Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 91–100 of 206

91

فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَٰثِمِينَ

تو ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے

آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ اپنے فکرو فلسفہ پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ اپنی عقل و استقامت کا سہارا لیتا ہے ‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی توفیق اور تیسیر پر توکل کرتا ہے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام نے اس طرح فرمایا ‘ حالانکہ ان کے واپس پلٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ط اور ہمارے رب نے تو ہر شے کے علم کا احاطہ کیا ہوا ہے ‘ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے۔

Al-A'raaf 7:91Listen in Qur'an →
92

ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا۟ فِيهَا ۚ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ شُعَيْبًۭا كَانُوا۟ هُمُ ٱلْخَٰسِرِينَ

(یہ لوگ) جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی تھی ایسے برباد ہوئے تھے کہ گویا وہ ان میں کبھی آباد ہی نہیں ہوئے تھے (غرض) جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ خسارے میں پڑگئے

آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ اپنے فکرو فلسفہ پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ اپنی عقل و استقامت کا سہارا لیتا ہے ‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی توفیق اور تیسیر پر توکل کرتا ہے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام نے اس طرح فرمایا ‘ حالانکہ ان کے واپس پلٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ط اور ہمارے رب نے تو ہر شے کے علم کا احاطہ کیا ہوا ہے ‘ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے۔

Al-A'raaf 7:92Listen in Qur'an →
93

فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ ءَاسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍۢ كَٰفِرِينَ

تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں

آیت 93 فَتَوَلّٰی عَنْہُمْ وَقَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ ج فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ یعنی حضرت شعیب علیہ السلام نے امکانی حد تک اپنی قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ پھر بھی اگر قوم نہیں مانی تو گویا ان لوگوں نے خود اپنی بربادی کو دعوت دی۔ اب ایسے لوگوں کی ہلاکت پر افسوس کرنے کا جواز بھی کیا ہے۔ لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کے ان الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ علیہ السلام کو اپنی قوم کے انجام پر شدید رنج و غم اور صدمہ تھا اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہنا اپنے دل کی ڈھارس بندھانے کا ایک انداز ہے۔ بہر حال حقیقت یہ ہے کہ نبی اپنی قوم اور بنی نوع انسان کے لیے بہت شفیق ‘ مہربان اور ہمدرد ہوتا ہے اور اپنی قوم پر عذاب آنے پر اسے بہت زیادہ صدمہ ہوتا ہے۔

Al-A'raaf 7:93Listen in Qur'an →
94

وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍۢ مِّن نَّبِىٍّ إِلَّآ أَخَذْنَآ أَهْلَهَا بِٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ

اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں

آیت 94 وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ الآَّ اَخَذْنَآ اَہْلَہَا بالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ یہ اللہ کے ایک خاص قانون کا تذکرہ ہے ‘ جس کے بارے میں ہم سورة الانعام آیات 42 تا 45 میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کسی رسول کو بھیجا جاتا تو اس قوم کو سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے ان کے لیے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتا۔ کیونکہ خوشحالی اور عیش کی زندگی گزارتے ہوئے انسان ایسی کوئی نئی بات سننے کی طرف کم ہی مائل ہوتا ہے ‘ البتہ اگر انسان تکلیف میں مبتلا ہو تو وہ ضرور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ لہٰذا کسی رسول کی دعوت کے آغاز کے ساتھ ہی اس قوم پر زندگی کے حالات تنگ کردیے جاتے تھے ‘ لیکن اگر وہ لوگ اس کے باوجود بھی ہوش میں نہ آتے ‘ اپنی ضد پر اڑے رہتے ‘ اور رسول کی دعوت کو رد کرتے چلے جاتے ‘ تو ان پر سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دور کر کے ان کو غیرمعمولی آسائشوں اور نعمتوں سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا ڈھیل دینے کا ایک انداز ہے کہ اب اس قوم نے برباد تو ہونا ہی ہے مگر آخری انجام کو پہنچنے سے پہلے ان کی نافرمانی کی آخری حدود دیکھ لی جائیں کہ اپنی اس روش پر وہ کہاں تک جاسکتے ہیں۔ یہ ہے وہ قانون یا اللہ کی سنت ‘ جس پر ہر رسول کے آنے پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ سورة السجدہ میں اس قانون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے : وَلَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ اور ہم انہیں مزا چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ یہ رجوع کریں۔ بڑا عذاب تو عذاب استیصال ہوتا ہے جس کے بعد کسی قوم کو تباہ و برباد کر کے نسیاً منسیا کردیا جاتا ہے۔ اس بڑے عذاب کی کیفیت مکی سورتوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے : کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْہَا ج الاعراف : 92 ‘ اور سورة ہود : 68 ‘ 95 وہ لوگ ایسے ہوگئے جیسے وہاں بستے ہی نہیں تھے۔ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاط الانعام : 45 پس ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ لَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْط الاحقاف : 25 اب صرف ان کے مسکن ہی نظر آ رہے ہیں۔ یعنی عذاب استیصال کے بعد اب ان کی کیفیت یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے عالیشان محل تو نظر آ رہے ہیں ‘ لیکن ان کے مکینوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا۔۔ قانون قدرت کے تحت اس نوعیت کے عذاب الاکبر سے پہلے چھوٹی چھوٹی تنبیہات آتی ہیں تاکہ لوگ خواب غفلت سے جاگ جائیں ‘ ہوش میں آجائیں ‘ استکبار کی روش ترک کر کے عاجزی اختیار کریں اور رجوع کر کے عذاب استیصال سے بچ سکیں۔

Al-A'raaf 7:94Listen in Qur'an →
95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ ٱلسَّيِّئَةِ ٱلْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا۟ وَّقَالُوا۟ قَدْ مَسَّ ءَابَآءَنَا ٱلضَّرَّآءُ وَٱلسَّرَّآءُ فَأَخَذْنَٰهُم بَغْتَةًۭ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے

آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے گی۔

Al-A'raaf 7:95Listen in Qur'an →
96

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْقُرَىٰٓ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَٰتٍۢ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا۟ فَأَخَذْنَٰهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا

آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے گی۔

Al-A'raaf 7:96Listen in Qur'an →
97

أَفَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَٰتًۭا وَهُمْ نَآئِمُونَ

کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں

آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے گی۔

Al-A'raaf 7:97Listen in Qur'an →
98

أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ

اور کیا اہلِ شہر اس سے نڈر ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ نازل ہو اور وہ کھیل رہے ہوں

آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے گی۔

Al-A'raaf 7:98Listen in Qur'an →
99

أَفَأَمِنُوا۟ مَكْرَ ٱللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْخَٰسِرُونَ

کیا یہ لوگ خدا کے داؤ کا ڈر نہیں رکھتے (سن لو کہ) خدا کے داؤ سے وہی لوگ نڈر ہوتے ہیں جو خسارہ پانے والے ہیں

آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے گی۔

Al-A'raaf 7:99Listen in Qur'an →
100

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَٰهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں

آیت 100 اَوَلَمْ یَہْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ اَہْلِہَآ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ ج کیا بعد میں آنے والی قوم نے اپنی پیش رو قوم کی تباہی و بربادی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ؟ قوم عاد نے کیوں کوئی سبق نہیں سیکھا قوم نوح کے عذاب سے ؟ اور قوم ثمود نے کیوں عبرت نہیں پکڑی قوم عاد کی بربادی سے ؟ ‘ اور قوم شعیب نے کیوں نصیحت حاصل نہیں کی قوم لوط کے انجام سے ؟

Al-A'raaf 7:100Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.