Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Ahsan ul Bayan by Hafiz Salahuddin Yusuf

Ayahs 191–200 of 206

191

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں

Explained together with ayah 190

Al-A'raaf 7:191Listen in Qur'an →
192

وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

Explained together with ayah 190

Al-A'raaf 7:192Listen in Qur'an →
193

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَٰمِتُونَ

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

193۔ 1 یعنی تمہاری بتلائی ہوئی بات پر عمل نہیں کریں گے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ ہے اگر تم ان سے رشدو ہدایت طلب کرو تو وہ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ نہ تمہیں کوئی جواب دیں گے (فتح القدیر)

Al-A'raaf 7:193Listen in Qur'an →
194

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں

194۔ 1 یعنی جب وہ زندہ تھے، بلکہ اب تو تم خود ان سے زیادہ کامل ہو، اب وہ دیکھ نہیں سکتے، تم دیکھتے ہو، وہ سن نہیں سکتے، تم سنتے ہو۔ وہ کسی بات کو سمجھ نہیں سکتے، تم سمجھتے ہو، وہ جواب نہیں دے سکتے، تم دیتے ہو اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین، جن کی مورتیاں بنا کر پوجتے تھے، وہ بھی پہلے اللہ کے بندے یعنی انسان ہی تھے جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پانچ بتوں کی بابت عقیدہ رکھتی تھی جیسا کہ صحیح بخاری میں صراحتا موجود ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے۔

Al-A'raaf 7:194Listen in Qur'an →
195

أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)

195۔ 1 یعنی اب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے پاس موجود نہیں۔ مرنے کے ساتھ ہی دیکھنے سننے، سمجھنے اور چلنے کی طاقت ختم ہوگئی۔ اب ان کی طرف منسوب یا تو پتھر یا لکڑی کی خود تراشیدہ مورتیاں ہیں۔ یا گنبد، قبے اور آستانے ہیں جو ان کی قبروں پر بنالیے گئے اور یوں استخواں فروشی کا کاروبار فروغ پذیر ہے۔

195۔ 2 یعنی اگر تم دعوے میں سچے ہو کہ یہ تمہارے مددگار ہیں تو ان سے کہو کہ میرے خلاف تدبیر کریں۔

Al-A'raaf 7:195Listen in Qur'an →
196

إِنَّ وَلِۦِّىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ

میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے

Explained together with ayah 195

Al-A'raaf 7:196Listen in Qur'an →
197

وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

197۔ 1 جو اپنی مدد آپ کرنے پر قادر نہ ہو وہ بھلا دوسروں کی مدد کیا کریں گے۔

Al-A'raaf 7:197Listen in Qur'an →
198

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے

198۔ 1 اس کا وہی مفہوم ہے جو آیت 193 کا ہے۔

Al-A'raaf 7:198Listen in Qur'an →
199

خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَٰهِلِينَ

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

199۔ 1 بعض علماء نے اس کے معنی کئے ہیں ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو اور یہ زکوٰۃ کی فضیلت سے قبل کا حکم ہے، لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام بن جری اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے، چناچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر تنقید کرنے لگے کہ آپ زکوٰۃ میں نہ پوری عطاء دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر غضب ناک ہوئے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھتیجے تھے) حضرت عمر سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم فرمایا تھا (درگزر اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے پرہیز کیجئیے اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے۔ جس پر حضرت عمر نے درگزر فرمایا اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کردینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

199۔ 2 عُرْف، ُ سے مراد معروف یعنی نیکی ہے۔

199۔ 3 یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرمالیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں۔

Al-A'raaf 7:199Listen in Qur'an →
200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

200۔ 1 اور اس موقع پر اگر آپ کو شیطان اشتعال میں لانے کی کوشش کرے تو آپ اللہ کی پناہ طلب فرمائیں۔

Al-A'raaf 7:200Listen in Qur'an →

Commentary: Ahsan ul Bayan by Hafiz Salahuddin Yusuf. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.