Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad

Ayahs 191–200 of 206

191

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں

آیت 191 اَیُشْرِکُوْنَ مَالاَ یَخْلُقُ شَیْءًا وَّہُمْ یُخْلَقُوْنَ ۔ فرشتے ‘ جنات ‘ انبیاء اور اولیاء اللہ سب کے سب خود اللہ کی مخلوق ہیں۔

Al-A'raaf 7:191Listen in Qur'an →
192

وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

آیت 192 وَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ ۔ وہ تو سب کے سب خود اللہ کے بندے ہیں۔ اب یہاں بات تدریجاً بتوں کی طرف لائی جا رہی ہے۔ نظریاتی طور پر تو ان کے فلسفی بت پرستی کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان پتھر کے بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان مورتیوں کی حیثیت علامتی ہے۔ اصل دیوتا اور دیویاں چونکہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں اس لیے ان کے بارے میں توجہ کے ارتکاز کے لیے ہم بتوں کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس فلسفہ کا خلاصہ ہے جو انڈیا کے ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کے عوام تو ان بتوں ہی کو معبود مانتے ہیں ‘ ان ہی کی پوجا کرتے ہیں ‘ بتوں ہی کے آگے جھکتے ہیں ‘ نذرانے دیتے ہیں اور انہی سے اپنی حاجات مانگتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:192Listen in Qur'an →
193

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَٰمِتُونَ

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

آیت 192 وَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَہُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ ۔ وہ تو سب کے سب خود اللہ کے بندے ہیں۔ اب یہاں بات تدریجاً بتوں کی طرف لائی جا رہی ہے۔ نظریاتی طور پر تو ان کے فلسفی بت پرستی کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان پتھر کے بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان مورتیوں کی حیثیت علامتی ہے۔ اصل دیوتا اور دیویاں چونکہ ہمارے سامنے موجود نہیں ہیں اس لیے ان کے بارے میں توجہ کے ارتکاز کے لیے ہم بتوں کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ اس فلسفہ کا خلاصہ ہے جو انڈیا کے ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں ‘ مگر ان کے عوام تو ان بتوں ہی کو معبود مانتے ہیں ‘ ان ہی کی پوجا کرتے ہیں ‘ بتوں ہی کے آگے جھکتے ہیں ‘ نذرانے دیتے ہیں اور انہی سے اپنی حاجات مانگتے ہیں۔

Al-A'raaf 7:193Listen in Qur'an →
194

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں

آیت 194 اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ وہ فرشتے ہوں یا جنات ‘ دیوی دیوتا ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب تمہاری طرح اللہ ہی کے بندے ہیں۔فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ وہ لائق پرستش ہیں اور کچھ اختیار بھی رکھتے ہیں تو تمہاری پکار یا دعا پر ان کی طرف سے کچھ نہ کچھ جواب تو ضرور ملنا چاہیے۔ بلکہ سورة یونس میں تو یہاں تک واضح کیا گیا ہے کہ روز محشر وہ کہیں گے کہ ہمیں تو خبر ہی نہیں تھی کہ تم لوگ ہماری پوجا پاٹ کرتے رہے ہو : اِنْ کُنَّا عَنْ عِبَادَتِکُمْ لَغٰفِلِیْنَ یعنی ہم تو اس سب کچھ سے غافل تھے کہ تم لوگ ہمیں پکارتے رہے ہو ‘ ہماری دہائیاں دیتے رہے ہو۔ یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیءًا لِلّٰہ جیسے مشرکانہ ورد کرتے رہے ہو۔ اب اگلی آیت میں خاص طور پر بتوں کی طرف اشارہ ہے۔

Al-A'raaf 7:194Listen in Qur'an →
195

أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)

آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔

Al-A'raaf 7:195Listen in Qur'an →
196

إِنَّ وَلِۦِّىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ

میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے

آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔

Al-A'raaf 7:196Listen in Qur'an →
197

وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔

Al-A'raaf 7:197Listen in Qur'an →
198

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے

آیت 195 اَلَہُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِہَآز تم نے ان کے پاؤں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیا وہ ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں ؟قُلِ ادْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنِ فَلاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ رسول اللہ ﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دے دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کرسکتے ہو کر گزرو۔ یہ اسی طرح کا قول فیصل ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اعلان برا ءت کرایا گیا تھا : اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ الانعام۔

Al-A'raaf 7:198Listen in Qur'an →
199

خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَٰهِلِينَ

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

آیت 199 خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ جیسا کہ مکی سورتوں کے آخر میں اکثر حضور ﷺ سے خطاب اور التفات ہوتا ہے یہاں بھی وہی انداز ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے بہت زیادہ بحث مباحثہ میں نہ پڑیں ‘ ان کے رویے سے درگزر کریں اور اپنی دعوت جاری رکھیں۔وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیْنَ ۔ یہ جاہل لوگ آپ ﷺ سے الجھنا چاہیں تو آپ ﷺ ان سے کنارہ کشی کرلیں۔ جیسا کہ سورة الفرقان میں فرمایا : وَاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ اور جب جاہل لوگ ان رحمن کے بندوں سے الجھنا چاہتے ہیں تو وہ ان کو سلام کہتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ سورة القصص میں بھی اہل ایمان کا یہی طریقہ بیان کیا گیا ہے : سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ز لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیْنَ تمہیں سلام ہو ‘ ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگنا چاہتے۔ آیت زیرنظر میں ایک داعی کے لیے تین بڑی بنیادی باتیں بتائی گئی ہیں۔ عفو درگزر سے کام لینا ‘ نیکی اور بھلائی کی بات کا حکم دیتے رہنا ‘ اور جاہل یعنی جذباتی اور مشتعل مزاج لوگوں سے اعراض کرنا۔

Al-A'raaf 7:199Listen in Qur'an →
200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

آیت 200 وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰہِطاِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔ نزع اور نزغ ملتے جلتے حروف والے دو مادے ہیں ‘ ان میں صرف ع اور غ کا فرق ہے۔ نزع کھینچنے کے معنی دیتا ہے جبکہ نزغ کے معنی ہیں کچوکا لگانا ‘ اکسانا ‘ وسوسہ اندازی کرنا۔ یعنی اگر بر بنائے طبع بشری کبھی جذبات میں اشتعال اور غصہ آہی جائے تو فوراً بھانپ لیں کہ یہ شیطان کی جانب سے ایک چوک ہے ‘ چناچہ فوراً اللہ کی پناہ مانگیں۔ جیسا کہ غزوۂ احد میں حضور ﷺ کو غصہ آگیا تھا اور آپ ﷺ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ نکل گئے تھے : کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ بالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلَی اللّٰہِ 1 یہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا جبکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا ! یہ آیت آگے چل کرسورۂ حٰم السجدۃ میں ایک لفظ ہُوَ کے اضافے کے ساتھ دوبارہ آئے گی : اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ کہ یقیناً وہی ہے سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا۔

Al-A'raaf 7:200Listen in Qur'an →

Commentary: Bayan ul Quran (second edition) by Dr. Israr Ahmad. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.