Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 51–60 of 206

51

ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًۭا وَلَعِبًۭا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَجْحَدُونَ

جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے

دنیا دو قسم کی غذاؤں کا دستر خوان ہے۔ ایک دنیوی اور دوسری اخروی۔ ایک انسان وہ ہے جس کی روح کی غذا یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو نمایاں ہوتے ہوئے دیکھے۔ دنیا کی رونقیں اپنے گرد پاکر اسے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مادی سازوسامان کا مالک ہو کر وہ اپنے کو کامیاب سمجھتاہے۔ ایسا آدمی خدا اور آخرت کو بھولا ہوا ہے۔ اس کے سامنے خدا کی بات آئے گی تو وہ اس کوغیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردے گا۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سرسری سلوک کرے گا جیسے وہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہو بلکہ محض کھیل تماشا ہو۔

ایسے آدمی کے ليے آخرت کے انعامات میں کوئی حصہ نہیں۔ اس نے اپنے اندر ایک ایسی روح کی پرورش کی جس کی غذا صرف دنیا کی چیزیں بن سکتی تھیں۔ پھرآخرت کی چیزوں سے اس کی روح کیوں کر اپني خوراک پاسکتی ہے۔ جو انسان آج آخرت میں نہ جیا ہو اس کے ليے آخرت کل کے دن بھی زندگی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

دوسرا نسان وہ ہے جو غیبی حقیقتوں میں گم رہا ہو۔ جس کی روح کو آخرت کی یاد میں لذت ملی ہو۔ جس کی غذا یہ رہی ہو کہ وہ خدا میں جيے اور خدا کی فضاؤں میں سانس لے۔ یہی وہ انسان ہے جس کے ليے آخرت رزق کا دسترخوان بنے گی۔ وہ جنت کے باغوں میں اپنے ليے زندگی کا سامان حاصل کرلے گا۔ اس نے عالم غیب میں خدا کو پایا تھا اس ليے عالم شہود میں بھی وہ خدا کو پالے گا۔

خدا کی دنیا میں آدمی خداکو کیوں بھلا دیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا ایسی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتا ہے جو صرف سوچنے سے ذہن کی پکڑ میں آتی ہیں، جب کہ دنیا کی چیزیں آنکھوں کے سامنے اپنی تمام رونقوں کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ آدمی ظاہری چیزوں کی طرف جھک جاتا ہے اور خدا کی طرف اشارہ کرنے والی نشانیوں کو نظر انداز کردیتا ہے۔ مگر ایسا ہر عمل دنیا کی قیمت پر آخرت کوچھوڑنا ہے۔ اور جس نے موت سے پہلے والی زندگی میں آخرت کو چھوڑا وہ موت کے بعد والی زندگی میں بھی آخرت سے محروم رہے گا۔

اللہ جب ایک چیز کو حق کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے لائے اور وہ اس کو اہمیت نہ دیں، وہ اس کے ساتھ غیر سنجیدہ معاملہ کریں تو یہ دراصل خود خدا کو غیر اہم سمجھنا اوراس کے ساتھ غيرسنجیدہ معاملہ کرنا ہے۔دنیا میں حق کو نظر انداز کرنے سے آدمی کا کچھ بگڑتا نہیں، حق کی پشت پر جو خدائی طاقتیں ہیں وہ ابھی غیب میں ہونے کی وجہ سے اس کو نظر نہیں آتیں۔یہ صورت حال اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ جو لوگ اس طرح حق کو نظر انداز کریں وہ یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ خدا بھی آخرت کے دن انھیں نظر انداز کردے۔

Al-A'raaf 7:51Listen in Qur'an →
52

وَلَقَدْ جِئْنَٰهُم بِكِتَٰبٍۢ فَصَّلْنَٰهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًۭى وَرَحْمَةًۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے

قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔

مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے ليے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔

اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانك ديكھے گا كه وه بالكل بے سهارا هوچكا هے۔ وه جن مسائل كو اهم سمجھ كر ان ميں الجھا هوا تھااس دن وه بالكل بے حقيقت نظر آئيں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔

آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس ليے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔

جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔

Al-A'raaf 7:52Listen in Qur'an →
53

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُۥ ۚ يَوْمَ يَأْتِى تَأْوِيلُهُۥ يَقُولُ ٱلَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَآءَ فَيَشْفَعُوا۟ لَنَآ أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ ٱلَّذِى كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ

کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا

قرآن آدمی کو موت کے بعد آنے والی زندگی سے ڈراتا ہے، وہ آخرت کے حساب کتاب سے لوگوں کو آگاہ کرتاہے۔ مگر آدمی چوکنّا نہیں ہوتا۔ قرآن کی یہ خبریں اگر چہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ وہ کائنات کی اٹل حقیقتیں ہیں۔ تاہم ابھی وہ واقعات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوئیں، ابھی وہ مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ اس بنا پر غافل انسان یہ سمجھتاہے کہ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتا ہے۔

مگر یہ باتیں خدا کی طرف سے ہیں جو تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔ جن لوگوں نے اپنی فطرت کو بگاڑا نہیں ہے، جن کی آنکھوں پر مصنوعی پردے نہیں پڑے ہوئے ہیں، وہ قرآن کی ان باتوں کو اپنے دل کی آواز پائیں گے۔ وہ ان کو عین وہی چیز معلوم ہوگی جس کی تلاش ان کی فطرت پہلے سے کررہی تھی۔ قرآن ان کے ليے زندگی اور یقین کا خزانہ بن جائے گا۔

اس کے برعکس حال ان لوگوں کا ہے جو قرآن کی آگاہی کو کوئی سنجیدہ چیز نہیں سمجھتے۔ وہ اپنی اسی غفلت کی حالت میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ وہ وقت ان پر پھٹ پڑے جس کی خبر انھیں دی جارہی ہے۔ اس وقت آدمی اچانك ديكھے گا كه وه بالكل بے سهارا هوچكا هے۔ وه جن مسائل كو اهم سمجھ كر ان ميں الجھا هوا تھااس دن وه بالكل بے حقيقت نظر آئيں گے۔ وہ جن چیزوں پر بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ سب اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوں گے۔ وہ جن امیدوں پر جی رہا تھا وہ سب جھوٹی خوش خیالیاں ثابت ہوں گی۔

آخرت کا مسئلہ آج محض ایک نظریہ ہے، وہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نہیں۔ اس ليے آدمی اس کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتا۔ مگر موت کے بعد آنے والی زندگی میں جب آخرت اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ پھٹ پڑے گی، اس وقت ہر آدمی اس بات کو ماننے پر مجبور ہوگا جس کو وہ اس سے پہلے ماننے پر تیار نہیں ہوتا تھا۔ اس وقت آدمی جان لے گا کہ اس سے پہلے جو بات دلیل کی زبان میں کہی جارہی تھی وہ عین حقیقت تھی مگر میں اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہوسکا اس لیے میں اس کو سمجھ بھی نہ پایا۔

جب وہ تمام چیزیں آدمی کا ساتھ چھوڑ دیں گی جن کو وہ دنیا میں اپنا سہارا بنائے ہوئے تھا تو وہ چاہے گا کہ دنیا میں اسے دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ صحیح زندگی گزارے۔ مگر زندگی کا یہ موقع کسی کو دوبارہ ملنے والا نہیں۔

Al-A'raaf 7:53Listen in Qur'an →
54

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ يُغْشِى ٱلَّيْلَ ٱلنَّهَارَ يَطْلُبُهُۥ حَثِيثًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ وَٱلنُّجُومَ مُسَخَّرَٰتٍۭ بِأَمْرِهِۦٓ ۗ أَلَا لَهُ ٱلْخَلْقُ وَٱلْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے

زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔

انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔

کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔

بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔

Al-A'raaf 7:54Listen in Qur'an →
55

ٱدْعُوا۟ رَبَّكُمْ تَضَرُّعًۭا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔

انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔

کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔

بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔

Al-A'raaf 7:55Listen in Qur'an →
56

وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَٰحِهَا وَٱدْعُوهُ خَوْفًۭا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ ٱللَّهِ قَرِيبٌۭ مِّنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا اور خدا سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے

زمین وآسمان اور اس کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ اس پیدا کرنے کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ تمام چیزوں کو بنا کر ان کو انتشار کی حالت میں چھوڑ دیتا۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس نے تمام چیزوں کو ایک حد درجہ کامل اور حکیمانہ نظام کے تحت جوڑا اور ا ن کو اس طرح چلایا کہ ہر چیز ٹھیک اسی طرح کام کرتی ہے جیسا کہ مجموعی مصلحت کے اعتبار سے اس کو کرنا چاہيے۔

انسان بھی اسی دنیا کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ پھر ایسی اصلاح یافتہ دنیا میں اس کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اس کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو بقیہ تمام چیزوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اسی خالق کے منصوبے میں دے دے جس کے منصوبہ میں بقیہ کائنات پوری تابعداری کے ساتھ اپنے آپ کو ديے ہوئے ہے۔

کائنات کی تمام چیزیں احسان (حسن کارکردگی) کی حد تک اپنے آپ کو خدا کے منصوبہ میں شامل كيے ہوئے ہیں۔ اس ليے انسان کو بھی احسان کی حد تک اپنے آپ کو اس کے حوالے کردینا چاہیے۔ یہاں کوئی چیز کبھی اعتداء (اپنی مقررہ حد سے تجاوز) نہیں کرتی۔ اس ليے انسان کے واسطے بھی لازم ہے کہ وہ عدل اور حق کی خدائی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔مزید یہ کہ انسان نطق اور شعور کی اضافی خصوصیات رکھتا ہے۔ اس ليے نطق اور شعور کی سطح پر بھی اس کی حوالگیٔ رب کا اظہار ہونا ضروری ہے۔ انسان کے اندر خدا کی معرفت اتنی گہرائی تک اتر جانا چاہیے کہ اس کی زبان سے بار بار اس کا اظہار ہونے لگے۔ وہ خدا کو اس طرح پکارے جس طرح بندہ اپنے خالق ومالک کو پکارتا ہے۔ اس کو خدا کی خدائی کا اتنا ادراک ہونا چاہيے کہ خدا کے سوا اس کی امیدوں اور اس کے اندیشوں کاکوئی مرجع باقی نہ رہے۔ وہ خدا ہی سے ڈرے اور اسی سے اپنی تمام تمنائیں وابستہ کرے۔ خدا کے ساتھ خوف اور اميد کو وابستہ کرنا خدا کی تابعداری کی آخری اور انتہائی صورت ہے۔

بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس کو خدا کی رحمت حاصل ہو، مگر یہ رحمت صرف ان اشخاص کا حصہ ہے جو اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ متعلق کرلیں کہ ان کے تمام جذبات کا رخ اللہ کی طرف ہوجائے۔ وہ اسی کو پکاریں اور اسی کے ساتھ عاجزی کریں۔ ان کو پانے کی امید اسی سے ہو اور چھننے کا ڈر بھی اسی سے۔ یہی لوگ ہیں جنھوںنے خداکی قربت چاہی اس ليے خدا نے بھی ان کو اپنے قریب جگہ دے دی۔

Al-A'raaf 7:56Listen in Qur'an →
57

وَهُوَ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ بُشْرًۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَقَلَّتْ سَحَابًۭا ثِقَالًۭا سُقْنَٰهُ لِبَلَدٍۢ مَّيِّتٍۢ فَأَنزَلْنَا بِهِ ٱلْمَآءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ ۚ كَذَٰلِكَ نُخْرِجُ ٱلْمَوْتَىٰ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت (یعنی مینھ) سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری (بنا کر) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھا لاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینھ برساتے ہیں۔ پھر مینھ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو (زمین سے) زندہ کرکے باہر نکال لیں گے۔ (یہ آیات اس لیے بیان کی جاتی ہیں) تاکہ تم نصیحت پکڑو

دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔

جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طورپر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بارش پاکر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے۔ وہاں جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہیں اگتا۔

یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتاہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالک اعلیٰ سے قائم ہوجاتاہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی كيفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔

اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھودیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتاہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ جھاڑ جھنکاڑ کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پاکر اس کے اندر سے حسد، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں، نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔

بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لیے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اسکے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی،وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کرکے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔

Al-A'raaf 7:57Listen in Qur'an →
58

وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًۭا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَشْكُرُونَ

جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں

دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کے مادی واقعات اس کے روحانی پہلوؤں کی تمثیل بن گئے ہیں۔

جب کہیں بارش ہوتی ہے تو اس مقام کے ہر حصہ تک اس کا پانی یکساں طورپر پہنچتا ہے۔ مگر فیض اٹھانے کے اعتبار سے مختلف زمینوں کا حال مختلف ہوتا ہے۔ کوئی حصہ وہ ہے کہ پانی اس کو ملا تو اس کے اندر سے ایک لہلہاتا ہوا چمنستان نکل آیا۔ دوسری طرف کسی حصہ کا حال یہ ہوتاہے کہ وہ بارش پاکر بھی بے فیض پڑا رہتا ہے۔ وہاں جھاڑ جھنکاڑ کے سوا کچھ نہیں اگتا۔

یہی حال اس روحانی بارش کا ہے جو خدا کی طرف سے ہدایت کی صورت میں اتری ہے۔ اس ہدایت کا پیغام ہر آدمی کے کانوں تک پہنچتا ہے۔ مگر فائدہ ہر ایک کو اپنی اپنی استعداد کے بقدر ملتاہے۔ جس کے اندر قبول حق کی صلاحیت زندہ ہے وہ اس سے بھر پور فیض حاصل کرتا ہے۔ اس سے اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اس کی فطرت اچانک جاگ اٹھتی ہے۔ اس کا ربط اپنے مالک اعلیٰ سے قائم ہوجاتاہے۔ اس کی خشک نفسیات میں ربانی كيفیات کا باغ کھل اٹھتا ہے۔

اس کے برعکس حال اس شخص کا ہوتا ہے جس نے اپنی فطری سلامتی کو کھودیا ہو۔ ہدایت کی بارش اپنے تمام بہترین امکانات کے باوجود اس کوکوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ اس کے بعد بھی وہ ویسا ہی خشک پڑا رہتاہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے تھا۔ اور اگر اس کے اندر کوئی فصل نکلتی ہے تو وہ جھاڑ جھنکاڑ کی فصل ہوتی ہے۔ ہدایت کی بارش پاکر اس کے اندر سے حسد، حجت بازی، حق کی مخالفت جیسی چیزیں جاگ اٹھتی ہیں، نہ کہ حق کا اعتراف کرنے اور اس کا ساتھ دینے کی۔

بارش کے پانی کو قبول کرنے کے لیے زمین کا خشک ہونا ضروری ہے۔ جو زمین خشک نہ ہو، پانی اس کے اوپر سے گزر جائے گا، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح خدا کی ہدایت صرف اس آدمی کے اندر جڑ پکڑتی ہے جو اس کا طالب ہو جس نے اپنی روح کو غیر خدائی باتوں سے خالی کر رکھا ہو۔ اسکے برعکس جو شخص خدا کی ہدایت سے بے پروا ہو، جس کا دل دوسری دلچسپیوں یا دوسری عظمتوں میں اٹکا ہوا ہو، اس کے پاس خدا کی ہدایت آئے گی مگر وہ اس کے اندرون میں داخل نہیں ہوگی،وہ اس کی روح کی غذا نہیں بنے گی، وہ اس کی فطرت کی زمین کو سیراب کرکے اس کے اندر خدا کا باغ نہیں اگائے گی۔

Al-A'raaf 7:58Listen in Qur'an →
59

لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥٓ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے (ان سے کہا) اے میری برادری کے لوگو خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا (بہت ہی) ڈر ہے

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔

حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

Al-A'raaf 7:59Listen in Qur'an →
60

قَالَ ٱلْمَلَأُ مِن قَوْمِهِۦٓ إِنَّا لَنَرَىٰكَ فِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍۢ

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں (مبتلا) دیکھتے ہیں

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔

حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

Al-A'raaf 7:60Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.