Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 191–200 of 206

191

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:191Listen in Qur'an →
192

وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:192Listen in Qur'an →
193

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَٰمِتُونَ

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:193Listen in Qur'an →
194

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:194Listen in Qur'an →
195

أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:195Listen in Qur'an →
196

إِنَّ وَلِۦِّىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ

میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:196Listen in Qur'an →
197

وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:197Listen in Qur'an →
198

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:198Listen in Qur'an →
199

خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَٰهِلِينَ

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

درس نمبر 82 ایک نظر میں

اس سورة کے آخر میں یہ ربانی ہدایت ہیں ، اللہ کی جانب سے خاص اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کی جا رہی ہے۔ ان میں حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے خطاب ہے۔ اس وقت یہ لوگ ابھی مکہ ہی میں تھے۔ یہ ہدایات انہیں اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے دی جا رہی ہیں جو مکہ اور اس کے ارد گرد پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ ہدایات اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے خاص طور پر جاری ہوئی ہیں اور گمراہ انسانیت کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کو بحیثیت قائد دعوت یہ حکم دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے لیے نہایت ہی یسر اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں اور ایسی باتوں کا حکم دیں جنہیں سلیم فطرت انسانی افعال خیر سمجھتی ہو۔ تمہارے احکام و ہدایات میں تعقید اور تشدید نہ ہو ، اور جہاں جاہلیت اصلاح پذیر نہ ہو وہاں اس کے ساتھ الجھنے کے بجائے اس سے پہلو تہی کیا جائے ، لوگوں سے مجادلہ نہ کیا جاے ، ان کی فضول محفلوں میں شریک نہ ہوں اور اگر اہل جاہلیت آپ کو غصہ دلائیں اور حدود پار کریں اور ضد وعناد کا مظاہرہ کریں اور شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے نتیجے میں آپ کو طیش آجائے تو آپ شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کریں اور تعوذ کے ذریعے اطمینان حاصل کرکے صبر کریں۔

خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔

اے نبی ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔

اس کے بعد حضور ﷺ کو ان جاہلوں کے مزاج سے متعارف کرایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قوت کی وسوسہ اندازی ہے جو ان لوگوں کو سرکشی اور گمراہی پر ابھار رہی ہے اور حضور ﷺ سے وہ جو سلوک کر رہے ہیں اس کا ایک حصہ بھی یہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ آپ سے خوارق عادت امور طلب کرتے ہیں چناچہ حضور کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان کے اس سلوک اور مطالبوں کا یہ جواب دیا جائے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ رسالت کی حقیقت کیا ہے ؟

رسول کا مقام کیا ہے ؟ تاکہ رسالت اور رسول کے مقام و ماہیت کے بارے میں ان کے تصورات کی اصلاح کردی جائے۔ اور یہ بتایا جائے کہ رسول اور رب العالمین کے تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟

وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ ۔ وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔

رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند ، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

اے نبی ! جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟ ان سے کہو " میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔

بذریعہ وحی قرآن کے نزول کی طرف آیت سابقہ …

Al-A'raaf 7:199Listen in Qur'an →
200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

لیکن رسول اللہ ﷺ بہرحال بشر تھے۔ بارہا ایسا ہوتا تھا کہ جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے آپ غصہ ہوجاتے تھے۔ بعض احمق اور سفیہ اس قسم کے افعال کا ارتکاب کرتے تھے کہ وہ آپ کے لیے ناقابل برداشت ہوتے تھے ، اور اگرچہ آپ ان کو برداشت ہی کرلیتے لیکن آپ کے بعد آنے والے اصحاب دعوت ہوسکتا ہے کہ اس قدر برداشت کا مادہ نہ رکھتے ہوں ، ایسے حالات میں شیطان اکساتا اور ورغلاتا ہے۔ اور نفس انسانی جوش میں آکر بےقابو ہوجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ اور آپ کے بعد تمام داعیوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اعوذ باللہ کے ذریعے اپنے غضب اور جوش پر قابو پانے کی سعی کریں تاکہ شیطان اپنی راہ لے۔

وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

اس آیت پر یہ تبصرہ کہ اللہ سمیع وعلیم ہے ، نہایت ہی بامعنی اور برمحل ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اللہ جاہلوں کے جہل اور ان کی حماقت کو سن رہا ہے اور ان کی جہالتوں اور حماقتوں کی وجہ سے تمہیں جو تکلیف ہو رہی ہے اس سے بھی اللہ واقف ہے۔ لہذا تم تسلی رکھ۔ تمہارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے یا جو حالات تم کو پیش آ رہے ہیں اللہ انہیں جانتا ہے اس سے بڑی اور تسلی کیا ہوگی کہ ایک شخص لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ داعی الی اللہ ہو اور اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہو اور اللہ کہہ دے کہ بہر حال ہم جانتے ہیں جو کچھ ہو رہا ہے تسلی رکھو۔

Al-A'raaf 7:200Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.