Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 41–50 of 206

41

لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌۭ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍۢ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

آیت 41 لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ آگ کے گدے ہوں گے بچھانے کے لیے اور اسی کے لحاف ہوں گے اوڑھنے کے لیے۔ اور اسی آگ کے اندر ان کا گزر بسر ہوگا۔

Al-A'raaf 7:41Listen in Qur'an →
42

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے

آیت 42 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَآز اولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِج ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ یہ مضمون سورة البقرۃ کی آخری آیت میں بھی آچکا ہے۔ اب یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ آخرت کا محاسبہ انفرادی طور پر ہوگا اور ہر فرد کی صلاحیتوں اور اس کو ودیعت کی گئی نعمتوں کے عین مطابق ہوگا۔ کسی کی استطاعت سے زیادہ کی ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی جائے گی۔

Al-A'raaf 7:42Listen in Qur'an →
43

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَآ أَنْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ ۖ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ ۖ وَنُودُوٓا۟ أَن تِلْكُمُ ٱلْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو

آیت 43 وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اہل ایمان بھی آخر انسان ہیں۔ باہمی معاملات میں ان کو بھی ایک دوسرے سے گلے اور شکوے ہوسکتے ہیں اور دلوں میں شکوک و شبہات جنم لے سکتے ہیں۔ دینی جماعتوں کے اندر بھی کسی مامور کو امیر سے ‘ امیر کو مامور سے یا ایک رفیق کو دوسرے رفیق سے شکایت ہوسکتی ہے۔ کچھ ایسے گلے شکوے بھی ہوسکتے ہیں جو دنیا کی زندگی میں ختم نہ ہو سکے ہوں گے۔ ایسے گلے شکو وں کے ضمن میں قرآن حکیم میں کئی مرتبہ فرمایا گیا کہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے سے پہلے ان کے دلوں کو ایسی تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے گا اور وہ لوگ باہم بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے رو برو بیٹھیں گے : وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ الحجر اسی لیے اہل ایمان کو سورة الحشر میں یہ دعا بھی تلقین کی گئی ہے : رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِیْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے اور ہمارے ان بھائیوں کے گناہ معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور اہل ایمان میں سے کسی کے لیے بھی ہمارے دل میں کوئی کدورت باقی نہ رہنے دے ‘ بیشک تو رؤف اور رحیم ہے۔ ان مضامین کی آیات کے بارے میں حضرت علی رض کا یہ قول بھی خاص طور پر سورة الحجر ‘ آیت 47 کے شان نزول میں منقول ہے کہ یہ میرا اور معاویہ رض کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل کرے گا تو دلوں سے تمام کدورتیں صاف کر دے گا۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ علیہ السلام کے درمیان جنگیں ہوئی ہیں تو کتنی کچھ شکایتیں باہمی طور پر پیدا ہوئی ہوں گی۔ ایسی تمام شکایتیں اور کدورتیں وہاں دور کردی جائیں گی۔تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْہٰرُ ج وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدٰٹَنا لِھٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ ھَدٰٹنَا اللّٰہُج لَقَدْ جَآءَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بالْحَقِّ ط وَنُوْدُوْٓا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ بندے کا مقام عبدیت اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اللہ کے انعام و اکرام پر سراپا شکر بن کر پکار اٹھے کہ اے اللہ میں اس لائق نہیں تھا ‘ میرے اعمال ایسے نہیں تھے ‘ میں اپنی کوشش کی بنیاد پر کبھی بھی اس کا مستحق نہیں ہوسکتا تھا ‘ یہ سارا تیرا فضل و کرم ‘ تیری عطا اور تیری دین ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ بندے کے حسن نیت اور اعمال صالحہ کی قدرافزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمائے گا کہ میرے بندے ‘ تو نے دنیا میں جو محنت کی تھی ‘ یہ مقام تیری محنت کا انعام ہے ‘ تیری کوشش کا ثمر ہے ‘ تیرے ایثار کا صلہ ہے۔ تو نے خلوص نیت سے حق کا راستہ چنا تھا ‘ اس میں تو نے نقصان بھی برداشت کیا ‘ باطل کا مقابلہ کرنے میں تکالیف بھی اٹھائیں۔ چناچہ بندے کی کوشش و محنت اور اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم دونوں چیزیں مل کر ہی بندے کی دائمی فلاح کو ممکن بناتی ہیں۔ ہم ایک نیک کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نیت کے خلوص کو دیکھتے ہوئے اس کام کی توفیق دے دیتا ہے اور اسے ہمارے لیے آسان کردیتا ہے۔ اگر ہم ارادہ ہی نہیں کریں گے تو اللہ کی طرف سے توفیق بھی نہیں ملے گی۔ اسی طرح اللہ کی توفیق وتیسیر کے بغیر محض ارادے سے بھی ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

Al-A'raaf 7:43Listen in Qur'an →
44

وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّۭا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّۭا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ

اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت

آیت 44 وَنَادآی اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا جن نعمتوں کا اللہ نے ہم سے وعدہ کیا تھا وہ ہمیں مل گئیں۔ اللہ کا وعدہ ہمارے حق میں سچ ثابت ہوا۔ فَہَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّاط قالُوْا نَعَمْ ج اہل جہنم جواب دیں گے کہ ہاں ! ہمارے ساتھ بھی جو وعدے کیے گئے تھے وہ بھی سب پورے ہوگئے۔ جو وعیدیں ہمیں دنیا میں سنائی جاتی تھیں ‘ عذاب کی جو مختلف شکلیں بتائی جاتی تھیں ‘ وہ سب کی سب حقیقت کا روپ دھار کر ہمارے سامنے موجود ہیں اور اس وقت ہم ان میں گھرے ہوئے ہیں۔

Al-A'raaf 7:44Listen in Qur'an →
45

ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ كَٰفِرُونَ

جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے

آیت 45 الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَیَبْغُوْنَہَا عِوَجًا ج نہ صرف یہ کہ وہ خود ایمان نہیں لائے تھے ‘ بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکنے کی حتی الوسع کوشش کرتے تھے۔ اگر کسی شخص کو محمد رسول اللہ ﷺ کی محفل کی طرف جاتے دیکھتے تو اسے ورغلانے اور بہکانے کے درپے ہوجاتے تھے کہ کہیں آپ ﷺ کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان نہ لے آئے۔

Al-A'raaf 7:45Listen in Qur'an →
46

وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌۭ ۚ وَعَلَى ٱلْأَعْرَافِ رِجَالٌۭ يَعْرِفُونَ كُلًّۢا بِسِيمَىٰهُمْ ۚ وَنَادَوْا۟ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَن سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ

ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے

آیت 46 وَبَیْنَہُمَا حِجَابٌ ج۔ اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ہونے والی اس نوعیت کی گفتگو کا نقشہ زیادہ واضح طور پر سورة الحدید میں کھینچا گیا ہے۔ وہاں آیت نمبر 13 میں فرمایا گیا ہے : فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ ط یعنی ایک طرف جنت اور دوسری طرف دوزخ ہوگی اور درمیان میں فصیل ہوگی جس میں ایک دروازہ بھی ہوگا۔وَعَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلاًّمبِسِیْمٰٹہُمْ ج ۔ یہ اصحاب اعراف اہل جنت کو بھی پہچانتے ہوں گے اور اہل جہنم کو بھی۔ قلعوں کی فصیلوں کے اوپر جو برجیاں اور جھروکے بنے ہوتے ہیں جہاں سے تمام اطراف و جوانب کا مشاہدہ ہو سکے ‘ انہیں عرف جمع اعراف کہا جاتا ہے۔ دوزخ اور جنت کی درمیانی فصیل پر بھی کچھ برجیاں اور جھروکے ہوں گے جہاں سے جنت و دوزخ کے مناظر کا مشاہدہ ہو سکے گا۔ ان پر وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں بین بین کے لوگ تھے ‘ یعنی کسی طرف بھی یکسو ہو کر نہیں رہے تھے۔ ان کے اعمال ناموں میں نیکیاں اور بد اعمالیاں برابر ہوجائیں گی ‘ جس کی وجہ سے ابھی انہیں جنت میں بھیجنے یا جہنم میں جھونکنے کا فیصلہ نہیں ہوا ہوگا اور انہیں اعراف پر ہی روکا گیا ہوگا۔وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْقف لَمْ یَدْخُلُوْہَا وَہُمْ یَطْمَعُوْنَ ۔ وہ اہل جنت کو دیکھ کر انہیں بطور مبارک باد سلام کہیں گے اور ان کی اپنی شدید خواہش اور آرزو ہوگی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جلد از جلد جنت میں داخل کر دے ‘ جو آخر کار پوری کردی جائے گی۔

Al-A'raaf 7:46Listen in Qur'an →
47

۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ

اور جب ان کی نگاہیں پلٹ کر اہل دوزخ کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کیجیو

آیت 47 وَاِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُہُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِلا قالُوْا رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ جنت کے نظارے کے بعد ان کو جہنم کا منظر بھی دکھایا جائے گا ‘ کہ اب ذرا جہنمیوں کی کیفیت کا بھی مشاہدہ کرلو۔ یہ لوگ ابھی تک بین الخوف و الرجاء کی کیفیت میں ہوں گے۔ انہیں جنت میں داخلے کی امید بھی ہوگی اور جہنم میں جھونکے جانے کا خوف بھی۔ اس لیے جب وہ اہل جنت کی طرف دیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے اور ساتھ ہی ان کے دلوں میں امنگیں اور تمنائیں جاگ جائیں گی کہ اللہ ہمیں بھی ان کے ساتھ شامل کر دے۔ لیکن دوسری طرف جب اہل جہنم پر نظر پڑے گی تو فریاد کریں گے کہ پروردگار ! ہم پر رحم فرمائیو اور ہمیں ان ظالم لوگوں کا ساتھی نہ بنائیو !

Al-A'raaf 7:47Listen in Qur'an →
48

وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْأَعْرَافِ رِجَالًۭا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمْ قَالُوا۟ مَآ أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ

اور اہل اعراف (کافر) لوگوں کو جنہیں ان کی صورتوں سے شناخت کرتے ہوں گے پکاریں گے اور کہیں گے (کہ آج) نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کچھ کام آئی اور نہ تمہارا تکبّر (ہی سودمند ہوا)

آیت 48 وَنَادآی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالاً یَّعْرِفُوْنَہُمْ بِسِیْمٰٹہُمْ قَالُوْا مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ وہ انہیں یاد دلائیں گے کہ وہ تمہارے حاشیہ نشین ‘ تمہارے وہ لاؤ لشکر ‘ تمہارا وہ غرور وتکبر ‘ وہ جاہ وحشم سب کہاں گئے ؟ اے ابو جہل ! یہ تیرے ساتھ کیا ہوا ؟ اور اے ولید بن مغیرہ ! یہ تیرا کیا انجام ہوا ؟

Al-A'raaf 7:48Listen in Qur'an →
49

أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ

(پھر مومنوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے) کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا (تو مومنو) تم بہشت میں داخل ہو جاؤ تمہیں کچھ خوف نہیں اور نہ تم کو کچھ رنج واندوہ ہوگا

آیت 49 اَہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ ط اصحاب اعراف کو جنت والوں میں فقراء صحابہ رض ‘ بھی نظر آئیں گے ‘ وہاں وہ حضرت بلال رض کو بھی دیکھیں گے ‘ وہاں ان کی نظر حضرت صہیب رومی رض اور حضرت یاسر رض پر بھی پڑے گی۔ چناچہ وہ ان اصحاب جنت کی طرف اشارہ کر کے جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کیا یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی طرح بھی ہم پر فضیلت نہیں دے سکتا ‘ ان تک اللہ کی کوئی رحمت پہنچ ہی نہیں سکتی ‘ کیونکہ تمہارے زعم میں تو وہ مفلس اور نادار تھے ‘ گھٹیا طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور گرے پڑے لوگ تھے ! اور تم تھے کہ اس وقت ان کے مقابلے میں اپنی دولت ‘ حیثیت ‘ وجاہت اور طاقت کے بل پر اکڑا کرتے تھے۔

Al-A'raaf 7:49Listen in Qur'an →
50

وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا۟ عَلَيْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ

اور وہ دوزخی بہشتیوں سے (گڑگڑا کر) کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے (کچھ ہمیں بھی دو) وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کر دیا ہے

آیت 50 وَنَادآی اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْاعَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ط قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ اہل جنت جواب دیں گے کہ ہم تو شاید یہ چیزیں تم لوگوں کو دینا بھی چاہتے ‘ کیونکہ ہماری شرافت سے تو یہ بعید تھا کہ تمہیں کو را جواب دیتے ‘ لیکن کیا کریں ‘ اللہ نے کافروں کے لیے جنت کی یہ سب چیزیں حرام کردی ہیں ‘ لہٰذا ہم یہ نعمتیں تمہاری طرف نہیں بھیج سکتے۔

Al-A'raaf 7:50Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.