لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌۭ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍۢ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ
ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں ٭٭
کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لیے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔
صفحہ نمبر2902
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» پڑھی۔ یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14620:صحیح]
مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی۔ سب بیٹھ گئے، ہم اس طرح خاموش اور باادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کر دو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ پھر فرمایا: مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے، اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے، ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی ہے، فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے اطمینان والی روح! اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل۔ یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا، وہ لے کر کہتے ہیں: فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہو جاتی ہے، اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس میرے بندے کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔
صفحہ نمبر2903
پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے۔ وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے، کون تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے، اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی، اس کی خوشبو اور وہاں کی ہوا آتی رہتی ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی …