35

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

درس نمبر 75 تشریح آیات :

35۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 53۔

قصہ تخلیق انسانیت پر تبصرہ کرنے کے لئے یہ ایک طویل وقفہ تھا ۔ اس تبصرے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت انسانیت کس قسم کی جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس کے مقابلے میں عرب جاہلیت کس مقام پر ہے ۔ جاہلیت کا موازنہ چند اساسی مسائل کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ یعنی جسم کی ستر پوشی اور روح کی ستر پوشی لباس تقوی کے ساتھ ۔ جسم وروح کی سترپوشی کا تعلق اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقیدے ‘ عقیدہ توحید وشرک کے ساتھ ہے جو اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عقیدہ ہے ۔

اب یہاں سے انسانیت کے نام ایک دوسری پکار شروع ہوتی ہے ۔ اس ندا اور پکار کا تعلق مسئلہ لباس کے ساتھ بھی ہے اور انسانوں کے لئے زندگی کے تمام معاملات میں ہدایات لینے اور ان کا اتباع کرنے کے معاملے سے بھی ہے ۔ قانون سازی کے مسئلے سے بھی ہے اور دنیا میں اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے مسئلے سے بھی ہے تاکہ لوگوں کو اچھی طرح از سر نو یہ بات معلوم ہوجائے کہ انہوں نے ان موضوعات پر ہدایات لینے کا قوام رسالت کا قوام ہے۔ اور زندگی کے موجودہ مرحلے کے اختتام پر قیامت کے دن حساب و کتاب اسی نقطہ نظر سے ہوگا کہ کس نے رسولوں سے ہدایات لے کر ان کی پیروی کی اور کس نے ان کی نافرمانی کی ؟

آیت ” نمبر 35 تا 36۔

اللہ کی جانب سے بنی آدم کو آغاز تخلیق ہی میں یہ صاف ہدایت تھی اور یہ اس کرہ ارض پر بنی آدم کے اقتدار اور خلافت کے لئے لازمی شرط بھی تھی ‘ کیونکہ یہ زمین اللہ نے پیدا کی ہے ۔ اس میں انسانوں کی زندگی کی ضروریات اس نے پیدا کی ہیں اور اس کے اوپر اقتدار واختیار اللہ ہی نے انسان کو عطا کیا ہے تاکہ انسان یہاں مناسب رول ادا کرسکے ‘ ورنہ انسان کا ہر قسم کا عمل مردود ہوگا اور اسے کوئی مسلمان قبول نہ کرے گا ۔ آخرت میں بھی وہ گناہ ہوگا اور موجب جہنم ہوگا اور کوئی بدلہ اس عذاب سے چھڑا نہ سکے گا ۔

آیت ” فَمَنِ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ (35)

” تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویے کی اصلاح کرلے گا اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ “

اس لئے کہ تقوی ہی انہیں گناہوں اور فواحش سے دور رکھ سکتا ہے ۔ سب سے بڑی فحاشی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب ہے ‘ پھر اللہ کے اقتدار اعلی کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے اور خدائی خصوصیات کا دعوی کرنا ہے ۔ تقوی ہی انسان کو خدا کی اطاعت اور نیک کاموں پر آمادہ کرتا ہے اور خوف سے نجات دے کر درالامان میں داخل کرتا ہے اور اسی کے ذریعے حصول رضائے الہی ممکن ہے ۔

Al-A'raaf 7:35Listen in Qur'an →
36

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

آیت ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُواْ عَنْہَا أُوْلَـَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (36)

” اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “

کیونکہ اللہ کے عہد ونصیحت کو فراموش کرنے اور استکبار اور تکذیب کی وجہ سے یہ لوگ اپنے دوست شیطان سے مل چکے ہیں اور ان پر اللہ کا یہ فیصلہ نافذ ہوگیا ہے کہ ” جو لوگ تم میں سے اس کی اطاعت کریں گے تو ان سب سے میں جہنم کو بھر دوں گا ۔ “

اب یہاں سے اللہ کے سامنے پیشی کا منظر شروع ہوتا ہے ۔ جس کی طرف سابقہ سبق کے آخر میں اشارہ کیا گیا تھا ۔

آیت ” وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاء أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُونَ (34)

” ہر قوم کے لئے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے ‘ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر وتقدیم بھی نہیں ہوتی ۔ “ اس کے بعد یوم و حساب کا منظر شروع ہوتا ہے ‘ فیصلے اور سزا وجزاء کے مناظر آتے ہیں ۔ گویا یہ متقین اور مستکبرین کے انجام کی تفصیل ہے ۔ یہ منظر اسی طرح ہے جس طرح قرآن کریم مناظر قیامت کو پیش کرتا ہے ،۔ قارئین کو یوں نظر آتا ہے کہ واقعات عملا رونما ہو رہے ہیں ۔

قرآن کریم نے مناظر قیامت کے بیان میں ایک خاص اسلوب اپنایا ہے ۔ حشر ونشر ‘ حساب و کتاب ‘ انعام واکرام اور عذاب اور سزا کے بیان میں نہایت ہی موثر اسلوب اپنایا ہے ۔ یہاں صرف یہ نہیں ہے کہ قرآن نے موجودہ دنیا کے بعد آنے والے جہان کچھ اوصاف گنوا دیئے ہیں بلکہ اس کے مناظر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ مناظر محسوس اور مجسم نظر آتے ہیں ۔ انکے اندر افراد چلتے پھرتے اور زندہ نظر آتے ہیں اور نہایت ہی واضح شکل و صورت میں ۔ قرآن کریم کی دنیا میں جب ایک مسلم زندگی بسر کرتا ہے تو وہ ان مشاہدات اور مناظر کو اپنی آنکھوں سے جگہ جگہ دیکھتا ہے ۔ وہ ان سے متاثر ہوتا ہے ۔ کبھی اس کا دل دھڑکتا ہے ‘ کبھی اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ‘ کبھی وہ بری طرح خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ کبھی وہ پوری طرح مطمئن اور ہشاش وبشاش ہوجاتا ہے ۔ کبھی اسے آگے کے شعلہ ہائے جو الہ نظر آتے ہیں ۔ اور کبھی اسے جنت کی باد نسیم محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں زندہ رہنے والا مومن اس دن سے پوری طرح واقف ہوتا ہے اور جو لوگ ان مناظر کے بارے میں آیات کو غور سے پڑھتے ہیں ‘ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اس دنیا کے مقابلے میں درحقیقت میدان حشر میں زندہ رہ رہے ہیں ۔ وہ قرآن کی دنیا میں اس طرح گم ہوجاتے ہیں جس طرح کوئی انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے ۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں چلا جاتا ہے اور یہ انتقال محسوس طور پر ہوتا ہے۔ غرض اس کے احساس و شعور میں عالم آخرت آنے والا مستقبل نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسا حال ہوتا ہے جس کا وہ مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے ۔

یہاں جن مناظر کو پیش کیا گیا ہے وہ طویل ترین مناظر میں سے ہیں اور ان میں زندگی بھرپور نظر آتی ہے ۔ یہ مسلسل مناظر ہیں اور ان لوگوں کے ڈائیلاگ بھی موجود ہیں اور زندہ اور بھرپور مکالمات کو حیرت انگیز الفاظ میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اس طرح مکمل طور پر جس طرح آنکھوں سے دیکھ کر کوئی کسی منظر کو محفوظ کرلیتا ہے ۔

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا یہ مناظر قصہ آدم پر تبصرے کے بعد آئے ہیں جبکہ آدم جنت سے نکال دیئے گئے تھے ۔ انکے ساتھ بیوی کا اخراج بھی ہوگیا تھا اور یہ اخراج شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا ۔ اس کے بعد بنی آدم کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی تھی کہ شیطان کے فتنوں سے بچو وہ تمہیں اس طرح نقصان نہ پہنچا دے جس طرح تمہارے باپ کو اپنی دیسہ کاریوں سے جنت سے نکلوایا ۔ اس تنبیہ کے ساتھ کہ اگر انہوں نے آنے والے رسولوں کو چھوڑ کر شیطان کا اتباع اختیار کیا تو وہ جہنم کی سزا کے …

Al-A'raaf 7:36Listen in Qur'an →
37

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے

آیت ” نمبر 37۔

دیکھئے اب ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اللہ پر بہتان باندھا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا ۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے رسول آچکے تھے ۔ اس منظر میں پہلے تو ان کی روح قبض کی جاتی ہے گویا ملزم گرفتار ہوتے ہیں ۔ پھر ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوگا : فرشتے کہیں گے ” بتاؤ اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ؟ “ وہ کہیں گے کہ ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “

اب تمہارے وہ دعوے کہاں ہیں جن کے ذریعے تم اللہ پر افتراء باندھتے تھے ‘ اور وہ الہ کہاں ہیں جن کو تم نے دنیا میں دوست بنا رکھا تھا ‘ جن کی وجہ سے تم فتنے میں پڑگئے اور رسولوں کی لائی ہوئی دعوت کو چھوڑ دیا ۔ یہ قوتیں اس آڑے وقت میں تمہاری مدد کو کیوں نہیں آرہی ہیں کہ اب تمہاری جان لی جارہی ہے اور تمہیں کوئی ایسا مددگار نہیں مل رہا جو اس وقت سے لمحہ بھر کے لئے موت کو مؤخر کردے ۔ ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ ان یہی جواب ہو سکتا ہے ۔ آیت ” قالوا ضلوا عنا “۔ (7 : 37) ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “

وہ ہم سے اس طرح گم ہوگئے اور اس طرح غائب ہوگئے کہ ہمیں ان کا کوئی اتاپاتا نہیں مل رہا ۔ اب وہ ہماری طرف نہیں آ رہے ۔ غرض وہ لوگ اس قدر بدحال ہوں گے کہ ان کے خدا بھی انکی طرف متوجہ نہ ہو سکیں گے اور نہ وہ ایسے برے حالات میں ان کوئی مدد کرسکیں گے اور ایسے خداؤں سے زیادہ گھاٹے میں اور کون ہوگا جو اپنے بندوں تک نہ پہنچ سکتے ہوں اور ایسے مشکل حالات میں ۔

آیت ” وشھدوا علی انفسھم “۔ (7 : 37) ” وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے ۔ “ اس سے قبل جب ان پر دنیا میں عذاب آیا تھا تو بھی انہوں نے یہی اعتراف کیا تھا ۔ (فما کانت دعوھم) ” جب ہمارا عذاب آیا تو انکی پکار صرف یہی تھی کہ حقیقت میں ہم ظالم تھے ۔ “۔

اب حاضری دو بار الہی کا منظر ختم ہے اور اس کے بعد دوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ یہ مجرم اب جہنم کی آگ میں ہیں ۔ ان دونوں مناظر کی درمیان کڑیاں غائب ہیں ۔ موت کے واقعات ‘ نشر وحشر کے واقعات درمیان میں سے غائب ہیں گویا ان کو پکڑ کر سیدھا جہنم میں ڈال دیا گیا ۔

Al-A'raaf 7:37Listen in Qur'an →
38

قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ

تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے

آیت ” نمبر 38 تا 39۔

آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38)

” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “

یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔

یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔

آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (7 : 38)

” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔

آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (7 : 38)

” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “

یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔

آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38)

” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔

جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔

آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39)

” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “

اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین …

Al-A'raaf 7:38Listen in Qur'an →
39

وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو

آیت ” نمبر 38 تا 39۔

آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38)

” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “

یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔

یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔

آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (7 : 38)

” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔

آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (7 : 38)

” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “

یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔

آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38)

” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔

جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔

آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39)

” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “

اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین …

Al-A'raaf 7:39Listen in Qur'an →
40

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

آیت ” نمبر 40 تا 41۔

اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے لئے سزا کا مطالبہ کرتے رہیں گے لیکن سب کے سب اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔

آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40)

” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “

آیت ” لَہُم مِّن جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِن فَوْقِہِمْ غَوَاش “۔ (7 : 41)

” ان کے لئے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ۔ “

یعنی ان کے لئے فرش بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور مہاد کا اطلاق اس پر بطور مذاق کیا گیا ہے ۔ بچھونا ایسا ہوگا جس میں نہ نرمی ہوگی اور نہ ہی وہ فروخت بخش ہوگا اور آگ ہی کا اڑھنا ہوگا ۔ یعنی ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوں گے ۔

آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40)

” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “

ظالم ہی مجرم ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور آیات الہی کی تکذیب کرتے ہیں ۔ قرآن کی تعبیر کی رو سے یہ اوصاف مترادف ہیں ۔ اب اس منظر کے بالمقابل دوسرا منظر دیکھئے ۔ :

Al-A'raaf 7:40Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.