قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌۭ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍۢ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍۢ ۚ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ
ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭
قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔
ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ” یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ “ [8-الأنفال:32]
قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔
صفحہ نمبر2960
پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔
قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔
صفحہ نمبر2961
گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔
آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا …