Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 206

91

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ

تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (91)

” مگر ہوا یہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “

رجفہ ایسی آفت جو دہلا دیتی ہے اور اوندھا گرا دیتی ہے ‘ اس لئے کہ انہیں اپنی دھمکیاں اور دست درازیاں یاد آجائیں کہ وہی تو تھے جو اہل ایمان کو اذیتیں دیتے تھے ۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوے کا جواب انہیں الفاظ میں دیتے ہیں ۔ وہ کہتے تھے ۔ آیت ” لئن اتبعتم ۔۔۔۔ (7 : 91) ” اگر تم نے شعیب کا اتباع کیا تو تم برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ بات وہ مومنین کو بطور تہدید کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں کہ جن لوگوں نے شعیب کی اطاعت کی وہ نہیں بلکہ وہ لوگ برباد ہوئے جنہوں نے مخالفت کی ۔

Al-A'raaf 7:91Listen in Qur'an →
92

ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَٰسِرِينَ

(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے

آیت ” الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَأَن لَّمْ یَغْنَوْاْ فِیْہَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَانُواْ ہُمُ الْخَاسِرِیْنَ (92)

” لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں ہی نہ تھے ۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخرکار برباد ہوکر رہے “۔

آنکھ جھپکتے ہی ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھروں میں اوندھے پڑے ہیں ‘ بےحس و حرکت گویا انہوں نے ان گھروں کو تعمیر نہیں کیا اور گویا اب ان گھروں میں ان کے کچھ آثار بھی باقی نہیں ہیں ۔

اب ان کی تاریخ کے ان صفحات کو اس طرح پست کرکے رکھ دیا جاتا ہے اور ان کو ذلیل و خوار کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ ان کی راہیں جدا ہیں ‘ اور ان کے نظریات جدا ہیں ۔ اب اس منظر میں نظر آتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ انکی راہیں ہیں ‘ اور انکے نظریات جدا ہیں ۔ اب اس منظر میں نظر آتا ہے کہ انکے انجام بھی جدا ہیں اور اب ان کے اس انجام بد پر ان کے حقیقی بھائی کو بھی کوئی تاسف نہیں ہوتا کہ کس طرح انہیں نیست ونابود کردیا گیا ہے ۔

Al-A'raaf 7:92Listen in Qur'an →
93

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍۢ كَٰفِرِينَ

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْْفَ آسَی عَلَی قَوْمٍ کَافِرِیْنَ (93)

اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔ “

اس لئے کہ وہ ایک ملت ہے اور یہ لوگ دوسری ملت ہیں ۔ اہل ایمان ایک قوم ہیں اور وہ دوسری قوم ہیں ۔ رہا سلسلہ نسب اور قوم تو اس دین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ یہاں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس دین میں واحد رابطہ عقیدہ ونظریہ ہے اور اسی پر اتحاد وانفعال کا مدار ہے۔

Al-A'raaf 7:93Listen in Qur'an →
94

وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍۢ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں

جلد نمبر 3 آغاز۔

درس نمبر 78 ایک نظر میں

اس سورة میں اب تک کے مضمون میں یہ سبق گویا ایک وقفہ ہے۔ اس سے قبل قوم حضرت نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط ، اور قوم شعیب (علیہم السلام) کے جو قصے بیان کئے گئے۔ اس وقفے میں ان پر مجموعی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور یہ وقفہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس میں اس سنت الٰہیہ کا بیان کیا جائے جو اس کرۂ ارض پر جاری وساری ہے اور اس دنیا کی بستی کے مکذبین پر تقدیر الٰہی نے اسے نافذ کیا ہے ، یہاں لفظ " قریہ " استعمال کیا گیا جس سے مراد کوئی بڑا شبہہ ہے ، یا کوئی موجود مرکزی تہذیب ہے۔ یہ سنت الٰہیہ کا واحد اور اٹل قانون ہے اور اس کا نفاذ اللہ کی جانب سے تمام مکذبین پر ہوتا ہے۔ اور اسی سنت الٰہیہ سے انسانی تاریخ بنتی ہے ، بلکہ انسانی تاریخ کا اصلی پہلو ہی سنت الٰہیہ ہے۔ اور سنت الٰہیہ کا یہ کام اور غرض وغایت ہے کہ وہ جھٹلانے والوں کو رنج و الم میں مبتلا کرتی ہے۔ شاید کہ ان کے دل پسیج جائیں اور نرم ہوکر اللہ کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ کی حقیقت الوہیت اور اپنی حقیقت عبودیت کو اچھی طرح معلوم کرلیں۔ اور اگر وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوں اور انہیں ہوش نہ آئے تو پھر اللہ ان مکذبین پر انی نعمتوں کی فراوانی کردیتا ہے۔ اور ان پر ہر طرف سے سہولیات اور نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کو ڈھیل دی جاتی ہے اور پھر ان کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔ وہ ناز و نعمت میں گھر کر عیاشیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ ان کے لئے آزمائش ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں وہ جن مشکلات میں مبتلا ہوئے ہیں ایسی ہی مشکلات ان سے قبل ان کے آباؤ اجداد پر بھی نازل ہوئی تھیں اور دنیا کے حالات ایسی ہی ڈگر پر نشیب و فراز کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ وقالوا قدمس اباءنا الضراء والسراء (اور وہ کہتے ہیں کہ ایسی ہی مشکلات میں ہمارے آباء بھی متبلا ہوئے تھے اور ایسی ہی خوشحالی بھی ان پر آئی تھی) وہ ایسی ہی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور غفلت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اللہ کی پکڑ آلیتی ہے اور ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ فراخیوں اور فراوانیوں اور مشکلات و مصائب میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس آمائش میں اللہ کی جو حکمت ہوتی ہے وہ اس کا ادراک نہیں کرپاتے اور اللہ کے غضب میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اور جو غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں ان کے انجام سے وہ نہیں ڈرتے اور وہ اسی طرح عیش و عشرت میں زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح حیوان زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اسی مدہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کا نزول ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتے اور خدا خوفی کا رویہ اختیار کرتے تو ان کا یہ حال نہ ہوگا بلکہ ان پر آسمانوں سے مزید و برکات نازل ہوتیں اور زمین سے اور آسمانوں سے ان پر رزق نازل ہوتا اور ان پر اللہ اپنی طمانیت کی وہ حالت نازل کرتا جس سے ان کی زندگی نہایت اطمینان سے بسر ہوتی اور اس اطمینان اور فراخی کے بعد ان پر زوال اور بربادی کی کوئی حالت نہ آتی۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو ان ہلاک کئے جانے والے کے بعد زمین کے وارث اور اہل اقتدار بنائے گئے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ غفلت اور غرور سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ہر وقت بیدار رہو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ ان کو اس تاریخی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں اللہ نے کئی اقوام کو پے در پے ہلاک کیا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو مواقع فراہم کئے مگر انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے انجام سے نصیحت نہ پکڑی لہذا بستیوں والوں کا انتظار اللہ کا قانون مکافات کر رہا ہے اور انسانی تاریخ میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔

یہ وقفہ ، حضور ﷺ سے خطاب پر ختم ہوتا ہے۔ آپ کو کہا جاتا ہے تلک القری نقص علیک من انبیائہا۔ (یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں) تاکہ آپ کو ان لوگوں کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ان کا یہ انجام سنت الٰہیہ کے …

Al-A'raaf 7:94Listen in Qur'an →
95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَٰهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ ۔ " اس کے بعد ہم نے ان کی بد حالی کو خوشحالی سے بدل دیا "۔ سختی کی جگہ نرمی آگئی ، تنگی کی جگہ فراوانی آگئی۔ غربت کی جگہ انعامات آگئے ، بیماری کی جگہ صحت آگئی ، اولاد کی کمی کی جگہ کثرت اولاد آگئی ، ہر چیز میں کمی کی جگہ کثرت نے لے لی ، اور خوف کی جگہ امن آگیا۔ چناچہ عیش و آرام کے تمام ساز و سامان مہیا ہوگئے ، ناز و نعمت اور کھانے پینے کے لئے سامان فراہم ہوگئے۔ لیکن اللہ کے اس اصول کے مطابق در اصل یہ سب کچھ ایک قسم کی ازمائش تھی۔

اگر کسی کو مصائب میں مبتلا کر کے آزمائش میں ڈالا جائے تو بعض اوقات اس پر لوگ صبر کرتے ہیں اور اکثر لوگ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ شدت سے فریق مخالف میں دفاعی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ ظلم اور شدت کا شکار شخص بعض اوقات اللہ کو یاد کرکے قوت حاصل کرتا ہے۔ بشرطیکہ اس میں بھلائی کی کوئی رمق ابھی باقی ہو۔ ایسا شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے عاجزی اور زاری کرتا ہے اور ذکر الٰہی کے سایہ میں وہ اطمینان و سکون حاصل کرلیتا ہے۔ یاد رہے کہ ذکر الٰہی کے آفاق وسیع ہیں اور اس کے میدان طویل و عریض ہیں اور اللہ کی جانب سے ذاکرین کے لئے جو وعدے ہوتے ہیں ، ان میں ان کے لئے خشخبری ہوتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کو مال کی فراوانی کے ذریعے آزماتا ہے تو یہ ازمائش غربت و افلاس کے مقابلے میں بہت سخت ہوتی ہے۔ دولت مندی کی وجہ سے انسان غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سرکشی اختیار کرلیتا ہے اور بہت ہی کم لوگ ایسے حالت میں صبر کرسکتے ہیں اور ایسے کم لوگ ہی پھر اللہ کے صحیح بندے ہوتے ہیں۔

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ ۔ " پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ " ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہتے ہیں "

یعنی یہ لوگ پھلے پھولے اور زمین میں پھیل گئے ، عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے لگے ، ان کو زندگی کی تمام سہولیات فراہم ہوگئیں اور انہوں نے سب کرنا شروع کردیا۔ کسی معاملے میں احتیاط یا ڈر ان کی راہ میں حائل نہ رہا۔ عَفَوْا کے لفظ سے جہاں کسی چیز کی کثرت کا اظہار ہوتا ہے وہاں اس سے لاپرواہی کی نفسیات کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو خفیف اور ہلکی سمجھنے لگے۔ ہر معاملے میں خواہ و شعوری دنیا سے متعلق ہو یا طرز عمل کے ساتھ متعلق ہو ، اس میں وہ سہل انگار ہوگئے تھے۔ یہ نفسیاتی اور عملی صورت حالات ان تمام لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے جن لوگوں کو مال و دولت کی فراوانی حاصل ہو اور وہ بڑے آرام کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ خصوصاً جبکہ عیش کوشی میں وہ ایک طویل عرصے تک غرق رہے ہوں ، خواہ افراد ہوں یا اقوام ہوں گویا ان کے دل و دماغ سے سنجیدگی اور احساس جاتا رہا ہے اور وہ بڑے بڑے معاملات میں بھی سنجیدہ ہونا پسند نہیں کرتے۔ وہ کھلے ہاتھوں خرچ کرتے ہیں ، وسیع پیمانے پر داد عیش دیتے ہیں ، عیش و عشرت میں ہر وقت گم رہتے ہیں اور نہایت ہی لاپرواہی سے معاملات کو لیتے ہیں اور ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جس کے بارے میں سن کر بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ لوگ ایسے افعال کا ارتکاب بڑی بےباکی سے کرتے ہیں وہ اللہ کے غضب سے نہیں ڈرتے۔ وہ عوام سے شرم محسوس نہیں کرتے۔ ان سے ہر قسم کی ذلت کا صدور بڑی لاپرواہی سے ہوتا ہے۔ وہ اس کائنات میں جاری سنت الٰہیہ کو نہیں پاتے۔ ان آزمائشوں کو نہیں سمجھتے ، اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملات یہاں یونہی چلتے رہتے ہیں ، ان کا کوئی معلوم سبب نہیں ہے اور نہ یہ کائنات کسی منصوبے کے ساتھ چل رہی ہے اور یہ کہ (ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے رہے ہیں) قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ ہم نے مشکلات کا دور گزار لیا ہے ، …

Al-A'raaf 7:95Listen in Qur'an →
96

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا

یہ اللہ کی سنت جاریہ کا ایک دوسرا پہلو ہے ، اگر بستیوں کے لوگ جھٹلانے کے بجائے مان لیتے اور بدکرداری کے بجائے تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔ اور بلا حساب ان کو دیتا رہتا ، آسمانوں سے اور زمین سے ان پر برکات کی بارش ہوتی۔ قرآن نے جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس کے پیش نظر ہم اسے ہر طرح کی فراوانی سے تعبیر کرسکتے ہو جو کسی ایک جنس ضرورت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر قسم اور ہر نوع کی فراوانی۔

اس آیت اور اس سے قبل کی آیت میں ہم ایک عظیم حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق بیک وقت انسانی نظریات اور انسانی زندگی کے حقائق سے بھی ہے اور اس پوری کائنات کے حقائق سے بھی ہے۔ اور ان کے اندر انسانی تاریخ کا اہم عنصر اور عامل بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس اہم فیکٹر کو دنیا کے انسانوں کے وضع کردہ نظامہائے حیات نے پوری طرح نظر انداز کیا ہے بلکہ اس کا انکار کیا ہے۔

وہ فیکٹر ہے ایمان و عقیدہ اور خدا خوفی کا۔ ایمان و عقیدے اور خدا خوفی کا مسئلہ انسانی زندگی کے حقائق سے جدا چیز نہیں ہے اور نہ وہ انسانی تاریخ سے کوئی الگ چیز ہے بلکہ ایمان باللہ اور خدا خوفی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی برکات نازل فرماتے ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ ایفائے عہد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

ہم لوگ جو اللہ پر ایمان لانے والے ہیں ، ہماری شیوہ تو یہ ہے کہ اللہ کے اس عہد کو مومنانہ دل سے لیتے ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے علل و اسباب کو سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ، اور اس آیت کے مدلول و مفہوم کی تصدیق میں لمحہ بھر تردد بھی نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارا ایمان تو ہے ہی ایمان بالغیب اور اس ایمان کے تقاضے کے طور پر ہم اللہ کے اس عہد کی تصدیق کرتے ہیں۔

اس کے بعد ہم پھر اللہ کے اس عہد پر غور و فکر کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے خود حکم دیا ہے کہ تم قرآن میں غور و فکر کرو اور غور و فکر کے بعد ہمیں اس بات کی ماہیت و حقیقت کا علم بھی ہوجاتا ہے۔

اللہ پر ایمان لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی فطرت زندہ ہے اور فطری حقائق کے ادراک اور قبول کرنے کی اہلیت اس میں موجود ہے۔ ایسے شخص کا ادراک سچا ہے اور اس کی انسانی بنیاد صحیح وسالم ہے۔ اور اس شخص کے دماغ میں اس قدر وسعت ہے کہ وہ اس کائنات کے حقائق کا ادراک کرسکے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو عملی زندگی میں انسان کی کامیابی کے ضامن ہیں۔

اللہ پر ایمان ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی ہے ، یہ انسانی شخصیت کی منتشر قوتوں کو جمع کرکے انہیں ایک جہت اور رخ پر ڈال دیتی ہے اور اس جہت میں انسانی شخصیت اللہ کی قوت کی مدد سے آگے بڑھتی ہے اور اس زمین پر اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ اس کرہ ارض کی تعمیر میں لگ جاتی ہے۔ نتیجۃ اس کرۂ ارض سے فتنہ و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور انسان اس زمین کی ترقی اور تعمیر میں لگ جاتا ہے اور اس طرح انسان عملی زندگی میں کامیاب رہتا ہے۔

اللہ پر پختہ ایمان انسان کو خود اپنی خواہشات کی غلامی اور دوسرے انسانوں کی غلامی سے نجات دیتا ہے کہ اور اس میں شک نہیں کہ صرف اللہ کا غلام اور دوسری تمام غلامیوں سے آزاد انسان ہی اس کرۂ ارضپر خلافت راشدہ کا صحیح نظام قائم کرسکتا ہے۔ ایسا شخص ان لوگوں سے قوی تر ہوگا جو ایک دوسرے کے غلام ہیں یا اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔

خدا کا خوف ایک دانشمندانہ بیداری ہے۔ اس سے انسام سرکشی ، غرور ، بےراہ روی جیسے اخلاقی عیوب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کی سرگرمیاں اعتدال اختیار کرلیتی ہیں اور اس کی زندگی کا اسلوب سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ انسان کی پوری جدوجہد محتاط ہوجاتی ہے۔ اور وہ سرکشی کا ارتکاب کرکے اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھتا اور اپنی زندگی کو صالحانہ …

Al-A'raaf 7:96Listen in Qur'an →
97

أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَٰتًۭا وَهُمْ نَآئِمُونَ

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں

یعنی کیا لوگ سنت الٰہیہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس قدر بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوشحالی اور فراوانی دے کر اور شدائد و مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ اس کے بعد ناشکروں اور نافرمانوں اور جھٹلانے والون کو تباہ و برباد کرتا ہے اور ان کی تباہی اور ہلاکت کے میدان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو تباہ ہوئے اور جنہوں نے ان بستیوں کو خوب آباد کیا اور تباہی کے بعد پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا ، کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر بھی اچانک عذاب الٰہی آجائے اور وہ غفلت اور بیخبر ی میں مبتلا ہوں اور تباہ و برباد ہوجائیں۔ عذاب دن کے کسی وقت میں آئے یا رات کو کسی ایسے وقت میں آئے کہ وہ غافل ہوں یاد رہے کہ نیند میں انسان اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی شعور اور ارادہ نہیں رہتا اور نہ کوئی کام کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ نہ کسی معمولی کیڑے مکوڑے کے خلاف مدافعت کرسکتا ہے۔ اللہ جیسی عظیم قوت کے مقابلے میں تو وہ کیا کرے گا ؟ جس کے مقابلے میں کوئی انسان نہایت بیداری اور قوت و حکمت کے ساتھ بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

غرض ان پر یہ عذاب دن کو بھی آسکتا ہے جب یہ کھیل رہے ہوں ، کھیل کے وقت انسان کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ کھیل میں غرق ہوتا ہے اور اس کی توجہ صرف مد مقابل کی طر فہوتی ہے۔ رہا وہ حملہ جو اللہ کی جانب سے ہو تو اس کا مقابلہ تو وہ پوری تیاری اور پوری بیداری کے ساتھ بھی نہیں کرسکتا اور جب وہ غافل ہو تو کیا کرے گا۔

اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کسی حالت میں وہ اس کے آگے ٹک نہیں سکتے۔ وہ کھیل میں ہوں یا سنجیدہ حالت میں ہوں ، اس کا مقابلہ تو وہ نہیں کرسکتے ، لیکن قرآنی سیاق انسان کے سامنے اس کی زندگی کے وہ لمحات پشی کرتا ہے تاکہ انسانی شعور میں پوری طرح انسان کے ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کردیا جائے اور وہ محتاط ہوجائے اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے جب تباہ کن حملہ ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ انسان پوری طرح غفلت اور لاپرواہی میں ہو اور مکمل بیخبر ی میں اسے آ لیا جائے تو ایسے حالات میں اس کا دفاع نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ رہا عذاب الٰہی تو انسان باخبر ہو یا بیخبر ہو ، اس کے مقابلے میں اس کی بےبسی بیکراں ہوگی۔

Al-A'raaf 7:97Listen in Qur'an →
98

أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ

اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں

یعنی کیا لوگ سنت الٰہیہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس قدر بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوشحالی اور فراوانی دے کر اور شدائد و مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ اس کے بعد ناشکروں اور نافرمانوں اور جھٹلانے والون کو تباہ و برباد کرتا ہے اور ان کی تباہی اور ہلاکت کے میدان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو تباہ ہوئے اور جنہوں نے ان بستیوں کو خوب آباد کیا اور تباہی کے بعد پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا ، کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر بھی اچانک عذاب الٰہی آجائے اور وہ غفلت اور بیخبر ی میں مبتلا ہوں اور تباہ و برباد ہوجائیں۔ عذاب دن کے کسی وقت میں آئے یا رات کو کسی ایسے وقت میں آئے کہ وہ غافل ہوں یاد رہے کہ نیند میں انسان اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی شعور اور ارادہ نہیں رہتا اور نہ کوئی کام کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ نہ کسی معمولی کیڑے مکوڑے کے خلاف مدافعت کرسکتا ہے۔ اللہ جیسی عظیم قوت کے مقابلے میں تو وہ کیا کرے گا ؟ جس کے مقابلے میں کوئی انسان نہایت بیداری اور قوت و حکمت کے ساتھ بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

غرض ان پر یہ عذاب دن کو بھی آسکتا ہے جب یہ کھیل رہے ہوں ، کھیل کے وقت انسان کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ کھیل میں غرق ہوتا ہے اور اس کی توجہ صرف مد مقابل کی طر فہوتی ہے۔ رہا وہ حملہ جو اللہ کی جانب سے ہو تو اس کا مقابلہ تو وہ پوری تیاری اور پوری بیداری کے ساتھ بھی نہیں کرسکتا اور جب وہ غافل ہو تو کیا کرے گا۔

اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کسی حالت میں وہ اس کے آگے ٹک نہیں سکتے۔ وہ کھیل میں ہوں یا سنجیدہ حالت میں ہوں ، اس کا مقابلہ تو وہ نہیں کرسکتے ، لیکن قرآنی سیاق انسان کے سامنے اس کی زندگی کے وہ لمحات پشی کرتا ہے تاکہ انسانی شعور میں پوری طرح انسان کے ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کردیا جائے اور وہ محتاط ہوجائے اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے جب تباہ کن حملہ ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ انسان پوری طرح غفلت اور لاپرواہی میں ہو اور مکمل بیخبر ی میں اسے آ لیا جائے تو ایسے حالات میں اس کا دفاع نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ رہا عذاب الٰہی تو انسان باخبر ہو یا بیخبر ہو ، اس کے مقابلے میں اس کی بےبسی بیکراں ہوگی۔

Al-A'raaf 7:98Listen in Qur'an →
99

أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں

اللہ کے مکر سے مراد وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے وہ بیخبر ہوں تاکہ انسان اللہ سے ڈرتے رہیں اور اللہ کے احکام میں محتاط رہیں۔ اور جو لوگ نہ ڈریں گے وہ خسارے میں رہیں کیونکہ عافیت کوشی ، غفلت اور حد سے گزرجانے اور لاپرواہی کا نتیجہ خسران مبین ہی ہوسکتا ہے۔ کیا یہ لوگ اللہ کی چال اور تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد کو ہلاک کردیا گیا اور ان کے بعد یہ اس دنیا کے وارث بنائے گئے اور جنہیں ان کی غفلت ہی کی وجہ سے برباد کیا گیا کہ ان کی بربادی میں ان کے لئے کوئی ہدایت اور عبرت نہیں ہے ؟

Al-A'raaf 7:99Listen in Qur'an →
100

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں

یعنی ، بیشک اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت جاری رہتی ہے۔ اگر اللہ ان لوگوں کے گناہوں کے سبب انہیں اسی طرح پکڑے جس طرح ان کے آباؤ اجداد پکڑے گئے تھے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کرلے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ ہی کے لئے محروم ہوجائیں اور دلائل ہدایت کی طرف سے ان کا رخ ہی پھرجائے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجائیں تو کون ان کی مدد کو پہنچ سکے گا۔ سباقہ لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان موجودہ لوگوں کی جانشینی اور اس بارے میں اللہ کی سنت کی کارفرمائیاں یہ سب امور ان کے لئے غور و فکر و ہدایت وتقویٰ کا وافر ساماں مہیا کرتے تھے اور ان سے یہ توقع تھی کہ وہ اللہ سے ڈرتے اور اس عارضی مصنوعی عافیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے۔ اس لاپرواہی کو ایک طرف چھوڑ دیتے تو وہ اصلاح پذیر ہوجاتے اور ان واقعات سے عبرت لیتے۔ کاش ! کہ وہ ایسا کرتے۔

اس آیت میں جو تنبیہ کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نامعلوم عذاب اور مستقبل کی اچانک تباہی اور بربادی کے خوف سے کانپتے ہی رہیں اور وہ ہر وقت غیر یقینی صورت حالات سے دوچار رہیں کہ کسی بھی وقت ان پر کوئی عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ہر وقت کا جزع و فزع ، کسی بھی وقت آجانے والے عذاب کا ڈر ، اور ہر وقت یہ خطرہ کہ کسی بھی وقت کوئی آفت نازل ہوسکتی ہے ، ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے انسانی قوتیں شل ہوجاتی ہیں اور انسان علم و عمل کی خوبی سے محروم ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح مایوس ہوکر انسان اس کرۂ ارض کی تعمیر اور ترقی کے مسلسل عمل سے دستکش ہوسکتا ہے۔ اس تنبیہ کی غرض وغایت انسان کو شل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان بیدار ہو ، اس کے اندر ہر وقت خدا خوفی کا احساس ہو ، وہ ہر وقت اپنے نفس کے اوپر نگراں رہے ، اور دنیا میں گزرے ہوئے واقعات سے سبق لے وہ انسانی تاریخ کے محرکات کو معلوم کرلے۔ اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر وقت قائم رہے اور عیش و عشرت کی زندگی اسے غافل اور مغرور نہ کردے۔

اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں آخرت میں امن ، اطمینان ، اپنی رضا مدنی ، دنیا و آخرت کی رضامندی عطا کرے گا لیکن یہ اس وقت ہوگا جب انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے احساس کو تیز رکھا۔ اور انہوں نے تقویٰ اور خدا خوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو آلودگیوں میں ملوث نہ کیا۔ انہوں نے اپنی مادی قوت کے مقابلے میں اللہ پر اعتماد کیا۔ انہوں نے اپنے محدود و مادی وسائل کے مقابلے میں ان وسائل پر بھروسہ کیا جو اللہ کے ہاں موجود ہیں۔ اور جو اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرتے ، ان کے دل دولت ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اللہ کے ذکر پر مطمئن تھے ، وہ اپنی خواہشات اور شیطانی حرکات پر کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ وہ اس کرہ ارض پر مصلح کے طور پر اللہ کی ہدایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے نہ ڈرتے تھے اور صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔

اس انداز میں ہم اللہ کے عذاب سے اس دائمی ڈراوے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ، ایسا عذاب جو اٹل ہوتا ہے اور وہ اللہ کی ان تدابیر کے مطابق ہوتا ہے جس کا ادراک انسان کو نہیں ہوتا۔ اس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات کا مطلب محض خوف و ہراس پھیلانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا ہے ، لوگوں کے اندر بےچینی پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے اندر احساس زیاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ زندگی کو معطل کرنا مطلوب نہیں ہے ، بلکہ اسے لاپرواہی اور سرکشی سے بچانا مطلوب ہے۔

اسلامی اور قرآنی منہاج تربیت کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے بدلتے ہوئے طور طریقوں کی اصلاح بھی کرتا ہے ، اقوام اور سوسائٹیوں کے مسائل واطوار کو بھی درست کرتا ہے۔ اور ہر ایک کا علاج اس کے حالات کے …

Al-A'raaf 7:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.