Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 191–200 of 206

191

أَيُشْرِكُونَ مَا لَا يَخْلُقُ شَيْـًۭٔا وَهُمْ يُخْلَقُونَ

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کیے جاتے ہیں

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Al-A'raaf 7:191Listen in Qur'an →
192

وَلَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُمْ نَصْرًۭا وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Al-A'raaf 7:192Listen in Qur'an →
193

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَتَّبِعُوكُمْ ۚ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ أَدَعَوْتُمُوهُمْ أَمْ أَنتُمْ صَٰمِتُونَ

اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Al-A'raaf 7:193Listen in Qur'an →
194

إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُوا۟ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہیئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں

کائنات اپنے خالق کا جو تعارف کراتی ہے وہ ایسا تعارف ہے جو کسی حال میں شرک کے تصور کو قبول نہیں کرتا۔ کائنات میں بے شمار اجزاء الگ الگ پائے جاتے ہیں۔ مگر تمام اجزاء مل کر ایک ہم آہنگ کُل بن جاتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کا تضاد یا ٹکراؤ نہیں۔ یہ کامل ہم آہنگی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس دنیا کا خالق ومالک ایک ہو اور وہی تنہا اس کو چلا رہا ہو۔

مرد اور عورت کے معاملہ کو دیکھيے۔ ایک مرد اور ایک عورت میں جو کامل مطابقت ہوتی ہے وہ شاید موجودہ کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہے جس کا تجربہ ایک شخص کرتاہے۔ مرد ایک منفرد اور مستقل وجود ہے اور عورت اس سے الگ ایک مستقل وجود۔ مگر یہ مرد اور عورت جب میاں اور بیوی کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دونوں کا وجود اس طرح ایک دوسرے میں شامل ہوجاتا ہے کہ ان میں کوئی دوئی باقی نہیں رہتی۔ ہر ایک کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ میں اُس کے ليے پیدا کیاگیا ہوں اور وہ میرے ليے ۔ دونوں کے درمیان یہ گہری سازگاری اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ ایک ہی ارادہ نے اپنے پیشگی منصوبہ کے تحت دونوں کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے۔ کائنات میں اگر ایک سے زیادہ ہستیوں کی کارفرمائی ہوتی تو دو مختلف اور متضاد چیزوں کے درمیان یہ کامل ہم آہنگی ممکن نہ ہوتی۔

مگر کیسی عجیب بات ہے کہ جس کائنات میں توحید کے اتنے زیادہ دلائل موجود ہیں وہاں آدمی شرک کو اپنا مذہب بناتا ہے۔ دو انسانوں میں ’’وحدت‘‘ کے کرشمہ سے ایک تیسرے بچہ نے جنم لیا مگر جب وہ پیدا ہوگیا تو کسی نے یہ عقیدہ بنا لیا کہ یہ اولاد فلاں زندہ بزرگ کی برکت سے ہوئی ہے۔ کسی نے اس کو مفروضہ دیوتاؤں کی طرف منسوب کردیا۔ کسی نے کہا کہ یہ مادہ کی اندھی طاقتوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہے۔ کسی نے یہ سمجھا کہ یہ خود اس کی اپنی کمائی ہے جو ایک خوبصوت بچہ کی صورت میں اس کو حاصل ہوئی ہے۔

Al-A'raaf 7:194Listen in Qur'an →
195

أَلَهُمْ أَرْجُلٌۭ يَمْشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَيْدٍۢ يَبْطِشُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ أَعْيُنٌۭ يُبْصِرُونَ بِهَآ ۖ أَمْ لَهُمْ ءَاذَانٌۭ يَسْمَعُونَ بِهَا ۗ قُلِ ٱدْعُوا۟ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِيدُونِ فَلَا تُنظِرُونِ

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)

بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

Al-A'raaf 7:195Listen in Qur'an →
196

إِنَّ وَلِۦِّىَ ٱللَّهُ ٱلَّذِى نَزَّلَ ٱلْكِتَٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى ٱلصَّٰلِحِينَ

میرا مددگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (برحق) نازل کی۔ اور نیک لوگوں کا وہی دوستدار ہے

بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

Al-A'raaf 7:196Listen in Qur'an →
197

وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں

بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

Al-A'raaf 7:197Listen in Qur'an →
198

وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ

اور اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بہ ظاہر) آنکھیں کھولے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے

بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔

Al-A'raaf 7:198Listen in Qur'an →
199

خُذِ ٱلْعَفْوَ وَأْمُرْ بِٱلْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْجَٰهِلِينَ

(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو

توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔

ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔

تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

Al-A'raaf 7:199Listen in Qur'an →
200

وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ نَزْغٌۭ فَٱسْتَعِذْ بِٱللَّهِ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو۔ بےشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

توحید اور آخرت، نیکی اور عدل کی طرف بلانا ’’عُرف‘‘ کی طرف بلانا ہے۔ یعنی ان بھلائیوں کی طرف جو عقل وفطرت کے نزدیک جانی پہچانی ہیں۔ مگر یہ سادہ ترین کام ہر زمانے میں مشکل ترین کام رہاہے۔ انسان کی حُب عاجلہ کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر زمانہ میں لوگ اپني زندگی کا نظام دنیوی مفاد اور ذاتی مصلحتوں کی بنیاد پر قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ حق کا نام لے کر باطل پرستی کے مشغلہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب بھی سچائی کی بے آمیز دعوت اٹھتی ہے تو ہر آدمی اپنے آپ پر اس کی زد پڑتے ہوئے محسوس کرتاہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہر آدمی اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔

ایسی حالت میں داعی کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے درگزر اور اعراض۔ یعنی لوگوں سے الجھے بغیر بالکل ٹھنڈے طورپر اپنا کام جاری رکھنا۔ داعی اگر لوگوں کے نکالے ہوئے شوشوں کا جواب دینے لگے تو حق کی دعوت مناظرہ کی صورت اختیار کرلے گی۔ داعی اگر لوگوں کی طرف سے چھیڑے ہوئے غیر ضروری سوالات میں اپنے کو مشغول کرے تو وہ صرف اپنے وقت اور اپنی طاقت کو ضائع کرے گا۔داعی اگر لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیفوں پر ان سے جھگڑنے لگے تو دعوتِ حق دعوت نہ رہے گی بلکہ معاشی اور سیاسی لڑائی بن جائے گی۔ اس ليے حق کی دعوت کو اس کی اصلی صورت میں باقی رکھنے کے ليے ضروری ہے کہ داعی جاہلوں اور معاندوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواریوں پر صبر کرے اور ان سے الجھے بغیر اپنے مثبت کام کو جاری رکھے۔

تاہم موجودہ دنیا میں کوئی شخص نفس اور شیطان کے حملوں سے خالی نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پر جو چیز آدمی کو بچاتی ہے وہ صرف اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کو بے حد حساس بنا دیتاہے۔ یہی حساسیت موجودہ امتحان کی دنیا میں آدمی کی سب سے بڑی ڈھال ہے۔ جب بھی آدمی کے اندر کوئی غلط خیال آتاہے یا کسی قسم کی منفی نفسیات ابھرتی ہے تو اس کی حساسیت فوراً اس کو بتادیتی ہے کہ وہ پھسل گیا ہے۔ ایک لمحہ کی غفلت کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ اللہ سے معافی مانگتے ہوئے دوبارہ اپنے کو درست کرلیتاہے۔ اس کے برعکس، جو لوگ اللہ کے ڈر سے خالی ہوتے ہیں ان کے اندر شیطان داخل ہو کر اپنا کام کرتا رہتاہے اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھی بن کر وہ کسی گڑھے کی طرف چلے جارہے ہیں۔ حساسیت آدمی کی سب سے بڑی محافظ ہے، جب کہ بے حسی آدمی کو شیطان کے مقابلہ میں غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

Al-A'raaf 7:200Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.