Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 206

21

وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ

اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں

آیت ” نمبر 20 تا 21۔

معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان سے انسان صرف پختہ ایمان اور یاد الہی کے ذریعے سے بچ سکتا ہے اور ایمان اور ذکر کے بعد صورت یہ ہوجاتی ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا ۔ اس کی سازشیں کمزور پڑجاتی ہیں اور انسان پر ان کا اثر نہیں ہوتا ۔ اس طرح شیطان نے ان کو بہکایا اور انکی شرمگاہیں جو ایک دوسرے پوشیدہ تھیں انکو ان پر ظاہر کردیا گیا اور یہ تھا اس کا اصل مقصد انکی شرمگاہیں تھیں اور انکو کسی دوسری مادی چیز سے چھپانے کی ضرورت تھی ۔ شیطان نے ان پر اپنی اسکیم ظاہر نہ کی تھی البتہ وہ انکی خواہشات کی راہ سے داخل ہوگیا ۔ اس نے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ “

یوں شیطان انسانی خواہشات کے ساتھ کھیلا ۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے یاطویل عرصے تک عمر پائے اور اسے خلود نصیب ہو ۔ اور اس کو ایسی سلطنت ملے جو محدود زندگی سے آگے ہو۔

بعض قراءتوں میں (ملکین ) لفظ ل کی زیر کیساتھ آیا ہے ۔ (ملکین) جس کے معنی دو بادشاہ کے ہوتے ہیں ۔

سورة طہ کی آیت آیت ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک الایبلی “۔ (20 : 120) ” کیا میں خلود کا درخت نہ بتاؤں اور ایسی بادشاہت جو ختم ہونے والی نہ ہو ۔ “ اس صورت میں شیطان نے انہیں دائمی عمر اور دائمی حکومت کا لالچ دیا ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی خواہشات میں سرفہرست ہیں۔ جنسی خواہش کی اصل حقیقت بھی یہ ہے کہ جنسی تعلق واتصال کے ذریعے ایک انسان خلود ہی چاہتا ہے یعنی اسکی اولاد ہو اور نسلا بعد نسل وہ زندہ رہے اور اگر ملکین پڑھیں تو مراد یہ ہوگی کہ دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور انسان کی جسمانی ضروریات سے فارغ ہوجاؤ گے اور ملائکہ کی طرح زندگی بھی دائمی ہوگی لیکن پہلی قرات اگرچہ مشہور قرات نہیں ہے ‘ سورة طہ کی آیت سے زیادہ موافق ہے اور اس سورة میں شیطان کا دھوکہ بھی انسانی خواہشات کی حدود کے اندر رہتا ہے ۔

شیطان لعین چونکہ جانتا تھا کہ اللہ نے ان کو بصراحت اس درخت سے منع کردیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے ممانعت کی وجہ سے ان کے دل میں کھٹکا موجود ہے ۔ اور قوت مدافعت ان کے اندر پائی جاتی ہے ۔ اس لئے اس وسوسہ اندازی میں وہ انسانی خواہشات اور کمزوریوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ناصح مشفق بن کر اور قسمیں اٹھا کر کہتا ہے

آیت ” وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (21)

” اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ “

آدم اور ان کی بیوی اللہ کی اس تنبیہ کو بھول جاتے ہیں کہ شیطان انکا دشمن ہے ۔ یہ بھول ان کی شخصی خواہش اور شیطان کی قسموں کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ تم احکام الہیہ کی اطاعت کرو چاہے کسی حکم کی علت سمجھو یا نہ سمجھو ۔ یہ دونوں یہ بھی بھول گئے کہ اللہ کی تقدیر اور حکم کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اگر اللہ نے ان کے لئے خلود نہیں لکھا اور دائمی حکومت نہیں لکھی تو یہ مقصد کس طرح حاصل ہو سکتا ہے ۔ ؟

Al-A'raaf 7:21Listen in Qur'an →
22

فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے

آیت ” نمبر 22۔

اب یہ دھوکہ تمام ہوا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے آگیا ۔ شیطان نے ان کو اللہ کی اطاعت سے پھیر کر اللہ کی معصیت میں مبتلا کردیا اور یہ سب کچھ اس نے گہری سازش اور دھوکے سے کیا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو دنیا میں اتار دیا ۔ آیت ” (فدلھما بغرو) (7 : 22) ” اس نے دھوکہ دے کر یہ مقصد حاصل کیا ۔ “

اب انہیں اس بات کا شعور ہوا کہ ان کے جسم میں شرمگائیں بھی ہیں ۔ یہ شرمگاہیں پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھیں ۔ چناچہ انہوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ان کو اپنی شرمگاہوں پر رکھنا شروع کردیا ۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شرمگاہوں سے مراد وہ جسمانی حصے ہیں جن کے ظاہر ہونے سے انسان فطرتا شرمندہ ہوتا ہے اور ان مقامات کو صرف وہی شخص ننگا اور ظاہر کرسکتا ہے جس کی فطرت ‘ کسی جاہلی سوسائٹی کی وجہ سے فساد پذیر ہوچکی ہو ۔

آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَن تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُل لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(22)

تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “

ان دونوں نے اللہ کی جانب سے آنے والی یہ جواب طلبی سنی کیونکہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا اور نافرمانی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے آنے والی اس ندا کی کیفیت کیا تھی ؟ ویسی ہی طرح پہلی مرتبہ اللہ نے انہیں خطاب کیا تھا ‘ جس طرح فرشتوں کو خطاب کیا تھا ۔ جس طرح ابلیس کو خطاب کیا تھا ۔ یہ سب امور غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں ہم صرف گمان رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ کرتا ہے ۔

اس پکار کے مقابلے میں ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی اس منفرد مخلوق انسان کی شخصیت کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ بھول بھی جاتا ہے اور اس سے غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس میں ایسی کمزوریاں بھی ہیں جن کے راستے سے شیطان اس پر انداز ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ یہ انسان نہ ہمیشہ غلطی پر ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ صحیح راستے پر ہوتا ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی اور لغزش کا ادراک کرلیتا ہے اور اس ادراک کے بعد وہ طلب مغفرت کرتا ہے اور نادم ہوجاتا ہے ۔ واپس ہو کر توبہ کرتا ہے اور شیطان کی طرح معصیت اصرار نہیں کرتا ۔ وہ اپنے رب سے معصیت پر معاونت طلب نہیں کرتا ۔

Al-A'raaf 7:22Listen in Qur'an →
23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے

آیت ” نمبر 23

یہ انسان کی وہ خصوصیت ہے جو اسے اپنے رب سے ملائے رکھتی ہے ‘ اور رب تک رسانی کے دروازے کھلے رکھتی ہے ۔ اعتراف جرم اور ندامت و استغفار ۔ اپنی کمزوری کا شعور اور اللہ سے طلب استعانت اور طلب رحمت اور یہ یقین کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت کا سرچشمہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معاونت کرسکتا ہے ۔ اگر اللہ کی رحمت ومعاونت نہ ہو تو انسان عظیم خسارے سے دوچار ہوتا ہے ۔

یہاں انسان کا پہلا تجربہ پورا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت کے بڑے بڑے خدوخال واضح ہوجاتے ہیں ۔ خود انسان اپنی کمزوریوں اور اپنے کمالات وصلاحیتوں سے واقف ہوجاتا ہے ‘ وہ صلاحیتیں جو اسے کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کیلئے دی گئی ہیں ۔ اس فریضے کا اہم حصہ یہ ہے کہ اس زمین پر انسان نے اپنے دشمن شیطان کے ساتھ ایک دائمی معرکہ سر کرنا ہے ۔

Al-A'raaf 7:23Listen in Qur'an →
24

قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے

آیت ” نمبر 24 تا 25۔

سب کے سب اتر جاؤ ‘ اس کرہ ارض پر جابسو ‘ سوال یہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ کہاں تھے ؟ جنت کہاں ہے ؟ یہ غیبی امور سے متعلق باتیں ہیں اور اس بارے میں ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں وہ ذات باری بتادے جس کے ہاتھ میں غیب کی کنجیاں ہیں ۔ اب جب کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو کسی انسان کی جانب سے ان غیبی امور ومقامات کی تلاش ایک فضول کوشش ہوگی ۔ اسی طرح جو لوگ ان امور کا انکار کرتے ہیں اور اپنی سائنسی اور غیر یقینی معلومات کی اساس پر کرتے ہیں وہ بھی اپنی حدود سے تجازو کررہے ہیں اور ان کا یہ موقف محض خود سری اور مکابرہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس عالم غیب کی بات کرتے ہیں ، جہاں تک انہیں یہ رسائی حاصل نہیں ہے لیکن ان لوگوں کی خود سری کا عالم یہ ہے کہ یہ سرے سے عالم غیب کا انکار کرتے ہیں حالانکہ عالم غیب نے بھی تک انسان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے علم کا موضوع مادہ ہے اور مادے کی دنیا میں بھی اب تک کے معلوم سے مجہول زیادہ ہے ۔

بہرحال یہ سب لوگ اترے ۔ زمین پر آگئے ۔ آدم ‘ حوا ‘ ابلیس اور ان کے حوالی و موالی اور یہاں وہ اس لئے اترے کہ اس میدان میں معرکہ آدم وابلیس شروع ہو وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں اور دو مزاجوں کے درمیان معرکہ شروع جائے ۔ ایک مزاج سوفیصد شرپسند ہے اور دوسرا خیر وشر دونوں کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اللہ کی مشیت نے ابتلاء کی جو اسکیم تیار کی ہے اسے پورا کیا جاسکے اور اللہ کا منصوبہ قضا وقدر آخر تک پہنچے ۔

اللہ نے آدم اور انکی اولاد کے لئے زمین پر رہنا مقرر کردیا کہ وہ یہاں بسیں ۔ دنیا کی پیداوار سے فائدہ اٹھائیں ۔ ایک وقت مقررہ تک ۔ یہاں زندہ رہیں اور مریں اور وقت آنے پر انہیں اٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہی کریں۔ اہل جنت ‘ جنت میں اور اہل النار دوزخ میں جائیں ۔ یہ ہوگا انجام اس عظیم سفر انسانیت کا ۔

اب یہ پہلا راؤنڈ ختم ہوا ۔ اس کے بعد معرکہ آدم وابلیس کے نئے راؤنڈ ہوں گے ۔ ان میں انسان صرف اس صورت میں کامیاب ہوگا کہ اس نے اپنے رب کی پناہ لی ہوگی اور اگر اس نے اپنے دشمن کو دوست بنا لیا تو ظاہر ہے کہ وہ شکست کھائے گا ۔

یہاں یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی قصہ یا کہانی نہیں ہے بلکہ ان آیات میں انسان کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے تاکہ اس کے مزاج ‘ اس کی نشوونما ‘ اس کے ماحول ‘ نظام قضاوقدر جو اس کی زندگی کو متاثر کرتا ہے اور وہ نظام جو اللہ نے اس کے لئے پسند کیا ‘ وہ ابتلاء جس سے اس نے دو چار ہونا ہے اور وہ انجام جس تک اس نے پہنچنا ہے ‘ کے بارے میں حقائق سامنے آسکیں اور یہ وہ باتیں ہیں جو اسلامی تصور حیات کی بنیادوں میں شامل ہیں۔

جہاں تک ہمیں فی ضلال القرآن کا منہاج اجازت دے گا ‘ ہم اس کے بنیادی نکات پر نوٹ کریں گے تفصیلات ہم اپنی کتاب ” خصائص التصور الاسلامی “ کے لئے چھوڑتے ہیں جو اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتی ہے ۔

جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں ‘ قصہ تخلیق انسانیت سے ہی میں جو پہلی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور انسان کی تخلیق کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ یہ دونوں اللہ کے نظام قضا وقدر کے اندر کام کرتے ہیں ۔ اس حقیقت کے ادراک سے ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ انسان کی تخلیق جو ایک تقدیر اور منصوبے کے مطابق ہوئی محض اتفاقی بات نہ تھی اور اس کائنات ‘ انسان اور نظام قضا وقدر کے درمیان مکمل توافیق ہے ۔

جو لوگ اللہ کی معرفت سے محروم ہیں وہ ذات باری کی قدر نہیں کرسکتے جس طرح کہ اس کا حق ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے کاموں اور ان کے نظام قضا وقدر کو ان پیمانوں سے ناپتے ہیں جو انسان کے چھوٹے چھوٹے کاموں اور منصوبوں کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔ وہ جب دیکھتے ہیں تو انکی سمجھ میں صرف یہ بات آتی ہے کہ انسان بھی اس دنیا کی دوسری مخلوقات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ۔ …

Al-A'raaf 7:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ

(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے

درس نمبر 74 ایک نظر میں :

زیر نظر سبق اس سورة کے وقفوں میں سے ایک وقفہ ہے ۔ پہلے منظر کے بعد یہ ایک طویل وقفہ ہے جس میں تخلیق انسانیت کی ایک عظیم روئیداد بیان کی گئی ہے ۔ اس سورة میں جگہ جگہ ایسے وقفے آتے ہیں گویا سامعین سے کہا جاتا ہے ‘ ذرا رکیں ‘ کہا یہاں تک جو کچھ آپ نے دیکھا اس پر غور کریں اور آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ اس منظر میں انسانیت کے لئے کیا کیا نصائح ہیں اور کیا کیا عبرت آموزیاں ہے ۔

یہ وقفہ ان دستوں کی موجودگی میں ہے جو ایک طرف انسانیت کی جانب سے اور دوسری جانب شیطان کی جانب سے باہم معرکہ آرائی کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ اس وقفے میں بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس اسلوب سے اور کس گزر گاہ سے داخل ہوتا ہے اور یہ کہ اس کا منصوبہ کیا ہے اور کس شکل و صورت میں ہے ۔

قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ صرف اس صورت میں ہدایت دیتا ہے جب کوئی صورت عملا قائم ہو ‘ موجود ہو اور مسئلہ پیدا ہوگیا ہو ۔ وہ جو قصص بھی بیان کرتا ہے ‘ اس لئے بیان کرتا ہے کہ تحریک اسلامی کے اندر کچھ واقعی حالات موجود ہوتے ہیں جن پر وہ قصہ منطبق ہوتا ہے ۔ قرآن کے قصص جیسا کہ اوپر کہہ آئے ہیں محض فنی اور ادبی مقاصد کے لئے نہیں ہوتے اور نہ قرآن کسی مسئلے پر محض نظریاتی زاوے سے بحث کرتا ہے ۔ اسلام کی حقیقت پسندی اور اس کی سنجیدگی اس بات کی متقاضی تھی کہ اس کی ہدایات ایسے مسائل کے بارے میں ہوں جو عملا تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے ۔

قصہ آدمیت کے اس پہلے مرحلے کے بعد آنے والے اس وقفے کا تعلق عرب جاہلیت کی واقعی صورت حال کے ساتھ ہے ۔ قریش نے دوسروں عربوں کے مقابلے میں اپنے لئے کچھ حقوق مختص کئے ہوئے تھے ۔ لوگ باہر سے حج بیت اللہ کے لئے آتے تھے جسے قریش نے بت خانہ بنا دیا تھا اور یہ حقوق وہ اپنے لئے بعض جعلی تصورات کی اساس پر مختص کرتے تھے اور اسے اللہ کی شریعت قرار دیتے تھے ۔ ان تصورات کو انہیں نے قانون شکل دے رکھی تھی اور اسے شریعت کہتے تھے تاکہ دوسرے مشرکین ان قوانین کی پیروی کریں ۔ ہر جاہلیت میں کاہن ‘ سردار ‘ گدی نشین لوگ عوام الناس کے لئے ایسے ہی اصول گھڑ لیتے ہیں ۔ قریش نے اپنے لئے ایک خاص لقب اختیار کیا ہوا تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ” حمس “ کہتے تھے ۔ اور اپنے لئے انہوں نے بعض حقوق مختص کر رکھے تھے جو دوسرے عربوں کو حاصل نہ تھے ۔ ان حقوق میں سے بعض طواف بیت اللہ کے بارے میں تھے ۔ صرف ان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے زیر استعمال کپڑوں میں طواف کرسکتے تھے ‘ رہے دوسرے عرب تو وہ ان کپڑوں میں حج نہ کرسکتے تھے جو کبھی کسی نے پہنے ہوں ۔ اب ان لوگوں کیلئے دو صورتیں تھیں یا تو وہ قریش سے کپڑے مستعار لیتے تھے تاکہ وہ طواف کرلیں اور یا اپنے لئے نئے کپڑے بنواتے تھے اور اگر وہ ان دونوں صورتوں پر عمل نہ کرسکتے تو پھر وہ ننگے طواف کرتے اور ان میں عورتیں بھی شامل ہوتیں ۔

علامہ ابن کثیر کہتے ہیں ” ماسوائے قریش کے دوسرے عرب ان کپڑوں میں طواف نہ کرسکتے تھے جو انہوں نے اس سے پہلے پہن لئے ہوتے تھے ۔ اس بات کے پیچھے ان کا یہ نظریہ تھا کہ چونکہ ان کپڑوں میں وہ اللہ کی نافرمانی کرتے رہے ہیں اس لئے ان میں ہمارے طواف کرنا درست نہیں ہے ۔ قریش جو حمس کہلاتے تھے ‘ ان کا یہ حق تھا کہ وہ اپنے طواف کرلیتا ‘ کسی کے پاس جدید کپڑے ہوتے تو بھی وہ طواف کرلیتا ‘ لیکن طواف کے بعد اسے پھینک دیتا اور وہ کسی کی ملکیت نہ ہوتا ۔ اگر کسی کو نہ نیا کپڑا ملتا اور نہ عاریتا اہل قریش میں سے دستیاب ہوتا تو وہ ننگا طواف کرتا ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک عورت ننگی حالت میں طواف کر رہی ہے ‘ اس صورت میں وہ اندام نہائی کو ڈھانپ لیتی ۔ لیکن جن عورتوں کو ایسی حالت میں طواف کرنا پڑتا وہ اکثر اوقات رات کے وقت طواف کرتیں ۔ یہ رسوم انہوں نے اپنی جانب سے گھڑ لی تھیں اور آباؤ اجداد کے وقت سے وہ ان پر عمل پیرا تھے ۔ وہ عقیدہ یہ رکھتے …

Al-A'raaf 7:25Listen in Qur'an →
26

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں

آیت ” نمبر 26۔

یہ اللہ کی جانب سے انسانوں کے نام ایک درد انگیز پکار ہے اور یہ پکار تخلیق انسانیت کی کہانی کے منظر کے بعد آئی ہے ۔ خصوصا اس کے اس حصے کے بعد جس میں شیطان کی سازش سے حضرت آدم اور حوا کے جسموں سے جنت کا لباس اتار دیا گیا اور جس میں دونوں اس طرح دکھائی دیتے تھے کہ وہ اپنے جسموں کے اوپر جنت کے پتوں کو چسپاں کر رہے تھے ۔ یہ دن انہیں اللہ کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے دیکھنے پڑے تھے کیونکہ انہیں ایک خاص درخت کا پھل کھانے کی صریح ممانعت کی گئی تھی ۔ یہ ایک لغزش تھی اور اس کی نوعیت ایسی نہ تھی جس کی تفصیلات اہل کتاب کی منحرف کتابوں تورات وانجیل کے اندر موجود ہیں اور جن کا پر تو آج مغرب کے تمام علوم وفنون پر صاف صاف نظر آتا ہے ۔ دور جدید میں فرائڈ کے افکار اس پر مستزاد ہیں ۔ ان اساطیر اور فضول قصوں میں یہ کہا گیا ہے کہ شجر ممنوعہ شجر علم تھا اور شجر حیات تھا اور اگر آدم وحوا اس کا پھل کھالیتے تو اللہ کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھی خدا کی طرح الہ بن جاتے ۔ نہ یہ ممانعت جنسی ملاپ کی ممانعت تھی جس طرح فرائڈ اور مغربی علوم وفنون اور مغربی ارٹ اس بات کا انعکاس کرتے ہیں اور انہوں نے ان کہانیوں کی اساس پر جنسی بےراہ روای کا فلسفہ فرائڈ کے خیالات کی شکل میں اپنا رکھا ہے ۔

غرض حضرت آدم (علیہ السلام) کی لغزش کے نتیجے میں ان کے لباس کے اتر جانے کے منظر اور پھر دور جاہلیت میں عریانی کی حالت میں طواف کرنے کی صورت حال کے پیش نظریہ پکار آتی ہے کہ اے انسان اللہ نے تم پر کس قدر رحمت اور شفقت کی ہے کہ تمہاری زینت اور شرمگاہوں کو چھپانے کے لئے لباس کا انتظام کیا اور اسے تمہارے ستر کے لئے ایک لازمی قانون کی شکل دی ۔ اگر لباس نہ ہوتا تو تم برہنگی کی حالت میں نہایت ہی مکروہ نظر آتے ۔ (انزلنا) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ لباس بطور قانون لازم ہے ۔ لباس کا اطلاق کبھی تو ستر پر ہوتا ہے یعنی داخل ستر اور ریاش کا اطلاق اس لباس پر ہوتا ہے جو زیب وزینت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی ظاہری لباس ۔ لفظ ریاش کے معنی میں عیش و عشرت اور مال و دولت ہے ان سب معانی کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اور یہ لازم وملزوم ہیں ۔

آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً “۔ (7 : 26)

” اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو “۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ تقوی کے لباس کا ذکر فرماتے ہیں اور ساتھ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں کہ لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔

عبدالرحمن ابن اسلم نے یہ کہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنی شرمگاہ کو چھپائے تو یہ لباس تقوی ہے ۔ “ لباس ستر اور لباس تقوی شریعت میں لازم وملزوم ہیں ۔ لباس ستر جسم کو چھپانے اور زینت کے لئے ہے اور لباس تقوی دل کے قابل شرم حالات کو چھپاتا ہے اور قلب کی زیب وزینت بنتا ہے ۔ دونوں لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ خدا کے خوف اور خدا سے حیاء کرنے کے شعور کے نتیجے ہی میں انسان جسم کے قابل شرم حصوں کو کھلا رکھنا قبیح سمجھتا ہے اور جو شخص اللہ سے حیا نہیں کرتا اور اس نہیں ڈرتا ‘ اس کے لئے جسمانی عریانی کوئی قابل ملامت بات نہیں ہوتی ۔ چناچہ اسلام کی نظر میں تقوی اور حیا سے عاری ہونا اور لباس کو اتار دینا ایک ہی جیسا قبیح فعل ہے ۔

جسم کا چھپانا فطری حیاء ہے اور اس کا تعلق محض کسی خاندان اور سوسائٹی کے رواج کے ساتھ نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض اور لوگ اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جو اسلامی معاشرے سے حیاء کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہو امسلمانوں کی انسانیت کو ختم کردیں اور یہ عین اس منصوبے کے مطابق ہے جو صہیونی لیڈروں نے انسانیت کی تباہی کے لئے بنایا تھا ۔ بلکہ یہ ایک فطری داعیہ ہے جس اللہ نے انسان کے …

Al-A'raaf 7:26Listen in Qur'an →
27

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے

آیت ” نمبر 27 تا 30۔

یہ اللہ کی جانب سے انسان کے نام دوسری پکار ہے ۔ یہ غور وفکر کے اس وقفے میں ہے جو ان کے والدین حضرت آدم وحوا کے قصے کے دوران کیا گیا ہے ۔ اور خصوصا اس منظر پر بطور تبصرہ کیا گیا ہے جس میں شیطان نے اپنی گہری سازش کے ذریعے انہیں بےلباس کردیا کہ انہوں نے اس سازش کا شکار ہو کر اللہ کے صریح حکم کو بھلا دیا اور شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں ان سے لغزش سرزد ہوگئی ۔ نیز ہم نے جاہلیت عربیہ کے دور میں برہنہ طواف کے بارے میں جو کچھ کہا اس کی روشنی میں بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ نے کیوں اس انداز میں بنی نوع انسان کو پکارا کیونکہ وہ اس عریانی کو منجانب اللہ شریعت سمجھتے تھے ۔

پہلی ندا میں تو بنی آدم کو یہ یاد دلایا گیا کہ ان کے ابو الآباء کے ساتھ کیا پیش آیا اور کس طرح اللہ نے انکی شرمگاہوں کے چھپانے اور پھر ان کی زیب وزینت کا انتظام فرمایا ۔ رہی یہ دوسری پکار تو یہ بنی آدم کو عموما اور مشرکین مکہ کو خصوصا یہ یاد دہانی ہے جس سے اسلام سب سے پہلے خطاب کررہا تھا کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں اور اپنے لئے خود نظام زندگی اور رسم و رواج اور شریعت تصنیف نہ کریں اور اس طرح شیطان کے فتنے کا شکار نہ ہوں کیونکہ اس نے تمہارے باپ کے خلاف یہی سازش کی تھی ‘ اس کو سازش کے ذریعے جنت سے نکلوایا تھا ‘ اور انہیں جنت کے لباس سے محروم کر کے ان کی شرمگاہوں کو ان کے سامنے ننگا کردیا تھا ۔ لہذا ہر وہ تحریک جو عریانی کی دعوت دیتی ہے وہ شیطانی تحریک ہے اور جاہلی تحریک ہے خواہ یہ زمانہ قدیم کی ہو یا دور جدید کی ۔ یہ تحریک تمہارے دشمن کی تحریک ہے ۔ شیطان تو تمہارا کھلا دشمن تھا اور وہ آدم اور اس کی اولاد کا دائمی دشمن ہے ۔ عریانی کی تحریک بھی انسان اور شیطان کی دشمنی کی ہمی گیر تحریک کا ایک پہلو ہے ۔ لہذا بنی آدم کو اپنے دشمن کو یہ موقع نہ دینا چاہئے کہ وہ اس معرکہ میں کامیاب ہو اور اس طرح انسانوں اور جنوں نے جہنم کو بھر دیئے جانے کا باعث بن سکے ۔

آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا “۔ (7 : 27)

” اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ “

انسانوں کو زیادہ ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں یہ اطلاع بھی دیتے ہیں کہ شیطان اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ سکتے ‘ لہذا وہ اپنے پوشیدہ وسائل کے ذریعے تمہارے بدراہ کرنے پر زیادہ قدرت رکھتا ہے ۔ لہذا انہیں ڈرنا چاہئے اور شدید احتیاط کرنا چاہئے ۔ ہر وقت چوکنا رہنا اور حد درجہ محتاط رہنا چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں آلے اور تمہیں پتہ ہی نہ ہو۔

آیت ” إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہُ مِنْ حَیْْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ “۔ (7 : 27)

” وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ “ ۔

اور اب اس فقرے کا آخری بند آتا ہے جو نہایت ہی موثر ہے اور اس طرف ہدایت کرتا ہے کہ تم احتیاط کرو کیونکہ تقدیر الہی کے نظام نے ان لوگوں کے ساتھ شیطان کو بطور دوست لگا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ‘ اور اس شخص کی بربادی کی کیا انتہا ہوگی جس کا دوست شیطان ہو ۔ ظاہر ہے کہ وہ ان پر قبضہ کرلے گا گمراہ کرے گا اور ان کی نکیل تھام کر جدھر چاہے گا ‘ لے جائے گا اور ان کا کوئی مددگار اور معاون نہ ہوگا ۔ اور نہ اللہ ان کا دوست ہوگا ۔

آیت ” إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (27)

” ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ “ …

Al-A'raaf 7:27Listen in Qur'an →
28

وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں

آیت ” قُلْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28)

” ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ “۔

اللہ تعالیٰ مطلقا فحاشی کے خلاف ہیں اور فحاشی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی بھی معاملے میں مقررہ حد سے گزر جائے ۔ عریانی بھی اسی کی تعریف میں آتی ہے اس لئے اللہ اس کا حکم کیسے دے سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کئے ہیں اور وہ یہ حکم نہیں دیتا کہ اس کے مقرر کردہ حدود توڑے جائیں ۔ اس نے شرم ‘ حیاء اور تقوی کا حکم دیا ہے تو پھر عریانی کا حکم کیسے صادر ہو سکتا ہے ۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ کے اس حکم کی اطلاع کس نے دی ہے ۔ کیونکہ اللہ کے احکام اور قوانین محض دعوی سے تو ثابت نہیں ہوتے ۔ اللہ کے احکام اور قوانین تو اس کی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس سے اللہ کے احکام معلوم ہوں ۔ کوئی انسان کسی بات کے اللہ اور رسول کی جانب سے آنے کا دعوی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ثابت نہ ہو ۔ اس لئے اللہ کے دین میں سند کے بغیر کوئی قول نہیں کیا جاسکتا ‘ ورنہ اس فکری انتشار کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکے گا کہ لوگ بات تو خود کریں مگر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیں ۔

جاہلیت بہرحال جاہلیت ہوتی ہے اور اس کے جو بنیادی عناصر ہوتے ہیں وہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب بھی لوگ جاہلیت کی طرف لوٹتے ہیں وہ ایک ہی طرح کی بات کرتے ہیں اور ان کی سوچ ایک ہی طرح کی ہوتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ قدیم اور جدید دونوں جاہلیتوں کے درمیان ایک طویل زمانہ حائل ہے اور وہ مکان کے اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے بہت ہی دور ہیں ۔ آج ہم جس جاہلیت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ‘ اس میں کوئی ایک جھوٹا اٹھاتا ہے اور وہ باتیں کہنا شروع کردیتا جو اس کی خواہشات نفسانیہ سے ڈکٹیٹ کرتی ہیں اور پھر کہتا ہے کہ یہ ہے اللہ کی شرعیت ۔ پھر ایک اور خود سر اور سرکش اٹھتا ہے اور اللہ کے دین کے صریح اور بدیہی امور کا انکار کرتا ہے ۔ وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ کا دین اس قسم کے احکام پر مشتمل نہیں ہوسکتا ۔ دین کس طرح یہ احکام دے سکتا ہے ‘ دین ان امور سے کس طرح منع کرسکتا ہے اور ایسے لوگوں سے اگر دلیل پوچھی جائے تو انکی خواہش نفس کے سوا اور کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوتی ۔ ہم کہتے ہیں ۔

آیت ” أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28)

ان کے اس دعوی کی تردید کے بعد کہ اللہ نے اس قسم کی فحاشی کا حکم نہیں دیا ‘ اب اللہ کے احکام تو اس کے بالکل متضاد اور برعکس ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو عدل اعتدال کا حکم دیتا ہے اور حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے وہ حدود سے تجاوز اور فحاشی کا حکم ہر گز نہی دیتا ۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ عبادت یا شعائر زندگی اور پکارنے کے معاملے میں صرف اللہ کی بندگی کرو جیسا کہ اللہ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں صریح ہدایات دی ہیں۔ اللہ نے اس مسئلے کو یوں نہیں چھوڑ دیا کہ اس کے بارے میں ہر انسان جو چاہے رائے رکھے اور پھر یہ دعوی کرے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ بلکہ اللہ نے یہ حکم دے دیا ہے کہ دین خالص اللہ کے لئے ہوگا اور صرف اللہ کی مکمل بندگی ہوگی ۔ نہ کوئی کسی کا غلام اور مطیع ہوگا اور نہ کوئی کسی کے ذاتی احکام کا پابند ہوگا ۔

آیت ” قُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَأَقِیْمُواْ وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ “۔ (7 : 29)

” اے نبی ﷺ ان سے کہو ! میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے ‘ اور ان کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو۔ اس کے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر ۔ “

یہ تو ہیں اللہ کی جانب سے مامورات …

Al-A'raaf 7:28Listen in Qur'an →
29

قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “

یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “

تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔

جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔

اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔

Al-A'raaf 7:29Listen in Qur'an →
30

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ

ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “

یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “

تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔

جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔

اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔

Al-A'raaf 7:30Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.