Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 31–40 of 206

31

۞ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ خُذُوا۟ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَكُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ

اے نبی آدم! ہر نماز کے وقت اپنے تئیں مزّین کیا کرو اور کھاؤ اور پیؤ اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا

عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔

انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔

آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔

Al-A'raaf 7:31Listen in Qur'an →
32

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ ٱللَّهِ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِۦ وَٱلطَّيِّبَٰتِ مِنَ ٱلرِّزْقِ ۚ قُلْ هِىَ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا خَالِصَةًۭ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۗ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

پوچھو تو کہ جو زینت (وآرائش) اور کھانے (پینے) کی پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن خاص ان ہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں سمجھنے والوں کے لیے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔

انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔

آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔

Al-A'raaf 7:32Listen in Qur'an →
33

قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّىَ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلْإِثْمَ وَٱلْبَغْىَ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا۟ بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ سُلْطَٰنًۭا وَأَن تَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بےحیائی کی باتوں کو ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے۔ اور اس کو بھی کہ تم کسی کو خدا کا شریک بناؤ جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس کو بھی کہ خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں

عرب کے کچھ قبائل ننگے ہو کر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کو بڑی قربت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح جاہلیت کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ حج کے ليے نکلتے تو بعض متعین چیزیں مثلاً بکری کا دودھ یا گوشت استعمال کرنا چھوڑ دیتے اور یہ خیال کرتے کہ وہ پرہیز گاری کا کوئی بڑا عمل کررہے ہیں۔ یہ گمراہی کی وہ قسم ہے جس میں ہر زمانہ کے لوگ مبتلا رہے ہیں۔ ایسے افراد اپنی حقیقی اور مستقل زندگی میں دین کے تقاضوں کو شامل نہیں کرتے۔ البتہ چند مواقع پر کچھ غیر متعلق قسم کے بے فائدہ اعمال کا خصوصی اہتمام کرکے یہ مظاہرہ کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر معمولی جزئیات کی حد تک عمل کررہے ہیں۔ وہ خدا کی مرضیات پر کامل ادائيگی کے حد تک قائم ہیں۔

انسان کے بارے میں اللہ کی اصل مرضی تو یہ ہے کہ آدمی اسراف سے بچے، وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہ کرے۔ وہ حلال کو حرام نہ کرے اور خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں کو اپنے ليے حلال نہ سمجھ لے۔ وہ فحش کاموں سے اپنے کو دور رکھے۔ وہ ان برائیوں سے بچے جن کا برا ہونا عقل عام سے ثابت ہوتا ہے۔ وہ بَغْی کی روش چھوڑ دے۔ جب بھی اس کے سامنے کوئی حق آئے تو ہر دوسری چیز کو نظر انداز کرکے وہ حق کو اختیار کرلے۔ وہ شرک سے اپنے آپ کو پوری طرح پاک کرے، اللہ کے سوا کسی سے وہ برتر تعلق قائم نہ کرے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اپنی پسند کا ایک طریقہ اختیار کرے اور اس کو بلا دلیل خدا کی طرف منسوب کردے، اپنے ذاتی دین کو خدا کا دین کہنے لگے۔ وہ پوری طرح خدا کا بندہ بن کر رہے، ایسی کوئي روش اختیار نہ کرے جو بندہ ہونے کے اعتبار سے اس کے ليے درست نہ ہو۔

آخرت میں کسی کو جو نعمتیں ملیں گی وہ بطور انعام ملیں گی۔ اس ليے وہ صرف ان خدا کے بندوں کے ليے ہوں گی جن کے ليے خدا جنت میں داخلہ کا فیصلہ کرے گا۔ مگر دنیا میں کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ محدود مدت کے ليے بطور آزمائش ملتی ہیں۔ اس ليے یہاں کی نعمتوں میں ہر ایک کو اس کے پرچۂ امتحان کے بقدر حصہ مل جاتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ آدمی خود سامان امتحان سے دوری اختیار کرلے۔ بلکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو مقرر کی ہوئی حدود کے مطابق استعمال کرے۔ وہ ان کے ملنے پر شکر کا جواب پیش کرے، نہ کہ بے نیازی اور ڈھٹائی کا۔

Al-A'raaf 7:33Listen in Qur'an →
34

وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌۭ ۖ فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةًۭ ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

اور ہر ایک فرقے کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ آ جاتا ہے تو نہ تو ایک گھڑی دیر کرسکتے ہیں نہ جلدی

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔

کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔

آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

Al-A'raaf 7:34Listen in Qur'an →
35

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌۭ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ ءَايَٰتِى ۙ فَمَنِ ٱتَّقَىٰ وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

اے نبی آدم! (ہم تم کو یہ نصیحت ہمیشہ کرتے رہے ہیں کہ) جب ہمارے پیغمبر تمہارے پاس آیا کریں اور ہماری آیتیں تم کو سنایا کریں (تو ان پر ایمان لایا کرو) کہ جو شخص (ان پر ایمان لا کر خدا سے) ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔

کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔

آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

Al-A'raaf 7:35Listen in Qur'an →
36

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی وہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔

کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔

آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

Al-A'raaf 7:36Listen in Qur'an →
37

فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ يَنَالُهُمْ نَصِيبُهُم مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ قَالُوٓا۟ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا وَشَهِدُوا۟ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا۟ كَٰفِرِينَ

تو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ ان کو ان کے نصیب کا لکھا ملتا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے تو کہیں گے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ (اب) کہاں ہیں؟ وہ کہیں گے (معلوم نہیں) کہ وہ ہم سے (کہاں) غائب ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ بےشک وہ کافر تھے

موجودہ دنیا میں کسی کو کام کا موقع اسی وقت تک ہے جب تک اس کی امتحان کی مقررہ مدت پوری ہوجائے۔ فرد کی مدت اس کی عمر کے ساتھ پوری ہوتی ہے۔ مگر قوم کے بارے میں خدائی فیصلہ کے نفاذ کی اس قسم کی کوئی حد نہیں۔اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ حق کے سامنے آنے کے بعد وہ اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتی ہے۔ جس قوم کی مدت پوری ہو جائے اس کو کبھی غیر معمولی عذاب بھیج کر فنا کردیا جاتا ہے اور کبھی اس کی سزا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عزت وبڑائی کے مقام سے ہٹا دیا جائے۔

کسی آدمی کے ليے جنت یا دوزخ کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ جب بھی کوئی حق ایسے دلائل کے ساتھ سامنے آجائے جس کی صداقت پر آدمی کی عقل گواہی دے رہی ہوتو اس آدمی پر گویا خدا کی حجت پوری ہوگئی۔ اس کے بعد بھی اگر آدمی اس حق کو ماننے سے انکار کرتاہے تو وہ یقینا ًکبر کی وجہ سے ایسا کررہا ہے۔ اپنے آپ کو بڑا رکھنے کی نفسیات اس کے ليے رکاوٹ بن گئی کہ وہ حق کو بڑا بنا کر اس کے مقابلہ میں اپنے كو چھوٹا بنانے پر راضی کرلے ۔ ایسے آدمی کے ليے خدا کے یہاں جہنم کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔

آدمی جب بھی حق کا انکار کرتاہے تو وہ کسی اعتماد کے اوپر کرتاہے۔ کسی کو دولت واقتدار کا اعتماد ہوتاہے۔ کوئی اپنی عزت ومقبولیت پر بھروسہ كيے ہوئے ہوتا ہے۔ کسی کو یہ اعتماد ہوتاہے کہ اس کے معاملات اتنے درست ہیں کہ حق کو نہ ماننے سے اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔کسی کو یہ ناز ہوتا ہے کہ اس کی ذہانت نے اپنی بات کو عین خدا کی بات ثابت کرنے کے ليے شاندار الفاظ دریافت کر ليے ہیں۔ مگر یہ انسان کی بہت بڑی بھول ہے۔ وہ آزمائش کی چیزوں کو اعتماد کی چیز سمجھے ہوئے ہیں۔ قیامت کے دن جب یہ تمام جھوٹے سہارے اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو اس وقت اس کے ليے یہ سمجھنا مشکل نہ ہوگا کہ وہ محض سرکشی کی بنا پر حق کا انکار کرتا رہا۔ اگرچه اپنے انکار کو جائز ثابت کرنے کے ليے وہ بہت سے اصولی الفاظ بولتا تھا۔

Al-A'raaf 7:37Listen in Qur'an →
38

قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌۭ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًۭا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًۭا ضِعْفًۭا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّۢ ضِعْفٌۭ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ

تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے

اس آیت میں ’’ اُمت ‘‘ سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور ’’اُخت‘‘ سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دو ر کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیامیں تووہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور فدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو ۔ تمہاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اوراس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیرؤوں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسا دین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کےسچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی، مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔

رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس ليے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے ليے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔

پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس ليے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہاہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اس کو اتنا زیادہ سخت ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔

دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔

Al-A'raaf 7:38Listen in Qur'an →
39

وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍۢ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ

اور پہلی جماعت پچھلی جماعت سے کہے گی کہ تم کو ہم پر کچھ بھی فضیلت نہ ہوئی تو جو (عمل) تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے میں عذاب کے مزے چکھو

اس آیت میں ’’ اُمت ‘‘ سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور ’’اُخت‘‘ سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں۔ آخرت میں جب ہر دو ر کے بے راہ قائدین اور ان کا ساتھ دینے والے بے راہ عوام جہنم میں ڈالے جائیں گے تو یہ ایک بڑا عبرت ناک منظر ہوگا۔ دنیامیں تووہ ایک دوسرے کے بڑے خیر خواہ اور فدا کار بنے ہوئے تھے۔ قائدین اپنے عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے اور عوام اپنے قائدین کو ہیرو بنائے ہوئے تھے۔ مگر جب جہنم کی آگ انہیں پکڑے گی تو ان کی آنکھوں سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے۔ اب ہر ایک دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھنے لگے گا۔ پیروی کرنے والے اپنے قائدین سے کہیں گے کہ تم پر لعنت ہو ۔ تمہاری قیادت کیسی بری قیادت تھی جس نے چند دن کے جھوٹے تماشے دکھائے اوراس کے بعد ہم کو اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔ اس کے جواب میں قائدین اپنے پیرؤوں سے کہیں گے کہ تم اپنی پسند کا ایک دین چاہتے تھے اور ایسا دین ہمارے پاس دیکھ کر ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔ ورنہ عین اسی زمانہ میں ایسے بھی خدا کے بندے تھے جو تم کو کامیابی کےسچے راستہ کی طرف بلاتے تھے۔ تم نے ان کی پکار سنی، مگر تم نے ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔

رہنما اپنے پیروؤں سے کہیں گے کہ تم کسی اعتبار سے ہم سے بہتر نہیں ہو۔ ہم نے اپنی خواہشوں کی خاطر قیادتیں کھڑی کیں اور تم نے بھی اپنی خواہشوں کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں کا درجہ ایک ہے۔ اس ليے یہاں تم کو بھی وہی سزا بھگتنی ہے جو ہمارے ليے ہمارے اعمال کے سبب سے مقدر کی گئی ہے۔

پیروؤں کی جماعت اپنے رہنماؤں کے بارے میں خدا سے کہے گی کہ انھوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا اس ليے ان کو ہمارے مقابلہ میں دگنا عذاب دیا جائے۔ جواب ملے گا کہ تمھارے رہنماؤں میں سے ہر ایک کو دگنا عذاب مل رہاہے مگر تم کو اس کا احساس نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جہنم میں جس کو جو عذاب ملے گا وہ اس کو اتنا زیادہ سخت ہوگا کہ وہ سمجھے گا کہ مجھ سے زیادہ تکلیف میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہر شخص جس تکلیف میں ہوگا وہی تکلیف اس کو سب سے زیادہ معلوم ہوگی۔

دنیا میں مفاد پرست رہنما اور ان کے مفاد پرست پیرو خوب ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہر ایک کے پاس دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں۔ ہر ایک دوسرے کی بہتری میں لگا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں ہر ایک دوسرے سے نفرت کرے گا، ہر ایک دوسرے کو شدید تر عذاب میں دھکیلناچاہے گا۔

Al-A'raaf 7:39Listen in Qur'an →
40

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

خدا کے داعیوں کے مقابلہ میں کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ان کے مدعو کے اندر متکبرانہ نفسیات جاگ اٹھتی ہیں اور وہ ان کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ داعی کی طرف صرف نشانی (دلیل) کا زور ہوتا ہے اور مدعو کی طرف مادی رونقوں کا زور۔داعی دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتاہے اور اس کے مدعو مادیات کی بنیاد پر ۔ دلیل کی طاقت دکھائی نہیں دیتی اور مادی طاقت آنکھوںسے دکھائی دیتی ہے۔ یہی فرق لوگوں کے اندر کبر کا مزاج پیدا کردیتا ہے۔ لوگ داعی کو اپنے مقابلہ میں حقیر سمجھ کر اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔

ایسے لوگوں کا خدا کی رحمت میں داخل ہونا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا۔ انھوں نے خدا کو نظر انداز کیا اس ليے خدا نے بھی ان کو نظر انداز کردیا۔ خدا نے اپنے داعی کے ذریعے ان کو اپنی جھلکیاں دکھائیں۔ خدا ان کے سامنے دلائل کے روپ میں ظاہر ہوا مگر انھوںنے اس کو بے وزن سمجھا۔ انھوں نے خدائی نشانیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا۔ ایسے لوگ کیوں کر خدا کی رحمتوں میں حصہ پاسکتے ہیں۔

دوزخیوں کا یہ حال ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے وہ وہاں ايك دوسرے كے دشمن بن جائيں گے اور ایک دوسرے پر لعنت کررہے ہوں گے۔ مگر جنت کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوگا۔ یہاں سب کے دل ایک دوسرے کے ليے کھلے ہوئے ہوں گے۔ ہر ایک کے دل میں دوسرے کے ليے محبت اور خیرخواہی کا چشمہ پھوٹ رہا ہوگا۔ دوزخی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک دکھ بھری داستان بنا ہوا ہوگا اور جنتی انسان کے ليے اس کا ماضی ایک خوش گوار یاد۔

برے لوگوں کے ليے ان کی اگلی زندگی اس طرح شروع ہوگی کہ ان کا سینہ حسرت اور یاس کا قبرستان بنا ہوا ہوگا۔ ان کا ماضی ان کے لیے تلخ یادوں کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ دوسری طرف اچھے لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ ان کی زبانیں اس خدا کی یاد سے تر ہوں گی جس کو انھوں نے بجا طورپر اپنا سہارا بنایا تھا۔ وہ حق کے علم برداروں کی دی ہوئی خبر کو عین سچا پاکر خوش ہورہے ہوں گے کہ خدا کا یہ کتنا بڑا احسان تھا کہ اس نے انھیں ان داعیان حق کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائی۔

Al-A'raaf 7:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.