وَلَقَدْ خَلَقْنَٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَٰٓئِكَةِ ٱسْجُدُوا۟ لِءَادَمَ فَسَجَدُوٓا۟ إِلَّآ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ
اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا
آیت ” نمبر 11 تا 18۔
یہ پہلا منظر ہے اس قصے کا ۔ نہایت ہی دلچسپ ‘ نہایت ہی اہم ۔ ہم اس قصے کے مناظر اس کی تفسیر سے پہلے پیش کریں گے ۔ ان مناظر سے فارغ ہونے کے بعد ہم اس قصے کے اشارات واثرات پیش کریں گے ۔
آیت ” وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11)
” بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ‘ پھر تمہاری صورت بنائی ‘ پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔
لفظ خلق کبھی تو محض وجود میں لانے کے لئے آتا ہے ۔ اسی طرح تصویر کا مفہوم کبھی یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو شکل و صورت اور خصائص دینا ۔ اس اعتبار سے خلق وتصویر کی تخلیق کے دو مرحلے نہیں ہوتے بلکہ بیک وقت کسی تخلیق میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ ثم کا لفظ ہمیشہ ترتیب زمانی کے لئے استعمال ہو ۔ یہ معنوی ترقی کے مفہوم میں بھی آتا ہے ۔ معنوی اعتبار سے محض وجود کے مقابلے میں مصور ہونا زیادہ ترقی یافتہ شکل ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ محض مادے پر بھی وجود کا اطلاق ہوتا ہے ۔ البتہ تصویر کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں مجرد وجود ہی نہیں بخشا گیا بلکہ ایک ترقی یافتہ مصور اور صاحب خصائص و کمالات وجود دیا گیا ہے ۔ دوسری جگہ آیت ” الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی “۔ جس نے ہر چیز کو اس کا وجود بخشا اور پھر ہدایت دی “۔۔۔۔ ۔۔ اس لئے کہ اللہ نے ہر چیز کو اس کے خصائص اور اس کے مقاصد وفرائض اسی وقت دے دیئے تھے جس وقت انہیں پیدا کیا تھا اور تخلیق کے وقت ہی ہدایت کردی تھی کہ اپنے ان وظائف وفرائض کے لئے کام کرو ‘ اور تخلیق اور ہدایت کے درمیان کوئی زمانی فاصلہ نہ تھا ۔ اگر ہدایت سے مراد رب کی طرف ہدایت لی جائے تب بھی مفہوم میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ تخلیق کرتے ہی اللہ نے انسان کو ہدایت کردی تھی ۔ اسی طرح آدم کو بھی خصائص انسانیت تخلیق کے وقت ہی دے دیئے گئے تھے ۔ اور ثم کا لفظ یہاں ترقی اور مرتبہ کی بڑائی کے معنوں میں ہے ۔ زمانہ ماقبل یا مابعد کے معنی میں نہیں ہے ۔ ہمارے خیال میں یہی مفہوم درست ہے ۔
بہرحال خلق آدم کے بارے میں جس قدر نصوص وارد ہیں اور اس کرہ ارض کے اوپر نسل انسانی کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ انسان کو اس کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے انسانی خصائص اور فرائض منصبی دے دیئے گئے تھے اور انسانی تاریخ میں جو ترقی نظر آتی ہے وہ صرف ان صلاحتیوں کے ظہور میں ہوئی ہے انسان کے تجربے اور اس کی مہارت میں اضافہ بہرحال ہوتا ہے ۔ یہ ترقی انسان کے وجود اور اس کی ذہنی صلاحیت میں نہیں ہوئی لہذا یہ فلسفہ بالکل غلط ہے جو ڈارون نے گھڑا ہے کہ انسان کی ساخت میں ترقی ہوتی رہی ہے۔
ڈارون کا یہ نظریہ کہ حیوانات کے انواع میں ترقی ہوتی رہی ۔ آثار قدیمہ اور پتھروں کی کھدائی پر مبنی ہے ۔ اور محض ظن وتخمین ہے ۔ طبقات الارض کے لحاظ سے بھی پتھروں اور پہاڑوں کی عمر کا تعین کوئی یقین امر نہیں ہے ۔ یہ محض ظنی اور تخمینی فیصلے ہیں۔ مثلا شعاعوں کے ذریعے ستاروں کی عمر معلوم کرنا ۔ یہ علوم جو محض ظن وتخمین اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرے مفروضے بھی ہوسکتے ہیں جو ان سے زیادہ معقول ہو سکتے ہیں ۔
اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ پتھروں اور چٹانوں کی عمر یقینی طور پر متعین ہوگئی ہے تب بھی یہ ممکن ہے کہ قدیم زمانوں سے حیوانات کی مختلف اقسام اپنی موجودہ شکل میں تھیں ۔ ان ادوار میں ان کے لئے حالات ساز گار تھے لیکن بعد میں ان کے لئے حالات ساز گار نہ رہے اور ان کی نوع دنیا سے ختم ہوگئی ۔ لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ان میں سے ایک نوع دوسری نوع کی ترقی یافتہ شکل ہے ۔ ہم دونوں کو مستقل انواع مان سکتے ہیں ۔ ڈارون کی کھدائیاں …