Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 1–10 of 206

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓمٓصٓ

المص

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

2

كِتَٰبٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِى صَدْرِكَ حَرَجٌۭ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِۦ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ

(اے محمدﷺ) یہ کتاب (جو) تم پر نازل ہوئی ہے۔ اس سے تمہیں تنگ دل نہیں ہونا چاہیئے، (یہ نازل) اس لیے (ہوئی ہے) کہ تم اس کے ذریعے سے (لوگوں) کو ڈر سناؤ اور (یہ) ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

3

ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَذَكَّرُونَ

(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

4

وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَا فَجَآءَهَا بَأْسُنَا بَيَٰتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں جن پر ہمارا عذاب (یا تو رات کو) آتا تھا جبکہ وہ سوتے تھے یا (دن کو) جب وہ قیلولہ (یعنی دوپہر کو آرام) کرتے تھے

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

5

فَمَا كَانَ دَعْوَىٰهُمْ إِذْ جَآءَهُم بَأْسُنَآ إِلَّآ أَن قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا ظَٰلِمِينَ

تو جس وقت ان پر عذاب آتا تھا ان کے منہ سے یہی نکلتا تھا کہ (ہائے) ہم (ہائے) ہم (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہے

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

6

فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ

تو جن لوگوں کی طرف پیغمبر بھیجے گئے ہم ان سے بھی پرسش کریں گے اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں گے

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍۢ ۖ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ

پھر اپنے علم سے ان کے حالات بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے

ہجرت کے بعد جو مسلمان اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ پہنچے، ان کا مدینہ آنا مدینہ کے باشندوں (انصار) پر ایک بوجھ تھا۔ مگر انہوں نے نہایت خوش دلی کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اموال آئے تو آپ نے ان کا حصہ مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا۔ اس پر بھی انصارِ مدینہ کے اندر ان کے لیے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے بعد بھی وہ ان کے اتنے قدر داں رہے کہ ان کے حق میں ان کے دل سے بہترین دعائیں نکلتی رہیں۔ یہی وہ عالی حوصلگی ہے جو کسی گروہ کو تاریخ ساز گروہ بناتی ہے۔

8

وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ

اور اس روز (اعمال کا) تلنا برحق ہے تو جن لوگوں کے (عملوں کے) وزن بھاری ہوں گے وہ تو نجات پانے والے ہیں

خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے نصیحت بنتی ہے، جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ كيے ہوئے ہوں۔ بقیہ لوگوں کے ليے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرارہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کررہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے ليے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتی کہ وہ اس کو رد کرنے کے ليے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لوہے اور پـتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعیٔ حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔

دنیا میں جو چیزیںکسی کو باوزن بناتی ہیں وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہانے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی ہو۔ چوں کہ حق کے داعی کے ساتھ عام طورپر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس ليے دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔

9

وَمَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَظْلِمُونَ

اور جن کے وزن ہلکے ہوں گے تو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اس لیے کہ ہماری آیتوں کے بارے میں بےانصافی کرتے تھے

خدا کی کتاب اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک نصیحت ہے۔ مگر وہ عملاً صرف ان تھوڑے سے لوگوں کے لیے نصیحت بنتی ہے، جو اپنی فطری صلاحیت کو زندہ كيے ہوئے ہوں۔ بقیہ لوگوں کے ليے وہ صرف اس برے انجام سے ڈرانے کے ہم معنی ہو کر رہ جاتی ہے جس کی طرف وہ اپنی سرکشی کی وجہ سے بڑھ رہے ہیں۔ داعی یہ دیکھ کر تڑپتا ہے کہ جو چیز مجھے کامل صداقت کے روپ میں دکھائی دے رہی ہے اس کو بیشتر لوگ باطل سمجھ کر ٹھکرارہے ہیں۔ جو چیز میری نظر میں پہاڑ سے بھی زیادہ اہم ہے اس کے ساتھ لوگ ایسا بے پروائی کا سلوک کررہے ہیں جیسے اس کی کچھ حقیقت ہی نہ ہو، جیسے وہ بالکل بے اصل ہو۔

یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کے ليے موقع ہے کہ اگر وہ کسی بات کو نہ ماننا چاہے تو وہ اس کو نہ مانے، حتی کہ وہ اس کو رد کرنے کے ليے خوبصورت الفاظ بھی پالے۔ مگر یہ صورت حال بالکل عارضی ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اچانک کھل جائے گا کہ داعی کی بات لوہے اور پـتھر سے بھی زیادہ ثابت شدہ تھی۔ یہ صرف مخالفین کا تعصب اور ان کی انانیت تھی جس نے انھیں دلیل کو دلیل کی صورت میں دیکھنے نہ دیا۔ اس وقت کھل جائے گا کہ داعیٔ حق کی باتوں کی رد میں جو دلیلیں وہ پیش کرتے تھے وہ محض دھاندلی تھی نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی استدلال۔

دنیا میں جو چیزیںکسی کو باوزن بناتی ہیں وہ یہ کہ اس کے گرد مادی رونقیں جمع ہوں۔ وہ الفاظ کے دریا بہانے کا فن جانتا ہو۔ اس کے ساتھ عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو گئی ہو۔ چوں کہ حق کے داعی کے ساتھ عام طورپر یہ اسباب جمع نہیں ہوتے اس ليے دنیاکے لوگوں کی نظر میں اس کی بات بے وزن اور اس کے مخالفوں کی بات وزن دار بن جاتی ہے۔ مگر قیامت جب مصنوعی پردوں کو پھاڑے گی تو صورت حال بالکل برعکس ہوجائے گی۔ اب سارا وزن حق کی طرف ہوگا اور ناحق بالکل بے دلیل اور بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔

10

وَلَقَدْ مَكَّنَّٰكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ ۗ قَلِيلًۭا مَّا تَشْكُرُونَ

اور ہم ہی نے زمین میں تمہارا ٹھکانہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے سامان معشیت پیدا کئے۔ (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو

قیامت کے منظر کو موجودہ دنیا میں حقیقی طور پر کھولا نہیں جا سکتا۔ تا ہم قرآن میں جگہ جگہ ان کو اشارہ یا تمثیل میں بتایا گیا ہے تا کہ آدمی ان کا مجمل احساس کر سکے۔ قیامت جب آئے گی تو وہ اتنی ہولناک ہوگی کہ آدمی اپنے ان رشتوں اور مفادات کو بھول جائے گا جن کو آج وہ اتنا اہم سمجھے ہوئے ہے کہ ان کی خاطر وہ حق کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

Al-A'raaf 7:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.