یہ اللہ کی سنت جاریہ کا ایک دوسرا پہلو ہے ، اگر بستیوں کے لوگ جھٹلانے کے بجائے مان لیتے اور بدکرداری کے بجائے تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔ اور بلا حساب ان کو دیتا رہتا ، آسمانوں سے اور زمین سے ان پر برکات کی بارش ہوتی۔ قرآن نے جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس کے پیش نظر ہم اسے ہر طرح کی فراوانی سے تعبیر کرسکتے ہو جو کسی ایک جنس ضرورت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر قسم اور ہر نوع کی فراوانی۔
اس آیت اور اس سے قبل کی آیت میں ہم ایک عظیم حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق بیک وقت انسانی نظریات اور انسانی زندگی کے حقائق سے بھی ہے اور اس پوری کائنات کے حقائق سے بھی ہے۔ اور ان کے اندر انسانی تاریخ کا اہم عنصر اور عامل بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس اہم فیکٹر کو دنیا کے انسانوں کے وضع کردہ نظامہائے حیات نے پوری طرح نظر انداز کیا ہے بلکہ اس کا انکار کیا ہے۔
وہ فیکٹر ہے ایمان و عقیدہ اور خدا خوفی کا۔ ایمان و عقیدے اور خدا خوفی کا مسئلہ انسانی زندگی کے حقائق سے جدا چیز نہیں ہے اور نہ وہ انسانی تاریخ سے کوئی الگ چیز ہے بلکہ ایمان باللہ اور خدا خوفی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی برکات نازل فرماتے ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ ایفائے عہد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
ہم لوگ جو اللہ پر ایمان لانے والے ہیں ، ہماری شیوہ تو یہ ہے کہ اللہ کے اس عہد کو مومنانہ دل سے لیتے ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے علل و اسباب کو سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ، اور اس آیت کے مدلول و مفہوم کی تصدیق میں لمحہ بھر تردد بھی نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارا ایمان تو ہے ہی ایمان بالغیب اور اس ایمان کے تقاضے کے طور پر ہم اللہ کے اس عہد کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس کے بعد ہم پھر اللہ کے اس عہد پر غور و فکر کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے خود حکم دیا ہے کہ تم قرآن میں غور و فکر کرو اور غور و فکر کے بعد ہمیں اس بات کی ماہیت و حقیقت کا علم بھی ہوجاتا ہے۔
اللہ پر ایمان لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی فطرت زندہ ہے اور فطری حقائق کے ادراک اور قبول کرنے کی اہلیت اس میں موجود ہے۔ ایسے شخص کا ادراک سچا ہے اور اس کی انسانی بنیاد صحیح وسالم ہے۔ اور اس شخص کے دماغ میں اس قدر وسعت ہے کہ وہ اس کائنات کے حقائق کا ادراک کرسکے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو عملی زندگی میں انسان کی کامیابی کے ضامن ہیں۔
اللہ پر ایمان ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی ہے ، یہ انسانی شخصیت کی منتشر قوتوں کو جمع کرکے انہیں ایک جہت اور رخ پر ڈال دیتی ہے اور اس جہت میں انسانی شخصیت اللہ کی قوت کی مدد سے آگے بڑھتی ہے اور اس زمین پر اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ اس کرہ ارض کی تعمیر میں لگ جاتی ہے۔ نتیجۃ اس کرۂ ارض سے فتنہ و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور انسان اس زمین کی ترقی اور تعمیر میں لگ جاتا ہے اور اس طرح انسان عملی زندگی میں کامیاب رہتا ہے۔
اللہ پر پختہ ایمان انسان کو خود اپنی خواہشات کی غلامی اور دوسرے انسانوں کی غلامی سے نجات دیتا ہے کہ اور اس میں شک نہیں کہ صرف اللہ کا غلام اور دوسری تمام غلامیوں سے آزاد انسان ہی اس کرۂ ارضپر خلافت راشدہ کا صحیح نظام قائم کرسکتا ہے۔ ایسا شخص ان لوگوں سے قوی تر ہوگا جو ایک دوسرے کے غلام ہیں یا اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔
خدا کا خوف ایک دانشمندانہ بیداری ہے۔ اس سے انسام سرکشی ، غرور ، بےراہ روی جیسے اخلاقی عیوب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کی سرگرمیاں اعتدال اختیار کرلیتی ہیں اور اس کی زندگی کا اسلوب سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ انسان کی پوری جدوجہد محتاط ہوجاتی ہے۔ اور وہ سرکشی کا ارتکاب کرکے اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھتا اور اپنی زندگی کو صالحانہ …