Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 171–180 of 206

171

۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا کہ) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو۔ اور جو اس میں لکھا ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ

اس قصے کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کس طرح پکڑا۔

۔۔۔

وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ ۔

یہ ناقابل فراموش عہد تھا ، کیونکہ یہ ایسے ظروف و احوال میں لیا گیا تھا جسے بھلا نہیں جاسکتا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا کہ جب پہاڑ ان پر اس طرح چھا گیا کہ گویا چھتری ہے۔ وہ یہی گمان کر رہے تھے کہ ابھی گرا۔ اس لیے کہ عہد لیتے ہی وہ سرکشی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان سے ایسی صورت میں عہد لیا گیا تھا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ عہد شکنی کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ ان غیر معمولی حالات میں ان سے کہا گیا کہ کتاب اللہ کو سنجیدگی سے لو۔ سختی سے اس پر عمل کرو ، اس میثاق کے بعد بد عہدی ، سست روی اور پسپائی اختیار نہ کرو ، کتاب اللہ کی ہدایات کو یاد رکھو۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح تمہارے دل پسیج جائیں اور تمہارا تعلق باللہ قائم رہے۔

لیکن بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل ہی رہے۔ ان پر اللہ کی بات سچ ثابت ہوگئی تھی ، اللہ نے انہیں اپنے وقت کی سپر پاور بنا دیا تھا۔ ان پر نعمتوں کی بارش کردی تھی۔ لیکن انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ اللہ کے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا۔ ان کو میثاق الٰہی یاد ہی نہ رہا اس لیے وہ اس انجام تک پہنچے ورنہ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

Al-A'raaf 7:171Listen in Qur'an →
172

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَٰفِلِينَ

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ) کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی

درس نمبر 81 ایک نظر میں

اس سبق کا موضوع عقیدہ توحید اور رد شرک ہے۔ اس پوری سورة میں لائے جانے والے قصوں کا موضوع بھی یہی عقیدہ توحید تھا ، اس پہلو سے کہ تمام رسولوں نے اسی عقیدے کی طرف دعوت دی تھی اور تمام رسولوں نے لوگوں کو شرک کے انجام بد سے ڈاریا تھا۔ لیکن یاد دہانی اور ڈراوے کے بعد وہ حالات پیش آئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔

لیکن اس سبق میں توحید کے مسئلے کو ایک نئے زاوئیے سے لیا گیا ہے۔ گہرے رخ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ انسانی فطرت کے زاویہ سے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان جب عالم ذریت میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور بشرتی سے یہ عہد لیا تھا کہ آیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ، اقرار ربوبیت کو فطرت انسانی میں ودیعت کردیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بشریت انسانی وجود کی گہرائیوں میں اپنے خالق اور رب کے وجود کا شعور رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد رسول کیوں آئے ہیں تو رسولوں کی آمد محض تذکیر کے لیے ہوتی ہے اور ایک رسول بشیر و نذیر کی حیثیت سے آتا ہے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے جو فطرت سے انحراف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید در اصل ایک میثاق ہے جو فطرت انسانی اور خالق فطرت کے درمیان انسان کے ابتدائی دور کے وقت سے طے شدہ ہے۔ لہذا اس عہد کے توڑنے کے لیے انسان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اگرچہ تذکیر اور یاد دہانی کے لیے ان کے پاس کوئی رسول نہ آیا ہو ، لیکن یہ اللہ کی خالص رحمت اور احسان ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے منحرفین کی اصلاح کے لیے رسولوں کو ارسال کیا اور لوگوں کو محض ان کے عقول پر نہیں چھوڑ دیا گیا کیونکہ عقل غلطی کرسکتی ہے۔ چناچہ اللہ نے رسول بھیجے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت ہی نہ رہے کہ فطرت کے تقاضے کے علاوہ اب تو رسول بھی آگئے۔

اس سبق میں مسئلہ توحید کو اس زاویہ سے لیا گیا ہے اور اس زاویہ سے کئی خطوط کھینچے گئے ہیں۔

ایک تاریخی لکیر ہے۔ اس میں ایک شخص کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا تعلق بھی تاریخ بنی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس کا کسی خاص اور متعین واقعہ یا خاص زمان و مکان کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ یہ در اصل ایک نفسیاتی حالت کی تصویر کشی ہے جو بار بار پیش آتی رہتی ہے۔ مثلاً جس شخص کو اللہ نے علم دیا ہے تو اس علم کا تقاضا اور اس سے توقع یہی ہے۔ یہ شخص ہدایت یافتہ ہو اور حق پر قائم ہونے والا ہو۔ لیکن اچانک یہ غیر متوقع صورت حالات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے علم کے تقاضوں سے بھاگ نکلتا ہے۔ وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اور وہ راہ ضلالت پر اس شخص کے دوش بدوش چلتا ہے جو بالکل بےعلم ہے۔ بلکہ یہ عالم شخص اس بےعلم سے بھی زیادہ شر پسند ، گمراہ اور بدبخت ثابت ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ علم کو ایمان کی چاشنی نہ دی گئی ہو۔ کیونکہ ایمان کے رنگ سے ہی یہ علم کا چراغ روشن بن جاتا ہے۔ اور مسافر کے لیے روشنی کا مینار ہوتا ہے۔

ایک دوسرا خط یا دوسری لکیر ملاحظہ ہو۔ اس میں انسانی فطرت کے انحراف کا ایک دوسرا قصہ یا نمونہ بتایا گیا ہے کہ انسان کس ڈھٹائی کے ساتھ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑا ہے وہ اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے کہ اگر انہیں ایک صالح بچہ دیا گیا تو وہ صرف اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ یہاں تک تو فطرت کے تقاضوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ لوگ بھی خلاف توقع بچے کی پیدائش کے عمل میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کی فطرت میں کجی آجاتی ہے۔

ایک تیسری لائن خود انسانی وجود کے اندر پائے جانے والی ادراکی قوتوں کے بارے میں ہے کہ اگر ان قوتوں کو صحیح طرح کام میں نہ لایا جائے تو ایک معقول انسان انسانیت کے مرتبہ اور مقام سے گر کر حیوانی سطح پر اتر آتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہوتا …

Al-A'raaf 7:172Listen in Qur'an →
173

أَوْ تَقُولُوٓا۟ إِنَّمَآ أَشْرَكَ ءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ وَكُنَّا ذُرِّيَّةًۭ مِّنۢ بَعْدِهِمْ ۖ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ ٱلْمُبْطِلُونَ

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا۔ اور ہم تو ان کی اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) ۔ تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے

لیکن یہ اللہ کی نہایت ہی مہربانی ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے اس فطری عہد کے باوجود انحراف اختیار کرسکتا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے صحیح راہ سے شیاطین جن و انس منحرف کرتے ہیں اور یہ جن و انس کے شیاطین بڑی ہوشیاری سے انسان کی کمزوریوں کو کام میں لاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے رحم یہ فرمایا کہ اس نے انسان کو محض اپنی فطری صلاحیت پر ہی ذمہ دار ہدایت نہیں ٹھہرایا۔ اور نہ اپنی عقلی اور فطری قوت ادراک اور تمیز پر اس سے جواب طلبی فرمائی۔ بلکہ سا کے باوجود اللہ نے رسول بھیجے ، جنہوں نے تفصیلات کے ساتھ آیات و دلائل پیش کیے تاکہ وہ فطرت کے اوپر چڑھے ہوئے زنگ کو اتاریں۔ اسے صیقل کریں اور انسان کو خواہشات اور شہوات کی بندگی سے چھڑائیں۔ اگرچہ اللہ کو معلوم تھا کہ رسولوں اور دعوتوں کے بغیر بھی انسان کی ہدایت کے لیے اس کی فطری استعداد اور عقلی قوت کافی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے حساب و کتاب کا مدار رسالت اور دعوت پر رکھا ہے۔

Al-A'raaf 7:173Listen in Qur'an →
174

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ وَلَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں

یہ آیات و ہدایات اس لیے اتاری گئیں کہ انسان راہ فطرت پر واپس آجائے اور اس صلاحیت کو کام میں لائے جو اس کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ یعنی ان فطری صلاحیتوں اور عقلی ادراک کی وجہ سے بھی وہ بجا طور پر حقیقت کا ادراک کرسکتا تھا لیکن اللہ نے رسول اور ہدایات اس لیے ارسال کیں کہ وہ راہ ہدایت پا لے۔ اور یاد دہانی اور ڈراوے سے استفادہ کرے۔

Al-A'raaf 7:174Listen in Qur'an →
175

وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱلَّذِىٓ ءَاتَيْنَٰهُ ءَايَٰتِنَا فَٱنسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ ٱلشَّيْطَٰنُ فَكَانَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہٴ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اس کے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا

تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔

لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔

۔۔۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ

اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔

یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔

ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔

یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ …

Al-A'raaf 7:175Listen in Qur'an →
176

وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَٰهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُۥٓ أَخْلَدَ إِلَى ٱلْأَرْضِ وَٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُۥ كَمَثَلِ ٱلْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ۚ ذَّٰلِكَ مَثَلُ ٱلْقَوْمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا ۚ فَٱقْصُصِ ٱلْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کر دیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکالے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تو ان سے یہ قصہ بیان کردو۔ تاکہ وہ فکر کریں

تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔

لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔

۔۔۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ

اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔

یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔

ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔

یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ …

Al-A'raaf 7:176Listen in Qur'an →
177

سَآءَ مَثَلًا ٱلْقَوْمُ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا۟ يَظْلِمُونَ

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا

تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔

لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔

۔۔۔

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ

اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔

یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔

ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔

یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ …

Al-A'raaf 7:177Listen in Qur'an →
178

مَن يَهْدِ ٱللَّهُ فَهُوَ ٱلْمُهْتَدِى ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

اس شخص کی مثال جسے اللہ نے اپنی ہدایات دیں مگر وہ ان سے نکل گیا ، تبصرہ یہ ہے کہ ہدایت در اصل وہی ہوتی ہے جو من جانب اللہ ہو ، جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑجاتا ہے۔ اب وہ کسی معاملے میں بھی نفع نہیں کما سکتا۔

اور اللہ تعالیٰ صرف اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو لوگ ہمارے بارے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کریں گے۔ اور دوسری جگہ ہے۔ ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کے بدلنے کی سعی نہ کرے اور دوسری جگہ ہے۔ ونفس و ما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواھا قد افلح من زکاھا و قد خاب من دساھا۔ اور وہ نفس کی اور یہ جو اسے برابر کیا اور اسے برائی اور خدا خوفی سے آگاہ کیا۔ وہ کامیاب ہوا جس نے اس نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے ناپاک کیا "۔

جو شخص دلائل ہدایت کو ترک کرکے اپنے لیے راہ ضلالت کو پسند کرلیتا ہے۔ اللہ بھی اسے گمراہ کردیتا ہے کیونکہ ایسا شخص اپنے دل ، اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو ہدایت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسی سیاق وسباق میں درج ذیل آیت اسی مفہوم کو ظاہر کر رہی ہے۔

اور دوسری جگہ فرمایا گیا فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضا۔ ان کے دل میں بیماری ہے ، پس اللہ نے بھی ان کی بیماری کو زیادہ کردیا "۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے۔ ان الذین کفروا و ظلموا لم یکن اللہ لیغفرلہم ولا لیھدیہم طریقا الا طریق جھنم خالدین فیہا " وہ لوگ جنہوں نے کفر کو اختیار کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اللہ بھی ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں صحیح راستے کی ہدایت دیتا ہے ، ما سوائے جہنم کے راستے کے جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے "۔

ان تمام آیات پر غور وفکر کرنے کے بعد جن میں ہدایت و ضلالت کا ذکر ہے اور ان کے مفہوم کے اندر تطبیق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے بعد صرف ایک ہی تشریح و تطبیق ممکن ہے جس میں دل کا اطمینان بھی ہے اور وہ ان لاہوتی جدلیات سے بھی پاک ہے جن میں اسلامی متکلمین ، یہودی مسیحی اور دوسرے مذاہب فلسفہ ہمیشہ باہم دست و گریبان رہے ہیں ، وہ یہ کہ اس کائنات میں اللہ کا نظام قضا و قدر اللہ کی مشیت کے ایک وسیع دائرے کے اندر کام کرتا ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان کی تخلیق ہوئی ہے اور اس نظام قدر کے مطابق انسان کے اندر ہدایت اور ضلالت کی دہری صلاحیت رکھ دی گئی ہے۔ انسان کی فطرت مخلوق کے اندر ہی یہ فطری عہد رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اللہ وحدہ کی معرفت حاصل کرے اور ربوبیت کا اعتراف کرے ، پھر انسان کو ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت کے ساتھ عقل کی قوت تمیزہ بھی دی گئی ہے جو ہدایت و ضلالت کو پہچانتی ہے۔ اس پر مستزاد اسے رسولوں کے ذریعے دلائل و نشانات ہدایت بھی سمجھا دیے گئے تاکہ اگر اس کی فطرت پر موٹی تہ جم گئی ہو تو اسے صاف کرتا جائے لیکن ان تمام انتظامات کے ساتھ ساتھ اس میں قبولیت ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت قائم رہتی ہے اور یہ تمام انتظام اللہ کے دائرہ مشیت ، وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہے۔

اللہ کی مشیت کے اندر اللہ کا نظام قضا و قدر جاری رہتا ہے اور اپنا کام کرتا ہے لہذا اس دائرے کے اندر جو شخص ہدایت کا انتخاب کرتا ہے وہ ہدایت کی راہ لیتا ہے ، تقدیر اسے ہدایت دیتی ہے اور اگر وہ دلائل ہدایت اور اشارات فطرت کے مطابق نہیں چلتا تو یہ تقدیر اسے راہ ضلالت پر ڈال دیتی ہے۔ اس لیے کہ اس شخص نے اس عقل سے کام نہ لیا جو اسے عطا ہوئی تھی۔ اپنی آنکھوں اور کانوں سے کام نہ لیا جو اس کائنات کے اندر بکھری ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اسے دی گئی تھی۔ پھر ان ہدایات میں بھی موجود تھیں …

Al-A'raaf 7:178Listen in Qur'an →
179

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ ۖ لَهُمْ قُلُوبٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌۭ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ ءَاذَانٌۭ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ كَٱلْأَنْعَٰمِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْغَٰفِلُونَ

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں

جن و انس میں سے اکثریت جہنم کے لیے پیدا کی گئی ہے ، اس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں ، تو ان لوگوں کا یہ انجام کیوں ہے ؟ اس اعلان کے دو پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کو پیشگی علم تھا کہ وہ یہ مخلوق جہنم کی راہ لے گی اور جہنم تک پہنچے گی۔ ان لوگوں کا عملاً جہنم کی راہ لینا اللہ کے علم سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ کا علم تو ہر شے پر محیط اور ازلی ہے۔ اللہ کو پیدائش انسان اور عمل انسان سے بھی بہت پہلے معلوم تھا کہ فلاں فلاں یہ راہ لے گا۔ اللہ کا علم وقوع واقعات پر موقوف نہیں ہے بلکہ پہلے سے ذات باری کا حصہ ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اپنے علم ازلی سے جو ذات باری کے ساتھ ہے لوگوں کو عالم واقعہ میں اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ کریں اور دوسری راہ اختیار نہ کریں بلکہ وہ خود اپنی صلاحیت اور ذات کی وجہ سے خود ایسا کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ فرماتے ہیں " ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ، ان کے پاس آنکھیں ہیں ، مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان کے ساتھ سنتے نہیں "۔

ان کو دل و دماغ اس لیے دئیے گئے تھے کہ وہ انہیں کھولیں اور بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ، جبکہ پورا کائنات میں دلائل ایمان بکھیرے پڑے ہیں ، پھر رسولوں نے جو پیغام دیا اس میں بھی دلائل و معجزات موجود ہیں اگر دل بصیرت رکھتا ہو اور آنکھیں کھلی ہوں تو ہدایت پا سکتے تھے مگر انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور آیات الہیہ کو نہ دیکھا۔ انہوں نے کان بند کرلیے اور پیغمبروں کی دعوت کو نہ سنا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو معطل کرلیا۔ حالانکہ وہ ان کے فائدے کے لیے دی گئی تھیں۔ وہ حیوانات کی طرح غافل رہے لہذا وہ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں "

وہ لوگ جو ان آیات و نشانات سے غفلت برتتے ہیں جو ان کے ارگرد کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، جو لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے واقعات اور عبرت آموز حادثات دیکھتے ہیں لیکن ان میں ان کو اللہ کا ہاتھ نظر نہیں آتا ، یہ لوگ بیشک جانوروں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے کہ مویشیوں کے بھی کچھ فطری وظائف ہوتے ہیں اور ہر جانور انہیں پورا کرتا ہے۔ رہے جن و انس تو انہیں ایک سوچنے والا دل دیا گیا اور دیکھنے والی آنکھ دی گئی ، سننے والے کان دئیے گئے جب انہوں نے دلوں سے نہ سوچا ، آنکھوں سے نہ دیکھا ، اور کانوں سے نہ سنا اور اس پوری کائنات کی رفتار پر سے غافل ہوکر گزر گئے اور اس کے مقاصد و معانی نہ سمجھے ، ان کی آنکھوں نے ان اشارات کو نہ دیکھا جو یہاں ہیں ، ان کی سماعت پر اس پوری کائنات کی چیخ و پکار نے بھی اثر نہ کیا تو یقینا یہ لوگ اور اس قسم کے دوسرے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ٹھہرے جو کم از کم اپنے فطری وظائف تو سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ جہنم کے لیے پیدا ہوئے میں اور اللہ کی مشیت کے وسیع دائرے میں اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطالبہ پر جہنم کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ یہ راہ اختیار کریں بلکہ اللہ کو اس کے علم قدیم کے ذریعے اس کا علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے اور بھریں گے اور جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

Al-A'raaf 7:179Listen in Qur'an →
180

وَلِلَّهِ ٱلْأَسْمَآءُ ٱلْحُسْنَىٰ فَٱدْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا۟ ٱلَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِىٓ أَسْمَٰٓئِهِۦ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور خدا کے سب نام اچھے ہی اچھے ہیں۔ تو اس کو اس کے ناموں سے پکارا کرو اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی اختیار کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اس کی سزا پائیں گے

توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔

وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔

اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے

الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کوئی راستی سے منحرف ہوجائے۔ جزیرۃ العرب میں منحرفین مشرکین نے اللہ کے اموں میں انحراف اور تبدیلی کردی تھی اور اللہ کے نام انہوں نے قدرے تغیر کے ساتھ اپنے الہوں اور بتوں کے رکھ دئیے تھے ۔

اللہ کو اللات کرکے بت کا نام رکھ دیا۔ العزیز کو العزی بنا کر ایک دوسرے بت کا نام رکھ دیا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نام کسی اور کے لیے استعمال نہ کرو اور اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ صرف اللہ کو پکاریں اور الفاظ میں بھی کوئی تحریف اور تبدیلی نہ کریں اور نہ امالہ کریں۔ اور اگر منحرفین ان ناموں کو غلطہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہم محفل نہ ہوں۔ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ عنقریب انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ ان کے ساتھ اللہ حساب و کتاب کرلے گا۔

یہ حکم کہ جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان سے قطع تعلق کرلو صرف اس تاریخی صورت حال تک ہی محدود نہیں جس میں وہ لات اور عزی کے لیے اللہ العزیز کو استعمال کرتے تھے ، یہ اسماء الہی کے تحریف لفظی تک محدود ہے۔ یہ کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف پر بدستور ہوتا ہے۔ چاہے وہ تحریف کریں یا انحراف کریں۔ وہ تصور الہ میں انحراف کریں مثلا اللہ کے لیے اولاد کے قائل ہوں یا یہ معنوی انحراف کریں کہ اللہ کی مشیت قوانین فطرت میں مقید ہے یا وہ اللہ کے اعمال اور اعمال کی کیفیات کو انسانوں کے اعمال کی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یا وہ اللہ کو زمین و آسمان اور آخرت کا الہ تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کے نزدیک زمین پر اللہ کی سیاسی اور قانونی حکمرانی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون سازی کرے۔ لوگ بذات خود یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے لیے قانون سازی کریں اور یہ قانون سازی وہ اپنی عقل ، تجربے اور مفادات کے مطابق کریں۔ لہذا سیاسی اعتبار سے ایسے لوگوں کے نزدیک انسان خود اپنے خدا اور معبود ہیں۔ یا بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے خدا اور الہ ہیں۔ یہ تمام افکار اللہ کی ذات وصفات میں الحاد کے ضمن میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان امور سے اپنے آپ کو بچائیں اور دور رکھیں۔ اور جو لوگ اس قسم کا الحاد کرتے ہیں ان کے لیے یہ وعید ہے کہ انہیں سخت سزا دی جائے گی بوجہ اس الحاد کے۔

Al-A'raaf 7:180Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.