Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 206

81

إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةًۭ مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِ ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ مُّسْرِفُونَ

یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو

آیت ” نمبر 80 تا 84۔

قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور اس طرح نسل انسانی کے اجرا وامتداد کا سامان فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں اصناف کے وضائف مقرر کرکے انہیں ایک دوسرے کے لئے مناسب جسمانی اور نفسیاتی اہلیت دی اور باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا کا انتظام فرمایا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کے لئے گہری لذت ودیعت کی اور اسے ایک فطری لذت قرار یدا تاکہ وہ دلکشی اور کشش کے ساتھ باہم ملیں اور بقائے نسل انسانی کی ذمہ داریاں قبول کریں اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بھی برداشت کریں ۔ حمل ‘ وضع حمل اور بچوں کی پرورش اور رضاعت ‘ نفقہ اولاد واہلیہ اور تربیت اولاد کی ذمہ داریاں اور کفالت اور اس کے بعد پورے خاندان کے افراد کی باہم ذمہ داریاں ۔ باوجود اس کے کہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں انسانی بچوں کی نشوونما اور تربیت کا علم نہایت ہی طویل اور صبر آزما ہوتا ہے ۔

یہ فریضہ چونکہ نہایت ہی اساسی اور بنیادی فریضہ ہے اور اس کے سوا نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں ۔ اس لئے اس فریضے کے اندر انحراف کو بھی ایک اساسی جرم قرار دیا گیا جس طرح عقیدہ توحید کے اندر ذرا بھر انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کے اندر انحراف اور ہم جنسی پرستی کے انحراف کو ایک درجے کا جرم قرار دیا گیا۔

قوم لوط کے قصے میں انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ یہ فطرت سے انحراف ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی اخلاقی بےراہ روی انہوں نے شروع کی ہے اور ان سے پہلے کسی قوم میں یہ اخلاقی فساد نہ تھا ۔

آیت ” وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِیْنَ (80) إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81)

” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔ “

حضرت لوط (علیہ السلام) ان پر حد سے گزرنے کا جو الزام لگاتے ہیں اور اس پر ان کی سرزنش کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیمہ کا جو نظام انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اس سے آگے گزر جانا اسراف ہے ۔ پھر اللہ نے انہیں توالد وتناسل کے لئے جو قوتیں دی ہوئی ہیں ان کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ان کو یہاں زندگی کی نشوونما کیلئے صرف کیا جائے جبکہ وہ ان قوتوں کو بنجر زمین میں ضائع کر رہے ہیں اور محض عارضی لذت اور شہوت رانی کے لئے کام میں لاتے ہیں ‘ حالانکہ شہوت اور لذت کا حصول بھی طبعی راہ سے ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی سنت الہیہ کے خلاف لذت کوشی کی سعی کرتا ہے تو اسے بےراہ روی ‘ اور خلاف فطرت عمل تصور کیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ یہ عمل خلاف اخلاق بھی ہوگا ‘ اس لئے اسلامی اخلاق بھی فطری اخلاق ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوئی فساد اور انحراف نہیں ہوتا ۔

عورت کی نفسیاتی اور عضویاتی ساخت ایسی ہوتی ہے جس سے مرد کو حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ …

Al-A'raaf 7:81Listen in Qur'an →
82

وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ أَخْرِجُوهُم مِّن قَرْيَتِكُمْ ۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌۭ يَتَطَهَّرُونَ

تو ان سے اس کا جواب کچھ نہ بن پڑا اور بولے تو یہ بولے کہ ان لوگوں (یعنی لوط اور اس کے گھر والوں) کو اپنے گاؤں سے نکال دو (کہ) یہ لوگ پاک بننا چاہتے ہیں

آیت ” وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوہُم مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ (82)

” مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔ “

عجیب بات ہے کہ ! جو پاکباز ہے اسے گاؤں سے نکالا جارہا ہے اور گندے ‘ غلیظ اور ناپاک لوگ بستیوں کے اندر رہنے کے مستحق بنتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ دور جدید کی جاہلیت یہی تو کررہی ہے کیا یہ ان لوگوں کو مسترد نہیں کر رہی ہے جو پاکبازی اختیار کرتے ہیں اور ان گندگیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرتے ۔ اس بات کو وہ ترقی پسندی کہتے ہیں اور اسے عورت اور مرد کی آزادی کا نام دیتے ہیں یہ جاہلیت آج کے دور میں ایسے پاکباز لوگوں پر رزق کے دورازے بند کررہی ہے انکا زندہ رہنا اس نے مشکل کردیا ہے ۔ ان کی دولت کے ذرائع سکیڑ دیئے گئے ہیں ‘ ان کے افکار و تصورات کو دبایا جاتا ہے ۔ جاہلیت اس بات کو دیکھ ہی نہیں سکتی کہ کوئی پاکبازی اختیار کرے کیونکہ اس جاہلیت کو صرف وہی لوگ قبول ہیں جو گندے ناپاک اور برائیوں میں ملوث ہوں ‘ پاک لوگوں کے لئے اس کا دل تنگ ہے ۔ ہر دور میں جاہلیت کی ذہنیت یہی رہی ہے ۔

چناچہ انکو جلدی اپنے انجام سے دو چار کردیا جاتا ہے اور تمام دوسری تفصیلات کو یہاں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

Al-A'raaf 7:82Listen in Qur'an →
83

فَأَنجَيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچا لیا مگر ان کی بی بی (نہ بچی) کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی

آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84)

” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔

اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔

ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔

اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔

Al-A'raaf 7:83Listen in Qur'an →
84

وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ

اور ہم نے ان پر (پتھروں کا) مینھ برسایا۔ سو دیکھ لو کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا

آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84)

” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔

اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔

ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔

اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔

Al-A'raaf 7:84Listen in Qur'an →
85

وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے

آیت ” نمبر 85 تا 93۔

یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔

آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85)

” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “

یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی کلمہ اور شعار رہا ہے ۔ ہر پیغمبر اس سے دعوت کا آغاز کر کے پھر دوسری تفصیلات میں جاتا ہے ۔

آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ “۔ (7 : 85)

” تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ “

سیاق کلام میں اس طرح شہادت اور راہنمائی کا ذکر نہیں ہے جس طرح قصہ صالح میں شہادت کا ذکر موجود ہے۔ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرنے کا ذکر نہیں ہوگا لیکن یہاں اس آیت میں معجزے کی طرف اشارہ موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی دوسرے انبیاء کی طرح کوئی معجزہ پیش کیا تھا ۔ اس معجزے کے نتیجے میں اپنی قوم سے آپ کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ناپ اور تول میں کمی بیشی نہ کریں اور فساد فی الارض کے تمام طریقوں سے بچیں نیز راہ زنی اور ڈاکہ زنی جیسے برے افعال سے باز رہیں ۔ اور اہل دین کو محض انکی دین داری کی وجہ فتنے میں نہ ڈالیں۔

آیت ” فَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (85) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (86)

لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو ‘ اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ “

اس نہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مشرک قوم تھی ۔ وہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرتی تھی ‘ وہ اللہ اقتدار الی میں اللہ کے بندوں کو شریک کرتی تھی ۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں اللہ کے عادلانہ قانون کی پیروی نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے باہم معاملات طے کرنے کے لئے خود اپنی جانب سے قواعد گھڑ رکھے تھے ۔ شاید اسی معاملے میں وہ شرک کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بیع وشری کے معاملات میں وہ بدمعاملہ تھے اور اس کے علاوہ فساد فی الارض ‘ رہزنی اور ڈاکہ زنی کے معاملات بھی ان میں عام تھے ۔ علاوہ ازیں جو لوگ دین دار اور پاکباز تھے انکو بھی وہ ستاتے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ سے انہیں روکتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی استقامت کو وہ ناپسند کرتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ غلط راہوں پر چلیں جس میں ان کے مالی مفادات تھے اور اسلامی نظام کو ترک کردیں جس میں ان کا نقصان تھا ۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوت کا آغاز ہی اس کلمہ سے کرتے ہیں کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کرو ‘ اس کے اقتدار اعلیٰ کو دنیا میں …

Al-A'raaf 7:85Listen in Qur'an →
86

وَلَا تَقْعُدُوا۟ بِكُلِّ صِرَٰطٍۢ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِهِۦ وَتَبْغُونَهَا عِوَجًۭا ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ كُنتُمْ قَلِيلًۭا فَكَثَّرَكُمْ ۖ وَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور ہر رستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں لاتا ہے اسے تم ڈراتے اور راہ خدا سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو اور (اس وقت کو) یاد کرو جب تم تھوڑے سے تھے تو خدا نے تم کو جماعت کثیر کر دیا اور دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

آیت ” نمبر 85 تا 93۔

یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔

آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85)

” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “

یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی کلمہ اور شعار رہا ہے ۔ ہر پیغمبر اس سے دعوت کا آغاز کر کے پھر دوسری تفصیلات میں جاتا ہے ۔

آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ “۔ (7 : 85)

” تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ “

سیاق کلام میں اس طرح شہادت اور راہنمائی کا ذکر نہیں ہے جس طرح قصہ صالح میں شہادت کا ذکر موجود ہے۔ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرنے کا ذکر نہیں ہوگا لیکن یہاں اس آیت میں معجزے کی طرف اشارہ موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی دوسرے انبیاء کی طرح کوئی معجزہ پیش کیا تھا ۔ اس معجزے کے نتیجے میں اپنی قوم سے آپ کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ناپ اور تول میں کمی بیشی نہ کریں اور فساد فی الارض کے تمام طریقوں سے بچیں نیز راہ زنی اور ڈاکہ زنی جیسے برے افعال سے باز رہیں ۔ اور اہل دین کو محض انکی دین داری کی وجہ فتنے میں نہ ڈالیں۔

آیت ” فَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (85) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (86)

لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو ‘ اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ “

اس نہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مشرک قوم تھی ۔ وہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرتی تھی ‘ وہ اللہ اقتدار الی میں اللہ کے بندوں کو شریک کرتی تھی ۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں اللہ کے عادلانہ قانون کی پیروی نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے باہم معاملات طے کرنے کے لئے خود اپنی جانب سے قواعد گھڑ رکھے تھے ۔ شاید اسی معاملے میں وہ شرک کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بیع وشری کے معاملات میں وہ بدمعاملہ تھے اور اس کے علاوہ فساد فی الارض ‘ رہزنی اور ڈاکہ زنی کے معاملات بھی ان میں عام تھے ۔ علاوہ ازیں جو لوگ دین دار اور پاکباز تھے انکو بھی وہ ستاتے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ سے انہیں روکتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی استقامت کو وہ ناپسند کرتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ غلط راہوں پر چلیں جس میں ان کے مالی مفادات تھے اور اسلامی نظام کو ترک کردیں جس میں ان کا نقصان تھا ۔

حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوت کا آغاز ہی اس کلمہ سے کرتے ہیں کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کرو ‘ اس کے اقتدار اعلیٰ کو دنیا میں …

Al-A'raaf 7:86Listen in Qur'an →
87

وَإِن كَانَ طَآئِفَةٌۭ مِّنكُمْ ءَامَنُوا۟ بِٱلَّذِىٓ أُرْسِلْتُ بِهِۦ وَطَآئِفَةٌۭ لَّمْ يُؤْمِنُوا۟ فَٱصْبِرُوا۟ حَتَّىٰ يَحْكُمَ ٱللَّهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ

اور اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے۔ اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی۔ تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ خدا ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

آیت ” وَإِن کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنکُمْ آمَنُواْ بِالَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ وَطَآئِفَۃٌ لَّمْ یْْؤْمِنُواْ فَاصْبِرُواْ حَتَّی یَحْکُمَ اللّہُ بَیْْنَنَا وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ (87)

” اگر تم میں ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ‘ ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو منصفانہ منصوبے کو اپنانے کا مشورہ دیا اور یہ آخری حد تھی جہاں تک وہ انکورعایت دے سکتے تھے ‘ اس سے پیچھے وہ ایک قدم بھی نہ ہٹ سکتے تھے ۔ وہ یہ کہ ان کی قوم کفر واسلام کی اس کشمکش میں غیر جانبدار ہو کر انتظار کرے اور مسلمانوں کو اذیت نہ دے ۔ قوم جس دین کو چاہے اختیار کرے یہاں تک کہ اللہ خود کوئی فیصلہ کردے ۔

لیکن طاغوتی قوتیں اس بات کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتیں کہ اس کرہ ارض پر ایمان کا معمولی وجود بھی ہو اور وہ ایسی جماعت کی شکل میں ہو جو طاغوت کی اطاعت نہ کرتی ہو ۔ اس کرہ ارض پر ایسی جماعت مسلمہ ‘ جو صرف اللہ کی غلام ہو ‘ جو اللہ کے اقتدار اعلی کے سوا کسی اور اقتدار کو نہ تسلیم کرتی ہو ‘ اپنی زندگی میں اللہ کے قانون کے سوا کسی اور کا قانون نہ مانتی ہو اپنی اجتماعی زندگی میں اللہ کے نظام کے سوا کسی اور نظام کی قائل نہ ہو ۔ ایسی جماعت کا مجرد پایا جانا ہی طاغوت کے وجود کے لئے خطرہ ہوتا ہے ۔ اگرچہ اس قسم کی جماعت خود اپنے دائرے کے اندر ہی محدود کیوں نہ ہو ‘ طاغوتی قوتوں کو فی الحال نہ بھی چھیڑتی ہو اور طاغوت کو وہ اپنی طبعی انجام تک پہنچنے کیلئے انتظار کررہی ہو۔

حقیقت یہ ہے طاغوتی قوتوں نے اپنے اوپر از خود یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اسلامی قوتوں کے خلاف برسرجنگ رہیں گے اگرچہ اسلامی قوتیں جنگ سے بچنا چاہیں کیونکہ حق کا وجود ہی ان قوتوں کے لئے خوفناک ہوتا ہے اور طاغوت ہر وقت حق سے کانپتا رہتا ہے ۔ حق کا وجود ہی اس کشمکش کے آغاز کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ اگر کوئی سمجھے کہ حق ہے اور باطل اس کے خلاف نہ اٹھ رہا ہو ‘ تو ایسے اہل حق کو غور کرنا چاہئے کہ وہ حق پر ہیں بھی کہ نہیں ؟

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَنُخْرِجَنَّکَ یَا شُعَیْْبُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَکَ مِن قَرْیَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا “۔ (7 : 88)

” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ‘ اس سے کہا ” اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “

یہ ہے طاغوت کی ننگی خود سری ۔ اسے اصرار ہے کہ وہ حق کے ساتھ یہ معرکہ جاری رکھے گا اور یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ حق اور باطل باہم زندہ رہ سکیں یا ان کے درمیان فائز بندی ہو سکے۔

لیکن نظریاتی قوتوں پر باطل کی دھمکیوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا ۔ حق کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آتی اور وہ بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس مقام سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کی جانب سے یہ آخری رعایت تھی کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو عقیدہ چاہیں اختیار کریں ‘ جس کے اقتدار میں چاہیں اپنے آپ کو داخل کردیں اور دونوں حریف اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ یہ وہ مقام ہے جس سے مزید پیچھے کوئی حامل حق داعی نہیں ہٹ سکتا ۔ چاہے طاغوتی قوتوں کی طرف سے شدید دباؤ کیوں نہ ہو ۔ اگر کوئی داعی اس مقام سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ گویا اس سچائی کو خیر باد کہہ دیتا ہے جس کا وہ نمائندہ ہے بلکہ اس سے خیانت کرتا ہے ۔

جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان مستکبرین کی طرف سے یہ دھمکی ملتی ہے کہ وہ یا تو اپنے نظریات کو ترک کرکے واپس ہماری ملت میں آجائیں …

Al-A'raaf 7:87Listen in Qur'an →
88

۞ قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَنُخْرِجَنَّكَ يَٰشُعَيْبُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَآ أَوْ لَتَعُودُنَّ فِى مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَٰرِهِينَ

(تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟)

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89)

” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رب ‘ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “

یہ مختصر ترین چند کلمات ہیں ‘ لیکن ان میں ایمان کی تجلیات واضح طور پر نظر آتی ہیں اور اہل ایمان کا ذوق وشوق ان سے عیاں ہے ۔ اسی طرح ان کلمات سے جاہلیت کا مزاج اور اس کی بدذوقی کا اظاہر بھی خوب ہوتا ہے ۔ رسول اللہ وقت کے دل کی خوبصورت مناظر بھی چمکتے نظر آتے ہیں اور ان میں ربانی حقائق صاف نظر آتے ہیں ۔

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88)

” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ “

حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی اس دھمکی کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا ” شعیب ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مطلب یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس صورت حال میں پھر داخل ہوجائیں جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی ہے ۔ وہ تو ایک مکروہ اور ناپسندیدہ صورت حال ہے ۔ ” ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔

جو شخص اس طاغوتی ملت کی طرف دوبارہ لوٹ جاتا ہے ۔ جس میں دین کے لئے خالص نہیں ہوتا ‘ جس میں اطاعت صرف اللہ کی نہیں ہوتی جس میں لوگ اللہ کے سوا کچھ دوسری شخصیات کو رب بنا لیتے ہیں اور ان کے اقتدار اعلیٰ کا قرار کرتے ہیں وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے حالانکہ ایسے شخص کو اللہ نے ان تمام ملتوں سے نجات دے دی تھی ۔ وہ اللہ کی غلامی کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تھے اور اللہ نے انہیں راہ ہدایت بتا دی تھی ۔ ایسا شخص اگر پھر اسی ملت میں داخل ہوتا ہے تو وہ کلمہ شہادت جھوٹ موٹ پڑھ رہا ہے کیونکہ اس نے ملت ابراہیم کو ترک کرکے دوبارہ طاغوتی ملت میں داخلہ لے لیا ہے ۔

ایسی ملت میں دوبارہ جانے کا مدعا صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ طاغوتی ملت کو حق سمجھتا ہے اور ایسے لوگوں کے اقتدار اعلی کو جائز اور قانونی سمجھتا ہے ۔ ایسا شخص کلمہ شہادت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ طاغوتی ملت کا بھی فرد بن جاتا ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طاغوتی نظام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا میں قائم رہے ‘ اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردے اور یہ کہ اس کا وجود ایمان کے منافی نہیں ہے ۔ ایسا شخص طاغوتی ملت میں داخل ہو کر اسے تسلیم کرتا ہے ۔ ایسے شخص کا یہ طرز عمل اس شخص سے زیادہ خطرناک ہے جو سرے سے ہدایت قبول نہیں کرتا اور اسلام کے جھنڈے کو بلند ہی نہیں کرتا کیونکہ اس طرز عمل سے یہ شخص طاغوت کے اقتدار اعلی کے جھنڈے کو بلند کرتا ہے اور طاغوت کا اقتدار اعلی پر دست درازی کے مترادف ہوتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

آیت ” وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا “۔ (7 : 89)

” ہمارے لئے یہ سزاوار ہی نہیں ہے کہ ہم طاغوتی ملت کی طرف لوٹ آئیں ۔ “

یہ دینی شان ہی کے متضاد ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اس بات کا اعلان …

Al-A'raaf 7:88Listen in Qur'an →
89

قَدِ ٱفْتَرَيْنَا عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِى مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّىٰنَا ٱللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَآ أَن نَّعُودَ فِيهَآ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا ٱفْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِٱلْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلْفَٰتِحِينَ

اگر ہم اس کے بعد کہ خدا ہمیں اس سے نجات بخش چکا ہے تمہارے مذہب میں لوٹ جائیں تو بےشک ہم نے خدا پر جھوٹ افتراء باندھا۔ اور ہمیں شایاں نہیں کہ ہم اس میں لوٹ جائیں ہاں خدا جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے تو (ہم مجبور ہیں) ۔ ہمارے پروردگار کا علم ہر چیز پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمارا خدا ہی پر بھروسہ ہے۔ اے پروردگار ہم میں اور ہماری قوم میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89)

” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رب ‘ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “

یہ مختصر ترین چند کلمات ہیں ‘ لیکن ان میں ایمان کی تجلیات واضح طور پر نظر آتی ہیں اور اہل ایمان کا ذوق وشوق ان سے عیاں ہے ۔ اسی طرح ان کلمات سے جاہلیت کا مزاج اور اس کی بدذوقی کا اظاہر بھی خوب ہوتا ہے ۔ رسول اللہ وقت کے دل کی خوبصورت مناظر بھی چمکتے نظر آتے ہیں اور ان میں ربانی حقائق صاف نظر آتے ہیں ۔

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88)

” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ “

حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی اس دھمکی کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا ” شعیب ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مطلب یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس صورت حال میں پھر داخل ہوجائیں جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی ہے ۔ وہ تو ایک مکروہ اور ناپسندیدہ صورت حال ہے ۔ ” ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔

جو شخص اس طاغوتی ملت کی طرف دوبارہ لوٹ جاتا ہے ۔ جس میں دین کے لئے خالص نہیں ہوتا ‘ جس میں اطاعت صرف اللہ کی نہیں ہوتی جس میں لوگ اللہ کے سوا کچھ دوسری شخصیات کو رب بنا لیتے ہیں اور ان کے اقتدار اعلیٰ کا قرار کرتے ہیں وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے حالانکہ ایسے شخص کو اللہ نے ان تمام ملتوں سے نجات دے دی تھی ۔ وہ اللہ کی غلامی کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تھے اور اللہ نے انہیں راہ ہدایت بتا دی تھی ۔ ایسا شخص اگر پھر اسی ملت میں داخل ہوتا ہے تو وہ کلمہ شہادت جھوٹ موٹ پڑھ رہا ہے کیونکہ اس نے ملت ابراہیم کو ترک کرکے دوبارہ طاغوتی ملت میں داخلہ لے لیا ہے ۔

ایسی ملت میں دوبارہ جانے کا مدعا صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ طاغوتی ملت کو حق سمجھتا ہے اور ایسے لوگوں کے اقتدار اعلی کو جائز اور قانونی سمجھتا ہے ۔ ایسا شخص کلمہ شہادت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ طاغوتی ملت کا بھی فرد بن جاتا ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طاغوتی نظام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا میں قائم رہے ‘ اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردے اور یہ کہ اس کا وجود ایمان کے منافی نہیں ہے ۔ ایسا شخص طاغوتی ملت میں داخل ہو کر اسے تسلیم کرتا ہے ۔ ایسے شخص کا یہ طرز عمل اس شخص سے زیادہ خطرناک ہے جو سرے سے ہدایت قبول نہیں کرتا اور اسلام کے جھنڈے کو بلند ہی نہیں کرتا کیونکہ اس طرز عمل سے یہ شخص طاغوت کے اقتدار اعلی کے جھنڈے کو بلند کرتا ہے اور طاغوت کا اقتدار اعلی پر دست درازی کے مترادف ہوتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔

آیت ” وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا “۔ (7 : 89)

” ہمارے لئے یہ سزاوار ہی نہیں ہے کہ ہم طاغوتی ملت کی طرف لوٹ آئیں ۔ “

یہ دینی شان ہی کے متضاد ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اس بات کا اعلان …

Al-A'raaf 7:89Listen in Qur'an →
90

وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَٰسِرُونَ

اور ان کی قوم میں سے سردار لوگ جو کافر تھے، کہنے لگے (بھائیو) اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بےشک تم خسارے میں پڑگئے

آیت ” وَقَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْْباً إِنَّکُمْ إِذاً لَّخَاسِرُونَ (90)

” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے ‘ آپس میں کہا ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔ “

یہ ہیں خدوخال اس معرکے کے جو انسانی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا ہے اگرچہ اس کی نوعیت کبھی نہیں بدلتی ۔ طاغوتی قوتیں سب سے پہلے داعی کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ وہ دعوت کو بند کر دے لیکن جب وہ اپنی ایمانی قوت پر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ جاتا ہے ‘ دعوت کو جاری رکھتا ہے ‘ اس راہ میں ہر قسم کی مشکلات کو انگیز کرتا ہے اور دھمکیوں اور طاغوتی قوتوں کے حجم سے مرعوب نہیں ہوتا تو یہ قوتیں داعی کے متبعین کو اذیت دینا شروع کردیتی ہے۔ ان پر یہ مصائب محض انکے دین کی وجہ سے توڑے جاتے ہیں ۔ ان ظالموں کے پاس اپنے ظلم کے لئے کوئی جواز نہیں ہوتا لیکن انکے پاس مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کی ظاہری قوتیں ہوتی ہیں ۔ انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی جس سے وہ اپنی جاہلیت پر عوام کو مطمئن کرسکیں ۔ خصوصا ان لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور جن کی نظروں میں باطل خفیف و حقیر ٹھہرا کیونکہ ان لوگوں نے اپنا دین اللہ کے لئے خالص کردیا اور ہر قسم کا اقتدار اللہ کے حوالے کردیا ۔ ان کی نظروں میں اس کے سوا کوئی مقتدر اعلی ہوتا ہی نہیں ہے۔

یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ جب حق و باطل علیحدہ علیحدہ متمیز ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے بالمقابل آجاتے ہیں تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہوتا ہے اور اللہ خود فیصلہ کردیتا ہے ۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔

Al-A'raaf 7:90Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.