قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَٰلَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں
اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر رسول کی دعوت کے جواب میں اس قوم کے رویے اور ردِّ عمل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ پہلی قسم کے واقعات کو قصص الانبیاء کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال سورة یوسف ہے ‘ جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ‘ مگر کہیں بھی آپ علیہ السلام کی طرف سے اس نوعیت کے اعلان کا ذکر نہیں ملتا کہ لوگو ! مجھ پر ایمان لاؤ ‘ میری بات مانو ‘ ورنہ تم پر عذاب آئے گا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ اس قوم نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کردیا اور پھر ان پر عذاب آگیا اور انہیں ہلاک کردیا گیا۔ دوسری قسم کے واقعات کے لیے انباء الرسل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ انباء جمع ہے نبأ کی ‘ جس کے معنی خبر کے ہیں ‘ یعنی رسولوں کی خبریں۔ اِن واقعات سے ایک اصول واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا تو وہ اللہ کی عدالت بن کر آیا۔ جن لوگوں نے اس کی دعوت کو مان لیا وہ اہل ایمان ٹھہرے اور عافیت میں رہے ‘ جبکہ انکار کرنے والے ہلاک کردیے گئے۔ انباء الرسل کے سلسلے میں عام طور پر چھ رسولوں علیہ السلام کے حالات قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ رسول صرف چھ ہیں ‘ بلکہ یہ چھ رسول علیہ السلام وہ ہیں جن سے اہل عرب واقف تھے۔ یہ تمام رسول علیہ السلام اسی جزیرہ نمائے عرب کے اندر آئے۔ یہ رسول علیہ السلام جن علاقوں میں مبعوث ہوئے ان کے بارے میں جاننے کے لیے جزیرہ نمائے عرب Arabian Peninsula کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھیے۔ نیچے جنوب کی طرف سے اس کی چوڑائی کافی زیادہ ہے ‘ جبکہ یہ چوڑائی اوپر شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔ اس جزیرہ نما علاقہ کے مشرقی جانب خلیج فارس Persian Gulf ہے جب کہ مغربی جانب بحیرۂ احمر Read Sea ہے جو شمال میں جاکر دو کھاڑیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک شمال مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور دوسری طرف شمال مشرق کی جانب خلیج عقبہ۔ خلیج عقبہ کے اوپر شمال والے کونے سے خلیج فارس کے شمالی کنارے کی طرف سیدھی لائن لگائیں تو نقشے پر ایک مثلث triangle بن جاتی ہے ‘ جس کا قاعدہ base نیچے جنوب میں یمن سے سلطنت عمان تک ہے اور اوپر والا کونہ شمال میں بحیرۂ مردار Dead Sea کے علاقے میں واقع ہے۔موجودہ دنیا کے نقشے کے مطابق اس مثلث میں سعودی عرب کے علاوہ عراق اور شام کے ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ مثلث اس علاقے پر محیط ہے جہاں عرب کی قدیم قومیں آباد تھیں اور یہی وہ قومیں تھیں جن کی طرف وہ چھ رسول مبعوث ہوئے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ ان میں سے جو رسول سب سے پہلے آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپ علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن مختلف اندازوں کے مطابق آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی دو ہزار سال بعد کا زمانہ بتایا جاتا ہے واللہ اعلم۔ اس وقت تک کل نسل انسانی بس اسی علاقے میں آباد تھی۔ جب آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کی دعوت پر ایمان نہ لائی تو پانی کے عذاب سے انہیں تباہ کردیا گیا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں وہ تباہ کن سیلاب آیا تھا جو طوفان …