Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 1–10 of 206

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓصٓ

المص

اس کے بعد اس قصے پر کئی تبصرے سامنے آتے ہیں ۔ ایک تبصرہ فطری عہد کے بعد آتا ہے اس میں اس شخص کی صورت حال کا نقشہ کھینچا گیا ہے جسے اللہ نے اپنی نشانیاں عطا کیں اور وہ اس سے نکل گیا ۔ مثلا بنی اسرائیل اور وہ تمام دوسری اقوام جنہیں اللہ نے اپنی نشانیاں عطا کیں لیکن انہوں نے ان کی پابندی نہ کی ۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جس میں تمام اشکال اور تمام حرکات اور اشارات ہماری نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور سورة انعام جیسے مناظر اور مشاہد سامنے آتے ہیں ۔

آیت ” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ الَّذِیَ آتَیْْنَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْہَا فَأَتْبَعَہُ الشَّیْْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ (175) وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِہَا وَلَـکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَی الأَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَیْْہِ یَلْہَثْ أَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَث ذَّلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (176) سَاء مَثَلاً الْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَأَنفُسَہُمْ کَانُواْ یَظْلِمُونَ (177) مَن یَہْدِ اللّہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِیْ وَمَن یُضْلِلْ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ (178) وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلَـئِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِکَ ہُمُ الْغَافِلُونَ (179) (7 : 175 تا 179)

” اور اے محمد ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا ۔ گر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا ۔ آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا ۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا ۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ‘ مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ‘ لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ۔ تم یہ حکایات انکو سناتے رہو ‘ شاید کہ یہ غور وفکر کریں ۔ بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ‘ اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پاتا ہے ۔ اور جسے اللہ اپنی راہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام ونامراد ہو کر رہتا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے سوچتے نہیں ‘ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے ہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے اور یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔

اب براہ راست نظریاتی مباحث آتے ہیں ۔ نظریاتی مباحث کے ساتھ بعض کائناتی شواہد ومؤثرات بھی پیش کئے جاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے عذاب اور اس کی سخت پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے ان کے دلوں کو ٹٹولا جاتا ہے کہ وہ غور وہ فکر کریں ‘ اللہ کی آیات میں تدبر کریں اور اس رسول اور اس کی رسالت کے بارے میں سوچ سے کام لیں ۔

آیت ” 179) وَلِلّہِ الأَسْمَاء الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُواْ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ أَسْمَآئِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (180) وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّۃٌ یَہْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ (181) وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُہُم مِّنْ حَیْْثُ لاَ یَعْلَمُونَ (182) وَأُمْلِیْ لَہُمْ إِنَّ کَیْْدِیْ مَتِیْنٌ(183) أَوَلَمْ یَتَفَکَّرُواْ مَا بِصَاحِبِہِم مِّن …

2

كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے

آیت ” نمبر 1 تا 2۔

یہ کتاب تمہاری جانب اتاری گئی ہے تاکہ تم لوگوں کو بھلایا ہوا سبق یاد دلاؤ اور انجام بد سے ڈراؤ ۔ اس میں جو سچائی ہے اسے صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کردیں اور اس بات کا خیال نہ کریں کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں ۔ یہ کتاب آئی ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ حقائق پیش کرے جسے وہ پسند نہیں کرتے ‘ یہ آئی ہی اس لئے ہے کہ غلط عقائد ‘ رسومات اور غلط تعلقات کو ختم کرے اور باطل نظامہائے حکومت ‘ باطل قوانین اور باطل معاشروں کا مقابلہ کرے ۔ لہذا اس کتاب کی راہ میں مشکلات بہت ہیں ‘ اس کتاب کا پیغام لے کر جو بھی آئے گا ‘ اے مشکلات کو انگیز کرنا ہوگا ۔ اس کتاب کے اس پہلو کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے ‘ جیسا کہ ہم نے سورة پر تبصرے کے وقت کہا ‘ جو اس کے پیغام کو لے کر اٹھے ۔ اس کتاب کے نظریات کا اعلان ببانگ دہل کردے اور اس راہ میں جو مشکلات پیش ہوں انہیں برداشت کرے ۔ اس حقیقت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے لئے اہداف طے کرے اور وہ جاہلی معاشرے کو جڑوں سے ‘ اس کے تنے اور شاخوں سمیت اکھاڑ پھینکنے اور اس کی جگہ مکمل تغیر اور انقلاب لانے کا داعیہ اپنے اندر رکھتا ہو ‘ جس طرح اس کتاب کے حامل اول حضرت محمد ﷺ نے اسے لے کر دنیا میں انقلاب برپا کیا تھا اور طاغوت اور جاہلیت کا مقابلہ کیا اور پہلے جزیرۃ العرب میں اور پھر پوری دنیا کی کایا پلٹ دی تھی ۔

اس کتاب کے ساتھ یہ طرز عمل اس وقت جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد کے ماحوال میں لائے جانے والے انقلاب تک ہی موقوف ومخصوص نہ تھا ‘ کیونکہ اسلام کوئی حادثہ یا تاریخ نہیں ہے کہ ایک وقفہ تاریخ میں واقعہ ہوگیا اور اس کے بعد لوگوں نے اسے تاریخ میں لکھنا شروع کردیا ۔ اسلام تو انسانیت کے بالمقابل ایک دائمی تحریک ہے اور یہ تحریک قیامت تک رہے گی ۔ اسلام لوگوں کے لئے وہی پیغام ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھا ۔ جب بھی انسانیت صراط مستقیم سے انحراف کرے ‘ اسلام اسے روکتا ہے اور واپس اسے جادہ مستیقم پر ڈال دیتا ہے اس لئے کہ تاریخی عوامل کے تحت انسانیت بار بار جاہلیت کی طرف لوٹ جاتی ہے ۔ یہ اس کی پسماندگی اور رجعت ہوتی ہے لیکن اسلامی تحریک اس مرحلے پر آگے بڑھتی ہے ‘ دوبارہ اسلام کی تجدید ہوجاتی ہے اور اس کمزوری کے بعد اسلام دوبارہ ایک قوت بن کر اٹھتا ہے اور دوبارہ انسانیت کو ترقی اور تہذیب و تمدن کی راہ پر ڈال دیتا ہے ہر دور میں اس تحریک کے قائدین کو وہ مشکلات پیش آتی ہیں جو داعی اول کو پیش آئیں ‘ اس لئے کہ جب انسانیت جاہلیت کے گندے کیچڑ میں لت پت ہوتی ہے تو انہیں اس پوری انسانیت کو کھینچ کر واپس لانا ہوتا ہے ‘ کیونکہ جاہلیت میں انسانیت فکری گمراہی میں مبتلا ہوتی ہے ۔ اس کے تصورات تاریک ہوجاتے ہیں ‘ وہ نفسیاتی خواہشات کی تاریکیوں میں گرفتار ہوتی ہے ‘ وہ ظلم اور ذلت ‘ غلامی اور ذاتی خواہشات ‘ مفادات واغراض کا شکار ہوتی ہے اور جو شخص انسانیت کو اس جاہلیت اور گندگی سے نکالنا چاہتا ہے ‘ اسے اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس جہان کو ان گندگیوں سے پاک کرنے کے لئے تحریک چلاتا ہے اور اس تحریک میں وہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو خوب سمجھ سکتا ہے ۔

آیت ” المص (1) کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) (7 : 1۔ 2)

” ا ‘ ل ‘ م ‘ ص۔ یہ ایک تاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان والوں کو نصیحت ہو ۔ ‘

ایک مومن اپنے معاشرے کے حالات سے یہ اندازہ کرلیتا ہے کہ مومن کون ہیں جنہیں نصیحت کی جاتی ہے اور غیر مومن کون ہیں جن کے لئے اندار کا حکم ہے ۔ اس تحریکی کارکن کے لئے یہ قرآن ایک زندہ کتاب …

3

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ

(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو

آیت ” نمبر 3۔

یہ اس دین کا اساسی مسئلہ ہے ‘ یہ کہ یا تو اس وحی کی پیروی ہوگی تو یہ اسلام ہوگا اور اس میں اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہوگا ۔ اس میں اللہ وحدہ کی حاکمیت کا اعتراف ہوگا ‘ اللہ حکم دے گا اور لوگ اطاعت کریں گے ۔ اللہ نہیں کرے گا اور لوگ رک جائیں گے یا اگر لوگ اپنے لئے کچھ اور لوگوں کو سرپرست بنا لیں گے تو یہ شرک ہوگا اور شرک کے معنی یہ ہوں گے کہ لوگ صرف اللہ کو رب تسلیم نہیں کرتے اس لئے کہ ربوبیت اور اقتدار اعلی صرف اللہ کا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے وقت یہ فرمایا گیا کہ (کتب انزل الیک) (7 : 2) یعنی نزول آپ کی ذات پر ہوا ہے اور جب لوگوں کو خطاب ہوا تو فرمایا آیت ” اتبعوا ماانزل الیکم ) (7 : 3) رسول کی طرف تو کتاب نازل ہوئی کہ آپ اس پر ایمان لائیں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں اور انہیں انجام بد سے ڈرائیں اور لوگوں کی طرف کتاب کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور عمل کریں اور اس کے علاوہ کسی اور کی اطاعت نہ کریں ۔ دونوں صورتوں میں الیک اور الیکم کے ذریعے حضور اکرم ﷺ اور آپ کی امت کی عزت افزائی کی گئی ہے اور ان کے حوصلے بڑھائے گئے ہیں اس لئے کہ جس کی طرف اللہ کتاب بھیج دے اور اسے اس عظیم کام کے لئے چن لے اور اس پر یہ کرم کردے کہ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ اس کا شکر بھی بجا لائے ۔ اس فریضے کو اچھی طرح سرانجام دے اور اس میں سستی نہ کرے ۔

چونکہ یہ ایک عظیم جدوجہد ہے ‘ اس میں پیش نظریہ ہے کہ جاہلیت کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ اس کے تصورات اس کے افکار اس کی اقدار اس کی عادات ‘ اس کی رسومات ‘ اس کے انتظامات ‘ اور اس کی اجتماعی عادات واطوار ‘ اقتصادی نظام کو اور اس کائنات اور انسانوں کے ساتھ اس کے روابط کو یکسر ختم کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عظیم جدوجہد ہے اس لئے یہاں انسانوں کے ضمیر کو خوب جھنجوڑا جاتا ہے اور انسانی اعصاب کو حساس بنایا جاتا ہے ۔ انہیں بلا مارنا اور ان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگانا ‘ جو زمانہ جاہلیت میں جاہلی تصورات اور اطوار میں ڈوبی ہوئی تھی ‘ مقصود ہے چناچہ اس مقصد کے لئے لوگوں کے سامنے ازمنہ ماضی کے مکذبین کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ آج دنیا کی خواری کے بعد آخرت میں وہ زیادہ برباد ہوں گے ۔

4

وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے

آیت ” نمبر 4 تا 9۔

اقوام سابقہ کا انجام سبق آموز ہوتا ہے ۔ وہ نہایت ہی اونچا ڈراوا ہوتا ہے ۔ قرآن کریم اقوام سابقہ کے عبرت آموز حصوں کو نہایت ہی موثر انداز میں لاتا ہے جس سے انسان خواب غفلت سے جاگ اٹھتا ہے ۔ اور دل پر سے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔

بیشمار ایسی بستیاں ہیں جو غفلت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہریں ۔ ان پر جب ہلاکت آئی تو وہ خواب غفلت میں مدہوش تھیں۔ یہ عذاب ان پر رات کے وقت آیا یا دن کے وقت وہ سوتے میں مارے گئے ۔ بالعموم لوگ دوپہر کے وقت آرام کرتے ہیں اور اس وقت ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ امن وامان سے رہیں۔

آیت ” وَکَم مِّن قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا فَجَاء ہَا بَأْسُنَا بَیَاتاً أَوْ ہُمْ قَآئِلُونَ (4)

” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا ۔ ان پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا ‘ یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جبکہ وہ آرام کر رہے تھے۔ “

یہ دونوں حالتیں یعنی قیلولہ کی حالت اور رات کی وقت سونے کی حالت ایسی ہوتی ہے جس میں انسان بےپرواہ ‘ پرامن اور غفلت کی حالت میں ہوتا ہے اور ایسی حالت میں کسی کا پکڑا جانا اور عذاب میں مبتلا ہونا نہایت ہی خوفناک اور زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں ڈر ‘ نصیحت آموزی ‘ احتیاط وتقوی ‘ زیادہ سہولت کے ساتھ حاصل ہو سکتا ہے ۔

ایسے حالات میں جب یہ مجرمین پکڑے گئے اور ان پر عذاب آیا تو ان کا ردعمل کیا تھا اعتراف اور مطلق اعتراف جرم ۔ ماسوائے اقرار کے ان کے پاس اور کوئی بہانہ نہ رہا۔

5

فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے

آیت ” فَمَا کَانَ دَعْوَاہُمْ إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ (5)

” اور جب ہمارا عذاب ان پر آگیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے ۔ “

انسان ہر قسم کے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن اعتراف اس کے لئے مشکل کام ہوتا ہے ۔ وہ آخری وقت تک اقرار نہیں کرتا ۔ لیکن ان لوگوں کو عذاب الہی نے اس قدر اچانک آلیا تھا کہ ماسوائے اقرار کے ان میں اور کوئی حجت نہی رہی تھی اس لئے کہ وہ نہایت ہی خوفناک اور مرعوب کن پوزیشن میں ڈال دیئے گئے تھے ایسی پوزیشن میں جہاں اقرار و اعتراف آخری کوشش ہوتی ہے ۔ یہاں انہوں نے ظلم یعنی شرک کا اقرار کیا ۔

یہاں ظلم سے مراد وہ شرک لیتے ہیں ۔ قرآن کریم کی تعبیرات میں سے بیشتر میں ظلم سے مراد شرک ہی ہے ۔ ظاہر ہے شرک ظلم ہے اور ظلم شرک ہے اس لئے کہ جو شخص اپنے خالق کے ساتھ کسی کو شریک کرے اس سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے ۔ ؟

اب ذرا دیکھئے کہ دنیا کے عذاب کا منظر نظروں کے سامنے ہے ‘ جھٹلانے والے عذاب الہی کی گرفت میں ہیں اور وہ اعتراف کررہے ہیں کہ بیشک وہ ظالم تھے ‘ حق ان کے سامنے واضح ہوجاتا ہے اور وہ حق کا اعتراف بھی کرلیتے ہیں لیکن اب یہ اعتراف ان کے لئے مفید مطلب نہیں ہے ۔ یہ عذاب اب ندامت اور اعتراف کی وجہ سے نہیں ٹل سکتا ‘ نہ اب توبہ مفید ہے اس لئے کہ توبہ وندامت کا وقت چلا گیا ہے اور توبہ کا دروازہ بند ہے ۔

یہ منظر ابھی چل رہا ہے اور دنیا کی سطح پر وہ عذاب الہی سے کچلے جا رہے ہیں ‘ کہ اچانک دیکھنے والے اپنے آپ کو میدان حشر میں پاتے ہیں ‘ کوئی وقفہ درمیان میں نہیں ہے ۔ سیاق کلام ایک ریل پر چل رہا ہے جو جڑی ہوئی ہے اور منظر کے بعد منظر سامنے آتا ہے ۔ زمان ومکان کی طنابیں کھنچ جاتی ہیں اور دنیا وآخرت باہم مل جاتے ہیں ۔ عذاب دنیا ابھی ختم نہیں ہوا کہ آخرت کا عذاب شروع ہوجاتا ہے ۔ اچانک دوسرا منظر سامنے ہے۔

6

فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔

اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “

یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔

آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔

آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔

آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال …

7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍۢ ۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔

اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “

یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔

آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔

آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔

آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال …

8

وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔

اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “

یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔

آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔

آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔

آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال …

9

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَظْلِمُونَ

اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔

اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6)

” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “

یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔

آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔

آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔

آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9)

” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “

اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال …

10

وَلَقَدْ مَكَّنَّٰكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو

درس نمبر 73 تشریح آیات :

10۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 25۔

یہاں سے انسانیت کے عظیم سفر کا آغاز ہوتا ہے اور نسل انسانی کو کرہ ارض کا چارج دیا جاتا ہے ۔ یہ فقرہ قصہ انسانیت کے لئے ایک تمہید ہے ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔

آیت ” نمبر 10۔

اس زمین اور انسانوں کے خالق ہی نے یہاں انسانوں کو بسایا اور اسی نے زمین کے اندر وہ وسائل وخصائص پیدا کئے جو انسانی زندگی کے لئے سازگار ہیں جو انسانوں کے لئے قوت و ضروریات مہیا کرتے ہیں اور اس نگہداشت کرتے ہیں جن میں وسائل رزق ومعاش شامل ہیں۔

یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے کرہ ارض کو ایک ایسے مقام پر رکھا جو انسانوں کی نشوونما کے لئے ساز گار ہے ۔ زمین اپنی ترکیب ‘ حجم اور سورج و چاند سے اپنے متعین فاصلے اور سورج کے گرد اپنی گردش ‘ اور اپنے طور پر ایک طرف جھکاؤ اور اپنی گردش کی رفتار وغیرہ کے اعتبار سے انسانی زندگی کے لئے مفید ہے ۔ پھر یہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کے اندر بےحد و حساب خزانے ودیعت کئے ہیں اور اس میں اکثر چیزیں انسان کی خوراک اور استعمال کے لئے فراونی سے پیدا کی ‘ جو اس انسان کے لئے یہاں نشوونما پانے اور ترقی کرنے کا سبب ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جس نے جنس انسانی کو اس زمین کا سردار بنایا ہے ۔ وہ اس قابل ہوا ہے کہ ان قوتوں کو تسخیر کرے اور انہیں اپنی آسائش کے لئے استعمال کرے پھر اللہ نے انسانوں کو ایسی عقلی قوت دی ہے جس کے ذریعے انہوں نے اس کائنات کے بعض پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرلی ہے ۔ اور اس علم کو پھر وہ اپنی ضروریات کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔

اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کو یہ قوت نہ دیتا تو یہ ضعیف انسان اس کائناتی قوتوں کو ” تسخیر “ نہ کرسکتا (جس طرح قدیم وجدید جاہلیت کے علمبردار اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں) اور اس عظیم کائنات اور طویل و عریض دنیا کی قوتوں کا مقابلہ نہ کرسکتا ۔

دور جدید کی تہذیب پر رومی اور یونانی جاہلی افکار کی چھاپ لگی ہوئی ہے ۔ یہ جاہلی تصورات کائناتی قوتوں کو انسان کی دشمن قوتیں سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ قوتیں انسان کے وجود اور اس کی سرگرمیوں کی دشمن ہیں ۔ ان تصورات کے مطابق انسان اور کائناتی قوتوں کے درمیان مسلسل جنگ ہے ۔ اس لئے انسان جب اس کائنات کے بھیدوں میں سے کسی بھید کو جان لیتا ہے تو یہ لوگ اسے ” تسخیر فطرت “ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ تصورات غلط ہیں اور پھر ان کے پس منظر میں خباثت بھی چھپی ہوئی ہے۔

اگر یہ کائناتی قوتیں انسان کی دشمن ہوتیں ‘ اس کی زندگی کا نقیض ہوتیں ‘ اس کے خلاف مورچہ زن ہوتیں ‘ اس کی مخالفت کرتیں ‘ اور ان کے پس منظر میں کسی مدبر ذات کا ارادہ کام نہ کر رہا ہوتا ‘ جس طرح ان لوگوں کا خیال ہے تو انسان سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا ۔ اگر پیدا ہوتا تو وہ اس کائنات کے اندر کسی طرح نشوونما نہ پاسکتا تھا ۔ کیونکہ ان تصورات کے مطابق یہ پورا جہان انسان کا دشمن ہے محض اس لئے کہ وہ وجود میں آگیا ہے ۔ لہذا وہ یہاں زندگی بسر کر رہا ہے ‘ یہ کوئی معقول توجیہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ پوری کائنات ہی انسان کی دشمن ہے تو وہ کس طرح یہاں چل سکتا ہے ۔ ان لوگوں کا تصور یہ تھا کہ یہ کائنات خود مختار ہے اور اس کے اوپر کوئی مقتدر اعلی نہیں ہے ۔

ان تصورات کے مقابلے میں اسلامی تصور کائنات ہی وہ حقیقی تصور ہے جو یہاں کائنات کے تمام اجزاء کی پوری پوری تشریح کردیتا ہے ۔ وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ۔ وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور یہ وہی اللہ ہے جس نے اس کائنات کے مزاج کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ اپنی ساخت کے اعتبار ہی سے انسان کے لئے ممدومعاون ہے ۔ انسان کے اندر اسی اللہ نے ایسی قوتیں ودیعت کی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کائنات کی قوتوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرپاتا ہے ۔ یہ موافقت اور یہ ہم آہنگی ہی وہ قابل لحاظ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر چیز کی تخلیق …

Al-A'raaf 7:10Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.