Muslim99Muslim99
← Tafsir library

7. Al-A'raaf

The Heights · Meccan · 206 ayahs

سُورَةُ الأَعۡرَافِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 181–190 of 206

181

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ أُمَّةٌۭ يَهْدُونَ بِٱلْحَقِّ وَبِهِۦ يَعْدِلُونَ

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا رستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔

ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔

یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔

یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔

ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف …

Al-A'raaf 7:181Listen in Qur'an →
182

وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔

ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔

یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔

یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔

ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف …

Al-A'raaf 7:182Listen in Qur'an →
183

وَأُمْلِى لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِى مَتِينٌ

اور میں ان کو مہلت دیئے جاتا ہوں میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔

ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔

وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔

یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔

یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔

ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف …

Al-A'raaf 7:183Listen in Qur'an →
184

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌۭ مُّبِينٌ

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں

قرآن کریم ان آیات میں ان لوگوں کو تنبیہ کر رہا ہے جو اس وقت مکہ میں اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ لیکن یہ آیت مکہ کے لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، ازمنہ مابعد میں بھی امت مسلمہ کے ساتھ اس کے دشمنوں کا یہی سلوک ہے اور ہوگا ، اللہ ان مخالفوں کو مہلت دیتا ہے لیکن اس کی تدبیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں آنکھیں کھول کر کریں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لیں اور اپنے آپ کو جہنمی مخلوق میں شامل نہ کریں۔ اسلام اہل مکہ کو یہ مشورہ دے رہا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں اپنے رویے پر اچھی طرح غور کریں ، کیا وہ دیکھتے نہیں کہ آپ حق کے حامل اور حق کے داعی ہیں۔ نیز اہل مکہ زمین و آسمان کی ساخت اور بادشاہت پر غور کریں۔ کیا اس میں سچائی تک پہنچانے والی آیات و معجزات بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ مہلت جو انہیں دی جا رہی ہے یہ بہت ابدی اور طویل نہیں ہے۔ اللہ کی تدبیر کے وقوع کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ وہ کیوں اس قدر غافل ہوگئے ہیں ؟

اسلام یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کو مدہوشی سے ہوش میں لائے ، ان کو غفلت کے خواب گراں سے جگائے اور انسان کی فطرت کو ان تہوں کے نیچے سے نکال کر باہر لائے جو اس کے اوپر جمی ہوئی ہیں۔ انسانوں کے شعور کو تازہ کرے۔ قرآن انسان کی شخصیت اور انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اور اس کی ان صلاحیتوں کو جگاتا ہے جن کے ذریعہ وہ دعوت اسلام کو قبول کرلیں۔ قرآن کریم محض جامد اور خشک قسم کا مناظرہ نہیں کرتا۔ وہ انسان کی حقیقی شخصیت کو گمراہی کی گہری تہوں کے نیچے سے نکالتا ہے۔

اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْن۔ اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے (جو برا انجام سامنے ٓنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے

قریش کے پاس رسول اللہ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ وہ آپ پر یہ الزام لگاتے کہ آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے اور اس پر دلیل یہ دیتے تھے کہ تم دیکھتے نہیں کہ وہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو عربوں کے معروف اسالیب کلام سے بالکل مختلف ہے۔

قریش جو یہ پر پیگنڈہ کرتے تھے ، اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بک رہے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضور جس دعوت کے حامل ہیں وہ دعوت حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو سننے کے لیے بےتاب رہتے تھے اور اپنے آپ کو کنٹرول نہ کرسکتے تھے کہ اس کے سننے سے باز رہیں۔ اس سماع کے ان پر گہرے اثرات پڑتے تھے۔ اخنس ابن شریق ، ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام ابوجہل کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ سب سے چھپ چھپ کر قرآن سنتے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ یہ تینوں حضرات چھپ کر قرآن سننے کے لیے آئے۔ اس واقعہ کو فی ظلال القرآن میں ہم ذکر کر آئے ہیں۔ نیز عتبہ ابن ربیعہ کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ اس نے خود حضور ﷺ سے سورة فصلت کی آیات سنیں اور انہوں نے اسے متزلزل کردیا۔ اور یہ واقعات بھی مشہور ہیں کہ یہ لوگ موسم حج میں لوگوں کو قرآن سے دور رکھنے کی تدبیر کرتے۔ ولید ابن مغیرہ لوگوں سے کہتے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام ، دعوت اسلام اور قرآن کی حقانیت میں شک نہ رکھتے تھے بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس دعوت سے مقابلے میں بڑا سمجھتے تھے۔ پھر ان کو یہ خطرہ تھا کہ جب ہم لا الہ الا اللہ مھمد رسول اللہ کا اقرار کرلیں گے تو پھر محمد ہمارے حاکم اور مقتدر اعلی ہوں گے۔ کیونکہ اس کلمے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان انسانوں کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی میں آجائیں اور تمام طاغوتی طاقتوں کو ختم کردیں۔

قرآن مجید ایک عجیب اور منفرد کتاب ہے ، اور اس کا اسلوب بھی لوگوں کے اندر مروج اسالیب کلام سے زیادہ منفرد ہے ، اس لیے قریش اس سے غلط …

Al-A'raaf 7:184Listen in Qur'an →
185

أَوَلَمْ يَنظُرُوا۟ فِى مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍۢ وَأَنْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَىِّ حَدِيثٍۭ بَعْدَهُۥ يُؤْمِنُونَ

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں جو چیزیں خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی اور اس بات پر (خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو۔ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے

اس عجیب کائنات کے بارے میں یہ ایک دوسری کھڑکی ہے اور اس عظیم اور وسیع و عریض کائنات کو کھلی آنکھوں اور بیدار دل کے ساتھ دیکھنے کی دعوت ہے۔ اگر غور سے اس عظیم کائنات ہی پر نظر ڈال لی جائے تو انسانی فطرت جہالت کے جن دبیز پردوں کے نیچے گم ہے وہ باہر نکل آئے اور انسانی شخصیت کے سامنے حق کی راہیں کھل سکتی ہیں اس کائنات میں تخلیق کی عجیب و غریب کارفرمائیاں اور ایسے کارنامے جو معجز ہیں اور جو قادر مطلق اور وحدہ لاشریک کی ذات پر دال ہیں۔ کیا وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر غور نہیں کرتے ، جبکہ اس کائنات میں بیشمار قابل غور چیزیں ہیں جن پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ، انسانی فکر عاجز رہ جاتی ہے اور عقل ان کاریگریوں کے صناع اور کاریگر کی تلاش میں نکل جاتی ہے۔ اور پھر وہ اس ارادے کو جاننا چاہتی ہے جس نے اس خلق کو پیدا کیا اور اس کے لیے اس نظام کو جاری کیا۔

یہ مخلوقات اس طرح کیوں ہے ؟ اس کے علاوہ اس کائنات کے لیے ہزاروں امکانیات تھے۔ یہ کائنات دوسری طرح کیوں نہ بنی۔ دوسرے طریقوں کو چھوڑ کر کیوں یہ کائنات اس موجودہ طریقے پر چل پڑی اور پھر وہ کون سی قوت ہے جو اسے اس نہج پر چلائے رکھتی ہے۔ اس پوری کائنات میں ایک ہی نظام طبیعت جاری وساری ہے ، یہ کیوں ؟ اگر اس کے پیچھے ایک ہی فعال لما یرید نہیں ہے تو اس پوری کائنات میں جاری وساری اور اس کے پیچھے کیوں ایک ہی ارادہ اور ایک ہی ناموس نظر آتا ہے۔ اور ایک ہی تقدیر اور اندازہ مسلسل چل رہا ہے۔

ایک زندہ جسم ! نہیں بلکہ ایک خلیہ ایک عظیم معجزہ ہے جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ اس کا وجود اس کی ترکیب اور اس کے تصرفات اور اس کے اندر پیدا ہونے والی مسلسل تبدیلیاں جو مسلسل اس کے وجود کا تحفظ کرتی ہیں اور اس کے اندر پھر کئی نسلوں تک تجدید نسل کا انتظام۔ پھر تمام نسلوں میں اس کے فرائض کا تعین ، جو شخص اس ایک خلیے کا مطالعہ کرے تو اس کا ضمیر اور اس کی عقل کبھی بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوسکتی کہ یہ کائنات بغیر کسی الہ اور مدبر کے نہیں چل سکتی یا کوئی عقل کبھی بھی اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ بھی ہوسکتا ہے۔

زندگی کا یہ تسلسل بذریعہ نظام نسل کشی بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کائنات ایک خالق اور مدبر کے قانون کے مطابق چل رہی ہے ورنہ کروڑوں سال کے عرصہ میں وہ کون سی طاقت ہے جو نسل کشی کے لیے مرد اور عورت کا ایک تناسب قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایسا دور کیوں نہیں آتا کہ مرد ہی مرد پیدا ہوں صرف عورتیں ہی پیدا ہوں۔ اگر کبھی ایسا واقعہ ہوجائے تو اس دور میں نسل کشی کا خاتمہ ہی ہوجائے۔ سوال یہ ہے کہ نسلاً بعد نسل اس تناسب اور توازن کو کس قوت نے قائم کر رکھا ہے۔

یہ توازن زمین و آسمان کے نظام میں مکمل طور پر کار فرما ہے۔ صرف اس زندہ مخلوق ہی اندر نہیں ہے۔ ایک ایٹم کی ساخت اور کسی مرکب چیز کی ساخت میں مکمل توازن موجود ہے۔ زندہ اور مردہ تمام مخلوقات کے اندر مکمل توازن موجود ہے۔ اور اگر ایک لمحہ بھر کے لیے یہ توازن بگڑ جائے تو یہ کائنات ڈھیر ہوکر رہ جائے۔ لہذا یہ بہت ہی اہم سوال ہے کہ وہ ذات کون سی ہے جس نے یہ توازن زمین و آسمان میں قائم کر رکھا ہے۔

جزیرۃ العرب کے باشندے جن کو سب سے پہلے اس قرآن نے مخاطب کیا ، وہ علوم و فنون میں اس قدر زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے کہ وہ زمین اور آسمانوں کے نظام میں پائے جانے والے نہایت ہی لطیف توازن پر غور کرسکتے یا اللہ کی پیدا کردہ کسی ایک ہی چیز کا سائنسی تجزیہ کرسکتے۔ لیکن انسانی فطرت اس کائنات کے ساتھ اپنی گہرائیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انسانی فطرت اور کائنات کی فطرت کے درمیان قائم ربط سائنسی مکالمات کا محتاج نہیں ہے۔ ان کے درمیان ایک توازن پایا جاتا ہے۔ ہر انسان جس کا دل کھلا ہوا اور آنکھوں میں بصیرت ہو وہ اس ہم آہنگی کو محسوس کرسکتا ہے اور اس کے اشارات کو قبول …

Al-A'raaf 7:185Listen in Qur'an →
186

مَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِىَ لَهُۥ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں

اب بات قدرے ایک مختصر وقفے کے لیے رک جاتی ہے اور اس وقفے میں اللہ کی اس سنت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جو اللہ نے ہدایت و ضلالت کے لیے اسی دنیا میں جاری کی ہوئی ہے۔ یعنی اس قانون کے مطابق کہ جو شخص ہدایت کے لیے جدوجہد کرے گا ، وہ ہدایت پائے گا ، طلب صادق کے ساتھ اور جو شخص منہ موڑے گا اور دلائل ایمان اور اشارات ہدایت کو پکڑنے کی سعی نہ کرے گا ، گمراہ ہوجائے گا۔

یہاں یہ اشاہ ان لوگوں کے حالات کی مناسبت سے کیا جا رہا ہے ، جن کو قرآن خطاب کر رہا تھا اور قرآن کا یہ انداز اور خاص طریق کار ہے کہ قرآن کریم ایک انفرادی واقعہ کے بیان کے بعد اس سے اصول عامہ اخذ کرتا ہے اور اسے بطور اٹل سنت الہیہ پیش کردیتا ہے۔ وہ واقعہ تو انفرادی ہوتا ہے اور وقوع کے بعد حصہ تاریخ بن جاتا ہے لیکن اصول اپنی جگہ رہتا ہے اور بار بار سامنے آتا رہتا ہے۔

جو لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ، وہ کیوں گمراہ ہوتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ نہ ہدایت کی فکر کرتے ہیں اور نہ واقعات و مسائل پر تدبر کرتے ہیں اور جو شخص آیات الہیہ سے غفلت کرتا ہے اور ان پر تدبر نہیں کرتا اسے اللہ گمراہ کردیتا ہے اور جسے اللہ نے اپنی سنت کے مطابق گمراہ کردیا پھر وہ ہدایت نہیں پا سکتا اور نہ اس کے لیے کوئی ہادی بن سکتا ہے۔

من یضلل اللہ فلا ھادی لہ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کردے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے۔ اور جس شخص پر اللہ ضلالت مسلط کردے ، اپنی سنت جاریہ کے مطابق تو وہ ہمیشہ کے لیے گمراہ ہوجاتا ہے اور وہ ہدایت کے معاملے میں مادر زاد اندھا ہوجاتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟

و یذرھم فی طغیانہم یعمھون۔ اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔

ان لوگوں کو اللہ نے اس تاریکی میں چھوڑ کر ، ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ، کیونکہ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے خود اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔ انہوں نے اپنے دلوں کو معطل کردیا تھا۔ اپنے اعضائے مدرکہ سے کام لینا بند کردیا تھا۔ انہوں نے اس دنیا کی تخلیق کے عجائبات پر غور نہ کیا اس کائنات کے رازوں کو پانے کی سعی نہ کی۔ خصوصاً ہر ایک پیدا کردہ چیز کی حقیقت اور اس کے راز جس کی طرف سابقہ آیات میں اشارہ کیا گیا تھا ، انہوں نے اس حقیقت کی شہادت کو قبول نہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان نے اس کائنات میں نظر دوڑائی اسے اس کے عجائبات نظر آئے۔ جب بھی اس نے آنکھیں کھولیں اسے کوئی نہ کوئی دلیل نظر آئی۔ جب بھی انسان نے اپنی ذات اور اپنے ماحول کا مطلاعہ کیا۔ اسے اپنی تخلیق کا اعجاز معلوم ہوا ، اسے اپنے ماحول کی ہر مخلوق ایک اعجاز نظر آئی ، لیکن جب انسان نے اپنے آپ کو اندھا کرلیا تو وہ اندھا ہوگیا اور اللہ نے بھی اسے اندھیرے میں چھوڑ دیا اور اس کے بعد جب اس نے سرکشی شروع کردی تو اللہ نے اسے اس میں ڈھیل دی۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت تک پہنچ جاتا ہے۔ " اور اللہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے "

Al-A'raaf 7:186Listen in Qur'an →
187

يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّى ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَآ إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةًۭ ۗ يَسْـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کردےگا۔ وہ آسمان وزمین میں ایک بھاری بات ہوگی اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔

۔۔۔

عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں بھی ایک اساسی نظریہ تھا۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد زمانے گزر گے اور وہ اسلام کے ان اصولوں سے دور چلے گئے جو دین ابراہیم اور دین اسماعیل کے اساسی عقائد تھے۔ ایک ایسا دور بھی آیا کہ ان کے تصور ہی سے عقیدہ آخرت مٹ گیا۔ یہ عقیدہ انہیں اب عجیب و غریب نظر آنے لگا تھا اور ان کے شعور زندگی سے بالکل متضاد سا ہوگیا تھا۔ چناچہ جب وہ حضور کی زبان سے دعوت سنتے اور اس میں آپ ان کو بعث و نشر کے بارے میں بتاتے اور حساب و کتاب کے حالات ان کے سامنے رکھتے تو انہیں یہ بات نہایت ہی عجیب و غریب اور بعید الوقوع نظر آتی۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کے اس تعجب کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

قال الذین کفرو ۔۔۔۔ البعید ( سورة سبا) منکرین حق لوگ کہتے ہیں۔ " ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارا جسم ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے پیدا کردئیے جاؤگے ؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے۔ نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں "۔

اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کوئی امت پوری انسانی کی قیادت اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے نظام فکر میں عقیدہ بعث بعد موت اچھی طرح پختہ نہ ہوچکا ہو ، اور امت مسلمہ کا فریضۃ بہرحال یہی ہے کہ وہ پوری دنیا کی قیادت کرے۔ لہذا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو ایک محدود زندگی تصور کرے ، جو اس محدود دنیا کے چھوٹے سے کرے پر ہے۔ عقیدہ آخرت کے بغیر اس قسم کی امت کا پیدا کرنا ممکن نہ تھا جس کے سامنے اس قدر عظیم نصب العین ہو۔

عقیدہ آخرت انسانی تصور میں وسعت پیدا کرتا ہے ، نفس انسانی میں کشادگی آجاتی ہے ، زندگی جس کے تسلسل کے بارے میں انسان کی شخصیت کے اندر تمنا پائی جاتی ہے ، وہ تمنا پوری ہوتی ہے اور پھر امت مسلمہ کے ذمہ جو فراض ہیں ان کی ادائیگی کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے۔ پھر اس عقیدے کی وجہ سے انسان کے سفلی جذبات اور محدود دنیاوی خواہشات پر بھی کنٹرول ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کا دائرہ حرکت وسیع ہوجاتا ہے اور انسان کو دنیا کے محدود نتائج مایوس نہیں کرسکتے اور نہ اسے دردناک قربانیاں اپنے مقصد کے حصول سے روک سکتی ہے نیکی کے کاموں اور دعوت اسلامی کے پھیلانے اور بھلائی کی طرف لوگوں کی قیادت کرنے میں وہ کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ اس کی جدوجہد کے فوری نتائج اس کی منشا کے خلاف ہوں اور اس کی راہ میں دردناک رکاوٹیں ہوں۔ یہ شعور اور یہ اوصاف ہر اس فرد اور جماعت کے لیے ضروری ہیں جس کے کاندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہو۔

آخرت کا عقیدہ دو تصورات کے درمیان ایک دو راہا ہے۔ ایک تصور حیوانی تصور ہے ، جو احساس کے حدود کے اندر محدود ہے۔ دوسرا تصور ایک انسانی تصور ہے جو اس دنیا کو ایک وسیع دائرے کے اندر دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا ہے وہ حیوانی تصور کے ساتھ یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں امت مسلمہ کے لیے عقیدہ آخرت کے یقین کو ایک اساسی عقیدہ قرار دیا گیا …

Al-A'raaf 7:187Listen in Qur'an →
188

قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو الله چاہے اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں

تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔

۔۔۔

عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں بھی ایک اساسی نظریہ تھا۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد زمانے گزر گے اور وہ اسلام کے ان اصولوں سے دور چلے گئے جو دین ابراہیم اور دین اسماعیل کے اساسی عقائد تھے۔ ایک ایسا دور بھی آیا کہ ان کے تصور ہی سے عقیدہ آخرت مٹ گیا۔ یہ عقیدہ انہیں اب عجیب و غریب نظر آنے لگا تھا اور ان کے شعور زندگی سے بالکل متضاد سا ہوگیا تھا۔ چناچہ جب وہ حضور کی زبان سے دعوت سنتے اور اس میں آپ ان کو بعث و نشر کے بارے میں بتاتے اور حساب و کتاب کے حالات ان کے سامنے رکھتے تو انہیں یہ بات نہایت ہی عجیب و غریب اور بعید الوقوع نظر آتی۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کے اس تعجب کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

قال الذین کفرو ۔۔۔۔ البعید ( سورة سبا) منکرین حق لوگ کہتے ہیں۔ " ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارا جسم ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے پیدا کردئیے جاؤگے ؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے۔ نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں "۔

اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کوئی امت پوری انسانی کی قیادت اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے نظام فکر میں عقیدہ بعث بعد موت اچھی طرح پختہ نہ ہوچکا ہو ، اور امت مسلمہ کا فریضۃ بہرحال یہی ہے کہ وہ پوری دنیا کی قیادت کرے۔ لہذا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو ایک محدود زندگی تصور کرے ، جو اس محدود دنیا کے چھوٹے سے کرے پر ہے۔ عقیدہ آخرت کے بغیر اس قسم کی امت کا پیدا کرنا ممکن نہ تھا جس کے سامنے اس قدر عظیم نصب العین ہو۔

عقیدہ آخرت انسانی تصور میں وسعت پیدا کرتا ہے ، نفس انسانی میں کشادگی آجاتی ہے ، زندگی جس کے تسلسل کے بارے میں انسان کی شخصیت کے اندر تمنا پائی جاتی ہے ، وہ تمنا پوری ہوتی ہے اور پھر امت مسلمہ کے ذمہ جو فراض ہیں ان کی ادائیگی کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے۔ پھر اس عقیدے کی وجہ سے انسان کے سفلی جذبات اور محدود دنیاوی خواہشات پر بھی کنٹرول ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کا دائرہ حرکت وسیع ہوجاتا ہے اور انسان کو دنیا کے محدود نتائج مایوس نہیں کرسکتے اور نہ اسے دردناک قربانیاں اپنے مقصد کے حصول سے روک سکتی ہے نیکی کے کاموں اور دعوت اسلامی کے پھیلانے اور بھلائی کی طرف لوگوں کی قیادت کرنے میں وہ کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ اس کی جدوجہد کے فوری نتائج اس کی منشا کے خلاف ہوں اور اس کی راہ میں دردناک رکاوٹیں ہوں۔ یہ شعور اور یہ اوصاف ہر اس فرد اور جماعت کے لیے ضروری ہیں جس کے کاندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہو۔

آخرت کا عقیدہ دو تصورات کے درمیان ایک دو راہا ہے۔ ایک تصور حیوانی تصور ہے ، جو احساس کے حدود کے اندر محدود ہے۔ دوسرا تصور ایک انسانی تصور ہے جو اس دنیا کو ایک وسیع دائرے کے اندر دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا ہے وہ حیوانی تصور کے ساتھ یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتی۔

یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں امت مسلمہ کے لیے عقیدہ آخرت کے یقین کو ایک اساسی عقیدہ قرار دیا گیا …

Al-A'raaf 7:188Listen in Qur'an →
189

۞ هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍۢ وَٰحِدَةٍۢ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّىٰهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًۭا فَمَرَّتْ بِهِۦ ۖ فَلَمَّآ أَثْقَلَت دَّعَوَا ٱللَّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ ءَاتَيْتَنَا صَٰلِحًۭا لَّنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اس کے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا سا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر جب کچھ بوجھ معلوم کرتی یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا ہے تو دونوں میاں بیوی اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دے گا تو ہم تیرے شکر گذار ہوں گے

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:189Listen in Qur'an →
190

فَلَمَّآ ءَاتَىٰهُمَا صَٰلِحًۭا جَعَلَا لَهُۥ شُرَكَآءَ فِيمَآ ءَاتَىٰهُمَا ۚ فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے

تفسیر آیات 189 تا 198:۔

عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں

" کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے …

Al-A'raaf 7:190Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.