Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 121–130 of 206

121

قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے

اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔

یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس کی ماہیت سے اچھی طرح باخبر تے اور اگر حضرت موسیٰ جادوگر ہوتے تو وہ اور لوگوں کے مقابلے میں انہیں بہت جلد پہچان لیتے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں جس معجزے کا ظہور ہوا وہ انسانی قدرت اور جادو کے دائرے سے ورا تھا۔ ایک ماہر فنکار اپنے فن کے بارے میں حقیقت کو بہت جلد تسلیم کرلیتا ہے ، بشرطیکہ حقیقت اس پر منکشف ہوجائے۔ اس لئے کہ صاحب فن حقیقت کے قریب ہوتا ہے ، اور اس کا علم ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر چیلنج اور تحدی کے موقف کو چھوڑ کر تسلیم و رضا کا پیکر بن گئے کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر یقین پا رہے تھے اور یہ حقیقت ان کے شعور کا حصہ بن گئی تھی۔

لیکن کوئی بھی طاغوتی طاقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کا دل کس طرح نور سے بھر جاتا ہے یا یہ کہ انسان کو ایمان کی یہ شرح صدر کس طرح ہوجاتی ہے اور انسان کے دل میں یقین کی گرمی کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں چونکہ طویل عرصے تک لوگوں کو غلام بنائے رکھتی ہیں اس لئے انہیں یہ زعم ہوجاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ڈھب پر ڈالنے کی قوت رکھتی ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ و پھر بدل سکتی ہیں۔ حالانکہ انسان کا دل تو رحمن کی انگلیوں میں ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔ جادوگروں کی جانب سے اعلان شکست اور اعلان ایمان فرعون کے لئے ناقابل تصور اور تعجب خیز تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کے دلوں میں تو ایمان کا شائبہ تک نہ تھا اور نہ ان کے ضمیر میں ایمان کا کوئی دخل و عمل اس کے علم میں تھا۔ پھر اس کے لئے یہ اچانک اعلان ایمان اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ جادوگر صرف جادوگر ہی نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کی عبادت گاہوں کے کاہن اور علماء و خطباء تھے ، جب کسی ملک کے تمام مذہبی راہنما ایمان لے آئیں تو پھر حکومت کے لئے اپنی جگہ پر ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ خصوصاً ایسے حالات مبارزت میں کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں آئے ہوں۔ ایسے حالات میں کہ جب طاغوتی نظام بذات خود خطرے میں ہو تو اہل طاغوت سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:121Listen in Qur'an →
122

رَبِّ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ

یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر

اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔

یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس کی ماہیت سے اچھی طرح باخبر تے اور اگر حضرت موسیٰ جادوگر ہوتے تو وہ اور لوگوں کے مقابلے میں انہیں بہت جلد پہچان لیتے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں جس معجزے کا ظہور ہوا وہ انسانی قدرت اور جادو کے دائرے سے ورا تھا۔ ایک ماہر فنکار اپنے فن کے بارے میں حقیقت کو بہت جلد تسلیم کرلیتا ہے ، بشرطیکہ حقیقت اس پر منکشف ہوجائے۔ اس لئے کہ صاحب فن حقیقت کے قریب ہوتا ہے ، اور اس کا علم ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر چیلنج اور تحدی کے موقف کو چھوڑ کر تسلیم و رضا کا پیکر بن گئے کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر یقین پا رہے تھے اور یہ حقیقت ان کے شعور کا حصہ بن گئی تھی۔

لیکن کوئی بھی طاغوتی طاقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کا دل کس طرح نور سے بھر جاتا ہے یا یہ کہ انسان کو ایمان کی یہ شرح صدر کس طرح ہوجاتی ہے اور انسان کے دل میں یقین کی گرمی کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں چونکہ طویل عرصے تک لوگوں کو غلام بنائے رکھتی ہیں اس لئے انہیں یہ زعم ہوجاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ڈھب پر ڈالنے کی قوت رکھتی ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ و پھر بدل سکتی ہیں۔ حالانکہ انسان کا دل تو رحمن کی انگلیوں میں ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔ جادوگروں کی جانب سے اعلان شکست اور اعلان ایمان فرعون کے لئے ناقابل تصور اور تعجب خیز تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کے دلوں میں تو ایمان کا شائبہ تک نہ تھا اور نہ ان کے ضمیر میں ایمان کا کوئی دخل و عمل اس کے علم میں تھا۔ پھر اس کے لئے یہ اچانک اعلان ایمان اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ جادوگر صرف جادوگر ہی نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کی عبادت گاہوں کے کاہن اور علماء و خطباء تھے ، جب کسی ملک کے تمام مذہبی راہنما ایمان لے آئیں تو پھر حکومت کے لئے اپنی جگہ پر ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ خصوصاً ایسے حالات مبارزت میں کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں آئے ہوں۔ ایسے حالات میں کہ جب طاغوتی نظام بذات خود خطرے میں ہو تو اہل طاغوت سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:122Listen in Qur'an →
123

قَالَ فِرْعَوْنُ ءَامَنتُم بِهِۦ قَبْلَ أَنْ ءَاذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَمَكْرٌۭ مَّكَرْتُمُوهُ فِى ٱلْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا۟ مِنْهَآ أَهْلَهَا ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

فرعون نے کہا کہ پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے؟ بےشک یہ فریب ہے جو تم نے مل کر شہر میں کیا ہے تاکہ اہلِ شہر کو یہاں سے نکال دو۔ سو عنقریب (اس کا نتیجہ) معلوم کرلو گے

ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔

لیکن ہر طاغوتی طاقت جاہل اور غبی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر طاغوتی طاقت متکبر ، مغرور اور انتہا پسند ہوتی ہے۔ نیز ہر طاغوتی طاقت اپنے اقتدار کے بارے میں نہایت حساس ہوتی ہے اور اسے ایسی باتوں سے اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے اور طاغوتی تخت اور اقتدار متزلزل نظر آتا ہے۔

اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۔ یقینا کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دار السلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل کردو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔

اور ایک دوسری آیت میں ہے (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر) یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت رب العالمین کی طرف تھی اور ہر وہ دعوت جو رب العالمین کی طرف ہوتی ہے وہ نہایت خوفناک ہوتی ہے ۔ جہاں بھی رب العالمین کی طرف دعوت پھیل جائے وہاں طاغوتی نظام باقی ہی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ طاغوتی نظام قائم ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں رب العالمین کے اقتدار اور قانون کے بجائے دوسرے انسانوں کا اقتدار اور قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان زمین پر بطور رب کام کرتے ہیں۔ انسانوں کو اپنا غالم بناتے ہیں اور ان کے لئے جو چاہتے ہیں قوانین بناتے ہیں۔ در اصل یہ دو مستقل نظام حیات ہوتے ہیں جو ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ دو الگ الگ دین ہوتے ہیں اور ان کے دو الگ الگ رب ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو فرعون اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی جماعت بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجرت موسیٰ کی دعوت کے نتیجے میں فرعون کا اقتدار متزلزل ہوگیا تھا اور اب جبکہ جادوگر سب کے سب سجدے میں گر گئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ انہوں نے رب العالمین کی دعوت تسلیم کرلی ہے اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں۔ یہ جادوگر اس وقت کے مذہبی لیڈر اور کاہن تھے اور انہوں نے دینی اعتبار سے فرعون کو رب الناس کا مقام دیا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان کو اس قدر وحشیانہ اور عبرت آموز سزا کی دھمکی دی۔

Al-A'raaf 7:123Listen in Qur'an →
124

لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ

میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب نفس انسانی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا ہے اور کیا چھوڑے یا کیا ہے یا وہ کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا اور اس کو اس راہ میں کیا کیا مشکلات انگیز کرنی ہوں گی ؟ اور کیا کیا مشقتیں اٹھانی ہوں گی ؟ کیونکہ اس کا نصب العین دور افق پر روشن نظر آتا ہے اور اس کی نظر بلند ہوجاتی ہے اور وہ پھر نیچے راستے کے کانٹوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔

Al-A'raaf 7:124Listen in Qur'an →
125

قَالُوٓا۟ إِنَّآ إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ

وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب نفس انسانی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا ہے اور کیا چھوڑے یا کیا ہے یا وہ کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا اور اس کو اس راہ میں کیا کیا مشکلات انگیز کرنی ہوں گی ؟ اور کیا کیا مشقتیں اٹھانی ہوں گی ؟ کیونکہ اس کا نصب العین دور افق پر روشن نظر آتا ہے اور اس کی نظر بلند ہوجاتی ہے اور وہ پھر نیچے راستے کے کانٹوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔

Al-A'raaf 7:125Listen in Qur'an →
126

وَمَا تَنقِمُ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا ۚ رَبَّنَآ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًۭا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ

اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو

یہ ہے وہ ایمان حقیقی کا حامل انسان ، جو نہ خائف ہوتا ہے اور نہ اس کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔ نہ وہ جھکتا ہے اور نہ غلام ہے۔ جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور اس راہ پر راضی ہوگیا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والا ہے اور وہ اس راہ کو اب نہیں چھوڑ سکتا۔

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ انہوں نے جواب دیا۔ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے۔

جو شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اور طاغوتی نظام کے درمیان برپا معرکے کی نوعیت کیا ہے ؟ اور یہ کہ یہ معرکہ ایک نظریاتی معرکہ ہے ، وہ پھر مداہنت نہیں کرتا اور نہ جنگی داؤ پیچ سے کام لیتا ہے نہ درگزر اور عفو سے کام لیتا ہے۔ خصوصاً ایسے دشمن کے مقابلے میں جس کا مقصد یہ ہو کہ اہل ایمان اپنے ایمان اور نظرئیے سے دستبردار ہوجائیں۔

وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۔ تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔

جو شخص یہ جانتا ہو کہ وہ کس کے خلاف صف آرا ہے ، اور وہ کس کے مقابلے میں آگے بڑھ رہا ہے ، پھر وہ اپنے دشمن سے امن و عافیت کا سوال نہیں کیا کرتا۔ وہ صرف اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور وہ بھی اس ات کا کہ اسے اس فتنے میں صبر و استقامت عطا کی جائے اور یہ کہ وہ اسلام کا وفادار ہے۔

رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ " اے رب ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمان بردار ہوں "۔

اب سرکشی ایمان کے مقابلے میں بےبس ہوجاتی ہے ، اسے ایک فہم سے اور اطمینان کے ایک پہاڑ سے واسطہ پڑتا ہے۔ سرکشی اور طغیان کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اختیار کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اسے انسان کے جسم پر غلبہ اور کنٹرول حاصل ہے ، اس طرح اسے لوگوں کے دل و دماغ پر بھی تسلط حاصل ہے۔ اور جس طرح وہ لوگوں کے جسموں پر حکم چلاتے ہیں اسی طرح وہ لوگوں کے دماغوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ، لیکن یہ بات ان کے لئے انہونی ہوتی ہے کہ کوئی دل ان کی نافرمانی کرے حالانکہ ایسا ہوتا ہے ، اس لیے کہ دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور جب کسی دل کا رابطہ اللہ سے ہوجائے اور وہ سرکشی کے مقابلے میں ڈٹ جائے تو یہ سرکشی بےبس ہوجاتی ہے۔ جب دل اللہ کے ہوجائیں اور ان کا ربط اللہ سے ہوجائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی بےبس ہوجاتی ہے۔ ایمانی قوت کے مقابلے میں بڑے بڑے سلطان اور جبار عاجز آجاتے ہیں۔

یہ انسانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موقف ہے۔ ایک طرف فرعون ، اس کا طاغوتی نظام اور اس کے پیروکار ہیں اور دوسری جانب بےبس مومن جادوگر ہیں جو کبھی جادوگر تھے۔ اب وہ ایک تاریخی موقف کے حامل ہیں۔ ان کا نظریہ حیات زندگی پر فاتح ہوکر برتری حاصل کرچکا ہے۔ انسانی عزیمت نے جسمانی رنج والم پر برتری حاصل کرلی ہے۔ انسان شیطان پر غالب آگیا ہے۔

بیشک یہ انسانی تاریخ کا ایک دو ٹوک موقف ہے۔ اس موقف کے ذریعے ایک حقیقی آزادی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آزادی کی ماہیت کیا ہے ؟ آزادی یہ ہے کہ ایک انسان اپنے عقیدے اور نظریات کو لے کر سرفراز ہوجائے اور جباروں اور سرکشوں کے مقابلے میں ڈٹ جائے۔ اور اس مادی قوت کو ہیچ سمجھ لے جو انسانی جسموں پر تو کنٹرول کرتی ہے لیکن جسے انسان کی روح اور نظریات تک رسائی نہیں ہوتی ، اور جب مادی قوتیں دلوں کو مسخر کرنے سے عاجز آجائیں تو اس مقام سے حقیقی حریت اور آزادی کا جنم شروع ہوتا ہے اور یاد رہے کہ یہ جنم آزاد دلوں میں ہوتا ہے۔

یہ ایک دو ٹوک موقف ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ موقف واضح طور پر بتاتا ہے کہ مادی قوت بےکس و بےبس ہے۔ ذرا دیکھیے کہ یہ جادوگر ابھی تو فرعون سے معمولی اجرت کے طلبگار تھے اور پھر یہ تمنا رکھتے تھے کہ اس کے دربار میں کرسی نشین …

Al-A'raaf 7:126Listen in Qur'an →
127

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُۥ لِيُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَءَالِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَآءَهُمْ وَنَسْتَحْىِۦ نِسَآءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَٰهِرُونَ

اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں

اب اس قصے کا مزید مطالعہ کیجئے۔ پردہ اٹھتا ہے اور ایک جدید اور دوسرا خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس میں کفر کی پارلیمنٹ نظر آتی ہے۔ مشورہ اور نجوہ ہوتا ہے اور کسی سخت اقدام کے لیے ایک دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے۔ پہلے اور کھلے میدان کے معرکے میں کھلی کھلی شکست میں خفت اٹھائے ہوئے اعیان دولت بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صورت حالات ناقابل برداشت ہے کہ موسیٰ اور ہارون اس طرح کامیاب و کامران ہوجاء یں۔ اور یہ ایمان لانے والے لوگ بھی مزے مزے سے ان کے ہمرکاب ہوں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں چند کمزور لوگ شامل تھے اور وہ فرعون سے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں فرعون ان کو فتنے میں نہ ڈال دے۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن نے تصریح کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ سختی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے خلاف فرعون کو برانگیختہ کر رہے ہیں اور اسے ڈراتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔ حکومت کا رعب جاتا رہے گا۔ جدید خطرناک نظریات پھیل جائیں گے۔ لوگ فرعون کے بجائے اللہ کو رب العالمین سمجھیں گے۔ چناچہ وہ تیار ہوجاتا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کردیتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف شدید ایکشن لے اور قوت کا استعمال کرے اور اخلاقی شکست کے بعد پوری مادی قوت استعمال کرے۔ مادی قوت کے مالکان ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔

وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں ؟ " فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "۔

فرعون کا دعوی یہ نہ تھا کہ وہ اس کائنات کا الہ اور خالق اور اس کائنات کو وہ چلاتا ہے یا یہ کہ اسے اس کائنات کے طبیعی نظام پر قدرت حاصل ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو اپنی کمزور پبلک پر الہ اور رب سمجھتا تھا۔ اس معنی میں کہ وہ حاکم اور مقن ہے اور یہ کہ اس کا حکم اور ارادہ قانون ہیں اور ان پر عمل ہوتا ہے اور ہونا چاہیے اور تمام حکام اور بادشاہوں کا بھی یہی دعوی ہوتا ہے کہ ان کا قانون چلتا ہے اور ان کے حکم سے امور طے ہوتے رہیں اور یہی مفہوم ہے ربوبیت کا ازروئے لغت۔ مصر میں لوگ فرعون کی بندگی اس معنی میں نہ کرتے تھے کہ وہ فرعون کی نمازیں پڑھتے تھے یا فرعون کے روزے رکھتے تھے بلکہ ان کے اپنے الہ تھے جس طرح فرعون نے اپنے لیے الہ بنا رکھے تھے اور یہ لوگ ان الہوں کی بندگی بجا لاتے تھے اور اس حقیقت کا اظہار درباریوں کے اس قول سے بھی ہوتا ہے۔

وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے ہیں " اور یہ حقیقت مصر کی فرعونی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ فرعون کا الہ تھا۔ لہذا فرعون اس معنی میں ان کا رب اور الہ تھا کہ یہ لوگ اس کے اوامرو نواہی کے پابند تھے اور اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کرسکتے تھے اور عبادت کا یہی لغوی ، حقیقی اور اصطلاحی مفہوم ہے بلکہ یہی واقعی مفہوم ہے جو شخص کسی انسان کے وضع کردہ قانون کی اطاعت کرے وہ گویا اس کی عبادت کر رہا ہے۔ اور حضور ﷺ نے یہی تشریح فرمائی ہے۔ اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ کی تشریح کے بارے میں ایک صحابی عدی ابن حاتم نے حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت تو نہ کرتے تھے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ احبارو رہبان ان کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال …

Al-A'raaf 7:127Listen in Qur'an →
128

قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ ٱسْتَعِينُوا۟ بِٱللَّهِ وَٱصْبِرُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱلْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ ۖ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے

اب پھر پردہ گرتا ہے ، فرعون اور اس کے حوالی و موالی کو سازش اور دھمکیوں اور سخت تندی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب اس قصے کا ایک دوسرا خاص منظر سامنے آتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے تشدد کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس منظر میں حضرت موسیٰ اپنی قوم میں نظر آتے ہیں ، آپ اپنی قوم کے ساتھ ایک نبی کے قلب کے ساتھ ایک نبی کی زبان میں بات کررہے ہیں ، آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے رب کی پوری پوری معرفت حاصل ہے۔ آپ رب تعالیٰ کی سنت جاریہ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ کو علم ہے کہ اللہ کے منصوبھے اور اس کی تقدیر کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ یہ مشکلات انگیز کریں۔ صبر سے کام لیں اور اللہ سے ان مشکلات کی برداشت کے لیے مدد اور معاونت طلب کریں۔ آپ انہیں اس کائنات کی اصل صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری انجام ان لوگوں کا اچھا ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور جب وہ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اے موسیٰ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم یہ مصائب تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہم ان مشکلات سے دو چار ہیں اور یہ مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں تو آپ ان کو ان الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کرہ ارض کی خلافت تمہیں دے دے لیکن پھر تمہاری بھی آزمائش کا دور شروع ہوگا۔

قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں " اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " اس نے جواب دیا " قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو "۔

نبی کی بصیرت دیکھ رہی ہے کہ اللہ کی قوتیں اس کائنات میں کس طرح متصرف ہیں۔ اور اللہ کی حقیقت اور قوت کس قدر عظیم ہے۔ اور اس کائنات میں سنت الہیہ کس طرح جاری وساری ہے اور اللہ کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں کیا کیا مراعات ہیں ؟

جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ان کے لیے جائے پناہ صرف ایک ہے اور وہ مامون محفوظ اور قابل بھروسہ جائے پناہ ہے۔ ان کا صرف ایک ہی ولی اور آقا ہوتا ہے جو بڑی قوت والا اور ناقابل شکست ہے۔ لہذا ایسے لوگوں کو اس وقت تک صبر اور مصابرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک ان کا آقا ان کے لیے فتح و کامرانی کے احکام صادر نہیں کرتا ، انہیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ غیب میں اس کے لیے کیا کیا پوشیدہ ہے اور اس کی بھلائی کس چیز میں ہے ؟

یہ زمین اللہ کی ہے۔ فرعون اور اس کی قوم یہاں مسافرین ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ یہاں کس قوم کو لاتا ہے اور اسے اس زمین کا وارث بناتا ہے۔ یہ کام اللہ اپنے سنن جاریہ کے مطابق کرتا ہے ، لہذا جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ ان کا جس طاغوتی طاقت سے مقابلہ ہے ، وہ اس سرزمین پر بظاہر بڑی مستحکم نظر آتی ہے اور اس کی بنیادوں میں …

Al-A'raaf 7:128Listen in Qur'an →
129

قَالُوٓا۟ أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِنۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ

وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

(قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں "

ان الفاظ کے پیچھے ایک خاص ذہنیت ہے ، ان کے اندر قطعیت کے ساتھ ان کی مایوسی کا اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مظالم ہوتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی جاری ہیں۔ ان کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے۔ یہ ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔

لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن جسے یہ مقام ملتا ہے وہ در اصل بڑی آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ اس نے جواب دیا۔ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

حضرت موسیٰ نبوت کے دل و دماغ اور بصیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ، آپ سنت الہیہ کو مٹآ مٹآ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سنت حسب وعدہ صابرین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے ، اسی طرح منکرین حق کے لیے بھی اس کے فیصلے وقت پر ہوتے ہیں۔ آپ کو صاف صاف نظر آتا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے تباہ و برباد ہونا ہے اور ان کی جگہ صابرین و مجاہدین نے لینی ہے ، لہذا آپ اپنی قوم کو راہ مصابرت پر آگے بڑھاتے ہیں تاکہ سنت الہیہ ان کے حق میں فیصلے کردے۔ آپ کو تو آغاز ہی سے معلوم ہے کہ بنی اسراء یل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے یہ آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل اپنے بارے میں زعم رکھتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ، اس لیے کہ یہ دنیا یونہی بےمقصد بھی نہیں بنائی گئی اور نہ یہ ازلی اور ابدی ہے بلکہ یہاں ہر قوم کا عروج انسان کے لیے ہے۔ فینظر کیف تعملون۔ تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ اللہ تو کسی چیز کے واقعہ ہونے سے بھی پہلے جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی جانب سے ارتکاب جرم سے پہلے سزا نہیں دیتا۔ جب تک کہ وہ بات ان سے واقعہ نہیں ہوجاتی جس کا اللہ کو پہلے سے عالم الغیب ہونے کی حیثیت سے علم ہوتا ہے۔

Al-A'raaf 7:129Listen in Qur'an →
130

وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں

اب سیاق کلام موسیٰ اور ان کی قوم کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ اب ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اس منظر میں فرعون اور اس کی قوم نظر آتے ہیں۔ فرعون اپنی قوم پر انتہائی ظلم کرتے ہوئے نظر آتا ہے اور حضرت موسیٰ کا وہ وعدہ سچ ہوجاتا ہے جو اس نے اپنی قوم سے کیا تھا اور جس کی انہیں امید تھی۔ اب رسول کی تمام باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے اس لیے کہ یہ قصہ یہاں اسی مقصد کے لیے لایا گیا ہے۔

یہ منظر نہایت ہی معمول کے حالات میں شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد دھیرے دھیرے فضا میں تندی اور تیزی آتی جاتی ہے اور پردہ گرنے سے پہلے ہم فضا میں ایک خوفناک طوفان دیکھتے ہیں۔ ہر چیز تباہ و برباد کردی جاتی ہے۔ روئے زمین کو صاف کردیا جاتا ہے۔ اب یہاں کوئی طاغوت و سرکش نہیں رہتا۔ اور نہ طاغوت کے اہالی و موالی کا کوئی اتہ پتہ نظرآتا ہے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ بنی اسرائیل نے مشکلات پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جزائے خیر دے دی۔ فرعون اور اس کی پارٹی نے فسق و فجور کی راہ لی اور ظلم کیا اور وہ بھی اپنے کیے پر مناسب انجام تک پہنچ گئے۔ اللہ کا وعدہ بھی پورا ہوا اور اس کی وعید نے بھی رنگ دکھایا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ سنت الہیہ کے مطابق سلوک ہوا۔ اللہ نے انہیں نہایت ہی مشکل حالات میں مبتلا کیا۔ ذرا تفصیلا مطالعہ کریں۔

( وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ) " ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے "

یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ابتدائی تنبیہ تھی۔ ملک کو خشک سالی نے آ لیا اور ہر قسم کی فصلیں ضائع ہوگئیں اور پیداوار ختم ہوگئی۔ سنین عربی اصطلاح میں خشک سالوں اور قحط اور شدت کے لیے بولا جاتا ہے۔ قحط سالی مصر جیسے سرسبز اور گل گلزار ملک میں عذاب الہی تصور ہوتی ہے۔ لوگوں کے اندر اس سے خوف و ہراس پیدا ہوجاتا تھا اور وہ پریشان ہو کر عالم بالا کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ لیکن چونکہ طاغوتی قوتیں اور ان کے اہلکار لوگوں کو غافل کرتے ہیں ، دین سے دور کرتے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں ، اس لیے وہ اس لائن پر نہیں سوچتے کہ یہ عذاب الہی ہے جو ان پر بصورت خشک سالی وغیرہ آیا ہے۔ طاغوتی قوتوں کی وجہ سے لوگوں کے اندر اس قدر غفلت اور لا پرواہی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کی تنبیہات کو بھول جاتے ہیں اور یہ اعتراف نہیں کرتے کہ ایمان اور روحانی اقدار اور طبیعی حالات کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اور عالم الغیب کی نظر لوگوں کی اخلاقی زندگی اور ان کے طبیعی حالات دونوں پر ہوتی ہے۔ طاغوتی نظام کے تحت لوگوں کا دماغ اس قدر موٹا ہوجاتا ہے کہ وہ محسوسات کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں سکتے اور وہ بہائم کی سطح تک اتر آتے ہیں کیونکہ بہائم بھی صرف محسوسات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس قسم کے لوگ کچھ ایسے واقعات دیکھیں بھی جن کی وہ طبیعی تعبیر نہیں کرسکتے تو بھی ان اہم واقعات کو وہ اتفاقات اور مصاونات کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور ان واقعات کے پیچھے کام کرنے والی سنت الہیہ اور ناموس قدرت کو وہ نہیں سمجھ پاتے ، جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔

(جب خروچیف کے دور میں روس خشک سالی کا شکار ہوا اور ہر قسم کی زرعی پیداوار ختم ہوگئی تو اس نے کہا کہ قدرت ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ لا مذہب کمیونزم کا قائل تھا اور کسی غیبی طاقت کو تسلیم نہ کرتا تھا۔ غرض یہ لوگ زبردستی اپنے آپ کو اندھا کرتے ہیں اور دست قدرت کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ندرت کیا ہے جو ان کے خلاف جا رہی ہے ؟ یہی تو رب تعالیٰ ہے) ۔

غرض قوم فرعون کو اللہ نے متنبہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہ کافر اور فاسق و فاجر تھے۔ بت پرستی کے خرافات نے ان کی فطرت کو تبدیل کردیا تھا اور اس کائنات میں جو ناموس قدرت …

Al-A'raaf 7:130Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.