Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 61–70 of 206

61

قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى ضَلَٰلَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

انہوں نے کہا اے قوم مجھ میں کسی طرح کی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں

اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر رسول کی دعوت کے جواب میں اس قوم کے رویے اور ردِّ عمل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ پہلی قسم کے واقعات کو قصص الانبیاء کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال سورة یوسف ہے ‘ جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ‘ مگر کہیں بھی آپ علیہ السلام کی طرف سے اس نوعیت کے اعلان کا ذکر نہیں ملتا کہ لوگو ! مجھ پر ایمان لاؤ ‘ میری بات مانو ‘ ورنہ تم پر عذاب آئے گا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ اس قوم نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کردیا اور پھر ان پر عذاب آگیا اور انہیں ہلاک کردیا گیا۔ دوسری قسم کے واقعات کے لیے انباء الرسل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ انباء جمع ہے نبأ کی ‘ جس کے معنی خبر کے ہیں ‘ یعنی رسولوں کی خبریں۔ اِن واقعات سے ایک اصول واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا تو وہ اللہ کی عدالت بن کر آیا۔ جن لوگوں نے اس کی دعوت کو مان لیا وہ اہل ایمان ٹھہرے اور عافیت میں رہے ‘ جبکہ انکار کرنے والے ہلاک کردیے گئے۔ انباء الرسل کے سلسلے میں عام طور پر چھ رسولوں علیہ السلام کے حالات قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ رسول صرف چھ ہیں ‘ بلکہ یہ چھ رسول علیہ السلام وہ ہیں جن سے اہل عرب واقف تھے۔ یہ تمام رسول علیہ السلام اسی جزیرہ نمائے عرب کے اندر آئے۔ یہ رسول علیہ السلام جن علاقوں میں مبعوث ہوئے ان کے بارے میں جاننے کے لیے جزیرہ نمائے عرب Arabian Peninsula کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھیے۔ نیچے جنوب کی طرف سے اس کی چوڑائی کافی زیادہ ہے ‘ جبکہ یہ چوڑائی اوپر شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔ اس جزیرہ نما علاقہ کے مشرقی جانب خلیج فارس Persian Gulf ہے جب کہ مغربی جانب بحیرۂ احمر Read Sea ہے جو شمال میں جاکر دو کھاڑیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک شمال مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور دوسری طرف شمال مشرق کی جانب خلیج عقبہ۔ خلیج عقبہ کے اوپر شمال والے کونے سے خلیج فارس کے شمالی کنارے کی طرف سیدھی لائن لگائیں تو نقشے پر ایک مثلث triangle بن جاتی ہے ‘ جس کا قاعدہ base نیچے جنوب میں یمن سے سلطنت عمان تک ہے اور اوپر والا کونہ شمال میں بحیرۂ مردار Dead Sea کے علاقے میں واقع ہے۔موجودہ دنیا کے نقشے کے مطابق اس مثلث میں سعودی عرب کے علاوہ عراق اور شام کے ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ مثلث اس علاقے پر محیط ہے جہاں عرب کی قدیم قومیں آباد تھیں اور یہی وہ قومیں تھیں جن کی طرف وہ چھ رسول مبعوث ہوئے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ ان میں سے جو رسول سب سے پہلے آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپ علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن مختلف اندازوں کے مطابق آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی دو ہزار سال بعد کا زمانہ بتایا جاتا ہے واللہ اعلم۔ اس وقت تک کل نسل انسانی بس اسی علاقے میں آباد تھی۔ جب آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کی دعوت پر ایمان نہ لائی تو پانی کے عذاب سے انہیں تباہ کردیا گیا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں وہ تباہ کن سیلاب آیا تھا جو طوفان …

Al-A'raaf 7:61Listen in Qur'an →
62

أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنصَحُ لَكُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو

آیت 62 اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنْصَحُ لَکُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ مجھے تو تمام جہانوں کے پروردگار نے اس خدمت پر مامور کیا ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں ‘ تاکہ تم لوگ ایک بڑے عذاب کی لپیٹ میں آنے سے بچ جاؤ۔ میں تو تمہاری بھلائی ہی کی فکر کر رہا ہوں۔ اگر تمہارے مشرکانہ افعال اسی طرح جاری رہے تو ان کی پاداش میں تمہارے اوپر کتنی بڑی تباہی آسکتی ہے تم لوگوں کو اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں ‘ مگر مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے اس کے بارے میں برابر آگاہ کیا جا رہا ہے۔

Al-A'raaf 7:62Listen in Qur'an →
63

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا۟ وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے

آیت 62 اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنْصَحُ لَکُمْ وَاَعْلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ مجھے تو تمام جہانوں کے پروردگار نے اس خدمت پر مامور کیا ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں ‘ تاکہ تم لوگ ایک بڑے عذاب کی لپیٹ میں آنے سے بچ جاؤ۔ میں تو تمہاری بھلائی ہی کی فکر کر رہا ہوں۔ اگر تمہارے مشرکانہ افعال اسی طرح جاری رہے تو ان کی پاداش میں تمہارے اوپر کتنی بڑی تباہی آسکتی ہے تم لوگوں کو اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں ‘ مگر مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے اس کے بارے میں برابر آگاہ کیا جا رہا ہے۔

Al-A'raaf 7:63Listen in Qur'an →
64

فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو تو بچا لیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کر دیا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ اندھے لوگ تھے

آیت 64 فَکَذَّبُوْہُ فَاَنْجَیْنٰہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ فِی الْْفُلْکِ وَاَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْماً عَمِیْنَ یعنی وہ ایسی قوم تھی جس نے آنکھیں ہونے کے باوجود اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے اور حق کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھی اہل ایمان بہت ہی کم لوگ تھے۔ آپ علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو دعوت دی تھی اس کے باوجود بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے ‘ جو آپ علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سیلاب سے محفوظ رہے۔ آپ علیہ السلام کے تین بیٹوں میں سے حضرت سام کی اولاد میں سے عاد نام کے ایک سردار بڑے مشہور ہوئے اور پھر ان ہی کے نام پر قوم عاد وجود میں آئی۔ آگے اسی قوم کا تذکرہ ہے۔

Al-A'raaf 7:64Listen in Qur'an →
65

۞ وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًۭا ۗ قَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ ۚ أَفَلَا تَتَّقُونَ

اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟

قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اَفَلاَ تَتَّقُوْنَ حضرت ہود علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو وہی پیغام دیا جو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیا تھا۔

Al-A'raaf 7:65Listen in Qur'an →
66

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى سَفَاهَةٍۢ وَإِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں

آیت 66 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰٹکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ یعنی تم جھوٹا دعویٰ کر رہے ہو ‘ تم پر کوئی وحی وغیرہ نہیں آتی۔

Al-A'raaf 7:66Listen in Qur'an →
67

قَالَ يَٰقَوْمِ لَيْسَ بِى سَفَاهَةٌۭ وَلَٰكِنِّى رَسُولٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

انہوں نے کہا کہ بھائیو مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں ہے بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں

آیت 66 قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖٓ اِنَّا لَنَرٰٹکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وَّاِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکٰذِبِیْنَ یعنی تم جھوٹا دعویٰ کر رہے ہو ‘ تم پر کوئی وحی وغیرہ نہیں آتی۔

Al-A'raaf 7:67Listen in Qur'an →
68

أُبَلِّغُكُمْ رِسَٰلَٰتِ رَبِّى وَأَنَا۠ لَكُمْ نَاصِحٌ أَمِينٌ

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانت دار خیرخواہ ہوں

آیت 68 اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَنَا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ میں تو وہی بات ہو بہو تم تک پہنچا رہا ہوں جو اللہ کی طرف سے آرہی ہے ‘ اس لیے کہ مجھے تمہاری خیر خواہی مطلوب ہے۔ میں تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔

Al-A'raaf 7:68Listen in Qur'an →
69

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَآءَكُمْ ذِكْرٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ ۚ وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍۢ وَزَادَكُمْ فِى ٱلْخَلْقِ بَصْۜطَةًۭ ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو تو کرو جب اس نے تم کو قوم نوح کے بعد سردار بنایا۔ اور تم کو پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ تاکہ نجات حاصل کرو

آیت 69 اَوَعَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَ کُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ ط وَاذْکُرُوْٓا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْم بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَکُمْ فِی الْْخَلْقِ بَصْطَۃً ج قوم نوح کی سطوت ختم ہوئی اور قوم تباہ و برباد ہوگئی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو عروج عطا فرمایا۔ یہ بڑے قد آور اور جسیم لوگ تھے۔ اس قوم کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی طور پر بڑا عروج بخشا تھا۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھا جس نے بہشت اراضی بنائی تھی۔ اب اس کی جنت اور اس شہر کے کھنڈرات کا سراغ بھی مل چکا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی صحرا میں ایک علاقہ ہے جہاں کی ریت بہت باریک ہے اور اس کے اوپر کوئی چیز ٹک نہیں سکتی۔ اس وجہ سے وہاں آمد و رفت مشکل ہے ‘ کیونکہ اس ریت پر چلنے والی ہرچیز اس کے اندر دھنس جاتی ہے۔ اس علاقے میں سیٹلائٹ کے ذریعے زیر زمین شداد کے اس شہر کا سراغ ملا ہے ‘ جس کی فصیل پر 35 برج تھے۔

Al-A'raaf 7:69Listen in Qur'an →
70

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ ٱللَّهَ وَحْدَهُۥ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

وہ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں۔ اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

آیت 70 قَالُوْٓا اَجِءْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ج فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر زوال آتا تھا تو ان کے عقائد بگڑ جاتے تھے۔ اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر وہ قوم بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوجاتی تھی۔ اولیاء اللہ کی عقیدت کی وجہ سے ان کے ناموں کے بت بنائے جاتے تھے یا پھر ان کی قبروں کی پرستش شروع کردی جاتی۔ یہ سامنے کے معبود ان کو اس اللہ کے مقابلے میں زیادہ اچھے لگتے تھے جو ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ ان حالات میں جب بھی کوئی رسول آکر ایسی مشرک قوم کو بت پرستی سے منع کرتا اور انہیں ایک اللہ کی بندگی کی تلقین کرتا ‘ تو اپنے ماحول کے مطابق ان کا پہلا جواب یہی ہوتا کہ اپنے سارے خداؤں کو ٹھکرا کر صرف ایک اللہ کو کیسے اپنا معبود بنا لیں۔

Al-A'raaf 7:70Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.