Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 206

21

وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ

اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں

جنت اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ آدم اور ان کی بیوی کے لیے کھلی ہوئی تھی۔ اس میں طرح طرح کی چیزیں تھیں اور خدا کی طرف سے ان کو آزادی تھی کہ ان کو جس طرح چاہیں استعمال کریں۔بے شمار جائز چیزوں کے درمیان صرف ایک چیز کے استعمال سے روک دیاگیا تھا۔ شیطان نے اسی ممنوعہ مقام سے ان پر حملہ کیا۔ اس نے وسوسہ اندازیوں کے ذریعہ سکھایا کہ جس چیز سے تمھیں روکا گیا ہے وہی جنت کی اہم ترین چیز ہے۔ اسی میں تقدس اور ابدیت کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ آدم اور ان کی بیوی ابلیس کی مسلسل تلقین سے متاثر ہوگئے۔اور بالآخر ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ مگر جب انھوں نے ایسا کیا تو نتیجہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس نکلا۔ ان کی اس خلاف ورزی نے خدا کا لباسِ حفاظت ان کے جسم سے اتار دیا۔ وہ اس دنیا میں بالکل بے یارومددگار ہو کر رہ گئے جہاں اس سے پہلے ان کو ہرطرح کی سہولت اور حفاظت حاصل تھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا وہ خاص حربہ کیا ہے جس سے وہ انسان کو بہکا کر خدا کی رحمت ونصرت سے دور کردیتا ہے۔ وہ ہے — حلال رزق کے پھیلے ہوئے میدان کو آدمی کی نظر میں کمتر کرکے دکھانا اور جو چند چیزیں حرام ہیں ان کو خوب صورت طورپر پیش کرکے یقین دلانا کہ تمام بڑے بڑے فائدوں اور مصلحتوں کا راز بس انھیں چند چیزوں میں چھپا ہوا ہے۔

شیطان اپنا یہ کام ہر ایک کے ساتھ اس کے اپنے ذوق اور حالات کے اعتبار سے کرتا ہے ۔ کسی کو تمام قیمتی غذاؤں سے بے رغبت کرکے یہ سکھاتا ہے کہ شاندار تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہو تو شراب پیو۔ کہیں لاکھوں بے روزگار مرد کام کرنے کے ليے موجود ہوں گے مگر وہ ترغیب دے گا کہ اگر ترقی کی منزل تک جلد پہنچنا چاہتے ہو تو عورتوں کو گھر سے باہر لاکر انھیں مختلف تمدنی شعبوں میں سرگرم کردو۔ کسی کے پاس اپنے مخالف کو زیر کرنے کا یہ قابل عمل طریقہ موجود ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو مستحکم بنائے مگر شیطان اس کے کان میں ڈالے گا کہ تمھارے ليے اپنے مخالف کو شکست دینے کا سب سے زیادہ کار گر طریقہ یہ ہے کہ اس کے خلاف تخریبی کارروائیاں شروع کردو۔ کسی کے ليے ’’اپنی تعمیر آپ‘‘ کے میدان میں کام کرنے کے ليے بے شمار مواقع کھلے ہوئے ہوں گے مگر وہ سکھائے گا کہ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبہ کا طوفان برپا کرنا اپنے کو کامیابی کی طرف لے جانے کا سب سے زیادہ قریبی راستہ ہے۔ کسی کے سامنے حکومت وقت سے تصادم کیے بغیر بے شمار دینی کام کرنے کے مواقع موجود ہوں گے مگر وہ اس کو اس غلط فہمی ميں ڈالے گا کہ غیر اسلامی حکمرانوں کو اگر کسی نہ کسی طرح پھانسی پر چڑھادیا جائے یا ان کو گولی مار کر ختم کردیا جائے تو اس کے بعد آناً فاناً اسلام کا مکمل نظام سارے ملک میں قائم ہو جائے گا، وغیرہ۔

Al-A'raaf 7:21Listen in Qur'an →
22

فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍۢ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے

آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔

آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔

شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔

اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Al-A'raaf 7:22Listen in Qur'an →
23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے

آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔

آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔

شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔

اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Al-A'raaf 7:23Listen in Qur'an →
24

قَالَ ٱهْبِطُوا۟ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۭ ۖ وَلَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّۭ وَمَتَٰعٌ إِلَىٰ حِينٍۢ

(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے

آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔

آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔

شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔

اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Al-A'raaf 7:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ

(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے

آدم اور شیطان دونوں ایک دوسرے کے دشمن کی حیثیت سے زمین پر بھیجے گئے ہیں۔ اب قیامت تک دونوں کے درمیان یہی جنگ جاری ہے۔ شیطان کی مسلسل کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنے راستہ پر لائے اور جس طرح وہ خود خدا کی رحمت سے محروم ہوا ہے انسان کو بھی خدا کی رحمت سے محروم کردے۔ اس کے مقابلہ ميں انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ شیطان کے منصوبہ کو ناکام بنادے۔ وہ شیطان کی پکار کو نظر انداز کرکے خدا کی پکار کی طرف دوڑے۔

آدم اور شیطان کی یہ جنگ عملاً انسانوں میں دو گروہ بن جانے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ کچھ لوگ شیطان کی ترغیبات کا شکار ہو کر اس کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ خدا کی آواز پر لبیک کہہ کر یہ خطرہ مول لیتے ہیں کہ شیطان کے تمام ساتھی اس کو بے عزت کرنے اور ناکام بنانے کے ليے ہر قسم کی تدبیریں کرنا شروع کردیں۔ ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے کہ سچے حق پرست جو ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں، لوگوں کی سخت ترین عداوتوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی شیطان کی دشمنانہ کارروائیاں ہیں۔ وہ لوگوں کو سچے حق پرست آدمی کے خلاف بھڑکا دیتا ہے۔ وہ مختلف طریقہ سے لوگوں کے دل میں اس کے خلاف نفرت کی آگ بھرتا ہے۔ چنانچہ وہ شیطان کا آلۂ کار بن کر ایسے آدمی کو ستانا شروع کردیتے ہیں۔

شیطان کا اصل جرم عدمِ اعتراف تھا۔ شیطان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہر آدمی کے اندر یہی عدم اعتراف کا مزاج پیدا کردے۔ وہ چھوٹے کو بھڑکاتا ہے کہ وہ اپنے بڑے کا لحاظ نہ کرے۔ معاملات کے دوران جب ایک شخص کے ذمہ دوسرے کا کوئی حق آتاہے تو وہ اس کو سکھاتا ہے کہ وہ حق دار کا حق ادا نہ کرے۔ کوئی خدا کا بندہ سچائی کا پیغام لے کر اٹھتا ہے تو لوگوں کے دل میں طرح طرح کے شبہات ڈال کر انھیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بات نہ مانیں۔ دو فریقوں کے درمیان نزاع ہو اور ایک فریق اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ دینے پر راضی ہو جائے تو شیطان فریق ثانی کے ذہن میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اس کی پیش کش کو قبول نہ کرو، اور اتنا زیادہ کا مطالبہ کرو جو وہ نہ دے سکتا ہو۔ تاکہ جنگ وفساد مستقل طورپر جاری رہے۔

اس طرح شیطان کے بہکاؤوںسے ہر جگہ لوگوں کے درمیان دشمنیاں جاری رہتی ہیں۔ انسانوں میں دو گروہ بن جاتے ہیں اور ان میں ایسا ٹکراؤ شروع ہوجاتاہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔

Al-A'raaf 7:25Listen in Qur'an →
26

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًۭا يُوَٰرِى سَوْءَٰتِكُمْ وَرِيشًۭا ۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌۭ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ

اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں

دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔

خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا سی کے ساتھ وه اس کے حسن ووقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتاہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے— اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود كو ملبوس کرتاہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کرليتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔

آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتاہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیںنازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتاہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتاہے۔کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتاہے۔

شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتاہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں كرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرکے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتاہو۔

Al-A'raaf 7:26Listen in Qur'an →
27

يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ كَمَآ أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ ٱلْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْءَٰتِهِمَآ ۗ إِنَّهُۥ يَرَىٰكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُۥ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ

اے نبی آدم (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ستر ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے

دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ اس کی ظاہری چیزیں اس کی باطنی حقیقتوں کی علامت ہیں۔ ظاہری چیزوں پر غور کرکے آدمی چھپی ہوئی حقیقتوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی قسم کی ایک چیز لباس ہے۔

خدا نے انسان کو لباس دیا جو اس کی حفاظت کرتا ہے اور ا سی کے ساتھ وه اس کے حسن ووقار کو بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آدمی کے روحانی وجود کے لیے بھی اسی طرح ایک لباس ضروری ہے، یہ لباس تقویٰ ہے۔ تقویٰ آدمی کا معنوی لباس ہے جو ایک طرف اس کو شیطان کے حملوں سے بچاتاہے اور دوسری طرف اس کے باطن کو سنوار کر اس کو جنت کی لطیف ونفیس دنیا میں بسانے کے قابل بناتا ہے۔ یہ تقویٰ کا لباس کیا ہے۔ یہ ہے— اللہ کا خوف، حق کا اعتراف، اپنے لیے اور دوسروں کے لیے ایک معیار رکھنا، اپنے کو بندہ سمجھنا، تواضع کو اپنا شعار بنانا، دنیا میں گم ہونے کے بجائے آخرت کی طرف متوجہ رہنا۔ آدمی جب ان چیزوں کو اپنائے تو وہ اپنے اندرونی وجود كو ملبوس کرتاہے اور اگر وہ اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو وہ اپنے اندرون کو ننگا کرليتا ہے۔ ظاہری جسم کو کپڑے کا بنا ہوا لباس ڈھانکتا ہے اور باطنی جسم کو تقویٰ کا لباس۔

آدمی کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس کو بہکاتا ہے۔ وہ خدا کے ممنوعہ درخت کو ہر قسم کے خیر کا سرچشمہ بتاتا ہے۔ وہ ایسے معصوم راستوں سے اس کی طرف آتاہے کہ آدمی کا گمان بھی نہیں جاتا کہ ادھر سے اس کی طرف گمراہی آرہی ہوگی۔ شیطان آدمی کے تمام نازک مقامات کو جانتا ہے اور انھیںنازک مقامات سے وہ اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کبھی ایک بے حقیقت نظریہ کو خوبصورت الفاظ میں بیان کرتاہے۔ کبھی ایک جزئی حقیقت کو کلی حقیقت کے روپ میں اس کے سامنے لاتا ہے۔ کبھی معمولی چیزوں میں فوائد کا خزانہ بتا کر سارے لوگوں کو اس کی طرف دوڑا دیتاہے۔کبھی ایک بے فائدہ حرکت میں ترقی کا راز بتاتا ہے۔ کبھی ایک تخریبی عمل کو تعمیر کے روپ میں پیش کرتاہے۔

شیطان کن لوگوں کو بہکانے میں کامیاب ہوتاہے۔ وہ ان لوگوں پر کامیاب ہوتاہے جو امتحان کے مواقع پر ایمان کا ثبوت نہیں دے پاتے۔ جو خدا کی نشانیوں پر غور نہیں كرتے۔ جو دلائل کی زبان میں بات کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جنھیں اپنے ذاتی رجحانات کے مقابلہ میں حق کے تقاضے کو ترجیح دینا گوارا نہیں ہوتا۔ جن کو ایسی سچائی سچائی نظر نہیں آتی جس میں ان کے فائدوں اور مصلحتوں کی رعایت شامل نہ ہو۔ جنھیں وہ حق پسند نہیں آتا جو ان کی ذات کو نیچا کرکے خود ان کے مقابلہ میں اونچا ہونا چاہتاہو۔

Al-A'raaf 7:27Listen in Qur'an →
28

وَإِذَا فَعَلُوا۟ فَٰحِشَةًۭ قَالُوا۟ وَجَدْنَا عَلَيْهَآ ءَابَآءَنَا وَٱللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِٱلْفَحْشَآءِ ۖ أَتَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ

اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور خدا نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو خدا بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم خدا کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں

قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔

قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔

حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔

Al-A'raaf 7:28Listen in Qur'an →
29

قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے

قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔

قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔

حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔

Al-A'raaf 7:29Listen in Qur'an →
30

فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ ٱلضَّلَٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ ٱتَّخَذُوا۟ ٱلشَّيَٰطِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ

ایک فریق کو تو اس نے ہدایت دی اور ایک فریق پر گمراہی ثابت ہوچکی۔ ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر شیطانوں کو رفیق بنا لیا اور سمجھتے (یہ) ہیں کہ ہدایت یاب ہیں

قدیم عرب میں لوگ ننگے ہو کر کعبہ کاطواف کرتے اور اس کی حمایت میں یہ کہتے کہ خدا کی عبادت دنیا کی آلائشوں سے پاک ہو کر فطری حالت میں کرنا چاہیے۔ حالاں کہ برہنگی ایسی کھلی ہوئی برائی ہے جس کا برا ہونا عقل عام سے معلوم ہوسکتاہے، اسی طرح آدمی یہ عقیدہ قائم کرلیتاہے کہ بے عملی اور سرکشی کے باوجود سفارشوں کی بنیاد پر خدا اس کو انعامات سے نوازے گا۔ حالاں کہ وہ اپنے سرکش غلاموں کے معاملہ میں محض کسی کے کہنے سے ایسا نہیں کرسکتا۔ وه معمولی معمولی ناقابلِ فہم اعمال جن سے دنیا میں ایک گھر بھی نہیں بن سکتا، ان سے یہ امید کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے عالی شان محل تعمیر کردیں گے۔ الفاظ کا شور وغل جن سے دنیا میں ایک درخت بھی نہیں اُگتا ان کے متعلق یہ خوش گمانی قائم کرلیتاہے کہ وہ آخرت میں اس کے ليے جنت کے باغ اگا رہے ہیں۔

قِسط سے مراد وہ منصفانہ روش ہے جو ہر ناپ میں پوری اترے، وہ عین وہی ہو جو کہ ہونا چاہيے۔ عبادت انسان کی ایک فطری خواہش ہے۔ وہ کسی کو سب سے اونچا مان کر اس کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہتاہے۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی صرف خدا کا عبادت گزار بنے جو اس کا خالق اور رب ہے۔ انسان کسی کو یہ مقام دینا چاہتاہے کہ وہ اس کے ليے اعتماد کی بنیاد ہو۔ اس معاملہ میں قِسط یہ ہوگا کہ آدمی خدا کو اپنی زندگی میں اعتماد کی بنیاد بنائے جو ساری طاقتوں کا مالک ہے۔ اسی طرح موت کے بعد ایک اور زندگی کو ماننا عین قسط ہے۔ کیوں کہ آدمی جب پیدا ہوتا ہے تو وہ عدم سے وجود کی صورت اختیار کرتاہے۔ اس ليے موت کے بعد دوبارہ پیدا ہونے کو ماننا عین اسی حقیقت کو ماننا ہے جو اول پیدائش کے وقت ہر آدمی کے ساتھ پیش آچکی ہے۔

حق کے داعی کاانکار کرنے کے ليے آدمی قدیم بزرگوں کا سہارا لیتاہے۔ قدیم بزرگ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عظمت تاریخی طورپر قائم ہوچکی ہے۔ ہر آدمی کی نظر میں ان کا برسر حق ہونا مسلمہ امر بنا ہوتا ہے۔ دوسری طرف سامنے کا داعیٔ حق ایک نیا آدمی ہوتا ہے جس کے ساتھ ابھی تاریخ کی تصدیق جمع نہیں ہوئی ہے۔ قدیم بزرگ کوآدمی اس کی تاریخ کے ساتھ دیکھ رہا ہوتا ہے اور نئے داعی کو اس کی تاریخ کے بغیر۔ وہ قدیم بزرگوں کے نام پر داعیٔ حق کا انکار کردیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ عین ہدایت پر ہے۔ مگر اس طرح کی غلط فہمی کسی کے ليے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتی۔ یہ خدا کے نام پر شیطان کی پیروی ہے، نہ کہ حقیقۃً خدا کی پیروی۔

Al-A'raaf 7:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.